خصوصیمعاشرہ اور ثقافت

فطرت سے غیر فطری تعلق نہیں، بلکہ غیر مشروط وفاداری ناگزیر ہے!

محمد عارف اقبال

پوری دنیا میں اس وقت ماحولیات کے حوالے سے فطرت کی دہائی دی جارہی ہے۔ جدید صنعت و حرفت کو خلافِ فطرت قرار دیا جارہا ہے جس سے زمین کے ذی روح کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں یہ بیداری اس وقت پائی جارہی ہے جبکہ صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا ہے۔ موسم کے خلاف فطرت کی تبدیلی، بارش، طوفان، سیلاب، غیر معمولی سردی اور شدت کی گرمی، فضائی آلودگی اور نہ جانے کتنے فساد ہیں جس نے زمین ہی نہیں بلکہ خلا کو بھی بری طرح متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ اس خطرناک صورت حال سے نمٹنے کے لیے گلوبل سطح پر بڑی بڑی کانفرنسز کی جارہی ہیں، اقدام بتائے جارہے ہیں۔ درختوں کا کاٹنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ جنگلوں کو محفوظ رکھتے ہوئے جانوروں کے شکار پر پابندی عائد کردی گئی ہے کیونکہ دنیا میں ترقی کے نام پر صنعتی انقلاب اب عذاب جان بنتا جارہا ہے۔

گزشتہ تین سو برسوں میں موڈرن سائنس اور ٹکنالوجی نے بڑے صنعتی کارخانے کو جس طرح فروغ دیا ہے، انسانی تاریخ میں اس سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں صرف اشارے میں یہ بات کہی جارہی ہے کہ دنیا پر عظیم خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور اس کے سائڈ افیکٹس بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں زمین کا دھنسنا، سونامی، زلزلے کی شدت، جنگلوں کا نذر آتش ہونا، آتش فشاں کا مسلسل ظاہر ہونا کیا اس بات کی علامتیں نہیں ہیں کہ زمین فساد آلودہ ہوچکی ہے۔ واضح ہو کہ زمین سے مراد بَر اور بحر دونوں ہے۔ اب پوری دنیا کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ انسان نے جو غلطیاں کی ہیں، تباہی کی یہ علامتیں دراصل انہی غلطیوں کے نتائج ہیں۔ اس سلسلے میں بجاطور پر جس بنیادی غلطی کا ادراک کیا گیا ہے وہ ہے فطرت سے بغاوت۔ اس لیے فطرت کے ساتھ زندگی گزارنے پر زور دیا جارہا ہے۔ لیکن فطرت کا وسیع تصور اب بھی دنیا پر واضح نہیں ہے۔ تصور کیجیے کہ جس فطرت کے ساتھ آپ زندگی گزارنا چاہتے ہیں خود اس کے خالق کے سائے میں کچھ دیر ٹھہرنے سے آپ کو کس قدر دائمی مسرت حاصل ہوسکتی ہے۔

انسانی دنیا جس فطرت کی تلاش میں ہے اس کا راست تعلق خالق کائنات سے ہے جس کے مظاہر اس کی مخلوقات ہیں۔ مخلوقات میں ذی روح اور غیر ذح روح دونوں شامل ہیں۔ اسی طرح زمین، آسمان، ستارے، چاند اور سورج ہر وہ چیز جو کائنات میں ہے اسی خالق کا شاہکار ہے۔ یہ فطری نظام انتہائی مربوط ہے۔ لہٰذا فطرت کی کسی ایک چیز پر غیر فطری تجربہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ فساد ہی ہوگا۔ اور یہ فساد ایسا ہے کہ اس سے دوسرے فطری نظام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہوائی جہاز جب پرواز کر رہا ہو تو اس کے ایک پرزے میں اچانک خرابی پیدا ہوجائے تو اس کے مہلک اثرات پورے جہاز کو تباہ کرسکتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح کائنات کا نظام مربوط ہے۔ اس میں کہیں بھی عدم توازن نہیں ہے۔ خالق کائنات نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی اہمیت دی ہے اور اسے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔ دیگر مخلوقات دراصل انسان کی خدمت کے لیے ہیں۔ اس خدمت کے حدود بھی متعین کردیے گئے ہیں اس لیے ہر زمانے میں انسان کو گائڈ لائنس (Guidelines) بھی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ لیکن بیشتر انسانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں خالقِ کائنات نے ایک مخصوص مدت کے لیے جو خود مختاری (Autonomy) دے رکھی ہے، اس کا بے جا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس لیے ہر دَور میں برگزیدہ انسانوں نے پیغمبری کا فریضہ ادا کیا اور خالق کائنات کی ہدایات کے ذریعے یاددہانی کرائی۔ یہ سلسلہ تقریباً 1400 برس پہلے منقطع کردیا گیا اور آخری ہدایات (Final Guidelines) عطا کردی گئیں۔ یہ ہدایات قرآن مجید کی صورت میں رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے تحفہ عظیم ہے۔ اس سے قبل بھی دنیا کی مختلف قوموں کو صحیفے کی شکل میں ہدایات دی گئی تھیں لیکن اب ان کی حیثیت دستاویزی شواہد کے طور پر ہے۔ ان آفاقی تعلیمات میں سچائی، صبر و عزیمت، ایمان داری، ایک خالق کائنات کی برتری اور صرف اسی کے آگے جھکنے کی ہدایت وغیرہ تمام صحائف میں موجود ہیں۔ یہ صحیفے آخری ہدایات کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ انسان ابھی جس گلوبل کرب میں مبتلا ہے اس کے بارے میں قرآن مجید نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا?

خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں۔ (الروم41)

فطرت کا خالق درحقیقت رب العالمین ہے۔ وہ سب کا رب ہے۔ گورے کو کالے پر کوئی برتری نہیں ہے۔ تمام انسان برابر ہیں۔ اسی طرح اس کی ہدایات (Guidelines) پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ یہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ جو بھی فطرت اور اس کے خالق سے قریب تر ہوگا وہی کامیاب ہوگا۔ جس طرح ہمارا خالق ایک ناپاک بوند سے انسان کی تخلیق کرتا ہے اسی طرح وہ زندہ بھی کرے گا۔ اس نے انسانوں کو انتباہ دے دیا ہے کہ اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال7-8)

پرانی مذہبی عماتیں آثار قدیمہ تو ہوسکتی ہیں، عہد حاضر کے لیے قابل رہائش نہیں ہوتیں۔ بنیادی چیز ایک خدا اور اس کی نعمتوں کا ادراک کرتے ہوئے صبر اور شکر کے ساتھ خوش گوار فطری زندگی گزارنا ہے اور اپنی حد میں رہنا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ موجودہ عہد ان تمام قوموں کا ملغوبہ ہے جن کا ذکر قرآن نے عبرت کے لیے عاد، ثمود، قوم لوط، اصحاب القریہ، اصحاب سبت، قوم تبع، اصحاب الرس، سامری، قارون اور فرعون وغیرہ کے حوالے سے کیا ہے۔ ہمارا ملک صدیوں سے شرک اور توہم پرستی کی آماجگاہ رہا ہے۔ آج بھی یہ منظر کچھ الگ نہیں ہے۔ توہم پرستی کی وجہ سے آج کا بظاہر تعلیم یافتہ سماج بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ اکیسویں صدی میں جب سے لبرل جمہوریت کی یلغار ہوئی ہے، یہاں کی تہذیب و ثقافت میں ایسی بے شرمی اور بے حیائی داخل ہوگئی ہے کہ رشتے کا احترام بھی جاتار ہا ہے اور فطری تقاضوں کو غیر فطری بندھنوں کا اسیر بنایا جارہا ہے۔ انگریزی دور حکومت میں بھی انڈین پینل کوڈ 377 بناکر شتر بے مہار جنسی آزادی کو لگام دینے کی کوشش کی گئی۔ جب ہمارا ملک آزاد ہوا تو دستور سازی کے درمیان اس دفعہ 377 کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ جن دستور سازوں نے ایسا کیا یقینی طور پر انسانی حقوق اور اس کی نفسیات سے کماحقہ واقفیت رکھتے تھے۔ اب یہ قانون انگریزی نہیں ہندوستانی ہے۔ اسے انگریزی کہنا خود ہندوستانی دستور سازوں کی توہین ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا جب فطرت سے قریب ہو رہی ہے اور غیر فطری رجحان کی سزائیں بھگت رہی ہے، ایسی صورت میں یہ دلیل دینا کہ دنیا کے 26 ممالک میں غیر فطری جنسی تعلقات کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، کہاں تک مناسب ہے۔ مٹھی بھر سرپھروں اور جنسی بیماری میں مبتلا افراد کا یہ مطالبہ اگر سپریم کورٹ تسلیم کرکے اس قانون کو ختم کردیتی ہے تو ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کی تاریخ میں یہ سیاہ دن ہوگا۔ اس کی سیاہی پورے ملک کے معاشرے کو بتدریج قعرِ مذلت میں دھکیل دے گی۔ رب العالمین کا فرمان ہے? کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم جہالت پر اتر آئے ہو۔ (النمل55)

واضح ہو کہ اس فحش عمل کو سب سے پہلے 2000 میں نیدرلینڈ نے قانونی حیثیت دی۔ اس کے چار سال کے بعد بلجیم (2005) سے یہ سلسلہ اتنا درازہوا کہ فرانس اور انگلینڈ نے بھی اس غیر فطری عمل کو جائز ٹھہرایا۔ 2017 میں آسٹریلیا نے بھی اس بحر مُردار میں چھلانگ لگادی۔ اس طرح سے دنیا کے 26 ملکوں بشمول جنوبی افریقہ و برازیل (2013)، اسپین کینیڈا اور امریکہ (2015) نے اپنا شمار جاہلوں میں کرالیا۔

اندازہ کیجیے کہ پوری دنیا برسوں سے اپنے غیر فطری اعمال کے سبب AIDS کو بھگت رہی ہے، کیا ان کی آنکھیں معدوم اور بصیرت سے محروم ہوگئی ہیں۔ قرآن نے ایسے لوگوں کو قَومٌ مُّسْرِفُوْن کہا ہے یعنی اپنی حد سے نکل جانے والے۔ ایسی صورت میں کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ فطرت کی طرف ان کی رغبت برگ و بار لائے گی۔ اس کے لیے فطرت سے غیر مشروط وفاداری ہی تباہی سے بچاسکتی ہے۔ عظیم مفکر علامہ اقبال کے بقول:

معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے کمالات

صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی، نئی بھی

فطرت کو دکھایا بھی ہے، دیکھا بھی ہے تونے

آئینہ فطرت میں دیکھا اپنی خودی بھی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عارف اقبال

ایڈیٹر، اردو بک ریویو، نئی دہلی

متعلقہ

Close