خصوصی

لو ! برطانیہ میں بھی مسلمانوں کی حکومت آگئی

برطانیہ کے ایک خطے میں مسلمانوں کی حکومت آگئی ہے کہ ایک مسلم لیڈر ایک اہم شہر کا میئربن گیاہے۔ پوری دنیا میں مسلمان اس پیش رفت پر خوش ہیں اور اس تبدیلی کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ سوشل نیٹورک پر نوجوان خوبصورت جملوں کے ساتھ اس خبر کی اشاعت کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو عرصے سے چل رہی کسی جدوجہد کی کامیابی ہاتھ لگ گئی۔ ایک مسلمان کو بہرحال کسی اونچے عہدے پر دیکھ کر بقیہ مسلمانوں کا خوش ہونا ایک فطری عمل ہے ٹھیک اسی طرح جیسے ایک ہندوستانی کا کناڈا میں وزیر دفاع بن جانا ہندوستانیوں کے لیے خوشی کی بات ہے۔ اپنوں کو ترقی کرتا دیکھ کر کون خوش نہیں ہوتا؟ لیکن اس خبر کو مذہبی کامیابی یا مذہبی غلبہ سمجھنا اپنے آپ کو دھوکا دینے جیسا ہے کیونکہ دراصل یہ تو سیکولرزم کی کامیابی ہے۔ نہ تو وہ مسلم حکمراں اس عہدے پر رہتے ہوئے اسلام کی اشاعت کر سکتا ہے کہ سکولر جمہوریت میں یہ عہدے کے ساتھ خیانت ہوگی اور نہ ہی وہ مسلمانوں کو کسی معاملے میں مذہبی تعلق کی بنیاد پر فوقیت دے سکتا ہے کہ یہ غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ وہ تو بس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اور یہ کام ایک غیر مسلم حکمراں بھی بخوبی انجام دے سکتا ہے کیونکہ نہ تو کسی کا غیر مسلم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک کے قانون کے مطابق انصاف نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی کا مسلمان ہونا اس کے ایمان دار اور انصاف پسند ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے۔ قانون بہرحال برطانیہ کا تھا اور رہے گا، اب شہر میں اسلامی تعلیمات کو بالا دستی تو حاصل ہو نہیں جائے گی اور شہر میں رہنے والے مسلم باشندوں کو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے تو سنائے نہیں جائیں گے۔ سارے معاملات بالکل ویسے ہی ہوں گے جیسے کسی غیر مسلم حکمراں کی موجودگی میں اب تک ہوتے تھے۔
ایک مسلمان کے حکمراں بن جانے پر خوشی کا اظہار علاقائی اور جماعتی حمیت سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں اور یہ حمیت انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔
مجھے اس کی کامیابی پر اتنی ہی خوشی ہوئی جتنی کہ کسی سودی بینک میں کسی مسلمان کے منیجر بن جانے پر ہوتی یا کسی ملک کی قومی ٹیم میں مسلمان کھلاڑی کو جگہ ملنے پر یا کسی ہندوستانی کو امریکہ کی طرف سے خلا کا سفر کرنے کا موقع ملنے پر ہوتی ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کے اہم ممالک میں سے ایک بڑی تعداد پر آج مسلمانوں کی بالادستی ہے لیکن امت کے لیے وہ ممالک جہنم بنے ہوئے ہیں؛ مذہبی اشاعت کی آزادی نہیں، اسلامی تحریکات پر مکمل پابندی ہے، شریعت کی بالادستی تو دور کی بعد شریعت کی طرف رجوع جرم سمجھا جاتا ہے، اسلام کا تحفظ تو درکنار مسلمانوں کی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔ مسلمان اس خوش گمانی میں اب تک جیتے آئے کہ یہ ہمارے ممالک ہیں اور چونکہ مسلمان یہاں حکمرانی کرتے ہیں اس لیے یہاں مسلمان بھی محفوظ ہیں اور اسلام بھی پھل پھول رہا ہے۔ لیکن اب یہ سارے بھرم ٹوٹ چکے ہیں اور ان کا ٹوٹ جانا ہی بھلا ہے کہ مرض کی شناخت جتنی جلدی ہوجائے علاج کے لیے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
اب مسلمان نہ تو اس بات سے دھوکا کھانے والا ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے وہ اس کے اپنے ممالک ہیں اور نہ ہی مسلم اقلیتی ممالک میں اس سازش کا شکار ہونے والا ہے کہ مسلم حکمراں مسلمانوں کا قائد یا اسلام کا نگہبان ہے۔ ایک مسلمان کی نگاہ میں حکومت یا تو اسلامی ہے یا غیر اسلامی اور ایک غیر اسلامی حکومت یا تو ظالم ہے یا انصاف پسند اور اسی طرح ایک حکمراں یا تو انصاف پسند ہے یا انصاف دشمن۔

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صلاح الدین ایوب

ڈاکٹر صلاح الدین ایوب نوجوان ادیب اور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close