خصوصیسیاست

مراٹھا مورچہ: سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

ڈاکٹر سلیم خان

 مراٹھا تحریک   کے صبر کا پیمانہ بھی آخر لبریز ہوگیا۔ اس بےمثال  تحریک  کے آگے بظاہر معاشی وجوہات ہیں لیکن اس کے پس پشت  سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔ آزادی کے بعد  مہاراشٹر کے اندر کانگریس نے ۳۰ فیصد مراٹھوں،  دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو اپنے ساتھ لے کر ایسی زبردست سیاسی قوت  بنائی کہ تشکیل ِریاست کی مخالفت کے باوجود اس  کو بلاشرکتِ  غیرے اقتدار حاصل ہوگیا۔ یشونت راو چوہان  جیسے مراٹھا رہنما نےذات پات کے تال میل سے ایک  مضبوط کانگریسی قلعہ تعمیر کرکے آرایس ایس کے مرکز  میں   جن سنگھ کو حاشیے پر پہنچا دیا۔  گاندھی جی کا  قاتل ناتھو رام گوڈسے گوکہ اسی صوبے کا باشندہ  تھااس  کے باوجود  براہمن مخالف فسادات یہیں پر  رونما ہوئے۔ ایمرجنسی کے بعد  سارے ملک میں  اندرا مخالف لہر تھی مگر مہاراشٹر کے  لوگوں نے کانگریس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس قلعہ میں پہلا شگاف اس وقت پڑا جب شرد پوار نے کانگریس سے بغاوت کرکے جنتاپارٹی کے ساتھ ترقی پذیر محاذ بنایا اور وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس نئی صورتحال میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں کی کمان   مراٹھوں کے ہاتھ میں   تھی۔

شرد پوار کے ساتھ  جنتا پارٹی میں موجود جن سنگھی دیگر پسماندہ طبقات کے رابطے میں آئے۔ ان کو مراٹھوں سےتوقع  نہیں تھی اس لیے پسماندہ ذاتوں کی جانب توجہ دی۔ آگئ چل کربراہمنوں کے بجائے  او بی سی  کو بی جے پی کے اندر اہم ذمہ داریوں سے نوازہ   گیا۔ شرد پوار کے ساتھ جانے سے قبل جن سنگھ نے شیوسینا کے ساتھ الحاق کررکھا تھا۔ جنتا دل کے بکھر جانے کے بعد شرد پوار کانگریس میں لوٹے تو  بی جے پی  نے شیوسینا کے ساتھ حلالہ کے بغیر نکاح کرلیا۔ منوہر جوشی کی شکل میں  شیوسینا نے  مہاراشٹر کو پہلا براہمن وزیراعلیٰ دیا لیکن بی جے پی نے پسماندہ ذات دھنگر کے گوپی ناتھ منڈے کو اپنا رہنما بنایا۔ بالا صاحب  ٹھاکرے، جوشی سے زیادہ منڈے کے گرویدہ  تھے۔ مراٹھوں کے دباو میں  ٹھاکرے نے اگلے انتخاب سے قبل منوہر جوشی کی جگہ مراٹھا لیڈر نارائن رانے کو وزیراعلیٰ بنایا لیکن ناکام رہے۔ کانگریس نے این سی پی کے ساتھ الحاق کرکے کر اقتدار سنبھالا  اور ولاس راو دیشمکھ کو وزیراعلیٰ کی کرسی سونپ  کر  نہ صرف شردپوار کو ٹھکانے لگایا  بلکہ مراٹھوں کو  بھی خوش کردیا۔

 مہاراشٹر میں بی جے پی پسماندہ طبقات کو کانگریس سے توڑ کر اپنے ساتھ ملانے کی حکمت عملی پر کام کرتی رہی اور شیوسینا کی مدد سے طاقت بڑھاتی رہی۔ یہاں تک کہ مودی لہر کے دوران اس نے این سی پی کو بلیک میل کرکے کانگریس سے الگ کیا اور خود  اپنے بل بوتے پر شیوسینا کے بغیر سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری نیز اکثریت سے  محروم ہونے باوجود این سی پی سے بائیکاٹ  کرواکے  اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ تمام اہم وزارتیں آپس میں تقسیم کرنے کے بعد  شیوسینا سے الحاق کیا  کیونکہ  شرد پوار کی  بلا واسطہ  حمایت قابل اعتماد نہیں تھی۔ اس سے قبل شیوسینا کے ارکان اسمبلی کو وزارت کا لالچ دے کر توڑنے کی سازش رچی گئی تاکہ دباو میں آکر ادھو ٹھاکرے سپر ڈال دے اور اپنی پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے بی جے پی کی حکومت میں شامل ہوجائے حالانکہ اپنے حالیہ انٹرویو میں ادھو نے کہا ہے  کہ کانگریس اور این سی پی کو ٹوٹنے بچانے کے لیے انہوں نے الحاق  کیا تھا۔

قومی سطح پر جب تک لال کرشن اڈوانی پارٹی کی صدارت کے دوران  ا بی جے پی میں ٓرایس ایس کی  د ال نہیں گلتی کیونکہ   اڈوانی  کی تنظیم پر پکڑ بہت مضبوط تھی لیکن پاکستان میں قائد اعظم جناح کی تعریف و توصیف کے بعد جب ان کی ہوا اکھڑ گئی تو آرایس ایس نے ناگپور کے ایک براہمن نتن گڈکری کو   پارٹی کا صدر بنادیا۔   گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی اس وقت قومی سطح پر ابھر رہے تھے۔ نتن گڈکری نے ان کے پر کترنے کی خاطر مودی کے کٹر دشمن   سنجے جوشی کو اتر پردیش کا نگراں  اور بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ  کا رکن نامزد کردیا۔ اسی سنجے جوشی نے کیشو بھائی پٹیل سے کہہ کر نریندر مودی بن باس پر دہلی بھیج دیا تھا۔ نریندر مودی نے گڈکری پر دباو ڈال کر سنجے جوشی کی چھٹی کی اور پھر اپنی شرائط پر دوبارہ صدر منتخب ہونے   میں مدد کی۔ آگے چل کر بدعنوانی کے الزامات گڈکری کو لے ڈوبے اور انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ گڈکری کے بعد راجناتھ سنگھ نے  پارٹی کی کمان سنبھالی  اور نریندر مودی وزیر اعظم بن گئے۔ اس وقت مہاراشٹر میں  بی جے پی کے سب سے طا قتور رہنما گوپی ناتھ منڈے تھے۔

مرکز میں گڈکری اور منڈے دونوں وزیر بنائے گئے لیکن منڈے کی دلچسپی صوبے کی سیاست میں تھی جہاں چند ماہ  کے اندر ریاستی انتخابات  ہونے والے تھے لیکن اچانک پراسرار حالات کے اندرگوپی ناتھ منڈے  ایک حادثے میں فوت ہوگئے اور پھر ایک بار گڈکری  کو مہاراشٹر کی سیاست میں اہمیت حاصل ہوگئی۔ مہاراشٹر میں بی جے پی کی کامیابی کا سہرا پسماندہ ذاتوں کی حمایت کے سبب تھا اور منڈے  کے بعد سب سے بڑے رہنما  ایکناتھ کھڑسے تھے۔ کھڑسے چونکہ گڈکری کی چاپلوسی نہیں کرتے تھے اس لیے وہ ان کے مخالف تھے۔  مودی کو ایک ایسے وزیراعلیٰ کی ضرورت تھی جو گڈکری کے اثرات کو زائل کرسکے۔ اس لیے گڈکری کے ناگپوری ذات بھائی دیویندر فردنویس کو وزیراعلیٰ  بنایا گیا۔ یہ مودی جی کی  پرانی حکمت عملی ہے۔ کیشو بھائی پٹیل کا اثرگھٹانے کے لیے آنندی بین پٹیل اور راجناتھ سنگھ کی  گھیرابندی  کے لیے یوگی ٹھاکر کو وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

ایکناتھ کھڑسے نے دیویندر فردنویس کو وزیراعلیٰ بنانے کی کھل کے مخالفت کی۔ انہیں منانے کی خاطر مرکز کے نگراں جے پی نڈاّ کو ان کے گھر جانا پڑا۔ ایکناتھ کو وزیرداخلہ کے بجائے وزیر محصول بنایا گیا  کیونکہ  وزارت  داخلہ فردنویس نے اپنے پاس رکھی تھی۔ دیویندر فرد نویس جانتے تھے کہ آگے چل کر جب بھی کوئی  مسئلہ پیدا ہوگا ایکناتھ کھڑسے  طاقتوردعویدار بن کر کھڑے ہوجائیں گے۔ اس لیے ان پر بدعنوانی  اورداود سے بات چیت کا الزام  لگا کر استعفیٰ لے لیا گیا۔ تفتیش  کے بعد وہ  بے قصور پائے گئے  لیکن ان کی وزارت بحال نہیں کی گئی۔ اس دوران  گوپی ناتھ  منڈے کی بیٹی پنکجا کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزامات منظر عام پرا ٓئے۔   فردنویس کی ان حرکات نے پسماندہ طبقات کے اندر بی جے پی کے تئیں بے چینی پیدا کردی تھی   او ر وہ  پھر ایک بار سیٹھ جی اور بھٹ جی (براہمن بنیا) پارٹی میں تبدیل ہونے لگی تھی۔

ان حالات کے اندر کوپرڈی کا سانحہ منظر عام پر آیا جس میں ایک دلت نے مراٹھا لڑکی کی عصمت دری کرکے اسے قتل کردیا تھا۔ اس سانحہ نے مراٹھا سماج کو شدید محرومی کا احساس دلایا اور مراٹھا مورچہ کے نام سے بیداری کی ایک زبردست لہر  اٹھی۔ لاکھوں لوگوں پر مشتمل غیر معمولی  خاموش جلوس نکالے گئے۔ ان میں بلا کا نظم و ضبط تھا۔ انتظامیہ مظاہرین  کو تمام سہولت فراہم کررہاتھا ۔ جلوس میں نہ کوئی نعرہ ہوتا  اور نہ تقریر  ہوتی بلکہ جیجا مائی  کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ترانہ پیش کیا جاتا اور میمورنڈم دے کر مجمع پرامن طریقہ پر منتشر ہوجاتا۔ اس طرح ایک سال کے عرصے میں تقریباً ۶۰ جلوس نکالے گئے  کہیں تشدد کی کوئی واردات نہیں ہوئی مگر وزیراعلیٰ نے اس کا  کبھی  نوٹس نہیں لیا۔ وہ ہمیشہ اپنے کسی نہ کسی وزیر کو آگے کردیتے جو مراٹھا سماج سے زیادہ اپنی پارٹی کا وفادار ہوتا تھا۔ ان مورچوں نے مراٹھا سماج کے اندر ایک خود اعتمادی پیدا کی اور انہیں بی جے پی کے جھانسے میں جانے سے روک دیا  اس لیے کانگریس اور این سی پی  نے ان کی درپردہ حمایت کی۔

’ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا ‘ کا نعرہ لگا کر نکلنے والے جلوس  میں نہ صرف کوپرڈی کے مجرمین کے لیے موت کی سزا پر اصرارتھا بلکہ پسماندہ ذاتوں اور قبائل کے خلاف مظالم کے قانون کو مسترد کرنے کی بات بھی تھی نیز تعلیم گاہوں اور ملازمتوں میں ریزرویشن  کا مطالبہ بھی تھا۔ان کے علاوہ شیواجی کے مجسمے اور کسانوں کی امداد کا ذکر بھی تھا۔ پہلے مطالبے پر کسی کو اعتراض نہیں تھا لیکن دوسرے مطالبےنے دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا۔ اس میں شک نہیں کہ کبھی کبھار مذکورہ قانون کا استعمال آپسی دشمنی نکالنے کے لیے کیا جاتا تھا لیکن عموی طور پر دیہاتوں میں یہ کمزور طبقات کے لیے  ڈھال  کی مانند ہے۔ اس کے خاتمے سے دلتوں پر مظالم کے بڑھنے کا روشن امکان ہے۔ ریزرویشن کی مخالفت اس لیے کی گئی کہ  مراٹھوں میں بہت سارے لوگ خوشحال بھی ہیں۔ ان کو مختص کوٹہ میں شامل کردیا جائے تو دوسرے کمزوروں  کا حق مارا جاتا ہے۔

   ان دو  مطالبات نے دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو مراٹھوں سے دور کرنا شروع کردیا  اس لیے  بی جے پی کو پھر ایک بار اپنی سیاست چمکانے کا موقع مل گیا۔ کانگریس نےمراٹھوں اور پسماندہ طبقات کی مدد سے مہاراشٹر پر راج کیا تھا۔ وی پی نائک اور شندے پسماندہ  سماج سے تھے۔ اس طرح نادانستہ طور پر مراٹھا مورچوں  نےبی جے پی سے ناراض  پسماندہ طبقات اور دلتوں کو پھر سے ڈھکیل کر اس کی  آغوش میں پہنچا دیا  ۔ یہ کانگریس اور این سی پی کا سیدھا نقصان تھا لیکن ان میں سے کسی میں جرأت نہیں تھی کہ مخالفت کرکے اپنے ہمنواوں کی دل شکنی کرتے اس لیے سب خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس سے دیویندر فردنویس کا حوصلہ بلند ہوا اور انہوں نے بھیما کورے گاوں میں ایک سازش کرکے  مراٹھا سماج  کے مضبوط قلعہ میں سنگھی مراٹھوں کی مدد سے   سیندھ لگانے کی کوشش   کرڈالی جسے دلتوں اور مراٹھا رہنماوں نے اپنی دانشمندی سے ناکام بنادیااور بی جے پی ہاتھ ملتی رہ گئی۔

مراٹھا سماج کو بے وقوف بنانے کے لیے دیویندر فردنویس نے وہی حکمت عملی اختیار کی جو کانگریس مسلمانوں کے تئیں اختیار کرتی رہی ہے۔ پہلے تو کانگریس نے  مراٹھوں سمیت مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جسے عدالت عالیہ نے مسترد کردیا۔ دیویندر فردنویس نے ۲۰۱۶؁ میں پھر سے مراٹھوں کو ۱۶ فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا۔ اسے بھی عدالت نے ٹھکرا دیا  اس کے بعد مراٹھا سماج نے انہیں اوبی سی قرار دے کر موجود ریزرویشن میں حصے دار بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے لیے پسماندہ طبقات کی نشاندہی کے لیے ایک صوبائی  کمیشن تشکیل دیا گیا جو کچھوے کی رفتارسے کام کررہا ہے۔ اس طرح بظاہر فردنویس نے دے کر بھی کچھ نہیں دیا اس سے مراٹھا سماج اور مراٹھا رہنماوں  دونوں میں بے چینی تھی۔ ایسے میں ۲۰ جولائی کو وزیراعلیٰ نے ایک نیا شوشہ چھوڑ تے ہوئے ۷۲ ہزار نئی سرکاری اسامیوں کو پرُ  کرنے کا اعلان کردیا۔ اس پر جب اعتراض ہوا کہ مراٹھوں کے ریزرویشن کا کیا ہوگا ؟  تو وہ بولے فی الحال ۱۶ فیصد اسامی خالی رکھتے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد انہیں مراٹھا امیدواروں سے بھرا جائے گا۔

مراٹھا  احتجاج کا نیا سلسلہ اس اعلان کے بعد شروع ہوا۔ اس موقع پر پنڈھر پور میں  وارکری سماج کا سب سے بڑا اجتماع  منعقد ہونے والاتھا جس میں ۱۲ لاکھ زائرین کو شرکت کرنی تھی۔ مہاراشٹر کی  یہ روایت  ہے کہ اشاڑھی ایکا دشی کے دن ریاست کا وزیراعلیٰ وہاں جاکر وٹھل کی پوجا کرتا ہے۔ پچھلے تین سال سے خود دیویندر فردنویس یہ کرتے رہے ہیں۔ اس  سال  پنڈھرپور میں مراٹھاکرانتی مورچہ نے وزیراعلیٰ کے گھیراو کا اعلان کیا۔ یہ ایک معمولی  نظم و نسق کا مسئلہ تھا۔ فردنویس اگروہاں جانے سے قبل مراٹھا  رہنماوں سے مل لیتے یا واپسی کے بعد ملاقات کی تاریخ کا اعلان بھی  ہوجاتا تو بھی مظاہرین کا غم و غصہ کم ہوجاتا لیکن وزیراعلیٰ  نے اپنا دورہ منسوخ کردیا اور کہا کہ وہ اپنے گھر میں پوجا  پاٹ کرلیں گے۔ وزیراعلیٰ  کی اس  بزدلانہ حرکت سے ایک طرف وار کری سماج کے اندر مایوسی پھیلی لیکن دوسری جانب مراٹھا احتجاج مشتعل ہوگیا۔ اس مرحلے میں دیویندر فردنویس   کی قدیم شترمرغ کی مانند سر کو ریت میں چھپا  نے والی حکمت عملی مہنگی پڑگئی۔

پنڈھر پور نہیں جانے کے لیے جو جواز پیش کیا گیا وہ نہایت بچکانہ تھا۔ وزیراعلیٰ  نے کہا کہ وٹھل کے  لاکھوں معتقدین  کو یرغمال بنالیا گیا۔ میں ان کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ مجھے خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ وہاں سانپ چھوڑ دے جائیں گے اور اس کے سبب بھگدڑ مچنے سے ہزاروں جانیں تلف ہوسکتی ہیں۔ میں یہ الزام اپنے سر نہیں لینا  چاہتا۔ کورے گاوں بھیما  میں جس طرح دلتوں اور مراٹھوں کو لڑانے کی  کوشش کی گئی تھی اسی طرح پنڈھر پور میں وار کری اور مراٹھا سماج کے بیچ خلیج پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ اس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور تشدد کی وارداتیں ہونے لگیں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر محصول چندرکانت پاٹل نے کہہ دیا کہ احتجاج میں زرخریدافراد شامل ہوگئے ہیں۔

مراٹھا سماج کے رہنماوں نے ان   دونوں  من گھڑت الزامات کو مسترد کردیا   اور وزیراعلیٰ کو سے معافی  کا مطالبہ کردیا۔ اس کے بعد مراٹھا مورچہ نے  وزیراعلیٰ سمیت ارکان اسمبلی کے گھروں پر دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ اس دوران کئی علاقوں میں جلوس نکالے گئے اور راستہ روکا گیا۔ سرکاری بسوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایک نوجوان نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ دوسرے نے پل سے خشک ندی میں چھلانگ لگا موت کو گلے لگالیا اور ایک پولس اہلکار بھی بندوبست کے دوران  مارا گیا۔ ارکان اسمبلی کی علامتی ارتھی اٹھائی گئی۔ ان کے گھروں پر پتھراو ہوا۔ اس کے نتیجے میں ۶ ارکان اسمبلی  نے اپنا ستعفیٰ پیش کردیا۔ شیوسینا، این سی پی اور کانگریسیوں نے تو اپنے استعفے اسپیکر کو بھیجے مگر بی جے پی والوں نوٹنکی کرتے ہوئے مراٹھا کرانتی مورچہ کو استعفیٰ روانہ کیا جو بے معنیٰ ہے۔ پورے صوبے میں جب  تشدد پھیل گیا تو وزیراعلیٰ نیند نے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی حالانکہ اگر یہ کام پہلےکیاجاتا تو یہ قیمتی جانیں  تلف نہ ہوتیں اور نہ  دیگر نقصان  ہوتا۔

مراٹھی زبان میں ایک کہاوت ہے ’پکڑو تو کاٹتا ہے اور چھوڑ و تو بھاگتا ہے‘۔  وزیراعلیٰ کے سامنے فی الحال یہی  مشکل ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پسماندہ طبقات  کی ناراضگی سے بچتے ہوئے کس طرح مراٹھا سماج کو  خوش کیا جائے ۔ ان کے پاس دو متبادل ہیں۔ اول تو یہ کہ صوبائی اسمبلی خصوصی اجلاس بلا کر اس میں مراٹھوں کو پسماندہ ذاتوں میں شامل کردیا جائے۔ اس سے احتجاج  توختم ہوجائے گا مگر دیگر پسماندہ طبقات بی جے پی سے ناراض ہوجائیں  گے۔ اب ان کے سامنے صرف  شیوسینا بچے گی اس لیے کہ کانگریس اور این سی پی مراٹھوں کی پارٹیاں ہیں۔ ایسے میں  بی جے پی کی برسوں کی محنت اکارت چلی جائے گا۔ اس اقدام کے بعد بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ مراٹھا سماج بڑے پیمانے پر بی جے پی کا حامی بن جائے۔ دوسرا متبادل تمل ناڈو کی طرح قانون سازی کر کے  ریزرویشن کا تناسب  بڑھانے کا ہے۔

تمل ناڈو میں   ریزرویشن کی حد ۵۰ سے بڑھا کر ۶۹ فیصد کردی گئی لیکن ایسا کرنے سے  غیر پسماندہ ناراض ہوجائیں گے جن میں براہمن،  بنیا اور راجپوت  شامل ہیں۔ یہ دراصل بی جے پی کے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کو چھیڑنا بی جے پی کے لیے خطرے سے خالی نہیں  ہے۔ اس سے شہری علاقوں میں بی جے پی کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ دیویندر فردنویس نے ٹال مٹول کا رویہ اپنا رکھا ہے لیکن اس سے کام نہیں چلے گا اس لیے کہ اگر یہ احتجاج پھر سے شروع ہوکر پرتشدد ہوجائے  تو اسے ان  کی ناکامی قرار دے کر بی جے پی متبادل   تلاش کرنے لگے گی ۔ کسی بھی سیاستداں کے لیے یہ زہر ہلاہل سے کم نہیں ہے۔ ایک سیاسی حلیف شیوسینا کے مخالف تیور اور دوسرے ودربھ کی علٰحیدگی پسند تنظیمیں۔

حال میں دو مرتبہ امیت شاہ کا ممبئی دورہ ہوا۔ پہلی مرتبہ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی  اور اعلان کیا کہ اتحاد قائم رہے گا۔ اخبارات میں تصاویر شائع ہوئیں  مگر اس بابت جب ادھو ٹھاکرے سے پوچھا گیا تو وہ بولے امیت شاہ رابطہ مہم کے تحت آئے تھے وہ بابا صاحب پرندرے اور مادھوری دکشت سے بھی ملے  یعنی اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں تھی۔ لیکن پھر ایوان پارلیمان میں شیوسینا نے  ساری منت سماجت کے باوجود اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کردیا اور باہر نکل گئے۔ اس کے بعد جب امیت شاہ ممبئی آئے تو ان کے پاس لتا منگیشکر سے ملنے کے لیے وقت تھا مگر شیوسینا کے لیے نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے کارکنان کو تمام حلقۂ انتخاب میں    تیاری کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے معنیٰ ہیں شیوسینا کے بغیر  اپنے بل پر انتخاب لڑنے کا اعلان ہوگیا۔ شاہ کی واپسی کے بعد ادھو ٹھاکرے نے اپنے ترجمان سامنا میں بہت طویل انٹرویو میں  بی جے پی کی خوب جم کر تنقید کی۔    ادھو نے ایودھیا اور وارانسی کی زیارت  کا ارادہ بھی ظاہر کردیا اور اب اس کےپوسٹر لگا کر بی جے پی کو بے نقاب  کیا جارہا ہے۔ مراٹھا  مورچہ کے مسئلہ پر شیوسینا نے ایوان پارلیمان میں توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے  اپنے منشور میں اس کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ اس سے مکر گئی اس لیے یہ احتجاج ہورہا ہے اور اس وعدہ خلافی  کے لیے سرکار ذمہ دار ہے۔ حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر  شیوسینا نے واک آوٹ کردیا۔

 دوسرا متنازع مسئلہ ودربھ کی علٰحیدہ ریاست کا ہے۔ بی جے پی نے اپنے منشور میں اس کا  وعدہ کیا تھا۔ فردنویس اور گڈکری دونوں ودربھ کے رہنے والے ہیں اس کے باوجود اپنا عہد فراموش کرگئے۔ ودربھ کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والوں نے بھی  احتجاج شروع کردیا ہے جس دھمک ناگپور  میں تو محسوس ہوتی لیکن ممبئی میں سنائی نہیں دیتی۔ وزیراعلیٰ اس مطالبے کے حامی ہیں مگر شیوسینا اس کی مخالف ہے۔ صوبے کی تشکیل نو مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے اس لیے وہ  کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں  ۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے حلیف اور اپنی مرکزی حکومت کو راضی کیوں نہیں کرسکتے ؟ اگر مرکزی حکومت اپنے عہد کی پاسداری نہیں کرتی تو وہ ودربھ کے لوگوں  سے پارلیمانی انتخاب میں ووٹ مانگنے کے لیے کیا منہ لےکر  جائیں گے۔ مہاراشٹر کی صوبائی حکومت کے سامنے اپنے آخری سال میں یہ دو اہم چیلنجس ہیں۔ اسی پر ۲۰۱۹ ؁ میں مہاراشٹر کے اندر قومی و صوبائی انتخابات کے نتائج کا دارومدار ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close