خصوصیقرآنیات

قرآن کریم اور غور و فکر کے مناہج

وہ قوم جو کبھی دیگر اقوام عالم کی امام تھی آج ہر جدید نفع بخش علم کے سلسلہ میں دوسروں کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

انسانی وجود کا تجزیہ اگرقرآن کریم کی روشنی میں کیا جائے تو پانچ بنیادی اجزاء سامنے آتے ہیں ؛ جسم (Body, Physique)، قلب (Heart)، نفس (Self or Soul)، روح (Spirit) اور عقل (Mind, Intellect)۔ گویا انسان ان پانچ بنیادی اجزاء کا مرکب ہے اور ان میں سے کسی کے بغیر انسانی وجود کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ جسم، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں مختلف اعضاء یا عضویاتی نظام کا مجموعہ ہے اور مادی اشیاء سے بنا ہو ا ہے جس کا مطالعہ ہم لوگ علم تشریح الاعضاء (Anatomy)، علم افعال الاعضاء (Physiolog، علم الحیات (Biology) اور بایو کیمسٹری (Biochemistry) وغیرہ شعبوں میں کرتے ہیں۔ لفظ ’جسم‘ (مادہ ’’ج س م‘‘)کا استعمال قرآن کریم نے درج ذیل آیت میں کیا ہے

(وَ قَالَ لَھُمْ نَبِیُّھُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْبَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا قَالُوْآ اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ وَ اللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌُ عَلِیمٌ)۔

(ترجمہ): ’’اور فرمایا انہیں ان کے نبی نے کہ بیشک اللہ نے طالوت کو تمھارے لئے بادشاہ مقرر کردیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ بھلا اس کی حکومت ہم پر کیسے ہوسکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا، بیشک اللہ نے اسی کو تم پر (فضیلت دی ہے اور حکمرانی کے لئے) چن لیاہے اور اسے زیادہ وسعت دی ہے علم اور جسم میں۔ اور اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اپنا ملک جسے چاہتاہے اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والاہے‘‘۔ (البقرہ: ۲۴۷)۔ یہاں طالوت کو بنی اسرائیل پر بادشاہ مقرر کئے جانے کی وجوہات ترجیح بیان کی گئی ہیں اور لفظ ’الجسم‘سے جسمانی قوت و صلاحیت مراد لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لفظ ’الجسم‘ صرف ایک جگہ جمع کے صیغہ میں سورۃ المنافقون کی آیت نمبر۴ میں آیا ہے جو ھُمْ ضمیر سے مل کر اَجْسَامُھُمْ بن گیا ہے۔

اسی طرح لفظ ’قلب‘ جس کا مادہ ’’ق ل ب‘‘ ہے کا استعمال قرآن کریم میں مختلف صورتوں میں ۱۶۸ جگہوں پر ہوا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر صرف دو آیتوں کو پیش کیا جارہا ہے:

(یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُولُ بَیْْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہِ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْْہِ تُحْشَرُوْنَ)۔

(ترجمہ): ’’ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول (کی دعوت ) قبول کروجب وہ تمھیں ایسے کام کے لئے بلائیں جو تمھیں زندگی بخشے، اور جان لو کہ اللہ حائل ہوجاتا ہے آدمی اور اس کے قلب (دل) کے درمیان اور یہ بھی کہ تم اسی کی طرف اٹھائے جاؤگے‘‘۔ (الانفال: ۲۴)۔

(اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ)۔

(ترجمہ): ’’بیشک اس میں نصیحت (بڑی عبرت) ہے اس کے لئے جس کا دل (بیدار) ہو، یا کان لگائے اور وہ متوجہ ہو‘‘۔ (ق: ۳۷)۔

ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قلب انسانی وجود کا وہ جزء ہے جس کا تعلق نیت و ارادہ سے ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے محبت، نفرت، غصہ، پیار، ہمت، دلیری و بیباکی، بزدلی، خوشی، غم، پسند، ناپسند، لالچ، کنجوسی، فراخدلی، جود و سخا، امیدو خوف، خوشدلی اور بددلی وغیرہ جذبات کا محل قلب کو بتایا ہے۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ از مفتی سعیداحمد پالنپوری، مکتبہ حجاز، دیوبند، ۲۰۰۳ء ؁، جلد۴، صفحات ۴۱۴، ۴۱۶، ۴۱۸)۔ قرآن سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ قلب سے علم کابھی تعلق ہے جبکہ عام طور پر لوگ علم کا تعلق دماغ سے ہی سمجھتے ہیں۔ اس بات کا اشارہ سورۃ التوبہ: ۹۳، الروم: ۵۹ اور سورۃ محمد کی آیت نمبر۲۴ میں ملتا ہے۔ گوکہ میڈیکل سائنس نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن امید قوی ہے کہ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں یہ چیز ضرور ثابت ہوگی۔

نفس، انسانی وجود کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق خواہشات، فطری رجحانات، تجربات اور موروثی خصوصیات (Hereditory Characteristics) وغیرہ سے ہے جو انسانی شخصیت کی پہچان بنتے ہیں اور جن کی بنیاد پر ہی دو انسانوں کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ نفس (نَفْسٌ) جس کا مادہ ’’ن ف س‘‘ ہے اپنی مختلف شکلوں میں قرآن کریم میں لگ بھگ ۲۹۸ جگہ وارد ہو ا ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۴۸ میں ’’نَفْسٌ‘‘، آیت نمبر ۴۴ میں ’’اَنْفُسَکُمْ‘‘، آیت نمبر ۵۷ میں ’’اَنْفُسَھُمْ‘‘، آیت نمبر ۷۲ میں ’’نَفْسًا‘‘، آیت نمبر ۸۷ میں ’’اَنْفُسُکُمْ ‘‘، آیت نمبر۲۸۴ میں ’’ اَنْفُسِکُمْ‘‘ اور سورۃ النساء کی آیت نمبر۷۹ میں ’’نَّفْسِکَ‘‘ وغیرہ۔ قرآن کریم میں اس کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ نفس تین طرح کا ہوتا ہے؛ نفس امّارہ، نفس لوّامہ اور نفس مطؤنہ۔ نفس امارہ انسان کوگناہوں کی طرف اکساتا ہے اوراللہ کے حکموں کی پرواہ کئے بغیر خواہشات کو پورا کرنے کی دعوت دیتا ہے جیسا کہ سورہ یوسف کی آیت نمبر ۵۳ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ نفس لوامہ جس کا تذکرہ سورہ القیامہ کی آیت نمبر ۲ میں ہے، انسان کو اس کی غلطیوں پر ملامت کرتا ہے اور اسے توبہ کی طرف مائل کرتا ہے۔ نفس مطۂنہ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے اپنے رب سے راضی اور شرعی احکام پر مطأن ہوتا ہے۔ اسے اللہ کے احکام کو پورا کرنے میں مزہ آتا ہے اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس طرح کے نفس کا حوالہ سورہ الفجر کی آیت نمبر ۲۷ میں ملتا ہے۔

انسان کے جسم میں روح کی موجودگی کا حوالہ قرآن کریم میں سورۃ الحجر کی آیت ۲۹ اور سورۃ سجدہ کی آیت نمبر ۹ میں دیکھا جاسکتا ہے گو کہ لفظ ’’روح‘‘ مختلف معنوں میں قرآن کریم میں ۲۱ جگہ استعمال ہوا ہے بشمول ان ۱۰ مقامات کے جہاں یہ ’جان‘ کے معنی میں آیا ہے۔ آیتیں علی الترتیب اس طرح ہیں :

(فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ)۔

(ترجمہ): ’’سو جب میں اس کو پوری طرح بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدہ میں گرجانا‘‘۔ (الحجر: ۲۹)۔

(ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِن رُّوحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْءِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُون)۔

(ترجمہ): ’’پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل پیدا کئے (لیکن) تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو‘‘۔ (السجدۃ: ۹)۔
ان آیتوں سے یہ بھی واضح ہے کہ حیات کے لئے روح ہی ذمہ دار ہے اور اسی کی وجہ سے تمام اعضاء اپنے اپنے کام کے لائق ہوتے ہیں۔ روح کی ماہیت اور صفات کو قرآن نے حتمی طور پر واضح نہیں کیاہے بلکہ صرف اتنا بتایا ہے کہ یہ اللہ کا ایک امر ہے اور انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا)۔ (ترجمہ): ’’اور (یہ لوگ) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم لوگوں کو علم نہیں دیا گیا مگر بہت ہی تھوڑا سا۔ ‘‘۔ (سورۃ بنی اسرائیل: ۸۵)۔ گویا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس تھوڑے علم سے انسان روح کی ماہیت کو نہیں سمجھ سکتا۔ حدیث میں بھی صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ شکم مادر میں بچہ کی تخلیق کی بنیاد پڑنے سے ۱۲۰ دنوں بعد ایک فرشتہ آکر روح پھونک جاتا ہے۔ (اربعین از امام نوویؒ، البدر پبلی کیشنز، اردو بازار، لاہور، ۲۰۰۹ء ؁، حدیث نمبر ۴، بروایت عبداللہ بن مسعودؓ)۔ اس لئے روح آج تک سائنس دانوں کے لئے بھی ایک راز (Mystery) ہی ہے۔

اب رہا عقل، تو یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعہ انسان ان چیزوں کا ادراک کرتا ہے جن کا ادراک حواس ظاہرہ سے ممکن نہیں۔ اس کی جگہ دماغ (Brain) ہے اور اس کا کام حواس خمسہ کے ذریعہ فراہم کردہ اطلاعات کی مراد کو سمجھنا، ان کی حقیقت تک پہنچنا اور ان کی وضاحت کرنا ہے۔ ذہن کی تمام قوتوں مثلاً قوت ادراک (consciousness)، قوت فہم و فراست(Power of Understanding)، قوت امتیاز (Power of Discrimination)، قوت فکر (Power of Thinking)، قوت تخیل (Power of Imagination)، قوت استدلال (Power of Argumentation)، قوت فیصلہ(Power of Drawing Conclusion)، قوت تنقید و تشخیص (Power of Criticism & Evaluation)، قوت تجزیہ و ترکیب (Power of Analysis & Synthesis) وغیرہ کا تعلق عقل سے ہی ہے۔ عقل کے ذریعہ انسان بھلے برے میں فرق کرتا ہے، فوائد و نقصانات کو سمجھتا ہے اور اس کے مطابق ہی اپنے دنیوی و اخروی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ ہی انسان کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا ادراک کرتا ہے جو اسے وحدانیت اور ایمان کی طرف گامزن کرتی ہے۔ یہ انسان کے اوپراللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے جس سے حیوانات کو محروم رکھا گیا ہے اور اسی کی وجہ سے انسان شریعت کا مکلف بنایا گیا ہے۔
انسانی وجود میں عقل کی موجودگی کا حوالہ اس لفظ کے مادہ ’’ع ق ل‘‘ کے مختلف مشتقات کی شکل میں قرآن کی ۴۹ آیات میں ہے جن سے اس کی کچھ صفات کا بھی پتہ چلتا ہے، مثال کے طور پر سورۃ البقرۃ: ۴۴، ۷۵، ۱۶۴، النحل: ۱۲، الروم: ۲۴، الرعد: ۴ وغیرہ۔ لفظ عقل کے علاوہ شعبہ عقل کی نمائندگی قرآن میں کچھ دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ جیسے لُبْ (البقرہ: ۱۷۹، ۱۹۷، ۲۶۹؛ آل عمران: ۷، ۱۹۰؛ الرعد: ۱۹ وغیرہ)، قلب ( ق: ۳۷)، فواد (الملک: ۲۳؛ بنی اسرائیل: ۳۶)، الحلم (النور: ۵۸، ۵۹؛ طور: ۳۲)، حِجْر (الفجر: ۵) اور نُھٰی (واحد النُّھْیَۃُ) (طٰہٰ: ۱۲۸) وغیرہ۔ قرآن کریم نے اعضاء حسی اور عقل کے استعمال پر کافی زور دیا۔ ارشاد ہے: (وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَ الْاَفْءِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ)۔ یعنی’’اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے بطن سے( ایسی حالت میں نکالا) کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے، اسی نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزاری کرو‘‘۔ (النَّحْل: ۷۸)۔ ان نعمتوں کی عملی شکرگزاری یہ ہے کہ انسان ان اعضاء اور ان سے وابستہ قوتوں کو اس طرح استعمال کرے جس سے اللہ راضی ہو جائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان قوتوں کو بروئے کار لائے بغیر نہ ہی کوئی عقیدہ قائم کرے اور نہ ہی کوئی عمل اختیار کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسے اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا کیوں کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کی ناقدری کی۔

نیز جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کا حق ادا نہیں کرتے ان کی مذمت قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے:

(وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّایُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا ط اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ ط اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ھ)۔

(ترجمہ): ’’ہم نے بہت سے انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے دل ایسے ہیں، جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں، جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں ‘‘۔ (الاعراف: ۱۷۹)۔

یعنی ان کے دل تو ہیں لیکن وہ حق کے دلائل میں غور و فکر نہیں کرتے، ان کی آنکھیں تو ہیں لیکن ان سے حق کے روشن دلائل کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، ان کے کان تو ہیں لیکن ان سے آیات قرآنیہ اور مواعظ و نصائح کو غور سے نہیں سنتے اور ان کی اس فطرت نے انہیں جانوروں سے بھی بدتر بنا دیا ہے۔ ایک مقام پرعقل کے عدم استعمال، کو اس طرح تنقید و ملامت کا نشانہ بنایا ہے۔ فرمایا:

(وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّلَا یَھْتَدُوْن ہ وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ط صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ)۔

(ترجمہ): ’’ اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو کتاب اللہ نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو توکہتے ہیں ( نہیں )بلکہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادانہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ان ہی کی تقلید کئے جائیں گے)۔ جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے۔ (یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ کچھ نہیں سمجھتے۔ ‘‘۔ (البقرہ: ۱۷۰۔ ۱۷۱)۔

جہنم میں جانے کی ایک بڑی وجہ عقل کا صحیح استعمال نہ کرنا ہی ہوگا جیسا کہ ایک آیت میں ہے کہ یوم آخرت میں جہنمی اپنی اس کوتاہی پر اظہار افسوس بھی کریں گے۔

(کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ ھ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلّاَ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ھ وَ قَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُناَّ فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ)۔

(ترجمہ): ’’اورجب بھی اس (جہنم) میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو ان سے اس کے داروغہ پوچھیں گے کہ کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں (کیوں نہیں ) بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم تو بہت بڑی گمراہی میں ہو اور کہیں گے کہ اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں شامل نہ ہوتے‘‘۔ (الملک: ۸۔ ۱۰)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا میں حاسہ سماعت اور عقل سے محروم تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی ان نعمتوں کا صحیح استعمال نہیں کیا جو ان کے لئے خسران کا موجب بنا۔ دوسری طرف عقل کے صحیح استعمال کو قرآن میں کئی جگہ سراہا گیا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ انسان عقل کا استعمال اگر ہوائے نفس اور دوسرے شیطانی عوامل سے بچتے ہوئے کرے تو یقیناًاس کی رہنمائی حق اور دین فطرت کی طرف ہوگی لیکن اگر اس نے عقل کے استعمال میں نفس اور خواہشات کو شامل کرلیا تو یہ حق سے دوری کا سبب بن سکتی ہے۔

قرآن کریم میں قوت عقلیہ و فکریہ کو بروئے کار لانے کی تاکیدکے تناظر میں کئی طرح کے عمل (process) کا ذکر ہے جیسے درایت (acquaintance, cognizance, reasoning)، فہم (understanding)، ادراک (consciousness, discernment, realization)، تفکر (reflection, thinking, meditation)، تدبر (deliberation)، تذکر (refreshing the memory)، اور تفقہ (discrimination, comprehension) لیکن قرآن نے سب سے زیادہ لفظ تفکر کا ہی استعمال کیا ہے یعنی غور و فکرکرنا۔ یہ بات بھی قابل وضاحت ہے کہ قرآن نے کئی جگہ غور و فکر کو تجربی مشاہدہ (empirical observation) سے جوڑ کر بیان کیا ہے جیسے سورہ یونس: ۱۰۱، الاعراف: ۱۸۵ اور الطارق: ۵ وغیرہ آیات میں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن نے غور و فکر کے مختلف مناہج بتائے ہیں جن سے انسان کو نہ صرف یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ اسے اپنی قوت عقلیہ و فکریہ کا استعمال کہاں کہاں کرنا چاہیے بلکہ ان سے علوم معارف کی بہت سی نئی راہیں کھلتی ہیں اور نئے شعبوں کی طرف رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس مضمون کا خاص مقصد اسی نکتہ کی وضاحت ہے۔ قرآن کے ذریعہ بتائے گئے مناہج کو درج ذیل عناوین کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

1۔ تفکر فی القرآن (Pondering in the Quran):

قرآن کریم کی کئی آیات میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنی کتاب کے اندر غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: (کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَ لْبَابِ)۔ (ترجمہ): ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پراس واسطے نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل فہم اس سے نصیحت حاصل کریں ‘‘۔ (ص: ۲۹)۔ ایک جگہ قرآن میں غور و فکر نہ کرنے والوں کی یوں مذمت فرمائی ہے: (اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا)۔ (ترجمہ): ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ‘‘۔ (محمد: ۲۴)۔ اس مضمون کی اور بھی آیات ہیں مثلاً البقرہ: ۲۱۹، النسآء: ۸۲ وغیرہ۔ ان آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے اور ان سے نصیحت و رہنمائی حاصل کی جائے۔ ان آیات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قرآن سے صحیح استفادہ عقلمند لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ سورۃ النسآء کی آیت ۸۲ خصوصی طور پر یہ واضح کرتی ہے کہ جو لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے وہ اکثر شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن میں غور وفکر کرنے والوں پر حق بتدریج واضح ہوتا جاتا ہے اور وہ ایمان و یقین کے منازل طے کرتے رہتے ہیں اور بالآخر ہدایت اور کامیابی کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہیں۔ قرآن میں غور وفکرکرنے کے لئے جن علوم کی ضرورت پڑتی ہے ان میں عربی ادب، علم لغت، علم التجوید اور علم تفسیر کا خاص مقام ہے۔ ان کے علاوہ علم حدیث اور علم فقہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

2۔ تفکر فی الآفاق(Pondering over the Universe):

غور و فکر سے متعلق دوسری قسم کی آیات وہ ہیں جن میں اللہ رب العزت نے کائنات، اس کے محکم نظام اور اس میں بکھری ہوئی اپنی مخلوقات میں غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ جیسے ارشاد ہے: (اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیئٍ)۔ (ترجمہ): ’’کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیاآسمان و زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں ‘‘۔ (الاعراف: ۱۸۵)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: (قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ)۔ (ترجمہ): ’’آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ا نھیں آنکھیں کھول کر دیکھو‘‘۔ (یونس: ۱۰۱)۔ ایک جگہ یوں فرمایا: (اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں، اور ان کشتیوں میں جو انسان کی نفع کی چیزیں لئے ہوئے سمندر میں چلتی پھرتی ہیں اور بارش کے اس پانی میں جسے اللہ آسمان سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اور اس میں ہر قسم کی جاندار مخلوق پھیلاتا ہے اور ہواؤں کی گردش میں اور بادل میں جو تابع فرمان ہو کر آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتے ہیں، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ‘‘۔ (البقرھ: ۱۶۴)۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیات ہیں مثلًا؛ الانعام: ۹۵۔ ۹۹، النحل: ۱۰۔ ۱۷، ۶۵۔ ۶۹، ۷۸۔ ۸۱، العنکبوت: ۲۰، یٰسین: ۳۲۔ ۴۴، الغاشیہ: ۱۷۔ ۲۰، فاطر: ۲۷۔ ۲۸، الروم: ۱۹۔ ۲۵، الجاثیۃ: ۵ وغیرہ۔ ایک جگہ اللہ پاک نے ایسے بندوں کی تعریف کی ہے جو زمین و آسمان کی تخلیق اور کائنات کے دیگر اسرار و رموز پر غور کرتے ہیں اور انہیں کائنات کی حقیقت کا ادراک اور اس کے خالق کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے: (اِنَّ فِی خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْبَابِ ھ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَ یََتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ھ)۔ (ترجمہ): ’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدلنے میں یقینًا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ (وہ ایسے لوگ ہیں ) جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے ان سب کی تخلیق بے فائدہ نہیں کی، آپ پاک ہیں ( اس سے کہ عبث کام کریں )، ہمیں آگ کے عذاب سے بچالیجئے‘‘۔ (آل عمران: ۱۹۰۔ ۱۹۱)۔

ان آیات میں اللہ رب العزت نے انسان کو کائنات، اس کے مختلف components اور کائنات میں رونما ہونے والے مختلف حادثات و تغیرات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ جو لوگ ان میں ایمانداری کے ساتھ غور و فکر کرتے ہیں وہ اللہ کی قدرت، اس کی حکمت اور صناعی کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ انہیں کائنات میں اللہ کی وحدانیت کے دلائل مل جاتے ہیں۔ وہ اس بات کے بھی قائل ہوجاتے ہیں کہ پوری کائنات کو اللہ نے انسان کے فائدہ کی خاطر ہی پیدا فرمایا ہے اور اس کے تمام components دراصل انسان کی خدمت میں ہی مصروف ہیں۔ اس طرح انہیں اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ اب ذرا آپ بھی ان آیات پر غور کیجئے، کیا ان میں علم کائنات (Cosmology)، علم ہیئت (Astronomy)، علم طبیعیات (Physics) خصوصاً فلکی طبیعات (Astrophysics)، علم جغرافیہ (Geography)، بحری جغرافیہ (Oceanography) اور علم الارض (Earth Science) جیسے علوم کو حاصل کرنے کی ترغیب نہیں ہے؟

3۔ تفکر فی الخلق (Pondering over the Creatures):

غور و فکر کا تیسرا منہج اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر ہے۔ قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جن میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوقات خصوصاً عالم حیوانات اور نباتات کی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے کہ ان کی ساخت (structure)، رہنے سہنے کا انداز (habitation)، اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد پر غور و فکر کریں اور اللہ کی قدرت اور حکمت کو پہچانیں۔ جیسے فرمایا: (وَاِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآءِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ ہ وَمِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَالْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْہُ سَکَرًا وَّرِزْقًا حَسَنًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ہ وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ ہ ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً ط یَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِھَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ فِیْہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ہ)۔ (ترجمہ): ’’اور بیشک تمھارے لئے چوپایوں میں ( مقام) عبرت (و غور) ہے، ہم تمھیں پلاتے ہیں دودھ خالص اس سے جو گوبر اور خون کے درمیان ان کے پیٹوں میں ہے، پینے والوں کے لئے خوشگوار۔ اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے (بھی پینے کی چیز یعنی رس حاصل کرتے ہو)، کہ تم اس سے شراب بناتے ہواور اچھا رزق(حاصل کرتے ہو)۔ بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔ اور تمھارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیاکہ تو پہاڑوں میں گھر بنالے اور درختوں میں اور اس جگہ جہاں لوگ چھتریاں بناتے ہیں۔ پھر کھا ہر قسم کے پھلوں سے، پھر اپنے رب کے نرم ہموار راستوں پر چل، ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے (شہد)، اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں ‘‘۔ (النحل: ۶۶۔ ۶۹)۔ ایک جگہ ارشاد ہے: (اَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلَّا اللّٰہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھاآسمان کی فضا میں حکم کے پابند (اڑتے رہتے) ہیں، انہیں کوئی نہیں تھامتا سوائے اللہ کے، بیشک اس میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں ‘‘۔ (النحل: ۷۹)۔ اور ایک جگہ یہ فرمایا: (اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ)۔ (ترجمہ): ’’کیاوہ لوگ نہیں دیکھتے اونٹ کی طرف کہ وہ کیسے (عجیب طور پر) پیدا کیا گیا ہے؟‘‘۔ (الغاشیۃ: ۱۷)۔ اسی طرح عالم نباتات کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: (ہُوَ الَّذِیْٓ اَنزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ وَمِنْہُ شَجَرٌ فِیْہِ تُسِیْمُونَ ہ یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْْتُونَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَآیَۃً لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’وہی توہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، اس سے تمھارے لئے پینے کو ہے اور اس سے درخت بھی (سیراب ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مویسی) چراتے ہو، اور وہ اس سے ہی تمھارے لئے اگاتاہے کھیتی، اور زیتون، اور کھجور، اور انگور اور ہر قسم کے پھل، بیشک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی بڑی) نشانیاں ہیں ‘‘۔ (النحل: ۱۰۔ ۱۱)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: (وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِھًا وَّغَیْرَ مُتَشَابِہٍ ط اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَیَنْعِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اور وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے نکالی اگنے والی ہر چیز، پھر ہم نے اس سے سبزہ نکالا (مراد سبز کونپلیں ہیں ) جس سے ایک پر ایک چڑھے ہوئے دانے نکلتے ہیں، اور کھجوروں کے گابھے سے جھکے ہوئے خوشے اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہیں بھی ملتے، دیکھو اس کے پھل کی طرف جب وہ پھلتا ہے اور اس کا پکنا (دیکھو)، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے (قدرت کی بہت سی) نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ‘‘۔ (الانعام: ۹۹)۔

انسان اگرعالم حیوانات اور عالم نباتات کا مطالعہ کرے تو اس کا اس نتیجہ پر پہنچنا دشوار نہیں کہ یہ سب فقط نامیاتی ارتقاء (organic evolution) کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی تخلیق کے پیچھے ایک حکمت آمیز منصوبہ بندی (intelligent planning)، اور طے شدہ مقاصد ہیں۔ یہ سب چیزیں اپنے مشاہدہ کرنے والوں کو اپنے خالق کو پہچاننے اور اس کی قدرت و حکمت کو سمجھنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ انسان اس پر بھی غور کرے کہ جس رب نے ان تمام مخلوقات کو ایک مقصد کے تحت پیدا فرمایا، کیا اس نے اسے یوں ہی بے کار پیدا کیا ہے۔ ان آیتوں سے علم حیوانات (Zoology)، علم حیوانات پروری (Animal Husbandry)، خصوصاً علم الطیور (Ornithology)، نحل پروری (Bee Keeping)، علم نباتات (Botany) اور زرعی تعلیم(Agriculture Education) کے حصول کی طرف بھی رہنمائی ہوتی ہے۔

4۔ تفکر فی الانفس (Pondering over Self):

غور و فکر کے اس چوتھے منہج کی طرف رہنمائی ان آیات سے ہوتی ہے جن میں اللہ رب العزت نے انسان کو اپنی ذات میں غور وفکر کی دعوت دی ہے۔ ان میں بعض آیات ایسی بھی ہیں جن میں انفس وآفاق دونوں کا ہی تذکرہ ہے جیسے یہ آیت کریمہ: (اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی)۔ (ترجمہ): ’’کیا انھوں نے کبھی اپنی ذات میں غور و فکر نہیں کیا ؟ اللہ نے نہیں پیدا کیا آسمانوں کواور زمین کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں مگر حق (یعنی درست تدبیر و حکمت ) کے ساتھ اور ایک وقت مقرر تک کے لئے ہی‘‘۔ (الروم: ۸)۔ ایک جگہ ارشاد باری ہے: (سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ)۔ (ترجمہ): ’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ (قرآن ) واقعی حق ہے‘‘۔ (حٰمٓ السجدۃ: ۵۳)۔
ایک جگہ انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کویوں متوجہ فرمایا: (فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ ھ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ ھ یَّخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآءِب ھ)۔ (ترجمہ): ’’پس انسان کو چاہیے کہ (خود ہی) دیکھے (یعنی غور کرے) کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ اسے پیدا کیا گیا ہے اچھلتے ہوئے پانی سے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے ‘‘۔ (الطارق: ۵۔ ۷)۔ اتناہی نہیں بلکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کی بعض آیات میں انسان کی تخلیق و پیدائش اور اس کی زندگی کے مراحل کو واضح طور پر بیان بھی کردیا ہے تاکہ انسان ان پر غور و فکرکرے اور اپنے خالق کو پہچانے اور پھر اس کے احکام پر ایمان لے آئے۔ مثلاً سورۃ الحج کی ان آیات کو دیکھیں :۔ (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنْ کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّغَیْْرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمْ ط وَنُقِرُّ فِیْ الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخْرِجُکُمْ طِفلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اََشُدَّکُمْ وَمِنکُمْ مَّنْ یُتَوَفّٰی وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلآی اََرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْْلَا یَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَیْْءًا ط وَتَرَی الْاَرْضَ ہَامِدَۃً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْْہَا الْمَآءَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ واَنْبَتَتْ مِنْ کُلِّ زَوْجٍ بَہِیْجٍ ہ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وَاَنَّہٗ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَاَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ)۔ (ترجمہ): ’’اے لوگو! اگر تم (قیامت کے دن) جی اٹھنے سے شک میں ہو تو (سوچو) کہ ہم نے تمہیں (ابتداءً) مٹی سے پیدا کیا، پھراس سے نطفہ بناکر، پھر اس سے جمے ہوئے خون کا لوتھڑا بناکر، پھر اس سے گوشت کی بوٹی بناکر صورت بنی ہوئی اور بغیر صورت بنی (ادھوری) تاکہ ہم تمہارے لئے ( اپنی قدرت) ظاہر کردیں اور ہم جس کو چاہتے ہیں (ماؤں کے) رحموں میں ایک مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں نکالتے ہیں بچہ (کی صورت میں ) تاکہ پھر تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں کوئی (عمر طبعی سے قبل) فوت ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی لوٹایا جاتاہے نکمی عمر تک تاکہ وہ (بہت کچھ) جاننے کے بعد بھی کچھ نہ جانے (یعنی ناسمجھ ہوجائے)، اور تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک پڑی ہوئی ہے، پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تو وہ تر و تازہ ہوگئی اور ابھر آئی اور وہ اگا لائی ہر (قسم کے نباتات کا) رونق دار جوڑا۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور یہ کہ وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے‘‘۔ (الحج: ۵۔ ۶)۔

ایک جگہ قرآن کریم نے دنیا کے مختلف خطے کے انسانوں کے درمیان رنگ و نسل اور زبان کے فرق کی طرف غور و فکر کرنے کے لئے یوں متوجہ کیا ہے: (وَمِنْ اٰیٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَ اَلْوَانِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ)۔ (ترجمہ): ’’اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنااور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا مختلف ہونا، بیشک اس میں دانشوروں کے لئے نشانیاں ہیں ‘‘۔ (الروم: ۲۲)۔ اس کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جیسے القیٰمۃ: ۳۶۔ ۳۹، الانفطار: ۶۔ ۸، الزمر: ۵۔ ۶، المؤ منون: ۱۲۔ ۱۴، السجدہ: ۷۔ ۹، عبس: ۱۷۔ ۲۰، المؤمن: ۶۷، الانسان: ۱۔ ۲ وغیرہ جن میں بار ی تعالیٰ نے ا نسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا تذکرہ کیا ہے تاکہ انسان ان میں غور و خوض کرے اور اللہ کی قدرت، اس کی خالقیت، صنعت اور حکمت کو پہچان سکے۔ سائنس دراصل اللہ کی ان نشانیوں کی پرتوں کو ہی کھولتی جارہی ہے جو اس نے انسان اور آفاق کے اندر پنہاں کی ہوئی ہیں اور جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ عنقریب وہ دن آئے گاکہ لوگ قرآن کی حقانیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان آیات میں اگر غور کیا جائے تو اس نتیجہ پر پہنچنادشوار نہیں کہ ان میں علم کائنات (Cosmology)، علم ہیئت (Astronomy)، علم طبیعیات (Physics) بالخصوص فلکی طبیعات (Astrophysics)، علم الجنین (Embryology)، علم تشریح الاعضا (Anatomy)، علم افعال الاعضا (Physiology)، علم حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry)، علم نفسیات (Psychology)، علم تزکیہ نفس، علم بشریات (Anthropology) اور مختلف زبانوں (Languages) کے علم کے حصول کے لئے واضح اشارے موجود ہیں۔

5۔ تفکر فی الاحکام (Thinking over the Commandments):

غور و فکر کا پانچواں منہج وہ آیات بتاتی ہیں جن میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے انسان کو اپنے تشریعی احکامات کی حکمتوں میں غور و فکر کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ وہ ان آیات و احکام کو اچھی طرح سمجھ کر صحیح طور پر اپنی عملی زندگی پر منطبق کرے۔ مثال کے طور پر اس آیت کو دیکھئے: (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ط قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَآ ط وَ یَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلِ الْعَفْوَ ط کَذَالِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’وہ پوچھتے ہیں آپ سے شراب اور جوئے کی بابت، آپ فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لئے اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے اور پوچھتے ہیں آپ سے کیا خرچ کریں ؟ آپ فرمائیے جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اسی طرح صاف صاف بیان کرتا ہے اللہ تمھا رے لئے اپنے احکام تاکہ تم غور و فکر کرو‘‘۔ (البقرہ: ۲۱۹)۔ احکام قصاص کے بیان کے بعد فرمایا:(وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’اے فہیم لوگو! (اس قانون) قصاص میں تمھارے لئے زندگی ہے، امید ہے کہ تم لوگ (اس قانون کی خلاف ورزی کرنے سے) پرہیز کروگے‘‘۔ (البقرہ: ۱۷۹)۔ اسی طرح روزہ میں رخصت کے پہلو کو بیان کرکے فرمایا:(وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ)۔ (ترجمہ): ’’ اور روزہ رکھنا ہی تمھارے حق میں بہترہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو ‘‘۔ (البقرہ: ۱۸۴)۔ نماز جمعہ کے سلسلہ میں فرمایا:(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وذَرُواالْبَیْعَ ط ذَالِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’اے ایمان لانے والو ! جب اذان دی جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ‘‘۔ (الجمعۃ: ۹)۔ اس قبیل کی اور بھی آیات ہیں مثلاً البقرۃ: ۱۸۵، ۲۳۰، ۲۴۰۔ ۲۴۱، ۲۸۲، النسآء: ۲۳۔ ۲۶، المآئدۃ: ۸۹، ۱۰۰، الانعام: ۱۱۹، العنکبوت: ۴۵، الحشر: ۷ وغیرہ لیکن سب کو یہاں نقل کرنانہ ہی ممکن ہے نہ ضروری، اگر کوئی صاحب علم و تحقیق دیکھنا چاہیں تو رجوع کرسکتے ہیں۔ یہ آیات علم فقہ (Islamic Jurisprudence) اور علم تصوف (The Islamic Science of Spirituality) کے حصول کی ترغیب دیتی ہیں جن میں علی الترتیب شرعی احکام کے دلائل اور ان کی روح سے بحثیں کی جاتی ہیں لیکن وہ علم تصوف مطلوب و مقصود ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت ہو نہ کہ بدعات و خرافات۔

6۔ تفکر فی الاقوام (Thinking over the Past Nations):

غور و فکر سے متعلق چھٹے منہج کا اشارہ ان آیات میں ہے جن میں تاریخی مراحل میں قوموں کے اندر جاری اللہ کی سنت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔ جیسے فرمایا:(اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ مََّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَالَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا وَّ جَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے زمین میں ایسا اقتدار دیا تھا جیسا کہ تمہیں بھی نہیں دیا اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے نہریں بنادیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہ رہی تھیں۔ پھر ہم نے ان کوان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کرڈالا اور ان کے بعد دوسری قوموں کو پیدا کردیا‘‘۔ (الانعام: ۶)۔ ایک جگہ فرمایا: (وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَاکَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا ط کَذَالِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ھ ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓءِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر ( بھی) دلائل لے کر آئے، مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے؟ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر ان کے بعد ہم نے زمین میں تم کو جانشیں کیاتاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو ‘‘۔ (یونس: ۱۳۔ ۱۴)۔ ایک جگہ یوں ارشاد ہے: (لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَایُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا ھ مَلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا ھ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا ھ )۔ (ترجمہ): ’’یہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں بری افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو، ضرور ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے پھر یہ لوگ آپ کے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر بہت ہی تھوڑے دنوں، وہ بھی (ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے، جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اوربری طرح قتل کردئے جائیں گے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملہ میں پہلے سے چلی آرہی ہے اور آپ اللہ کی سنت میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے‘‘۔ (الاحزاب: ۶۰۔ ۶۲)۔ اور ایک جگہ ایمان والوں کے لئے یہ ضابطہ بتایا :(وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا ط یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا ط وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ھ)۔ (ترجمہ): ’’اللہ وعدہ فرما چکا ہے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں کہ انہیں ضرور زمین میں خلافت (اقتدار) عطا کرے گا جیسا کہ ان لوگوں کوخلافت عطا کیا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جمادے گاجسے ان کے لئے وہ پسند فرماچکا ہے اور ان کے اس خوف (کی حالت) کو امن و امان سے بدل دے گا، وہ صرف میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جو لوگ اس کے بعد بھی کفر (ناشکری) کریں تو وہ یقیناً فاسق ہیں ‘‘۔ (النور: ۵۵)۔ اس طرح کی اور بھی آیات ہیں مثلاً آل عمران: ۱۳۷۔ ۱۳۸، الانعام: ۱۱، الاعراف: ۹۶، ۱۳۶۔ ۱۳۷، ھود: ۱۸۔ ۲۰، یوسف: ۱۰۹، الحج: ۴۰۔ ۴۱، النمل: ۶۹، القصص: ۴۔ ۶، الروم: ۹، غافر: ۲۱ وغیرہ۔

ان آیات سے تاریخ (History) کے مطالعہ کی طرف رہنمائی حاصل ہوتی ہے جس کا مقصد گزشتہ قوموں کے اندر جاری اللہ کی سنت کو سمجھناہو یعنی وہ کیا عوامل ہیں جن سے کسی قوم کو عروج اور ترقی حاصل ہوتی رہی ہے اور جن سے کسی قوم کا زوال ہوتا آیا ہے۔ انسان تاریخ کے مطالعہ سے اگر ان عوامل کو سمجھ لے تو بہت سی غلطیوں سے بچ سکتا ہے اور ترقی و عروج کے بلند و بالا مقام کو پاسکتا ہے کیوں کہ اللہ کی سنت بدلتی نہیں جیسا کہ مذکورہ بالا آیات میں قرآن کا اعلان ہے۔ یہاں یہ واضح کردینا بھی مناسب لگتا ہے کہ اسی طرح اللہ کی سنت کائنات میں رونما ہونے والے حادثات و تغیرات میں بھی جاری ہے جسے سائنسداں Law of Nature یا Natural Law کہتے ہیں۔ سائنس درحقیقت اللہ کی ان سنتوں یعنی Natural Laws کو ہی سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے کا عمل (process) ہے۔

مندرجہ بالا تفصیلات سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے انسان کو غور و فکر کی دعوت کس اہتمام سے دی ہے۔ یہ اہتمام انسانی زندگی میں غور و فکر کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غور و فکر اور تدبر و تفکر ہی ہے جس سے علمی تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں۔ انسان قرآن کے بتائے ہوئے نہج کے مطابق جس رخ پر بھی اپنے تدبر و تفکر کو مرکوز کرے گا، خود کو علم کے ایک اتھاہ سمندر میں غوطہ زن پائے گا۔ اس لئے قرآن کریم کی غور و فکر پر یہ تاکید دراصل علم و تحقیق کی دعوت ہے جو تمام انسانوں کو دی گئی ہے اور ایک مسلمان چونکہ اس کا خصوصی مخاطب ہے اس لئے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ ان میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرے جن کی نشاندہی مختلف ذیلی عناوین کے تحت سطور بالا میں کی گئی ہے اور دیگر نامناسب اور غیرمفیدمیدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے بچائے۔

مذکورہ مباحث سے یہاں یہ بات بھی کافی حد تک عیاں ہوچکی ہے کہ جس طرح علم تفسیر، علم حدیث اور علم فقہ اور ان کے معاون علوم مثلًا عربی زبان و ادب، علم لغت، علم التجوید وغیرہ کی قرآنی بنیادیں موجود ہیں ٹھیک اسی طرح علم کائنات (Cosmology)، علم ہیئت (Astronomy)، علم طبیعیات (Physics) بالخصوص فلکی طبیعات (Astrophysics)، علم جغرافیہ (Geography)، بحری جغرافیہ (Oceanography) اور علم الارض (Earth Science)، علم حیوانات (Zoology)، علم حیوانات پروری (Animal Husbandry)، خصوصاً علم الطیور (Ornithology)، نحل پروری (Bee Keeping)، علم نباتات (Botany) اور زرعی تعلیم(Agriculture Education)، علم الجنین (Embryology)، علم تشریح الاعضا (Anatomy)، علم افعال الاعضا (Physiology)، علم حیاتیاتی کیمیا (Biochemistry)، علم نفسیات (Psychology)، علم تزکیہ نفس و تصوف، علم بشریات (Anthropology)، تاریخ (History) اور لسانیات (Linguistics) وغیرہ علوم کی بھی قرآنی بنیادیں موجود ہیں۔ اسی طرح ریاضی (Mathematics) کے بغیر تجارت، وراثت کی تقسیم اور آپس کے دیگر معاملات طے نہیں کئے جاسکتے۔ پھر مذکورہ علوم میں سے کئی سے پیدا ہونے والی اطلاقی سائنس (Applied Sciences) اور علم صنعت و حرفت (Technology) جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہیں، کے حصول کا جواز بھی خود بخود ثابت ہوجائے گا۔ نوحؑ کو کشتی بنانے اور داؤدؑ کو زرہ بنانے کا علم عطا کیا جانا قرآن میں علی الترتیب سورۃ ہود: ۳۷ اور سورۃ الانبیاء: ۸۰ میں مذکور ہے جو نفع بخش صنعت و حرفت کے علم کے حصول کے جواز پر دال ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ قرآن حکیم نے علم کے سلسلہ میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہیں کی، صرف اس کے نفع کے پہلو کو ملحوظ رکھا ہے۔ لہٰذا جو شخص مذکورہ علوم کو کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو دریافت کرنے، اس کی قدرت اور کاریگری کو سمجھنے اور اس کی مخلوقات خصوصاً عالم انسانیت کی نفع رسانی کی غرض سے جس کا حتمی مقصد حصول رضائے الٰہی ہو، حاصل کرنے کی سعی کرے گا تو اس کا یہ عمل عینِ دین ہوگا اور وہ ان تمام فضیلتوں کا ان شاء اللہ مستحق گردانا جائے گا جو علم کے سلسلہ میں قرآن وحدیث میں وارد ہوئے ہیں۔ ماضی میں ہماری درسگاہوں میں بھی علم کے سلسلہ میں ایسی کوئی تفریق نہیں پائی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر عباسی دور (۷۵۰۔ ۱۲۵۸ء) جو کہ اسلامی تہذیب اور علوم کے ارتقاء کا سنہرا دور تصور کیا جاتا ہے کے نصاب تعلیم کو دیکھا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، تصوف، علم لغت، تاریخ کے ساتھ ساتھ مختلف سائنس اور ریاضی کے میدان میں مسلم اسکالرز نے جو کاوشیں کی ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو علمی سرمایہ وجود میں آیا، اس کا محرک دراصل وہ قرآنی آیات ہی تھیں جن میں ضروری علم کے ساتھ غور و فکر اور تدبر و تفکر کی دعوت دی گئی ہے اورجس نے مسلمانوں کو علم و ترقی کے بام عروج پر پہنچایا اور یورپ کے نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا بھی موجب بنا جس کا اعتراف مغربی مفکرین بھی کرتے ہیں لیکن جب سے مسلمانوں کی اکثریت نے قرآن سے رہنمائی حاصل کرنا چھوڑدیا اور مختلف علوم کے درمیان تفریق شروع کردی جس کی تاریخ دو تین صدی سے زائد کی نہیں کہ بعض کے حصول کو تو کار ثواب اور بعض کے حصول کو کار عبث قرار دینے لگے، ان کا زوال شروع ہوا اور آج یہ قوم آبادی کے لحاظ سے دوسرے مقام پر ہوتے ہوئے بھی پوری دنیا میں بے وقعت اور حاشیہ پر ہے۔ وہ قوم جو کبھی دیگر اقوام عالم کی امام تھی آج ہر جدید نفع بخش علم کے سلسلہ میں دوسروں کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ افسوس صد افسوس! اللہ ہم سب کو سمجھ عطا کرے اور اپنی کتاب سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنے نبیﷺ کی سنتوں پر چلنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین!

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close