تعلیم و تربیتخصوصی

مخلوط نظام تعلیم: اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

لڑکیوں کو تعلیم ضرور دی جائے لیکن ایسی تعلیم جو ان کی فطرت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔

مولانا سیّد آصف ملّی ندوی

 وطن عزیز بھارت میں ملت اسلامیہ ہندیہ ان دنوں جن سنگین اور تشویشناک مسائل سے دوچار ہیں ان میں سب سے اہم اور بڑا مسئلہ تعلیم یافتہ یا زیر تعلیم مسلم بچیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ دوستیوں، معاشقوں، ناجائز تعلقات، شادیوں اور ان کے ساتھ فرارہونے کے مسائل ہیں، گذشتہ ایک مختصر عرصے کے دوران ملک کے مختلف گوشوں سے سینکڑوں مسلم بچیوں کے دین و مذہب کو خیر باد کہہ کر گھروں سے بھاگ جانے کی روح فرسا خبریں مسلسل غیرت و حمیت اسلامی کو منھ چڑارہی ہیں اور ہم ہیں کہ اس تشویشناک صورتحال پرسوائے کف افسوس ملنے کے کچھ بھی نہیں کرپارہے ہیں، بہت ہوگیا تو رائے زنی اور تبصروں کا ایمانی فریضہ ادا کرکے اس فتنہ کی سرکوبی کا ’’مجاہدانہ کام‘‘ انجام دے رہے ہیں، جب کہ صورت حال کی سنگینی کا تقاضہ ہے کہ ہم اس کے اسباب و محرّکات کو تلاش کرکے ان کا سدِّباب کرنے کی کوشش کریں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں جن پر مستقل و مفصل خامہ فرسائی کی جاسکتی ہے، سردست اس فتنہ کے ایک بنیادی اور اہم ترین سبب کو ذکر کرنا ہے جس کومغرب نے اور سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجیت کو پوری دنیا پر تھوپنے والوں نے مستقل و منظم منصوبہ بندی کے ذریعے پوری دنیا میں رائج و نافذ کیا ہے، اور وہ ہے ہماری تعلیم گاہوں اسکولوں اور کالجوں میں رائج مخلوط نظام تعلیم (Co-Education System )جو ایک ایسا سمِّ قاتل ہے جس نے ملت اسلامیہ کی نوجوان نسل کے اندر سے غیرت ایمانی اور حیا و شرافت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

در اصل مغرب نے اسلام اور اسلامی تعلیمات کو دنیا سے دیس نکالا دینے کے لئے مسلمانوں کو زیر کرنے یا انہیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کے بجائے تعلیم کے نام پر ان کی عقلوں اور مزاجوں کو مسخر کرنے کا کام کیا، جس کے ذریعے وہ ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتا تھا جو رنگ و نسل کے اعتبار سے اگرچہ مسلمان ہومگر افکار و نظریات اور مزاج ومذاق کے اعتبار سے پوری طرح مغرب کی فکر و نظر سے ہم آہنگ ہو۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویـؒ فرماتے ہیں : ’’یہ مغربی نظام تعلیم درحقیقت مشرق اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے قسم کی لیکن خاموش قسم کی نسل کشی کے مرادف تھا، عقلاء مغرب نے ایک پوری نسل کو جسمانی طور پر ہلاک کرنے کے فرسودہ اور بدنام طریقے کو چھوڑ کر اس کو اپنے سانچے میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا اور اس کام کے لئے جابجا مراکز قائم کئے جن کو تعلیم گاہوں اور کالجوں کے نام سے موسوم کیا‘‘(مسلم ممالک میں مغربیت اور اسلامیت کی کشمکش)۔ حضرت اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے فرعون کے بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ظالمانہ کاروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا :

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

گویا فرعون ایک دقیانوس شخص تھا، اگر اس کو ہامان کی بجائے میکالے جیسا زیرک اور دور اندیش مشیر ملتا تو وہ ضرور اس سے کہتا کہ جہاں پناہ ! آپ اپنی سلطنت کی بقاء کے لئے ان چند سو بچوں کا گلا گھونٹ کر زمانہ بھر کی رسوائی و بدنامی کیوں اپنے سر لیتے ہو؟  اس سے تو کئی گنا بہتر ہے کہ آپ ان کے درمیان ایک ایسا نظام تعلیم رائج کردیجئے جس کے ذریعے وہ فکری موت مر جائیں اور آپ کی حکومت و سلطنت کے لئے خطرہ نہیں بلکہ ممد و معاون ثابت ہو۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ انگریز جب  ہمارے ملک پر غاصبانہ قابض ہوئے تو ان کا یہی خیال تھا کہ  یہ ہندوستانی قوم اپنی تعلیم حاصل کرکے ہمارے اقتدار کے لئے خطرہ بن جائے گی، چناچہ ان انگریزوں اور استعماری قوتوں نے اس ملک میں ایک ایسا مسموم نظام تعلیم نافذ کیاجس کے ذریعے انہوں نے ہماری نسلوں کی فکری وروحانی موت کا ایسا منظم منصوبہ تیار کیا جس کی تمام تر بنیاد انکارِ الوہیت اور خودغرضی و قوم پرستی پر رکھی گئی۔

اسلام کی نظر میں علم کا سب سے بڑا مقصدیہ ہے کہ انسان کو اپنے پیدا کرنے والے خالق و مالک کی معرفت حاصل ہو، اس کو شعور وآگہی حاصل ہو،اس کے اندر تحقیق و جستجو کی صلاحیت پیدا ہو، وہ تہذیبی اقدار سے آراستہ ہو، انسان صحیح معنی میں انسان بن جائے، اس کے اندر خوداحتسابی، ایثار و ہمدردی، اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا احساس پیداہو۔ جبکہ مغربی تعلیم کی بنیاد انکارِ الوہیت اور خودغرضی و قوم پرستی پر مبنی ہے، اس میں اپنی ذات کے لئے خود احتسابی یا دوسروں کے لئے ایثار و ہمدردی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، تہذیبی اقدار،شرافتِ نفس اور حیا و پاکدامنی کے لئے اس نظام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا 

آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاؤں کو گرفتار کیا

زندگی کی شب تاریک سحرکر نہ سکا

 مغربی نظام تعلیم اور خصوصاً مخلوط نظام تعلیم چونکہ دین فطرت اسلام کے دیئے گئے اصول و قوانین تعلیم کو نظر انداز کرکے بلکہ اس کو ختم کرنے کے مقصد سے ترتیب دیا گیا ہے، لہٰذا جہاں کہیں بھی یہ نظام تعلیم نافذ کیا گیا وہاں اس کے سنگین و مہلک اثرات و نتائج مذہب بیزاری، تہذیب و اقدار سے دست برداری اور شہوت رانی و جنسی انارکی ہی کی شکل میں نمودار ہوئے ہیں، اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں مخلوط نظام تعلیم کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ دین اسلام تعلیم نسواں کا مخالف ہے، بلکہ وہ اجنبی مرد اور اجنبی عورتوں کو مخلوط معاشرت سے منع کرتا ہے،  وہ مخلوط معاشرے کو نہ عبادات میں پسند کرتا ہے اور نہ ہی معاملات میں، اسلام تعلیم نسواں کو کتنی اہمیت دیتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود رسالت مآب  ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک مخصوص دن مقرر فرمایاتھا جس میں آپ ان کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے، اور اگر کسی عذر کی وجہ سے آپ تشریف نہ لے جا سکتے تو آپ صحابۂ کرام میں سے کسی کو ان کی تعلیم کے لئے روانہ فرمادیا کرتے تھے۔ اسلام عورت کو اجنبی مردوں کے ساتھ عدم اختلاط اور پردے کے پورے اہتمام کے ساتھ تعلیم کی اجازت دیتا ہے، لیکن وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ صنف نازک کی نسوانیت کے تقدس کی حفاظت کو اسکی تعلیم سے کئی گنا زیادہ اہمیت دیتا ہے، وہ عورتوں کو حصول تعلیم سے منع نہیں کرتا ہے بلکہ حصول تعلیم کے ان طریقوں سے منع کرتا ہے جن کے ذریعے اس کی نسوانیت کا تقدس پامال ہوتا ہو یا اس کی عصمت کے داغدار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہو، اوریہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے ملک میں رائج موجودہ مخلوط نظام تعلیم ایک ایسا نظام ہے جو طلباء و طالبات کو ہمہ وقت گمراہی و آوارگی پر ابھارتا رہتا ہے، جس کی تباہ کاریوں اور مضر اثرات کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں سرفہرست یہ بات ہے کہ وہ ہماری نوخیز نسل اور مستقبل کے معماروں سے سب سے پہلے حیا کی آخری رمق بھی چھین لیتا ہے۔

مخلوط نظام تعلیم کی تباہ کاریوں اور اس کے مضرات کو جاننے کے لئے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ مخلوط نظام تعلیم کیا ہے، اس کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟ َ  مخلوط نظام تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی مضمون کی تعلیم ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت اور ایک ہی طریقے سے لڑکا اور لڑکی دونوں کو بلا تفریق جنس ایک ساتھ دی جائے، نہ کوئی علیٰحدہ نشست کا نظم ہو نہ علیٰحدہ کلاس کا۔ مذہب اسلام میں اس طریقۂ تعلیم کا  کوئی تصور ہی نہیں ہے، یہ لعنت ہمارے پاس مغرب کی اندھی تقلید کے طفیل آئی ہے۔ اس طریقۂ تعلیم کی ابتداء سب سے پہلے ۱۷۷۴ میں امریکہ میں ہوئی، اس کے بعد ۱۸۶۷ میں فرانس میں اور ۱۹۰۲ میں انگلستان میں مخلوط تعلیم کا قانون پاس کیا گیا۔

 مخلوط نظام تعلیم (Co-Education System )کے نقصانات :

1۔ تعلیمی معیار میں گراوٹ :

  دنیا کا کوئی بھی کام کامل توجہ اور مکمل یکسوئی کے بغیر بحسن و خوبی انجام نہیں پاسکتا ہے، بعینہ یہی معاملہ تعلیم کا بھی ہے کہ اس کے حصول کے لئے کامل توجہ اور مکمل یکسوئی ازحد ضروری ہے۔جبکہ مخلوط نظام تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلباء میں سب سے بڑا فقدان اسی ذہنی یکسوئی کا ہوتا ہے۔ وہ صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہمہ وقت اپنے لب و رخسار، طرزِ ادا  و گفتار، لباس و اطواراور اپنی چال ڈھال کو خوشنما و دیدہ زیب بنانے کے’’ کارِخیر‘‘ میں مگن ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ذہنی یکسوئی بالکل بھی حاصل نہیں ہوپاتی ہے اور اس کا نتیجہ تعلیمی معیار کی پسماندگی اور گراوٹ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

2۔ خوب سے خوب تر نظر آنے کی خواہش :

 یہ ایک فطری بات ہے کہ اگر کسی مردیا عورت کو یہ پتہ چل جائے کہ کوئی غیر محر م صنف مخالف اس کو دیکھ یا اس کی باتیں سن رہاہے تو عموماوہ شخص اس صنف مخالف کو لبھانے یااپنی طرف راغب کرنے کے لئے خود کو خوب سے خوب تر بناکر پیش کرنے اور اپنے آپ کو منفرد دکھانے کی کوشش کرنے لگ جاتا ہے، یہی صورت حال مخلوط نظام تعلیم میں طلباء و طالبات کی ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے اوقات میں اپنے ہم جماعت ساتھیوں کی نظر میں اپنے آپ کو منفرد بناکر پیش کرنے میں لگے رہتے ہیں اوراپنی اس انفرادیت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنا قیمتی وقت، پیسہ اور صلاحیت سبھی کچھ ضائع کرتے رہتے ہیں۔

3۔ دوستی و ناجائز تعلقات :

  دین اسلام اور اس کی تعلیمات میں اجنبی مرد و عورت یا لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان دوستی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، دین اسلام زنا اور حرام کاری  کے اس چور دروازہ کو حرام قرار دیتا ہے۔ اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مخلوط نظام تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کا سب سے محبوب مشغلہ صنف مخالف میں دلچسپی لینا، ان سے مذاق و دل لگی کرنا، ایک دوسرے کی توجہ حاصل کرنے یا اپنی طرف راغب کرانے کے مواقع تلاش کرتے رہنا، نوٹس اور درسی مضامین کی یادداشتوں کے تبادلہ کے نام پر تعلقات اور دوستیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ آج ان اداروں میں یہ صورت حال ہے کہ وہاں کے نوخیز اور کم سن طلباء و طالبات کے درمیان گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ بنانے کی ملعون روایت فیشن زدہ، روشن خیال اور مہذب ہونے کی علامت بن چکا ہے۔

4۔ حیاء  و جھجک کا ختم ہونا :

  مخلوط نظام تعلیم کی اس پراگندہ فضا میں جہاں طلباء و طالبات ہمہ وقت گپ شپ، ہنسی مذاق، یاری دل لگی، اور دوستیاں و تعلقات پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں، سب سے بڑی زک اگر کسی چیز پر پڑتی ہے تو وہ حیا و جھجک ہے، اس ماحول میں سب سے پہلے طلباء و طالبات کے دل و نگاہ کی پاکیزگی اور حیا و جھجک کا جنازہ نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ بے غیرتی و بے باکی اور بے شرمی و بے حیائی ان کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔ان کے آپس کے تعلقات صرف دید تک محدود نہیں رہتے ہیں بلکہ وہ دھیرے دھیرے گفت وشنید، بوس وکناراور ہم آغوش ہوتے ہوئے وہاں تک جا پہنچتے ہیں جس کو بیان کرنے سے زبان قلم عاجز ہے۔

دھیرے دھیرے آپ میرے دل کے مہماں ہوگئے

پہلے جاں  پھر جانِ جاں  پھر  جانِ جاناں  ہو گئے

 مغرب و یوروپ (جہاں سب سے پہلے یہ نظام تعلیم نافذ کیا گیا) کی نوجوان نسل کا یہ حال ہے کہ وہاں کے اسکول و کالجس میں زیر تعلیم ۸۰سے ۹۰ فیصد طالبات تعلیمی سال کے اختتام تک متعدد مرتبہ اپنے ہم درس لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرچکی ہوتی ہیں۔  اور شاید یہی وہ صورت حال ہے جس نے علامہ اقبال سے یہ اشعار کہلوائے :

جس علم  کی تاثیر سے  زن ہوتی ہے نازن

کہتے  ہیں  اسی علم  کو  اربابِ نظر موت

بیگانہ  رہے  دیں سے  اگر  مدرسۂ  زن

ہے  عشق  و  محبت کے لئے علم و ہنر موت

5۔ تہذیبی اقدار سے بغاوت اور خاندانی نظام کی تباہی:

  مخلوط نظام تعلیم کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کی نہوست سے ہماری نوجوان نسل اسلاف اور بزرگوں کی روایات اور تہذیبی اقدار سے بغاوت کرتی جارہی ہے،جس کی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام تباہ وبرباد ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے یہ نوجوان اپنے ہم کلاس لڑکے یا لڑکی کے ساتھ تاکا جھانکی، نوک جھونک، چھیڑ چھاڑاور گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کرتے کرتے عشق و محبت کی شکل میں ہوس کے اس ’’اعلیٰ مقام‘‘ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کئے بنا انہیں قرار نہیں ملتا۔ آخرکار وہ وقت آتا ہے کہ شرم و حیا اور غیرت کے پردوں کوپوری طرح چاک کرکے لڑکیاں خود اپنے والدین کو اپنی پسند سے آگاہ کرتی ہیں، زیادہ تر والدین اپنی بچیوں کی اس پسند کو قبول نہیں کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس لڑکے کی دینی و اخلاقی حالت سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں،  وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اس کا مقصد محض وقتی لذت، جنسی تسکین اور لڑکی کے والدین کی مالی حیثیت سے فائدہ اٹھانا ہے۔ لڑکیاں اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں، اگر وہ مان جائیں تو ٹھیک ورنہ یہ لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ کورٹ میرج کرکے والدین اور پورے خاندان کی عزت کو رسوائی سے بدل دیتی ہیں۔

  مخلوط نظام تعلیم کی ان تمام تر خباثتوں اور مضر اثرات کے باوجود بھی اگر لڑکیوں کوان ہی اداروں میں اسی طرح ’’روشن خیال‘‘ اور ’’مہذب‘‘ بنانے کی دوڑ جاری رہی، اور چراغِ خانہ کو شمعِ محفل بنانے کا عمل یوں ہی جاری رہاتو ڈر ہے کہ کہیں ان کے ارتداداور ان کی عزت و ناموس کی پامالی کے روح فرسا واقعات بڑھتے نہ چلے جائیں۔  لڑکیوں کو تعلیم ضرور دی جائے لیکن ایسی تعلیم جو ان کی فطرت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیں صحیح و غلط کی سمجھ عطا فرمائے (آمین)َ۔

مزید دکھائیں

مولانا سید آصف ندوی

امام و خطیب مسجد قدسیہ ناندیڑ ، صدر جمعیت علماء، شہر ناندیڑ.

متعلقہ

Close