خصوصیہندوستان

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

ڈاکٹر سلیم خان

راجسمند کی پولس نے اس ہفتہ شمبھولال ریگر کے خلاف  فردِ جرم داخل  کرکے نیتن یاہو اورنریندر مودی کے دہشت گردی کا خاتمہ کرکے امن و امان قائم کرنے کے کھوکھلے دعویٰ کی پول کھول دی  اور ساری دنیا کے سامنے یہ سچ پیش کردیا کہ دو  عالمی دہشت گرد  ایک دوسرے کے ساتھ  بغلگیر ہوکر بین الاقوامی تشدد کا خاتمہ کیا  کریں گے کہ ان کے اپنے ملک کے باشندے صہیونی و زعفرانی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ سنگھ پریوار اگر  خود اپنے ہی  ملک میں شمبھو  لال جیسے وحشی درندے  کو جنم دیتا  رہے  اور انہیں  پال پوس کر، تحفظ فراہم کرکے ہیرو بنادے تو ایسے میں  بیرونی دہشت گردوں کی حاجت کیا ہے؟  مودی جی کا  بدنام زمانہ  یاہو کے ساتھ مل کر امن عالم قائم کرنا ایک دیوانے کا خواب ہے۔ شمبھولال ریگر کی درندگی  نے ایک انکشاف یہ کیا کہ راجستھان میں انسانی حقوق کا ایک کمیشن بھی موجود ہے ورنہ پہلو خان  کی شہادت کے بعد وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا کہ فسطائیت کی آگ انسانی حقوق کے ساتھ اس کمیشن کو بھی  نگل چکی ہے۔ افرازلاسلام کی شہادت سےممکن ہے انسانی ضمیر بیدار ہو جائے۔ اس ضمن میں شمبھو لال کی  بے لاگ  چارج شیٹ امید کے ایک ٹمٹاتے چراغ   سے کم نہیں  ہے۔

پولس افسر راجندر سنگھ  کی تفتیش کردہ فرد جرم میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ’لو جہاد ‘ کی ساری کہانی صرف  اورصرف  ایک ناجائز رشتے کی پردہ پوشی تھی۔ وہ ناجائز رشتہ  بھی ایک ایسی خاتون سے  تھاجس کو وہ  بدبخت اپنی بہن گردانتا تھا۔  اس بدمعاش کو شک تھا کہ مذکورہ عورت  کےہنوز بلو شیخ نامی شخص سے تعلقات ہیں جس کے ساتھ وہ  ؁۲۰۱۰ کے اندرمغربی بنگال  فرار ہوگئی تھی۔ شمبھو لال نے پولس سے کہا کہ وہ کسی اور  شخص کو قتل کرنا چاہتا تھا مگر اس کے ہاتھوں  غلط آدمی کا قتل ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیوں قتل کرنا چاہتا تھا ؟ اور اگر اس کے پس پشت ذاتی بغض و عناد تھا تو اس کو ہندو توا کا رنگ کیوں دیا گیا؟ دراصل ہندوستان میں ہندوتوا کے نام پر کھیلے جانے والے اس کھیل میں مذہب و اخلاق کا نام ونشان  نہیں ہے۔ کسی نے اپنے کالے کرتوت کو چھپانے  کے لیے گیروا لبادہ اوڑھ رکھا ہے تو کوئی اپنے سیاسی مفاد کی خاطر  کبھی لوجہاد تو کبھی گئو رکشا کا نعرہ لگاتا پھرتا ہے۔

 شمبھو نے اپنی ڈائری پہاڑ پر واقع  مندر کے پیچھے پھینک دی لیکن وہ بھی پولس کے ہتھے چڑھ گئی۔اس دائری  میں وہ مکالمہ درج  تھے جو اس نے ویڈیو میں ریکارڈ کرائے  یعنی اس بدمعاش نے اپنی ویڈیو کا منظر نامہ  لکھا اور  اس میں لو جہاد کے علاوہ  دستور کی دفع ۳۷۰، مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی، پدماوتی اور پی کے نیز اسلامی دہشت گردی کا بھی ذکر کیا  اوراس  کی ریہر سل کرنے کے بعد منصوبہ بند طریقہ پر اپنی درندگی  کی فلمبندی کرائی۔  یہی وجہ  ہے کہ شمبھو پر قتل  اور مجرمانہ سازش کے علاوہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا۔  جس ہندو بہن کی عفت و عصمت کا رونا اس ویڈیو میں رویا گیا ہے اس کے بارے میں چارج شیٹ کے  الفاظ ہیں ’’ وہ (اس خاتون ) کے گھر آتا جاتا تھا  اور اس کے ساتھ شمبھولال کے جسمانی تعلقات تھے۔ ندوتواوادیوں کا یہ وطیرہ ہے کہ   ایک طرف تو  وہ اسلام میں تعدد ازدواج کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر شور مچاتے ہیں۔ اپنی  ہندو  بہنوں کو مسلمانوں کے چنگل  سے بچانے کا نعرہ لگاتے ہیں اور دوسری طرف اپنے گھر میں بیٹھی جائز بیوی کو چھوڑ کر اپنی نام نہاد بہن کا جسمانی استحصال کرتے ہیں۔ دھرم کی رکشا  اگر اسی پاکھنڈ کا نام ہے تو اس سے زیادہ  قابل نفریں اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی؟

ہندو دہشت گردوں کی اخلاقی پستی کےکئی  شواہد شمبھولال کی فرد جرم میں موجود ہے۔ چارج شیٹ کا اقتباس ہے  ’’شمبھو لال اس (خاتون) کو قرض دلانے کے بہانے سے بنک منیجرکے گھر لے گیا تھا  جہاں پارٹی ہورہی تھی۔ شمبھو لال نے وہاں جاکر اسے(عورت سے) کہا کہ بنک منیجر کو خوش کردے تیرا لون پاس ہوجائیگا ‘‘۔ اس خاتون کو بنک کے دفتر میں لے جانے کے بجائے منیجر کے گھر ایک ایسے وقت میں لے کر جان جبکہ پارٹی چل رہی ہو اس  حقیقت کا غماز ہے کہ معاملہ قرض دلانے کا نہیں بلکہ قرض اتارنے کا تھا۔  یہ بات اخبارات کی زینت بن  چکی ہے کہ نوٹ بندی کے سبب شمبھولال کی دوکان بند ہوچکی تھی اور وہ دیوالیہ ہوگیا تھا۔ ممکن ہے اس نے اپنے کاروبار کے لیے قرض لے رکھا ہو یا قرض کی درخواست دی رکھی  ہو اور اپنا مسئلہ حل کرنے کی خاطر اپنی نام نہاد ہندو بہن کی عصمت و عفت کو بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ سارے ہندوتوا پریوار سے یہ سوال ہے کہ  کیا  ان کی پرمپرا کے انوسار اپنی بہنوں کی رکشا ایسے کی جاتی ہے؟  سچ تو یہ ہے کہ اگر ان کو واقعی اپنی بہنوں کی فکر ہوتی  تو یہ مسلمانوں کے بجائے ان باباوں کے آشرموں کے خلاف دھرم یدھ چھیڑ تے  جہاں ہزاروں خواتین کا آئے دن  جنسی استحصال ہوتا ہے لیکن ایسا کرنے سے ہندو دھرم کی بدنامی ہوتی ہے اور ہندو ووٹر ناراض ہوتا ہے اس لیے یہ لوگ ایسی جرأت نہیں کرتے بلکہ تین طلاق جیسے غیر اہم  مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔

عصر حاضر کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں  ہندو بہنوں کو خود اپنے سماج سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ باہر پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ شمبھو کی نام نہاد بہن کو مثال سامنے ہے۔ شمبھو تو اس کو بنک منیجر کے پاس چھوڑ آیا لیکن اس نے بنک منیجر کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کردیا۔ وہ گھر کی چابی دینے کا بہانہ بناکر بھاگ بھاگ کھڑی ہوئی۔ چارج شیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اس حرکت پر شمبھو آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے برا بھلا کہا یا مارا پیٹا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر اس عورت کو قرض درکار ہوتا یا قرض کو وہ  اپنی عصمت سے قیمتی سمجھتی تو وہاں سے فرار نہ ہوتی۔ شمبھولا  ل  کاغم و غصہ  اس بات کا غماز ہے کہ اس کے نزدیک  اپنی رکھیل   کی عزت سے زیادہ اہمیت  بنک منیجر سے وابستہ مفاد کی  تھی۔

آئی جی آنند شریواستو نے یہ انکشاف بھی  کیا  کہ شمبھو ریگر کو  اندیشہ تھا کہ اس کے ناجائز تعلقات کا علم اگر اہلیہ  سیتاکو ہوجائے  تو اپنے خاندان میں بڑی بدنامی ہوجائےگی بلکہ ممکن  سماجی عتاب کا بھی شکار ہونا پڑے۔ اس بات کا بھی خطرہ تھا کہ اگر استحصال رکھیل  نے کسی ہندو احیاء پرست تحریک سے رابطہ کرلیا تو ممکن ہے وہ اس کے غذب کا بھی نشانہ بننا پڑے۔ اس لیے وہ  گھریلو اور سماجی سطح پر اپنے آپ کو  ہندو دہشت گردوں کے قہر سے محفوظ رکھنے  کے لیے  مسلم دشمنی کا بگل بجا کر ان کا  ہیرو بن گیا۔ ایک  خطرناک سازش کے ذریعہ  افرازالاسلام کا وحشیانہ قتل کرکے اس نے اپنے ظلم  کی چھپانے  کی  کوشش تو کی مگر ناکام رہا   ۔ شمبھولال ریگر اگر اپنے عزائم میں کامیاب ہوجاتا تو وہ  نہ صرف اپنی نام نہاد بہن  کا استحصال جاری رکھتا  بلکہ دہشت گرد ہندووں کو بیوقوف بنا کر  انہیں اپنی حمایت پر  بھی آمادہ رکھتا۔

شمبھولال کو اپنے مقاصد میں  ابتدائی طور پر  کامیابی بھی ملی ۔ اودے پور کی عدالت میں اس کے حامی ہندو احیاء پرستوں نے  زبردست مظاہرہ کیا۔ عدالت کے اوپر بھگو ا پرچم لہرا کر عدلیہ کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی۔ پولس نے خطرے کو بھانپ کر حکم امتنائی نافذ کردیا مگر وہ باز نہیں آئے۔ انتظامیہ نے جب  ۲۰ مظاہرین کو گرفتار کیا تو وہ مشتعل ہوکرپولس سے بھڑ گئے جس کے نتیجے میں ۳۰ پولس اہلکار زخمی ہوئے اور ان میں ایڈیشنل پولس سپرانٹینڈنٹ  سدھیر جوشی بھی شامل تھے۔ اس دوران سماجی رابطے کی سائیٹس میں جہاں افواہ پھیلانے کی بھرپور کوشش ہوئی وہیں چندے کا دھندہ بھی   شروع ہوگیا اور دیکھتے دیکھتے شمبھو کی بیوی سیتا کے نام پر ۳ لاکھ روپیوں کی خطیر رقم  جمع ہوگئی۔ پولس نے دوبڑے معاونین پر بھی شکنجہ کسا جو روپیوں  کی رسید دے رہے تھے۔ اس طرح کی  خطرناک دیش بھکتی  کا مظاہرہ اسٹینس اور اس کے بچوں کو زندہ جلانے والے درندے دارا سنگھ کے تعلق سے ہوچکا ہے  اور اسے تو انتخاب لڑانے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ شمبھو کو بھی یہ غلط فہمی  رہی ہوگئی کہ   بی جے پی کے راج میں وشو ہندو پریشد والے  اسے جیل چھڑا کر راج سنگھاسن پر براجمان کردیں گے   اس لیے کہ ہندوراشٹر میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر  عرفان وحید کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں  کا ہجوم 

 چلو کہیں کسی صحرا میں گھر بنایا جائے

راجستھان میں شمبھولال نے جہاں ازخود اپنی درندگی  کی تشہیر  کرکے ساری دنیا  کو چونکا دیا اور شدت پسند ہندووں نے اس کی حمایت کرکے بچی کھچی کسر بھی پوری کردی  و ہیں  راجستھان کے  ایک اور سپوت   دیپا رام نے کمال سفاکی کا مظاہرہ  کرکے اس  کی قبر پر لات ماردی۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ صدیوں قبل اس دنیا سے کوچ کرکے جانے والی پدماوتی کی خاطر لڑنے والے دلیر راجپوتوں  نے   دیپا رام کے جبر کا شکار ہونے والی ہندو خواتین پر ہونے والے ظلم کو پوری طرح نظر انداز کردیا۔ دیپا رام  کا جرم اس لیے شہرت نہ پاسکا کہ اس نے اس کی فلمبندی کرکے ذرائع ابلاغ میں پھیلانے کی جرأت نہیں کی۔ شمبھولال  اور دیپارام  میں کئی چیزیں مشترک ہیں مثلاً ان دونوں نے ہندو کوڈ بل کو پامال کرتے ہوئے ایک سے زائد خواتین سے تعلقات رکھے مگر فرق یہ ہے  چونکہ شمبھو پکا ہندوتوادی تھا اس لیے دوسری عورت سے نکاح نہیں کیا مگر دیپا رام کچا نکلا اس لیےدونوں سے شادی کرلی۔ ان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ شمبھو نے ایک غیر متعلق فرد کو قتل کردیا جبکہ دیپا رام نے اپنی دونوں بیویوں کو دن دہاڑے نذر آتش کردیا۔

راجسمند سے ڈھائی سو کلومیٹر دور جالور میں دیپارام اپنی دوبیویوں دریا دیوی اور  مالی دیوی  کے ساتھ رہتا تھا۔ ایک دن اس نےاپنی دریا دلی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی  دو نوں  بیویوں کو زیورات دلانے کا جھانسہ دیا۔ دنیا کی کون سی ایسی بیوی ہوگی جو اس سازش کا شکار نہ ہو نتیجتاً دونوں بخوشی  تیار ہو گئیں اور یہ تین نفری قافلہ  بازار کے لیے نکل پڑا۔ دیپا رام نےآگے جاکر ایک ویران وسنسان مقام پر گاڑی روک کر اسے قفل لگادیا تاکہ وہ بیچاریاں  باہر نہ آسکیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا تصور بھی محال ہے۔اس ظالم درندے نے  پٹرول چھڑک کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ وہ  دونوں  اس کے سامنے چیختی چلاتی اور مدد کے لیے پکارتی رہیں لیکن اس سنگدل  کو رحم نہیں آیا۔ آگ اس تیزی کے ساتھ پھیلی کہ  کوئی مدد کے لیے نہ آسکا اور دو خواتین زندہ جل کر ہلاک ہو گئیں۔ دیپارام کی  ڈھٹائی  سے ہندو ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس نے پولس کو بتایا کہ  ”میری ماں ان دونوں کو پسند نہیں کرتی تھی‘‘۔ یہ عجیب و غریب منطق ہے کہ انسان شادی تو اپنی مرضی سے کرے  اور قتل اپنی ماتا کی ناراضگی  کے سبب کرے۔ کسی زمانے میں ہندوستان کے اندر ماتا ممتا کی علامت  ہوا کرتی تھی لیکن آج کل  کہیں بھارت ماتا کے نام پر نفرت پھیلائی جاتی ہے تو کبھی گئو ماتا کے نام پر قتل و غارتگری کی جاتی ہے۔تین بچوں کے اس  خونخوار  باپ نے اپنے جرم کے اعتراف میں کہا کہ میری بیویاں میری ماں کو خوش کرنے میں ناکام رہیں، جس کی  میں نے انہیں یہ سزا دی۔ دیپا رام جیسے لوگ راحت اندوری کے اس کی مصداق ہیں ؎

بجھ گیا وحشی کبوتر کی ہوس کا گرم خوں

بند گاڑی میں تڑپتی فاختائیں رہ گئیں

افرازلاسلام کے بہیمانہ قتل کی واردات  کے بعد راجستھانی انسانی حقوق  کے سربراہ جسٹس  پرکاش تاتیہ کا بیان قابلِ توجہ ہے۔ تاتیہ صاحب نے فرمایا اس منطق کا مکمل  خاتمہ ہو چکا ہے کہ انسان اس کائنات کی بہترین مخلوق ہے۔ یہ بات تو خود ارشاد  ربانی میں  ہے کہ ’’ ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے‘‘۔ جسٹس تاتیہ فرماتے ہیں کہ درندے بھی انسانوں کے ذریعہ انسانی حقوق کی ایسی سفاک  ترین  پامالی سے خوش نہیں ہوں گے  بلکہ  یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں جو انسان نہیں ہیں۔  کاش جسٹس تاتیہ  جانتے کہ قرآن حکیم میں انسانی کی بہترین مخلوق قرار دینے کے فوراً بعد یہ بھی فرمادیا گیا کہ ’’ پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا ہے ‘‘۔پستی و انحطاط کی وجوہات  کے ساتھ اس  سے بچنے کا نسخہ ٔ  کیمیاء بھی پیش کردیا گیا۔ فرمانِ ربانی ہے ’’علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے تو ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے‘‘۔ یعنی انسانیت کے اس انحطاط سے بچنے کے لیے ایمان اور اس کے ساتھ اعمال صالح لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی فلاح یاب نہیں ہوسکتا۔ ملک کی موجودہ صورتحال جس پر جسٹس تاتیہ نے تشویش کا اظہار کیا اس  شعر کے مصداق  ہیں ؎

درندو جنگلوں سے آو اور گواہی دو 

 کہ انساں نے نہیں پائی ہے انساں سے اماں ابھی تک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

5 تبصرے

  1. ماشاء اللہ ، انسان میں چھپے درندہ صفت جانور کو اجاگر کرتا ہوا دلوں کو جھنجوڑ کر حقیقت سے آگاہ کرتا ہوا ایک بہترین مضمون ہے۔
    اللہ تعالی آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔

  2. بلا شبہہ لاجواب تحریر ہے ۔ ان درندہ صفت عیاروں کو ایسی سزا ملنی چاہئے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے سے پہلے تمام مضرات کا خیال رکھے۔ اب دیکھیں ارباب اقتدار اس ضمن میں کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔

  3. جزاک اللہ ۔بہت خوب تحریر ہے اور حقیقتون کے اجاگر کرنے کا ہی وقت ۔یہ تحریر ہندی مین بھی ہونا تاکہ برادران وطن بھی پڑھ سکین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close