خصوصیمعاشرہ اور ثقافتملی مسائل

قرآنی وعیدوں کے ذریعہ سماجی برائیوں کی روک تھام

 محمد رضی الاسلام ندوی

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے دنیا میں زندگی گزارنے کے جو اصول و ضوابط متعین کیے ہیں ، اگر ان ضوابط پر تمام انسان پوری طرح عمل کریں تو دنیا امن و سکون کا گہوارہ بنی رہے گی۔ لیکن اگر یہ ضوابط پامال کیے جائیں ، خود غرضی کا مظاہرہ ہو، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی نہ کی جائے، یہی نہیں بلکہ ظلم و ستم کا بول و بالا ہو تو انسانوں کا امن و سکون غارت ہو جائے گا اور دنیا جہنم کدہ بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ضوابط اپنے بر گزیدہ انسانوں کے ذریعے عطا فرمائے ہیں ، جنھیں ہم انبیاء و رسل کہتے ہیں ۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے ۔ آپ پر قرآن مجید نازل ہو ا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کا مستند مجموعہ ہے۔ اس میں صحیح طریقے سے زندگی گزارنے کے رہ نما اصول درج ہیں اور آپ ؐ نے اپنے ارشادات کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح فر مائی ہے۔

نظام فطرت یہ ہے کہ مرد اور عورت کی یکجائی سے خاندان وجود میں آتا ہے اور خاندان کے مجموعے سے سماج تشکیل پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے استمرار و تسلسل کا ذریعہ مرد اور عورت کے درمیان جنسی تعلق کو بنایا ہے اور اسے منظم کرنے کے لیے رشتہ نکاح کو لازم قرار دیا ہے۔ نکاح کے ذریعہ خاندان بنتا ہے، رشتے وجود میں آتے ہیں ، اولاد ہوتی ہے اور والدین ان کی پرورش اور پرداخت کرتے ہیں ۔ اسلام نے والدین ، اولاد اور رشتے داروں کے حقوق بیان کیے ہیں اور سب کو ان کی ادائیگی کا پابند کیا ہے۔ اگر سماج کا ہر فرد ان حقوق کو ادا کرے جو دوسروں کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتے ہیں تو آپس میں محبت و مودت کا تعلق قائم رہے گا اور تمام افراد ہنسی خوشی اور چین و سکون سے زندگی گزاریں گے۔

اسلام نے سماج میں رہنے والے ہر فرد کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی ہے۔ مثلا زندہ رہنے کا حق، عزت و آبرو کا حق وغیرہ۔ اسلام کسی فرد کو بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے کسی انسان کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے ان قوانین و ضوابط کی پابندی کرتے اور ان کے حدود میں رہتے ہوئے زندگی گزارتے، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ طاقت ور اپنی طاقت کے زعم میں کم زوروں کو دباتا ہے، ان پر دست تعدی دراز کرتا ہے، ان کے حقوق غصب کرتا ہے اور ان پر ظلم و ستم ڈھاتا ہے۔ اس طرح سماجی برائیاں جنم لیتی ہیں ، انارکی پھیلتی ہے، فتنہ و فساد عام ہوتا ہے اور معاشرے کی پاکیزگی ختم ہو جاتی ہے۔

سماجی برائیوں کے انسداد کے لیے قرآن مجید نے دو تدابیر اختیار کی ہیں :

اول: تصور آخرت

 اسلام نے آخرت کا جو عقیدہ پیش کیا ہے ، وہ انسانوں کو کسی بھی برائی کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ وہ عقیدہ یہ ہے کہ دنیا عارضی اور فانی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی اور مستقل ہے۔ اس دنیا میں انسان جو کچھ کرے گا، آخرت میں اس کی جزا پائے گا۔ اگر وہ یہاں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے گا اور اور اس کے احکام و ہدایات پر عمل کرے گا تو آخرت میں جنت کی شکل میں ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوگا اور اگر اس دنیا میں احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرے گا اور اپنے نفس کی پیروی کرے گا تو آخرت میں جہنم کی شکل میں اس کی دردناک سزا سے دو چار ہوگا۔ قرآن مجید میں جنت کی نعمتوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے، ساتھ ہی یہ بیان کر دیا گیا کہ ایسی نعمتیں ہوں گی، جنھیں نہ کسی انسان نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا، نہ ان کا تذکرہ اپنے کانوں سے سنا ہوگا اور نہ کبھی وہ  اس کے حاشیہ خیال میں آئی ہوں گی۔ اسی طرح قرآن نے جہنم کی ہول ناکیوں کو بھی بہت تفصیل سے بیان کیا ہے، جنھیں پڑھ کر اور سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسان اس دنیا میں جو کچھ کرتا ہے وہ اس کے نامۂ اعمال میں ریکارڈ ہوتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے متعین کردہ فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں ۔ یہی نہیں ، بلکہ خود اس کے اعضاء قیامت میں ان کاموں کی گواہی دیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ذات بھی علیم و خبیر (خوب جاننے والی اور خوب خبر رکھنے والی) ہے۔ اس طرح قرآن نے یہ تصور دیا کہ انسان کوئی عمل چاہے علی الاعلان کرے یا تنہائی میں اور خفیہ طریقے سے انجام دے، اس کے نامۂ اعمال میں اس کا ریکارڈ ہوجائے گا اور روز قیامت وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہوگا اور اس کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ تصور انسان کو سماجی برائیوں سے روکنے کا ایک بہت بڑا عامل ہے۔

دوم: تعزیری قوانین

سماجی برائیوں کی روک تھام کے لیے قرآن نے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ سخت تعزیری قوانین نافذ کیے۔ ان قوانین کا  ایک مقصد جہاں یہ تھا کہ مجرموں کو ان کے جرائم کی قرار واقعی سزا ملے ،  تو دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ دوسرے لوگوں کو اس سے عبرت ہو اور اگر ان کے دلوں میں ان جرائم کی طرف کچھ میلان پایا جاتا ہے تو ان سخت سزائوں کو دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے ارتکاب سے باز آجائیں ۔ اسی لیے اسلامی شریعت نے ان سزائوں کو علی الاعلان مجمع میں نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔

قرآن مجید میں سماجی برائیوں کی جو سزائیں بیان کی گئی ہیں ، ان میں یہ دونوں پہلو پائے جاتے ہیں ۔ اس کے سلسلے میں دنیا میں دی جانے والی سزا کا تذکرہ کیا گیا ہے اور آخرت کے دردناک اور بھیانک عذاب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں ان آیات کو پیش کیا جاتا ہے، جن میں سماجی برائیوں کے ارتکاب پر ان کی دنیوی اور اخروی سزائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

1۔ فحش باتوں اور کاموں کی اشاعت:

سماج میں برائی کے عام ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ لوگوں کی زبانوں پر ان کا تذکرہ ہو، ان کی تفصیلات عام کی جائیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ان کا خوب چرچا ہو۔ ایسا کرنے سے ان کی شناعت کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے، سادہ لوح ذہنوں پر ان کے اثرات پڑتے ہیں اور شیطان اور نفس انھیں ان کی طرف مائل کر دیتے ہیں ۔ عہد نبوی ؐ میں کفار اور منافقین اس گھنائونے کام میں ملوث تھے۔ انھیں سخت وارننگ دی گئی اور کہا گیا کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو انھیں دنیا میں بھی اس کی سزا دی جائے گی اور آخرت کا عذاب تو ان کے لیے مقددّر ہے ہی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔(النور: 19)

’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں ‘‘۔

2۔ زنا

اسلام نے مرد اور عورت کے جنسی تعلق کی اجازت صرف نکاح کی شکل میں دی ہے اور اس کے دائرے سے باہر ہر طرح کے تعلق کو ، چاہے وہ علانیہ ہو یا خفیہ آشنائی کی صورت میں ، اور بہ جبر ہو یا طرفین کی باہم رضامندی سے، قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی ریاست ہو اور اس میں کوئی شخص اس برائی کا ارتکاب کرے اور اس کا معاملہ ریاست کے علم میں آئے، تو اسے سزا دی جائے گی اور اگر اس کا یہ معاملہ پوشیدہ رہ جائے تو بھی وہ آخرت میں اس کی سزا سے نہ بچ سکے گا۔ وہاں وہ عذاب سے دو چار ہوگا  اور ذلت و خواری ہمیشہ اس کا مقدر ہوگی۔ قرآن میں سورۂ فرقان میں اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں ۔ ان میں ان کا ایک وصف یہ بھی مذکور ہے کہ وہ زنا کے قریب نہیں پھٹکتے۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ جو شخص زنا کا ارتکاب کرے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ اس کے برے انجام سے دو چار ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَا یَزْنُونَ وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ أَثَاماً ۔ یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہِ مُہَاناً (الفرقان : 68۔69)

’’اور نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا، قیامت کے روز اس کو مکرر عذاب دیا جائے گا‘‘۔

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ کام جو کوئی کرے گا وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا‘‘۔  اس سے دنیا میں ملنے والی سزا بیان کی گئی ہے کہ روز قیامت اس کی سزا میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے گا اور وہ نہایت ذلت کی حالت میں ہمیشہ اس عذاب میں رہے گا۔

3۔ عمل قوم لوط

جنسی تسکین کے منحرف رویوں میں سے ایک یہ ہے کہ مرد یا عورت اپنی ہی صنف کی طرف میلان رکھے اور اس سے تسکین حاصل کرے۔ اسلام کی نظر میں یہ ایک انتہائی گھنائونی حرکت ہے اور وہ اسے قابل تعزیر جرم قرار دیتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے جرائم میں جہاں اس کے شرک، ڈاکہ زنی، اور دیگر برائیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہیں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس قوم کے مرد اپنی ہی صنف سے جنسی تعلق قائم کرتے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انھیں بہت سمجھایا اور جنسی تسکین کے جائز طریقوں کو اپنانے کی تلقین کی، لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز  نہیں آئے۔ چنانچہ بارگاہ الٰہی سے انھیں تباہ و برباد کر دینے کا فیصلہ صادر ہو گیا۔ ان کی پوری بستی کو تلپٹ کر دیا گیا اور ان پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ قوم لوط پر عذاب کی جو تفصیل قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے وہ انسان کے رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔ اس سے قرآن یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ یہ منحرف جنسی رویہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والا ہے۔ جو لوگ اسے اختیار کریں گے، وہ کسی بھی صورت میں عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکتے۔ سورۂ ہود میں قوم لوط پر عذاب کی تفصیل ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

فَلَمَّا جَاء  أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہَا حِجَارَۃً مِّن سِجِّیْلٍ مَّنضُود مُّسَوَّمَۃً عِندَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْد(ہود : 82۔83)

’’پھر جب ہمارے فیصلہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا  اور اس پر پکی ہوئی مٹی کت پتھر تابڑ توڑ برسائے جن میں ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے‘‘۔

4۔ قذف (بدکاری کا الزام لگانا)

اسلام کی نظر میں جس طرح ناجائز جنسی تعلق قابل تعزیر جرم ہے، اسی طرح یہ بھی جرم ہے کہ کسی پاک دامن مرد یا عورت پر جھوٹا الزام لگایا جائے اور اس کی عزت و آبرو کو داغ دار کیا جائے۔ عزت و آبرو کی حفاظت کو اسلام ہر فرد کا بنیادی حق قرار دیتا ہے اور کسی کو اجازت نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرے اور اسے پامال کرے۔

مدنی معاشرے میں بسا اوقات منافقین ایسی گندی حرکتوں میں ملوث ہو جاتے تھے۔ وہ پاک دامن مسلمان عورتوں کے بارے میں ایسی باتیں پھیلانے کی کوشش کرتے تھے کہ ان کی عزت پر بٹا لگ جائے اور وہ منھ دکھانے کے قابل نہ رہ جائیں ۔ اس پر انھیں سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی اور دنیا اور آخرت ، دونوں جگہ لعنت اور عذاب کی ’خوش خبری‘ دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنٰتِ الْغَافِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوا فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْْہِمْ أَلْسِنَتُہُمْ وَأَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (النور : 23۔24)

’’ جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جب کہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ ا‘‘۔

5۔ زندہ درگور کرنا

عرب کے بعض قبیلوں میں ایک رسم بدیہ جاری تھی کہ وہ لڑکیوں کو باعث ننگ و عار سمجھتے تھے، چنانچہ انھیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔ قرآن نے قتل اولاد سے سختی سے منع کیا ہے اور کہا ہے کہ روزی کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے۔  وہ جس طرح تمھیں روزی عطا کرتا ہے، اسی طرح ان کو بھی عطا کرے گا۔ محض فقرو فاقہ کے اندیشے سے تمھارے لیے ان کی جان لینا جائز نہیں ہے۔ قرآن نے متعدد مقامات پر قتل اولاد کی مذمت کی ہے اور خاص طور پر لڑکیوں کے معاملے میں بعض اہل عرب کے شرم ناک رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ تکویر کی درج ذیل آیت بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَإِذَا الْمَوْؤُودَۃُ سُئِلَتْ بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ(التکویر: 8۔9)

’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ وہ کس قصور میں ماری گئی‘‘؟

اس آیت میں کہا گیا ہے کہ قیامت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے نہیں دریافت کرے گا، جنھوں نے لڑکیوں کو ناحق قتل کیا ہوگا، بلکہ ان لڑکیوں سے دریافت کرے گا کہ انھیں کس جرم میں زندہ دفن کر دیا گیا تھا۔ اس سے اس گھنائونے جرم پر اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ انھیں اس قابل نہیں سمجھے گا کہ ان سے مخاطب ہو اور ان سے بات کرے۔

6۔ چوری

آدمی جو کچھ کماتا ہے اس پر اسلام اس کی ملکیت تسلیم کرتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرے۔ اسی لیے اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو۔ کسی شخص کا مال اس کی اجازت اور علم کے بغیر لینا اور اس میں تصرف کرنا چوری ہے۔ اسلام میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس پر بہت سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ حکم ہے کہ چوری کا ارتکاب کوئی مرد کرے یا عورت، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، تاکہ اسے اسے اپنے کیے کی سزا ملے اور دوسروں کو بھی عبرت ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء  بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ(المائدۃ: 38)

’’اور چور، خواہ وعورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو، یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا و بینا ہے‘‘۔

7۔ قتل

تنازعات اور اختلافات آگے بڑھتے ہیں تو طاقت ور کم زور کی جان کے درپے ہو جاتا ہے اور اسے قتل کر ڈالتا ہے۔ وہ اسے زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا۔ اسلام کی نظر میں یہ ایک انتہائی بھیانک جرم ہے۔ اس لیے کہ کسی انسان کو زندگی عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ  ہے، کسی دوسرے انسان کو اس کی زندگی بچھین لینے کا حق نہیں ۔ جو شخص اپنی طاقت و قوت اور جاہ و اقتدار کے بل کسی کے قتل کے درپے ہوتا ہے، وہ گویا خدا کی خدائی کو چیلنج کرتا ہے اور اس کا ہم سر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کا غیظ بھڑکتا ہے، اس پر اس کی لعنت برستی ہے اور وہ سخت عذاب کی وعید سناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْما(النساء: 93)

’’ رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے‘‘۔

8۔ حرابہ (ڈاکہ زنی)

کسی برے عمل میں جب کئی جرم اکٹھا ہو جائیں تو اسی کے بہ قدر اس کی شناعت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی مثال ’حرابہ‘ (ڈاکہ زنی) ہے۔ جو لوگ اس کا ارتکاب کرتے ہیں وہ محض لوٹ مار پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ مزاحمت کرنے والوں کو قتل کر بیٹھتے ہیں ۔ ان کے اس عمل سے سماج میں دہشت بیٹھ جاتی ہے، عوام بہت زیادہ خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ معمول کی سماجی سرگرمیاں ٹھپ ہو جاتی ہیں اور روئے زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے۔ اس لیے اسلام اس عمل کو ایک سنگین جرم قرار دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لیے بہت دردناک سزا تجویذ کرتا ہے۔ قرآن میں اسے’ اللہ اور رسول کے خلاف جنگ ‘کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کی درج ذیل سزا تجویذ کی ہے:

إِنَّمَا جَزَاء  الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْم(المائدۃ:33)

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد  برپا کریں ، ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں ، یا سولی پر چڑھائے جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا جلا وطن کر دیے جائیں ۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے‘‘۔

سماجی برائیوں کے انسداد کے لیے قرآن کریم نے دنیا کی جو سزائیں اور آخرت کی جو وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، سماج پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ عرب کا معاشرہ ان برائیوں کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ قتل و غارت گری عام تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر تلواریں کھینچ جاتی تھیں اور جنگ برپا ہو جاتی تھی، جو برسوں جاری رہتی تھی اور ہزاروں انسان اس کی بھینٹ چڑھ جاتے تھے۔ بڑے بڑے قافلے راستوں میں لوٹ لیے جاتے تھے۔ جنسی برائیاں بھی عام تھیں ۔ عزت و عصمت کی کوئی اہمیت نہیں تھی، بدکاری کے اڈے کھلے عام چلتے تھے اور خفیہ آشنائی کا بھی دور دورہ تھا۔ قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کے نتیجے میں معاشرہ کو پاکیزگی حاصل ہوئی اور امن و امان کا دورہ ہوا۔

موجودہ دور میں جاہلیت پھر لوٹ آئی ہے۔ سماجی برائیاں عام ہیں اور فتنہ و فساد عروج پر ہے۔ ان کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی مذکورہ تعلیمات کو عام کیا جائے اور اس کی وعیدوں کو لوگوں کے دلوں میں بٹھایا جائے۔ تبھی ان پر قابو پایا جا سکتا ہے اور معاشرہ کو پاکیزگی اور امن و امان حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close