خصوصیملی مسائل

قومی مسائل اور ملی ذمہ داریاں

ڈاکٹر سلیم خان

یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشن سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس میں شک نہیں کہ انتخابی دباو   بہت سارے  مسائل پیدا کرتا ہے لیکن انتخابات کا  سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ  اس میں مسائل ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان کے اندر کسانوں کی  خودکشی کا معاملہ عام دنوں میں ڈھکے چھپے انداز سے سامنے آتا ہے لیکن انتخابی مہم کے دوران اعدادوشمار تفصیل کے ساتھ اجاگر ہوجاتے ہیں۔ وطن عزیز میں بیروزگاری  کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کا اندازہ بھی لوگوں کو ہوتا رہتا ہے لیکن انتخابی موسم میں پتہ چلتا ہے کہ اس نے ۴۵ سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہےاور اکیلا نوٹ بندی کا آسیب ۵۰لاکھ ہندوستانیوں    کی ملازمتیں نگل گیا۔ سیاستداں جیسے بھی نظر آئیں لیکن ہوتے بڑے ذہین  ہیں۔ وہ کوئی کم بلاوجہ نہیں کرتے۔عوامی مسائل بھی اپنی سیاسی ضرورت کے پیش نظر  ہی اٹھاتے ہیں  تاکہ مخالفین کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرا کر اقتدار پر اپنا دعویٰ پیش کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مودی جی ۲۰۱۴ ؁ سے قبل کے حالات  بیان کرکے کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں اور راہل جی ۲۰۱۴ ؁ کے بعد رونما ہونے والی واقعات کا ذکر کرکے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہیں۔ ایک  کوبوفورس کی تودوسرے کو رافیل کی بدعنوانی  اجاگر کرنی پڑتی ہے۔ اس شئے اور مات کے کھیل میں کبھی کوئی حکومت بچ جاتی ہے اور کبھی کوئی سرکار گرجاتی ہے۔

مسائل کو جب  بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور وہ  ابھر کر سامنے آجائیں توان کے تئیں  ہر گروہ    کا سنجیدہ ہوجانا فطری عمل ہے۔ مسلمانوں اور ہندووں بلکہ ان کے اندر موجود ساری ذات برادری   اس حوالے سے  فکر مند ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کا مسلمان سیاسی معاملات میں عارضی طور پر سہی اپنے مسلکی،  گروہی اور تفریق و امتیاز کو بالائے طاق رکھ کر  بی جے پی اور شیوسینا جیسی فسطائی قوتوں کے خلاف کمربستہ ہوجاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ جب اس کے سامنے ایک سے زیادہ متبادل موجود ہوتے ہیں تو کبھی کبھار یہ  اندازہ لگانے میں چوک جاتا ہے کہ کون سا امیدوار بی جے پی یا اس کے حواریوں کو شکست دینے کی پوزیشن میں ہے۔ اس لیے اس کا ووٹ  غیر فسطائی قوتوں کے درمیان  تقسیم ہوجاتا ہے لیکن  زعفرانی بہر  صورت  اس سے محروم رہتے ہیں۔ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم نمائندگی دینے کی خاطر نہیں بلکہ  کامیابی کے امکانات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہےاس لیے بی جے پی  والے  مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیتے۔ سچ تو یہ  ہے کہ  مسلمانوں کو نہ تو  فسطائی  جماعتوں سے ٹکٹ کی توقع کرنا چاہیے اور  نہ اس پر افسوس کرنا چاہیے۔

  یہ بالکل فطری عمل ہے کہ جس طرح مسلمانوں   کی کوئی سیاسی  جماعت سنگھی ذہنیت کے حامل فرد کو ٹکٹ نہیں دے سکتی اسی طرح کوئی    زعفرانی جماعتمسلمان  کو ٹکٹ کیوں  دے ۔ دکھاوے کے لیے اگر وہ کسی نقوی یا شاہنواز کو اپنا امیدوار بناتی بھی ہے تو اسے مسلمانوں کے نہیں ہندووں کے ووٹ سے جیتنا پڑتا ہے۔ اس سے تو بہتر ہے کہ  ہندو کو انتخاب میں کامیاب کرنے کے بعد ایم جے اکبر جیسے لوگوں کو ایوان بالا میں نامزد کرکے وزیر بنادیا جائے ۔ یہ  مناسب  ہے اور  یہی  ہونا بھی چاہیے۔ مسلمانوں کے برعکس ہندو عوام مذہب پر  ذات کو فوقیت دیتے ہیں۔ اس لیے ہندو سماج  میں  ٹوٹ پھوٹ بہت ہے۔ سیاسی جماعتیں  اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں  اور چاہتی ہیں  کہ ذات پات کا امتیاز باقی رہے۔ ریزرویشن کی خاطر مختلف اقوام کا اپنے نسلی تشخص کی بنیاد پر مراعات طلب کرنا اس کا بین ثبوت ہےکہ پچھلے ۷۰ سالوں میں سیاسی سطح پر ذات پات کی تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر حلاقۂ انتخاب میں ٹکٹ تفویض کرتے وقت  اس پہلو کا لحاظ خاص طور پر کیا جاتا ہے اور  بوقتِ ضرورت اس کو بھنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

انتخابی مہم کے دوران اور نتائج کے بعد مسلمانوں اور دیگر طبقات کے اندر اپنی  سیاسی بے وزنی کا   احساس  اور سرکاری مراعات سے محرومی کا اندیشہ  ایک فطری بات ہے۔ ملت کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے لیکن چونکہ وہ خیر امت ہے اور سارے انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس کو برپا کیا گیا ہے اس لیے دوسروں کے مسائل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ اہل ایمان کا فرض منصبی ہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے پاس  ایک الہامی  ہدایت نامہ امانت کے طور پر محفوظ ہے۔ اس کی روشنی میں وہ تمام  انسانوں  کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ اس مشق کی ابتداء اسی طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے مسائل کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی مشکلات کو بھی قابلِ توجہ سمجھیں۔ ان پر بھی سنجیدگی سے غور کریں۔ یہ سوچیں کہ آخر پروفیسر اپوروانند جیسا غیر سیاسی مسلم دوست دانشور سادھوی پرگیہ کی نامزدگی کو مسلم دشمنی کے بجائے ہندو دشمنی  قرار دیتے ہوئے یہ کیوں لکھتے ہیں  کہ ’’ سادھوی پرگیہ کو امیدوار بنا کر بی جے پی دیکھنا چاہتی ہے کہ ہندوؤں کو کتنا نیچے گھسیٹا جا سکتا ہے‘‘ یا جب پرگیہ کا  اعلان کیا جاتا ہے تواس  وقت بی جے پی کے صدر دفتر میں  کانپور کے ڈاکٹر شکتی بھارگو بی جے پی رکن پارلیمان اورمعمر ترجمان  جی وی ایل نرسمھا راو کو جوتا پھینک کر مارنے کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بی جے پی گوناگوں سیاسی مفادات کے پیش نظر اسلام اور مسلمانوں پر حملہ کرتی رہتی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات ہوں یا ہجومی تشدد اس کا نشانہ مسلمان بنتے ہیں اور اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مظفر نگر فسادات کے مسلم  گواہ کو دن دہاڑے ہلاک کردینا  اور یوگی کے جلسہ میں محمد اخلاق کے قاتلوں کا صف اول میں نظر آنا نیز ان سب کا ضمانت کے بعد سرکاری ملازمت سے نوازہ جانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ شریعت پر تین طلاق کی آڑ میں حملہ کرنا اور مسلم خواتین کے لیے گھڑیالی آنسو بہانہ بھی اسی زمرے کی سرگرمیاں ہیں۔ ایوان میں بار بار نامنظوری کے باوجود اس بل  کو آرڈیننس کی شکل میں توسیع دینے کے پس پشت وہی سوچ کارفرما ہے۔ لو جہاد سے لے کر گھر واپسی تک اور این آر سی سے روہنگیا تک گھوم پھر مسلمانوں کو نشانہ بناکر بی جے پی   ہندووں کے اندر انتہا پسندی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے  اور اس کو ہوا دیتی ہے۔

پروفیسراپوروانند اور  ڈاکٹر شکتی بھارگو جیسے لوگوں کو یہی فکر ستا رہی ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ہندو معاشرے کو اندر اندر سے کھوکھلا کرتی جارہی ہے اور جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو اسے ڈھیر کرنے کے لیے کسی دشمن کی چنداں ضرورت نہیں رہے گی۔   یہ بلند بانگ عمارت خود  اپنے وزن  سے ڈھے جائے گی۔ کسی بھی فرد  کے لیے جس طرح بیرونی زخموں کا علاج کر کے دوبارہ صحت یاب ہونا سہل تر ہوتا ہے اسی طرح ہر  سماج کے لیے بیرونی حملوں کا مقابلہ آسان ہوتا ہے۔ مسلم سماج  کا رویہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مودی سرکار اور اس کے بعد یوگی کے اقتدار نے مسلمانوں کے آپسی اختلافات میں کمی کی ہے  اور مختلف مواقع پر الگ الگ  جماعتوں کا یکساں یا متحدہ موقف سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر شریعت میں مداخلت کے بعد اتحاد و اتفاق کا ماحول  صاف طور سے  دیکھا گیا ہے۔

 اس کے برعکس اگر کوئی فردیا سماج  کسی اندرونی بیماری میں مبتلا ہوجائے اور وہ اس کو مرض کے بجائے صحتمندی کی علامات سمجھنے لگے تو اس کا علاج ناممکن ہوجاتا ہے۔اپوروانند اور شکتی بھارگو کو اسی چیز نے بے چین کررکھا ہے۔ پروفیسر اپوروانند نے سادھوی پرگیہ کی نامزدگی پر جو سوالات کھڑے کیے ہیں وہ  ہندو سماج کی موجودہ کیفیت کو سمجھنے کے حوالے سے  اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’ کیا ہمیں پرگیہ سنگھ کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے امیدوار چنے جانے پر حیرانی ہے؟ کیا ہمیں اس سے ابکائی آ رہی ہے کہ اب ایوانِ پارلیمان  میں ایسے لوگ پہنچ سکتے ہیں؟ کیا یہ تہذیب کے خلاف لگ رہا ہے؟‘‘ یہ استفسار مسلمانوں سے نہیں کیا جارہا ہے۔ یہاں پر مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت زیر بحث نہیں ہے بلکہ ہندو کی تہذیب  کو لاحق خطرات سے انہیں  آگاہ کیا جارہا ہے۔ پرگیہ سنگھ کے ذریعہ حالیہ  انتخاب کو ‘دھرم یدھ’ کہنےا ور بھگوا کو سمان  (احترام) دلانے کے عزم پر اپوروانند رقمطراز ہیں ’’یہ امتحان اصل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نہیں ہے۔ یہ پارٹی ہندوؤں کی بےعزت‌ کر رہی ہے۔ وہ ان کا امتحان لے رہی ہے۔ یہ ہندوؤں کا امتحان ہے۔کیا وہ مذہب کی  اس تفہیم   کو قبول کرنے کے لیے  تیار ہیں؟ اور کیا وہ بی جے پی کے ساتھ نیچے اور نیچے گرتے جانے پر بھی رضامند  ہیں؟‘‘۔

ہندو وں کے نجات دہندہ ہونے کا چولا پہن کر بی جے پی  ان کا جذباتی اور سیاسی استحصال کررہی ہے۔ وہ ان کو غیر اہم چیزوں میں الجھا کر بنیادی  مسائل کی جانب متوجہ ہونے سے روک  دیتی ہے۔ اس بات  کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اتر پردیش کی  تین معروف  دانشگاہوں میں سے ایک تو بنارس ہندو یونیورسٹی ہے  اور دوسری علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اس کے علاوہ الہ باد یونیورسٹی  بھی ہے جس کو مشرق کا آکسفورڈ کہا جاتا تھا ۔ یوگی جی اگر صحیح معنیٰ میں ہندووں کے خیر خواہ ہوتے تو الہ باد یونیورسٹی کو کیمبرج یا ایم آئی ٹی  کےدرجہ پر لے جاتے یا کم ازکم بنارس ہندو یونیورسٹی کو آکسفورڈ کے  مقام پر لے آتے لیکن ان کے دورِ اقتدار میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے اندر خواتین  طالبات کے ساتھ بدسلوکی کے بدترین واقعات رونما ہوئے۔ اس کے بعد احتجاج ہوا تو وائس چانسلر نے اس بے حرمتی  کو جائز ٹھہرایا۔ یوگی خاموش تماشائی بنے رہےاور  جب یونیورسٹی کا دورہ  تو انہیں شدید مزاحمت  کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنے ہی حلقۂ انتخاب کے اندر رونما ہونے والےاس بدترین  خلفشار پر ہندو ہردے سمراٹ نریندر مودی نے مون برت رکھ لیا۔

بنارس ہندو یونیورسٹی کی حالت زار کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کی اندر قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر پر ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ یونیورسٹی کی طلباء یونین نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تو پسپا ہوکر علی گڈھ کے رکن پارلیمان نے یونیورسٹی کے اسکول کو کرائے پر زمین دینے والے سابق راجہ  بھانو پرتاپ کی صد سالہ برسی کے موقع پر یونیورسٹی  ان کے نام سے منسوب کرنے کا دعویٰ کردیا۔ اس احمقانہ مطالبہ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ راجہ صاحب نے آگرہ سے اٹل جی کو ۱۹۵۸ ؁ میں شکست دی تھی  اور خودیونیورسٹی کا نام بدلنے کے خواہشمند نہیں تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اے ایم یو سے تعلیم حاصل کی تھی اور ان کا پوتا رگھویندر سنگھ کی شاکھا سے فارغ ہو کر ہندو واہنی میں شامل ہوا تھا۔ یہ ہنگامہ ختم ہوا توکبھی  مسلم یونیورسٹی کے تشخص تو کبھی وہاں مندر کی تعمیر کو لے کر  تعلیمی ماحول خراب کرنے کا کام کیا گیا جس سے اس دانشگاہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندو اور مسلم دونوں طلباء کا نقصان ہوا۔ خوشی کی بات یہ ہے  سب طلباء  نے متحد  ہوکر فسطائی طاقتوں کے ناپاک عزائم کو شکست دی  اور اپنی یونیورسٹی کا  وقار بحال رکھا ۔

علی گڈھ میں تو بی جے پی والے ہندو مسلم کھیل کھیلتے رہے لیکن الہ باد  میں  یوگی مہاراج نے شہر کے نام کی تبدیلی کا ناٹک  شروع کردیا۔ شہر کا نام تو خیر پریاگ راج ہوگیا لیکن ہائی کورٹ اور یونیورسٹی کا نام ہنوز الہ باد ہی ہے۔اس دوران یہ لوگ یونیورسٹی  سے پوری طرح غافل  رہے اور اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ایک حالیہ فیصلے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ اس یونیورسٹی کا کیمپس اور ہاسٹل، مجرموں کے لئے پناہگاہ بن گئے ہیں، جس کو ان لوگوں نے اپنی غلطسرگرمیوں  کے لئے ‘ کھیل کا میدان ‘ بنا رکھا ہے۔یہ ریمارک یونیورسٹی کے پی سی بی ہاسٹل میں۲۱ سالہ  قانون کے طابعلم روہت شکلا کے قتل پر کیا گیا۔ روہت  کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر اچیتانند شکلا سےقریبی تعلقات تھےجسے گزشتہ سال نومبر میںاسی  ہاسٹل  کے اندر سالگرہ  جشن  کے دوران گولی ماردی گئی تھی۔ مختلف جرائم  میں اس  فراری ملزم  پر ۲۵ہزار روپے کا انعام تھا۔ چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس  ایس شمشیری کی بنچ نے روہت شکلا  کے قتل پر ازخودنوٹس  لیتے ہوئے مزیدکہا کہ،  ’ ایک جمہوری‎سماج میں قانون کی حکومت ہوتی ہے اور اس کو پہنچنے والا نقصان  قابلِ قبول  نہیںہے۔ کسی کو بھی اس علاقہ اور وہاں کے باشندوں کے امن  و امان اور  آپسی بھائی چارے کو معمولی چوٹ پہنچانے کی بھی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ عدالتنے تسلیم کیا  کہ، ’یہ بات ہمارے علم میں آئی  ہے کہ الہ ٰآباد یونیورسٹی کے زیر انتظام  مختلف قیام گاہوںکے اندرکثیر تعدادمیں مجرم  پیشہ لوگ رہائش پذیر ہیں جو یونیورسٹی کے باقاعدہ طالب علم نہیں ہیں۔ اسی لیے کیمپس اور ہاسٹل جرائم کا اڈہ بن گئے ہیں۔ ‘

اتر پردیش میں آج کل کس طرح کا جنگل راج ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے الہٰ باد ہائی کورٹ کا ایک اور واقعہ پر نظر ڈالیں ۔ ہمیر پور سے بی جے پی کے ایم ایل اے اشوک سنگھ چندیل کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ۲۲ سال پرانے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی۔ اشوک سنگھ چندیل نے۲۶ جنوری ۱۹۹۷ ؁  کو دن دہاڑے راجیش شکلا،راکیش شکلا،گنیش شکلا، وید پرکاش نایک اور شری کانت پانڈے کو قتل کردیا تھا۔ اس کے باوجود براہمنوں کے اس قاتل کو بی جے پی نے ٹکٹ دے کر اپنی پارٹی کا رکن اسمبلی بنوایا۔ اس سنگین معاملہ میں نچلی عدالت کے ججوں کو پیسے دے کر چندیل اپنے ساتھیوں سمیت  بری ہوگیا مگربعد میں جانچ کے بعد   دونوں  ججوں کو برخاست کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سزا کا اعلان ہوتے ہی ایم ایل اے اشوک سنگھ چندیل کورٹ سے فرار ہو گیا۔ جس صوبے میں قاتل و غارتگری کو سیاسی سرپرستی حاصل ہو اور نظم و نسق کا یہ حال ہو کہ مجرم سزا پانے کے بعد جیل جانے کے بجائے فرار ہوجائے تو  وہاں جرائم نہیں پھلیں  پھولیں گے تو کیا ہوگا؟

یوگی جی اگر شہروں کے نام تبدیل کرنے جیسے نمائشی کاموں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بجائے اپنے صوبے کے قانون کی  برتری قائم کرنے کی جانب توجہ دیتے تو یہ دگرگوں صورتحال رونما نہیں ہوتی۔ اقتدار میں آنے کے بعد جس انکاونٹر کی تہذیب کو انہوں نےفروغ دیااس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر سے جرائم کا خاتمہ تو نہیں ہوا لیکن تعلیم گاہوں  میں قتل و غارتگری کا بازار گرم ہوگیا اور یہ بھسما سور آگے چل کر خود ان کو نگل جائے گا۔ تعلیم گاہوں سے جب طلباء اسلحہ  چلانے کی  تربیت پاکر باہر آئیں گے اور ان کو روزگار فراہم کرنے میں سرکار  ناکام ہوجائے گی تو ملک کی کیا حالت ہوگی ؟ مودی اور یوگی اس آتش فشاں پر کیسے قابو پائیں گے؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ سنگھ پریوار  کی ساری توجہ فی الحال اقتدار کو بچائے رکھنے پر مرکوز ہے اس لیے ان سے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن امت مسلمہ بھی تو اسی سماج کا حصہ ہے اور ہماری اپنی دینی  و اخلاقی ذمہ داریاں ہیں۔

الہٰ باد یونیورسٹی کے ان  سنگین وارداتوں  میں اگر مرنے والے یا مار کر گرفتار ہونے والے مسلمان ہوتے تو یہ خبر ہماری توجہ کا مرکز بن جاتی ۔ ان کو  نمایا ں انداز میں ہمارے اخبارات شائع کرتے۔ اس پر تبصرے ہوتے  اور امت کے رہنما بجا طور پر  اپنے غم  غصے کا اظہار کرتے لیکن چونکہ ایسا نہیں تھا اس لیے ہم نے اس کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا۔ امت کا یہ رویہ شتر مرغ کی مانند خود فریبی کا ہے۔ اس کا تعلق دنیوی امن و امان کے ساتھ ساتھ اخروی جوابدہی سے بھی ہے۔ اس لیے کہ قرآن حکیم میں   اس خیر امت کا تعارف اس طرح کرایا گیا ہے کہ ’’ ( مسلمانو ) تم بہترین امت ہوجنہیں لوگوں ( کی اصلاح و ہدایت ) کے لئے برپاکیا گیا ہے تم لوگوں کو بھلے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہواوراللہ پر ایما ن لاتے ہواوراگراہل کتاب ایمان لے آتے تویہ ان کے حق میں بہترہوتاا ن میں سے کچھ لوگ مومن ہیں مگر ان کی اکثریت فاسق ہے‘‘(آل عمران ۱۱۰)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close