خصوصیملی مسائل

قبولِ اسلام میں ‘پیار’ (Love) کا عنصر؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 کیرلا کی نومسلمہ ‘ہادیہ’ کے معاملے میں ہندوستانی تحقیقاتی ایجنسی NIA نے Love Jihad کا خفیہ جال تلاش کیا ہے _ یہ ہندوستانی مسلمانوں سے بغض و نفرت رکھنے والوں کی ایک مخصوص اصطلاح ہے ، جس سے وہ یہ مراد لیتے ہیں کہ مسلم نوجوان پہلے ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتے ہیں ، پھر ان کا آبائی مذہب تبدیل کرواکر اور انھیں مسلمان بناکر ان سے شادی کرلیتے ہیں _ افسوس کہ بعض مسلمان بھی اسی انداز سے سوچتے ہیں _ ایک صاحب نے اس سلسلے میں مجھ سے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے :

    ” ہادیہ کا دورانِ تعلیم کسی مسلم نوجوان کے نزدیک آنا اور اسلام کی تعلیمات میں دل چسپی لینا ، پھر اسلام قبول کرکے اسی نوجوان سے شادی رچا لینا اور والدین سے کنارہ کش ہوجانا ، اس رسّہ کشی میں والدین کا ہادیہ سے ناروا سلوک کرنا ، جس سے اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوجانا ، ہمدردان و عاشقان کا ہادیہ کی حمایت دکھانا ، کورٹ میرج کے  ملکی قانون کا سہارا لے کر مسلم نوجوان سے ہادیہ کی شادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ، ان تمام معاملات میں جنگ لڑنے والی تو جیت گئی ، لیکن ہار کتنوں کی ہوئی ، ذرا اس پر بھی نظر ڈال لیں _

 آخر کیا بات ہے کہ مخلوط تعلیم حاصل کرنے والے ، خاص طور پر BHMS, BUMS, BAMS کے طلبہ ہی کیسے اس قدر اسلام کے ترجمان بن جاتے ہیں کہ وہ کسی غیر مسلم کو اسلام کا پیغام سمجھانے کا اعزاز حاصل کرلیتے ہیں _ دوسری طرف وہ ناسمجھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے مذہب سے بیزار ہوکر اسلام کو پسند کرلیتے ہیں _ اور تو اور ، لڑکیاں جن سے اسلام کی روشنی میں آنے کی سعادت حاصل کرتی ہیں انہی کو اپنا جیون ساتھی چن لیتی ہیں _

  یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال ہیں ، جو اکثر ایسی خبروں کو سن کر ذہن میں آتے ہیں _ غیر مسلم بھی پوچھتے ہیں _ آپ اس سلسلے میں رہ نمائی کریں تو نوازش ہوگی _”

 ان تاثرات میں پروپیگنڈہ سے اثر پزیری صاف محسوس کی جا سکتی ہے _ اس موضوع پر کئی پہلوؤں سے غور کرنے کی ضرورت ہے :

 1 _  سب سے پہلے ہادیہ کے کیس کی وضاحت ہوجائے _ NIA نے چاہے اس معاملے میں ‘لَو جہاد’ کی بو سونگھ لی ہو ، لیکن پولیس اس معاملے کی مکمل تحقیق کرکے کلین چِٹ دے چکی ہے کہ اس میں’لَوجہاد’ کا عنصر کہیں موجود نہیں ہے _ ہادیہ کے بارے میں اب تک دست یاب معلومات کے مطابق وہ جس کالج میں پڑھتی تھی وہاں 2013 میں وہ دو مسلمان لڑکیوں کے رابطہ میں آئی _ ان سے اس کی دوستی بڑھی تو ان کے گھروں میں بھی اس کا آنا جانا ہوا _ اس دوران میں وہ اسلام اور اسلامی تہذیب و معاشرت سے متاثر ہوئی _ اس نے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ اور ان پر غور و خوض شروع کردیا _ اسلام سے اس کی اثر پزیری بڑھتی گئی ، یہاں تک کہ 2016 میں اس نے اسلام قبول کرلیا _ ابتدا میں اس نے اپنا معاملہ خفیہ رکھا ، لیکن ایک موقع پر اس کے والدین کو پتہ چل گیا ، چنانچہ انھوں نے سختیاں شروع کردیں _ قبولِ اسلام کے چند مہینوں کے بعد ایک مسلم نوجوان سے اس کا نکاح ہوا _ صحیح بات یہ ہے کہ ہادیہ کے معاملے میں ‘پیار’ کا چکّر نظر نہیں آتا _

2 _  مخلوط تعلیم کے مضرّات تسلیم شدہ ہیں _ ان مضرّات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے آئیڈیل یہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں ، لیکن یہ  تصوّر کرنا بڑی زیادتی ہوگی کہ تعلیمی اداروں میں پیار و محبت ہی کی کہانیاں لکھی جاتی ہیں _ میں نے طب کی تعلیم ایک مخلوط ادارے میں پائی ہے _ میرے لڑکے ، بھتیجیوں اور خاندان کے دیگر لڑکوں اور لڑکیوں نے مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھا ہے _ میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں لَو اسٹوریاں نہیں لکھی جاتیں ، الّا ما شاء اللہ _

  3 _  اسلام ایک مشنری مذہب ہے _ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے ، جو پیدا کرنے والا اور روزی دینے والا ہے _ مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ دوسروں تک اسلام کی تعلیمات کو پہنچائیں _ ان کا کام صرف پہنچادینا ہے ، ماننا یا نہ ماننا دوسروں کا کام ہے _ مسلمان اگر زبان سے کچھ نہ کہیں ، صرف اپنا کردار سنوار لیں اور اسلام کا عملی نمونہ پیش کریں تو ان کے رابطے میں آنے والے اسلامی تعلیمات میں کشش محسوس کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے مشرّف بہ اسلام ہوجاتے ہیں _

 4_  اسلام فطرت کی آواز ہے ، جب کہ دیگر مذاہب راہِ اعتدال سے انحراف کا نتیجہ ہیں _ اس لیے سلیم الفطرت مردوں ، عورتوں ، نوجوان لڑکوں ، لڑکیوں کے سامنے اسلامی تعلیمات یا ان کا عملی نمونہ آتا ہے تو وہ اسے اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں اور دیوانہ وار اس کی طرف لپکتے ہیں _

 5 _  قبولِ اسلام کے پسِ پردہ جنسی کشش کو تلاش کرنا تنگ ذہنیت کی علامت ہے _ مغربی ممالک میں بڑی تعداد میں خواتین اور دوشیزائیں اسلام قبول کر رہی ہیں _ ہندوستان میں بھی ان کی تعداد کم نہیں ہے _ اس کا سبب یہ ہے کہ ہزار منفی پروپیگنڈہ کے باوجود جب اسلام میں خواتین کے حقوق اور مقام و مرتبہ کا انھیں علم ہوتا ہے تو وہ بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں ، اس لیے کہ انہیں اپنے مذہب میں ایسی اعلی تعلیمات نہیں ملتی ہیں _ امریکی نومسلمہ مریم جمیلہ ، برطانوی نو مسلمہ ریڈلی اور حال میں ہندوستانی نو مسلمہ ہادیہ اس کی مثالیں ہیں _

6 _ افسوس کہ ہم پیدائشی مسلمان نہ شعوری مسلمانوں کے جذبے کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ان کی صحیح طور پر قدر کرتے ہیں _ ہمیں اسلام باپ دادا سے ملا ہے _ ہم جیسے تیسے اس پر عمل کرتے ہیں _ بہت سی اسلامی تعلیمات پر عمل بھی نہیں کرتے _ لیکن جو لوگ خود غور وخوض کرکے یا کسی سے تحریک پاکر اسلام قبول کرتے ہیں وہ اپنے ایمان میں پیدائشی مسلمانوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ، وہ پیدائشی مسلمانوں سے کہیں زیادہ باحوصلہ  اور صاحبِ عزیمت ہوتے ہیں _ کوئی انھیں ان کے عقیدے سے ، جو ان کے دلوں میں راسخ ہوچکا ہوتا ہے ، ٹس سے مس نہیں کر سکتا _ ایذا رسانی کے تمام حربے ناکام ہوجاتے ہیں اور تعذیب کی تمام بھٹّیاں سرد پڑ جاتی ہیں _

 ہادیہ کے کیس کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے _ اس کو ‘لَو جہاد’ کی ایک مثال سمجھنے کے بجائے اس کی سلامتِ فکر کو تحسین کی نظر سے دیکھنا چاہیے، اسے اخلاقی مدد دینی چاہیے اور اس کے ایمان کی حرارت سے اپنے نیم مردہ دلوں میں کچھ تازگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close