محبت اور سیاست کی جنگ بنام ’لوجہاد‘ یا ’لو فساد‘ ؟

ڈاکٹر سلیم خان

لوجہاد  انگریزی اور عربی الفاظ کا منفرد مرکب ہے۔ ہندوستان کی فسطائی قوتوں کو  جب سنسکرت اور عربی کو ملاکر نیا استعارہ وضع  کرنے میں ناکامی  ہوئی توفرنگیوں  کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔ اسلام کے دشمنوں نے اپنے حواریوں  کو دین حنیف سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ خیالی فتنہ  ایجاد تو  کردیا لیکن جب بھی اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں منھ کی کھانی پڑی۔ خالص  لسانی سطح پر  جہاد کا ایک لغوی مطلب ہے  اور دوسرا شرعی مفہوم ہے۔ ویسےہر دو معنیٰ میں لو جہاد معقول اصطلاح  ہے۔ اللہ کی محبت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ ممکن نہیں ہے اور انسانوں کی محبت کا حق ادا کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا جہاد بمعنیٰ جدوجہد کرنی ہی پڑتی ہے  گویا دونوں معنیٰ میں لو کا جہاد سے تعلق ہے۔ مثل مشہور ہے ’’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘‘۔ اس طرح جنگ اور محبت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار پاتے ہیں۔ فی زمانہ منظر عام پر آنے والے لو جہاد کے واقعات اس امر کی شہادت  دیتے  ہیں۔ ان کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت پلڑوں پر جلد یابہ دیر محبت جیت جاتی ہے سیاست ہار جاتی ہے۔ اس لیے کہ؎

ان سے امید نہ رکھ ہیں یہ سیاست والے

یہ کسی سے بھی محبت نہیں کرنے والے

ابھی حال میں راجستھان  ہائی کورٹ نے  فیض مودی اور عارفہ( پائل  سنگھوی) کی بابت ایک فیصلہ دیا۔ اس سے قبل الہ باد ہائی کورٹ فاطمہ کے کیس میں  اس قسم کا فرمان جاری کرچکا ہے اور سپریم کورٹ میں ہدیہ  کی بابت  کیرالہ ہائی کورٹ کافیصلہ زیر سماعت ہے۔ ان مسائل کی تہہ تک جانے کے لیے  ہندو معاشرے کی مخصوص نفسیات کا ادراک  ضروری ہے۔ ایک مرتبہ  ٹیکسی   ڈرائیور نے مجھے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ صاحب آج کے زمانے  کی بیٹے سے بہتر بیٹی ہے۔ اس حیرت انگیز انکشاف کو  کریدا تو پتہ چلا  وہ براہمن ہے۔ اس کے اکلوتے بیٹے نے کسی دلت لڑکی سے شادی کرلی ہے اور گھر سے بھاگ گیا۔ وہ اس کو اپنی بہت بڑی توہین سمجھتا ہے اور بیٹے سے اس قدر نالاں ہے کہ  زندگی بھر منھ نہیں دیکھنا چاہتا۔ دیہی علاقوں  میں   نئی نسل کا ذات پات کو اہمیت نہ دینا ان کے لیے سوہانِ جان بنا ہوا ہے۔ بیٹیاں اکثر والدین کی مرضی سے شادی کرتی ہیں اس لیے وہ ان سے خوش رہتے ہیں لیکن اگر کوئی بیٹی  مذہب بدل کر مسلمان ہوجائے تو یہ صدمہ جانکاہ ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے اور وہ عدالت سے رجوع کرکے بے بنیاد الزام تراشی کرنے لگتے ہیں بلکہ کبھی کبھار قتل و غارتگری پر بھی اتر آتے ہیں۔ فسطائی طاقتیں  موقع غنیمت جان کر’لوجہاد‘ کا نعرہ بلند کرنے لگتے ہیں۔

 قرآن حکیم میں اولاد کو دین اسلام سے روکنے والی غیر مسلمین  والدین کی کوششوں کے لیے ’جہاد‘ کا لفظ  استعمال ہوا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’ ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا (عنکبوت ۸)۔ اس آیت میں  ’’جہاد‘‘ کی اصطلاح  مشرک والدین کی اس ’’کوشش‘‘ کے لیے استعمال ہوئی ہے جو اولاد کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے خالص لغوی معنی (جدوجہد کرنا، کوشش کرنا) میں آیا ہےاسی کے ساتھ والدین کی فرمانبرداری کےحدودبھی متعین کردیئے گئے ہیں۔ والدین کے حقوق اللہ کے بعد ہیں۔ اللہ کا حق اور اس کا حکم، والدین کے حقوق اور ان کی مرضی پر فائق ہے۔ لہٰذ والدین اگر اپنے بچوں  کوکفر و شرک پر مجبور کریں  تو ان کا مطالبہ قابلِ تسلیم نہیں ہو گا ۔  ان واقعات میں  جوڑوں کا بغیر نکاح کے ساتھ رہنے سے انکار قابل ستائش ہے اس لیے  کہ بدقسمتی سے قومی  دستور میں اس کی  گنجائش ہے۔ ان   خواتین نے مشرف بہ اسلام ہوکرپروقار انداز میں ازدواجی رشتہ قائم کرکے گھر بسانے کا فیصلہ کیاہے۔

ہندو والدین کی  نفسیات سے ہمدردی  کیرالہ سے لے کر راجستھان تک عدالتوں سے عجیب و ٖغریب فیصلے کرواتی ہے۔ جودھپور کے رہنے والے فیض  مودی اور پائل سنگھوی اسکول میں ساتھ پڑھتے تھے۔ ان دونوں نے امسال  ماہِ اپریل میں ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کیا اور اکتوبر میں پائل  اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر سسرال چلی گئی۔ ۲۲ سالہ پائل ( نیانام عارفہ)پوسٹ گریجویشن کے بعد اعلیٰ سرکاری  ملازمت کے امتحان کی تیاری کررہی ہے۔ عارفہ  نےجودھپور پولس کمشنر کوخط لکھ کر  مطلع کردیا تھاکہ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد فیض سے نکاح کرلیا ہے،اس لیےعارفہ کے والدین نے پرتاپ نگر  تھانے میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو پولس نے انکار کردیا لیکن  عدالت کے دروازے پر دستک دی تو  اس کے تیور خوفناک تھے۔کورٹ  نے نہ صرف پولس کو ایف آئی آر لکھنے کے پابند کیا بلکہ  عارفہ کو ناری نکیتن میں بھیج دیا۔ جسٹس  گوپال کرشن ویاس نے عدالتی ضابطے کی توہین کرتے ہوے یہاں تک کہہ دیا کہ  صرف دس روپئے کے حلف نامہ سے پولس کیسے اندازہ کرسکتی ہے کہ مذہب کی تبدیلی  جائز ہے۔ اس طرح تو میں بھی  کل سے اپنے آپ کو گوپال محمد کہلواسکتا ہوں۔ ایک جج کے لیے حلف نامہ کی تضحیک اور  یہ بازاری لب و لہجہ  زیب نہیں دیتا۔

عارفہ کے بھائی نے عدالت میں  گہار لگائی اس کی بہن  ’لوجہاد ‘ کی شکار ہوئی ہے اور اس کا ’برین واش ‘ کیا گیا ہے۔ فیض پر اغواء کرکے زبردستی نکاح کرنے نیز غیر قانونی حراست میں رکھ کر  بلیک میلکرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ عارفہ نے ان سارے الزامات کی تردید کردی اور عدالت کو اس کے اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے کا حق  تسلیم کرنےپر مجبور ہونا پڑا۔ پولس کا تحفظ میں اسے فیض کے گھر بھیج دیا گیا۔ عارفہ عرف پائل نے  فیصلے کے بعدانکشاف کیا کہ  اس کے والد نرپت چند سنگھوی سائیں بابا کے بھکت اور مندر کے پجاری ہیں۔ ان کے گھر کی نچلی منزل  میں مندر ہے اور وہ خیرسگالی کے پیش نظررمضان میں کبھی کبھار نماز کی اجازت بھی دیتے رہے  ہیں لیکن جب معاملہ ان کی  اپنی بیٹی کا آگیا تو ساری رواداری ہوا ہو گئی۔ دسویں جماعت میں جب نرپت چندکوپائل اور فیض کی دوستی   کا علم ہوا تو ڈرا دھمکا کر اس سے موبائل چھین لیا گیا۔

  سوال یہ ہے کہ غیروں پر برین واش کا الزام لگانے والے نرپت چند   سنگھوی خود اپنی بیٹی کا برین واش کرنے میں کیوں ناکام رہے؟ اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتے تو انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آتی کہ ’’ تنتر منتر سب کچھ کیا گیا ہے اس پہ‘‘ اس لیے کہ فیض تنتر منتر کیا جانے۔ یہ تو ان کا اپنا میدان ہے۔ نرپت نے یہ بھی کہا کہ ’’اب کورٹ سے مجھے کوئی امید نہیں  لگتی۔ جب ہندو ہی ہندو کے پکش ( حمایت) میں نہیں ہے تو دوسروں سے کیا امید کریں۔  نرپت جی بھول گئے عدالت تو انصاف کا مندر ہے اور اس نے ان کی بیٹی کے ساتھ عدل کیا ہے۔ نرپت چند کا یہ مطالبہ کے ’’اولاد کو والدین کی رضامندی کے بغیر مذہب کی تبدیلی کے حق سے محروم کردیا جائے‘‘  بنیادی حقوق  انسانی کی  خلاف ورزی   ہے۔  جودھپور ہندو جاگرن منچ کے ناظم رنجیت بافنا کا  وزیراعظم سے  یہ مطالبہ  کہ پرائے  مردوں کے برے ارادوں  سے ہندو بہنوں اور بیٹیوں کوبچانے کے لیے سخت قانون نافذ کریں اس قدر احمقانہ ہے کہ اس کی تردید کرتے ہوے فیض کے وکیل مہیش بورہ نے کہا’’ جب بھی  بین المذاہب شادی ہوتی ہے کچھ افراد اور گروہ اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کوشش کرتے ہیں‘‘۔

 فیض اور ان کے والداعجاز مودی  نے اس معاملے میں   کمال صبرو تحمل کا  مظاہرہ کیا۔  فیض نے نامہ نگاروں کو بتایا  کہ ’’کالج کے زمانے میں ہمیں احساس ہوگیا کہ محبت سے پیٹ نہیں بھرتا اس لیے میں نے دوسرے ہی سال گارمنٹ کا اپنا کاروبار شروع کردیا۔ نرپت چند نے جب اس سے بات کی تو  جواب دیا  ’’جناب ہم برسوں سے ایک دوسرے  کو جانتے ہیں‘‘۔ فیض پچاس طلباء کی جماعت میں تنہا مسلمان تھا اس کے باوجود اسے خوف محسوس نہیں ہوا۔ نرپت چند کی دھونس دھمکی پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ ’’وہ مجھ سے بڑے ہیں  اور یہ قابل فہم ہے۔ اس لیے کہ ایسی صورتحال میں ہر والد کا ردعمل اسی طر ح کا ہوگا‘‘۔ہندو جاگرن منچ کے شور شرابے کے باوجود فیض کی پہاڑ جیسی  استقامت  نے مسلم و غیر مسلم دونوں کو متاثر کیا ہوگا۔ اپنی اہلیہ کے عزت نفس کا خیال اور اس کے والد کا احترام کرنے والا اخلاق  بھی قابلِ تعریف ہے۔  فیض کے والد اعجاز کو جب علم ہوا  تو انہوں نے  غوروفکر کرکے فیصلہ کرنے کی تلقین کی اس لیے یہ بین المذاہب شادی ہے  اور کہیں دوسال بعد وہ پیچھے نہ ہٹ جائیں جس سے دونوں کی زندگی تباہ ہوجائے۔ یہ سلجھا ہوا  بیان اعجاز مودی کی ذہنی پختگی اور ہونے والی بہو سے غمخواری  کا آئینہ دار ہے۔

ایک سال قبل اسی طرح کا ایک معاملہ الہ باد ہائی کورٹ کے سامنے آیا تھا جس میں مکیش بنسل نے اپنی بیٹی بنتا عرف فاطمہ کے میرٹھ سے قریب مودی نگرسے اغواء کی رپورٹ درج کرائی  تھی۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ مودی جی کا نام کہیں لڑکے کے تو کہیں شہر کے نام  میں موجود ہے۔ پولس نے اغواء کے الزام میں شوہر مشغور کے ساتھ مصور اور لائق  علی کو گرفتار کرکے غازی آباد کورٹ میں پیش کردیا اور عدالت نے ضمانت  کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئےملزمین کو جیل بھیج دیا  لیکن لڑکی کو برآمد نہیں کرسکی۔ اس کے دوماہ بعد حلف نامہ کے ساتھ فاطمہ الہ باد ہائی کورٹ میں حاضر ہوگئی   اور بیان دیا کہ  برضا و رغبت اسلام مذہب قبول کرکے اس نے پرتاپ پور کے مسلم نوجوان  سے نکاح کیا ہے۔ عدالت سے سوال کرنے پر  کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہے فاطمہ  نے  بلاجھجک اپنے شوہر کا نام لیا۔ عدالت نے درخواست قبول کرلی اور  اسےشوہر کے حوالے کردیا۔ اس طرح  بی جے پی کے فسطائی رکن پارلیمان  راجندر اگروال  کے ’لوجہاد‘  پر احتجاج کی ہوا  ازخود نکل گئی۔

اسی سال کے اپریل میں مظفر نگر ضلع کے اندر ایک خونخوار واقعہ بھی منظر عام پر آیا۔ بھوکرہیڈی نامی گاوںمیں  رہنے والے  راجیش نے جب اپنی بیٹی   پنکی کی شادی کاارادہ کیا تو  اس نے نسیم سے نکاح کی خواہش ظاہر کی  اس پر اسے زدوکوب کرکے گھر میں بند کردیا  گیا۔ لیکن  پنکی کماری نے گھر سے فرار ہوکر  اسلام قبول کیا  اور نسیم خان کے ساتھ نکاح کرکے جنوب کے شہر وشاکھاپٹنم میں اپنا گھر بسا لیا۔ ایک سال بعد ان کے گھر میں عبداللہ کا جنم ہوا۔ عائشہ کے میکے سے  آنے والی دھمکیوں  سلسلہ  چونکہ بند ہو چکا تھا  اس لیے  یہ مختصرسا تین نفری خاندان عید منانے کے لیے آبائی وطن آگیا۔ واپسی سے قبل عین عبداللہ کی سالگرہ کے دن کیک خرید کر لاتے ہوئے عائشہ کے والد راجیش، بھائی پردیپ اور چچا زاد بھائی نیتو نے گھات لگا کر نسیم کو گولیوں سے بھون دیا۔ اسے’ لو جہاد‘  نہیں بلکہ  ’لو فساد‘کہتے ہیں۔ بقول شاعر؎

شرم آتی نہیں کیوں تم کو اک انسان ہونے پر  

 قتل کرتے ہو مجھ کو صاحب ایمان ہونے پر

اس زبردست سانحہ کے بعد عائشہ نے جس جرأتمندانہ حقیقی  ’لوجہاد‘  کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ رشک ہے۔ عائشہ نے اپنے بھائی کو فون لگا کر پوچھا  ’’تم نے میرے خاوند کو کیوں قتل کیا؟  میں نے اپنی مرضی سے   گھر چھوڑا تھا  اس میں نسیم  کا کوئی قصور نہیں تھا‘‘۔  عائشہ نے اپنے جلاد صفت بھائی سے سوال کیا کہ ’’نسیم کا قتل کرتے ہوئے  تم نے میرےایک سال کے بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟ ‘‘ اپنی بیوہ بہن کی فریاد کے جواب میں  پردیپ نے  کہا   ’’میں تمہیں اور تمہارے  بچے کو بھی موت کے گھاٹ اتار دوں گا‘‘۔  اورنگ زیب پر الزام لگانے والا سنگیت سوم مظفر پور کا رہنے والا ہے۔ کاش اسے  پردیپ کی سفاکی نظر آتی جو اپنی بہن کو بیوہ اور بھانجے یتیم کرنے کے بعد انہیں بھی موت کے گھاٹ اتاردینا چاہتا ہے۔ کیا یہ ہندوتوادی تہذیب و ثقافت قابلِ فخر ہے؟  عائشہ نے جب  نامہ نگاروں   سے سوال کیا  ’’پولس انہیں کیوں نہیں پکڑ پارہی ہے؟ میں ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں۔ ’’میں صرف انصاف چاہتی ہوں ‘‘۔ یہ ’ لو جہاد ‘  کی ’ لو فساد ‘ پر  واضح   فتح  ہے۔

’لو فساد‘ کی ایک اور گھناونی مثال اسی ہفتہ سامنے آئی۔ ۱۰ اکتوبر کو ایک جوڑا نوح سے ریواڑی  بس اڈے پر پہنچا تو اسے فسطائی غنڈوں نے گھیر لیا۔ ان کو شبہ ہوا کہ یہ  ’لو جہاد‘  میں گرفتار لوگ کہیں فرار ہورہے ہیں۔  صوبے میں اگر قانون کی حکمرانی ہوتی پولس کو شکایت کی جاتی لیکن بی جے پی کے راج میں اس کی چنداں ضرورت نہیں اس لیے شوہر کو زدو کوب کیا جانے لگا یہاں تک کہ اس کے مذہب کی تصدیق کے لیے بس اڈے پر شوہر کو کھلے عام برہنہ کردیا گیا۔ کیا دنیا کے کسی مہذب سماج میں اس طرح کی وحشیانہ  حرکت کا تصور کیا جاسکتا ہے؟ وہ بیچارہ ہندو نکلا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔ میاں بیوی نے پولس تھانے  پہنچ کر شکایت درج کرائی جب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو وزیراعلیٰ کے دفتر میں شکایت کی۔ اس کے بعد بیوی کو پولس تھانے میں ان پر دباو ڈال کر شکایت واپس لینے پر مجبور کردیا گیا۔  اب یہ معاملہ ریواڑی کی ایس پی سنگیتا کالیا کے پاس ہے جنھوں نے ڈی ایس پی کے ذریعہ تحقیق کرواکر ’لو فساد‘  کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دلانے کا وعدہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی ریاستوں میں ’لو فساد ‘ کا یہ وحشیانہ کھیل آخر کیسے ختم ہوگا؟ فی الحال ہمارے ملک کی عوام ’لو جہاد‘ اور ’لوفساد‘ کی چکی میں  پس رہے ہیں۔ کیا اس کے رکنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہوگا؟   بقول شاعر؎

خواب اگر سچ ہو جائیں تو خواب نہیں رہتے  

 لیکن خوابوں کا سچ ہو جانا اچھا لگتا ہے



⋆ سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے