ماہ ِ محرم کے احکام ومسائل

0

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

محرم الحرام کا مہینہ اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے ،اسی سے اسلامی سال ِ نو کی شروعات ہوتی ہے ۔اسلام کے پورے بارہ مہینہ اپنی جگہ مستقل اہمیت اور عظمت رکھتے ہیں ،کیوں کہ ہر مہینہ کوئی نہ کوئی تاریخی واقعہ اپنے اندر رکھتا ہے ،مہینوں کو بنانے والا اور ان کی تعداد متعین کرنے والا خود اللہ تعالی ہے تو اس کی شان وعظمت یقینا مسلم ہوگی۔محرم الحرام کا مہینہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں ’’اشہر ِ حرم ‘‘کہاجاتا ہے ،جن کا لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی احترام کیا کرتے تھے ،اور اس کی تعظیم میں اپنی لڑائیوں کو روک دیتے تھے۔( بخاری ؛حدیث نمبر:2976 )
ماہ ِ محرم کی عظمت:
محرم الحرام کے مہینہ کے بارے میں عموما یہ تصور پایاجاتا ہے کہ یہ ریحانۃ الرسول سیدنا حضرت حسین ؓ کی شہادت کی وجہ سے یہ عظمت والا مہینہ ہے ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ پہلے سے ہی محترم اور معظم سمجھا جاتاتھا ،اور یہودی ۱۰ محرم کو روزہ رکھتے تھے ،نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو ؟انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے ،اسی دن اللہ تعالی نے موسی ؑ اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔چوں کہ موسی ؑ نے بطور شکراس دن روزہ رکھا تھا ،اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ،تو رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ: تمہارے مقابلے میں ہم موسی ؑ سے زیادہ قریب ہیں اور زیادہ حق دار ہیں ،چناں چہ رسول اللہ ﷺ نے دس محرم کے دن خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی ۔( مسلم ؛ حدیث نمبر:1917)اس کے علاوہ بھی مختلف انبیاء کرام کے ساتھ خصوصی معاملہ اللہ تعالی نے دس محرم کو فرمایا جس کی وجہ سے بھی اس اہمیت بڑھ جاتی ہے ،چناں چہ علامہ عینی ؒ نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے کہ:حضرت نوح ؑ کی کشتی اسی دن جودی پہاڑ پر ٹھہری ،حضرت یونس ؑ اسی دن مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی،حضرت آدم ؑکی توبہ اسی دن قبول ہوئی ،حضرت یوسف ؑ اسی دن کنویں سے نکالے گئے،حضرت عیسی ؑ اسی دن پیدا ہوئے، حضرت داؤد ؑ کی بینائی اسی دن لوٹ آئی۔( عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:11/167بیروت)
عاشوراکا روزہ:
محرم کی دس تاریخ کو عاشورا کہاجاتا ہے ،احادیث میں اس دن روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا ،نبی کریم ﷺ نے اس دن کے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:میں امید رکھتا ہوں کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے ( صغیرہ ) گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔( مسلم ؛ حدیث نمبر:1983)چوں کہ اس تاریخ کو یہود بھی روزہ رکھتے تھے اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا: تم عاشورا کا روزہ رکھواور یہود کی مخالفت کرو ،اور اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ رکھو۔( مسند احمد ؛ حدیث نمبر:2075)فقہا ء کرام نے عاشوراکے ساتھ ایک دن قبل یا بعد روزہ رکھنے کو مستحب قراردیا ۔( ردالمحتار:3/335الریاض)اور تنہا دس محرم کا روزہ رکھنے کو مکروہ تنزیہی قراردیا ہے ۔( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی:640بیروت)
ماہ ِ محرم کے خرافات:
اب تک ہم نے ما ہ ِ محرم کی عظمت واہمیت کو ملاحظہ کیا ہے ،لیکن اس مبارک اور متبرک مہینہ کے ساتھ بھی ہم مسلمان بہت ناروا سلوک کرتے ہیں اور اس کو غم وماتم کا مہینہ سمجھ کر مختلف قسم کے خرافات اور خلاف ِ شریعت کاموں کو انجام دیتے ہیں ،ہم مسلمان ہیں ہمیں نبی کریم ﷺ نے ہر موقع پر تعلیمات اور ہدایات سے نوازا ہے ،اسی لئے کسی بھی مہینہ کو بُرا سمجھنے سے اور غلط تصور قائم کرنے سے پہلے نبوی تعلیمات ہماری نگاہوں میں ہونی چاہیے اور خلاف ِ دین کاموں کو اختیار کرنے اور انجام دینے سے بچنا چاہیے ۔چناں چہ اس وقت ہمارے معاشرہ میں محرم کے مبارک مہینہ میں جو رسومات انجام دئیے جارہے ہیں اس کا بہت مختصر تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے ،تاکہ اللہ تعالی ہمیں ان خرافات سے بچنے والا اور رحمت ِدوعالم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔
محرم کو غم کا مہینہ سمجھنا:
محرم کو غم کا مہینہ سمجھنا شیعوں کی رائج کردہ بدعات میں سے ہے ، اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے ،اور اس مہینہ میں خوشی کاکام انجام دینے کی کوئی ممانعت قرآن وسنت میں قطعاً موجود نہیں ،اور کسی مہینہ میں کسی حادثہ ٔ شہادت کی وجہ سے وہ مہینہ منحوس نہیں کہلایا جاسکتا ۔( کتاب النوازل:1/493)پیران ِ پیر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒفرماتے ہیں :بعض لوگ اس عظمت والے دن کی عظمت پر اعتراض کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اس دن روزہ نہیںر کھنا چاہیے ،کیوں کہ اس دن حضرت حسین ؓ کوشہید کیا گیا تھا ،لہذا یہ دن لوگوں کے لئے اظہار ِ افسو س کا ہے نہ کہ روزہ رکھ کر خوشی منانے کا ،جس طرح تم کہتے ہو کہ یہ خوشی کا دن ہے ،اہل وعیال پر خوب خرچ کرنے کا دن ہے ،حالاں کہ حضرت حسین ؓ کے قتل میں یہ باتیں زیب نہیں دیتیں کیوں کہ وہ تو اس دن بھوکے پیاسے شہید کئے گئے ۔جن لوگوں کا یہ اعتراض ہے وہ غلطی پر ہیں اور ان کی یہ غلطی بھی قابل ِ مذمت ہے ،کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کے نواسہ کو اس دن شہادت سے نواز اجو بڑی عظمتوں والا ہے تاکہ ان کے درجات بلند ہوں اور انہیں ان خلفائے راشدین کے مرتبے تک پہنچادیا جائے جنہیں شہادت کی دولت ملی تھی ،اگر حضرت حسین ؓ کی شہادت کے دن افسوس کادن فرض کیا جائے تو پیر کا دن اس سے بھی بڑا فسوس کا دن ہے کیوں کہ اس دن اللہ کے آخری رسول ﷺکی وفات ہوئی ،حضرت ابوبکرؓ کی وفات بھی اسی دن ہوئی تھی ،نبی کریم ﷺ اور خلیفہ اول کا پیر کے دن وفات پانا بہت بڑا سانحہ ہے حتی کہ حضرت حسین ؓ کی شہادت کا المیہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ، اس کے باوجود پیر کے دن روزہ رکھنے پر سب اہل ِ علم کا اتفاق ہے ،پیر اور جمعرات کو اعمال اللہ کے حضور پہنچتے ہیں ،اس لئے دس محرم بھی افسو س کا دن نہیں ہے۔( غنیۃ الطالبین: 1/93 بیروت)
شادی اور خوشی کے کام نہیں کرنا:
شیعہ لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے نزدیک شہادت بہت بُری اور منحوس چیز ہے ،اور چوں کہ حضرت حسین ؓ کی شہادت اس میں ہوئی ہے اس لئے اس میں وہ کوئی تقریب اور خوشی کا کام ،شادی،نکاح وغیرہ نہیں کرتے ،اس کے برعکس مسلمانوں کے یہاں یہ مہینہ محترم اور فضیلت والا ہے ۔( احسن الفتاوی :1/389)اور اسلام میں شہادت کو ئی بری چیز نہیں بلکہ یہ تو ایک سعادت ہے جس کی آرزو نبی کریم ﷺ نے فرمائی::لوددت ان اقتل فی سبیل اللہ ، ثم احی ،،ثم اقتل ،ثم احی ،ثم اقتل ثم احی ۔کہ میرا جی چاہتا کہ میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں ،پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ۔(بخاری؛حدیث نمبر:2601)
سوگ منانا:
شریعت میں عام رشتہ داروں کے لئے تین دن اوربیوی کے لئے ۴ماہ دس دن سے زائد سوگ منانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ؛لہذا محرم کے مہینہ میںہر سال سوگ کرنا ،زینت ترک کرنا اور شادی بیاہ کو منحوس سمجھنا سراسر جہالت اور بے اصل ہے ،اور روافض کی رائج کردہ خرافات میں سے ہے ،اس لئے ان سب جاہلانہ رسومات کو ترک کرنا لازم ہے۔( کتاب النوازل :1/495)مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی سے ایک سوال کیا گیا کہ: بعض اہل سنت وجماعت عشرہ ٔ محرم میںنہ دن بھر روٹی پکاتے ہیں اورنہ جھاڑو دیتے ہیں ،کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔اس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ۔ماہ ِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے ۔ان کاجواب دیتے ہوئے لکھتے ہیںکہ:پہلی تین باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔( احکام ِ شریعت: 2/99)
کالے کپڑے پہننا:
عام دنوں میں سیاہ لباس پہننے میںکوئی قباحت اور ممانعت نہیں ہے ،لیکن سوگ اور غم کی وجہ سے سیاہ لباس پہننا اس سے اسلام میں منع کیا گیا ہے ،اور یہ جائز نہیں ہے۔( الموسوعۃ الفقہیۃ :11/352کویت)چوں کہ شیعہ محرم کے مہینہ کالے کپڑے پہن کر سوگ اور ماتم مناتے ہیں لہذا اہل سنت والجماعت کو ان دنوں میں کالے کپڑے پہننے سے بچنا چاہیے۔
صلوۃ العاشورا کی حقیقت:
فقیہ الامت حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی سے سوال کیا گیا کہ:بعض عالم بزرگ روز عاشورہ چار رکعت نما زمع قرات جماعت سے پڑھتے ہیںاور بڑی لمبی جماعت ہوتی ہے ،کیا روز عاشورہ جماعت سے نماز اداکرنا شرعا ثابت ہے یا بدعت؟آپ نے جواب میں تحریر فرمایا: شرعایہ نماز ثابت نہیں ،یہ بدعت ہے اس کو ترک کرنا لازم ہے۔( فتاوی محمودیہ:3/274)
دس محرم کوکھچڑا بنانا:
دس محرم کو جو کھچڑا بنایا جاتا ہے اس کے بارے میں معروف فقیہ حضرت مفتی محمد سلمان منصورپوری صاحب مدظلہ لکھتے ہیں کہ:محرم میں کھچڑے کی رسم اور التزام ناجائز ہے ،البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ خوارج اور نواصب حضرت سیدنا حضرت حسین ؓ کی شہادت کی خوشی میں مختلف اناج ملاکر پکاتے تھے ،ا س لئے معلوم ہوا کہ کھچڑا پکانا اہل بیت سے دشمنی رکھنے والوں کی رسم ہے ۔( کتاب النوازل:1/502)
شربت وغیرہ کا اہتمام:
ایصال ِ ثواب کے لئے کوئی بھی کام کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے ،اسلام میں کوئی خاص وقت یا یا چیز ہی متعین نہیں ہے ،بلاتخصیص اور بلاتعیین کے ایصال ِ ثواب کی اجازت ہے ،لیکن ہمارے معاشرہ میں شربت کا ایک عمومی رواج پڑگیا ہے اور لوگ اس کو دین کا ایک حصہ سمجھ رہے ہیں اور اسی کو عقیدت ومحبت سمجھتے ہیں ۔مفتی اعظم ہند حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دہلوی ؒ لکھتے ہیں کہ: ایصال ِ ثواب کے لئے ۱۰ محرم کی کوئی تخصیص نہیں ،شہدا رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ارواح ِ طیبہ کو سال بھر کے تمام ایام میں ثواب بخشنا جائز ہے ،محرم میں کوئی خصوصیت نہیں نہ شربت وفیرنی وغیرہا کی تخصیص ہے۔( کفایت المفتی :9/62)اورایک غلط عقیدہ کو بھی اس میں دخل ہے وہ یہ کہ حضرت حسین ؓ کے متعلق مشہور ہے کہ پیاسے شہید کئے گئے اور یہ شربت ان کے پاس پہونچ کر ان کی پیاس بجھا ئے گا ،اس عقیدہ کی اصلاح بھی ضروری ہے ،یہ شربت وہاں نہیں پہنچتا ،نہ ان کو شربت کی ضرورت ہے ،اللہ پاک نے ان کے لئے جنت میں اعلی سے اعلی نعمتیں عطا کررکھی ہیں جن کے مقابلہ میں شربت کی کو ئی حیثیت نہیں ۔(فتاوی محمودیہ:3/278)
خلاصہ :
یہ چند ضروری باتیں ذکر کی گئیں جس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے ،یقینا سیدنا حضرت حسین ؓ کی شہادت تاریخ کا ایک دردناک حصہ ہے ،جس کو امت کبھی فراموش نہیں کرسکتی،لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حضرت حسین ؓ نے اپنے نانا سید الرسل حضرت محمد ﷺ کے دین کی حفاظت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا ،اپنی جان اور اپنے خاندان کو تہ ِ تیغ کردیا مگر دین محمدی پر آنچ آنے نہیں دی اور اس میں کسی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کیا ،ہم کہیں حضرت حسین ؓ کا نام لے کر خرافات تو رواج تو نہیں دے رہے ہیں اور حضرت حسین ؓ کی مراد کے خلاف تو نہیں جارہے ہیں؟محبت کے ساتھ حقیقی اور سچی اتباع اور اطاعت بھی ضروری ہے ورنہ محبت ایک ڈھونگ ہوجائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے