خصوصیسیاست

مردِ آہن کا سیاسی استحصال

کیا ہندوستانیوں  کے اچھے دن ان یادگاروں اور مجسموں کے قیام سے آجائیں گے؟ کیا بی جے پی نے اپنے منشور  میں اسی کا وعدہ کیا تھا؟

ڈاکٹر سلیم خان

دہلی کااقتدارسنبھالنے سے قبل مودی جی نےجو کچھ کہا  اور سنا ان جملوں کو ایک بھیانک خواب کی مانند بھلا دیا لیکن ۲۰۱۰ ؁ میں گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ نصب کرنے کاوعدہ نبھا دیا اس لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مودی جی کی  بولیٹ ٹرین پانچ سال لیٹ چل رہی ہے اور اگر وہ پھر سے منتخب ہوگئے (جس کا امکان کم ہے) تو چار پانچ سال بعد ’ اچھے دن ‘بھی آہی جائیں گے۔  امیت شاہ جی  نے کانگریس مکت بھارت کا سنکلپ (عہد) لیا تھا لیکن مودی جی نے  ملک کے اولین نائب وزیراعظم کی سب سے  قدآور مورتی بناکر  اور اس پوجا ارچنا کرکے  کانگریسیوں کو بھی شرمندہ  کردیا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ولبھ بھائی پٹیل کانگریس پارٹی کے رہنما  تھے اور مودی جی نے ان کو ایسا غیر معمولی  خراج عقیدت پیش کیا  کہ  کانگریسی بھی  گاندھی اور نہرو کو  بھی نہیں پیش  کرسکے۔ اس لیے کانگریس پارٹی کو مودی جی کاشکرگزار ہونا چاہیے۔

امیت شاہ نے تو کانگریس پارٹی کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا  صرف ارادہ کیا  لیکن وزیرداخلہ  راجناتھ سنگھ نے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے جلسہ میں اعلان فرمادیا کہ کانگریس ختم ہوچکی ہے۔ حیدرآبادسے جس دن یہ خبر آئی اسی دن مدھیہ پردیش میں نرسنگھ پور کے رکن اسمبلی سنجے شرما کےساتھ اندور کے سابق رکن اسمبلی کملاپت آریہ اور گوالیار سے بی جےپی رہنما گلاب سنگھ کرار کانگریس میں شامل ہوگئے۔ اب تو وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے بردار نسبتی سنجے سنگھ بھی کانگریس  میں جاچکے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو پارٹی ہی ختم ہوگئی  ہےاس میں یہ سب  لوگ کیوں جارہے ہیں ؟  اور جو پارٹی زندہ ہے اس کو کیوں خیر باد کہہ رہے ہیں ؟ انتخابی سیاست میں رائے دہندگان اکثر غلطی کرجاتے ہیں لیکن سیاستدانوں کے ساتھ یہ شاذوناد ر ہی ہوتا ہے۔ایمرجنسی کے ختم ہوتے ہی تاحیات کانگریسی بابو جگجیون رام کو اپنے آپ پتہ چل گیا تھا کہ اب  گائے  اوربچھڑا (یعنی اندرا اور سنجے) کو چھوڑ کر ہل تھامے کسان کے ساتھ ہولینا چاہیے۔ اس لیے کہ جنتا پارٹی اقتدار میں آنے والی ہے۔

بی جے پی والے یہ  الزام  لگاتے  ہیں  کہ  لوہ پوروش سردار ولبھ بھائی پٹیل کو کانگریس نے  وزیراعظم  بننے نہیں دیا۔ یہ درست بات ہے لیکن ایک وقت میں وزیراعظم ایک ہی ہوسکتا ہے اس لیے اس نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا اہم قلمدان سونپ دیا۔ بی جے پی نے اپنے سابق صدر لال کرشن اڈوانی کو بھی لوہ پوروش کے لقب سے نوازہ  تھا لیکن جب وہ پہلی بار اقتدار میں آئی تو پنڈت نہرو کے مداح اٹل بہاری واجپائی کو وزیراعظم بنادیا۔ اڈوانی جی بھی سردار پٹیل  کی مانند تماشہ دیکھتے رہے۔ اڈاونی جی کو یقین تھا کہ جب دوسری مرتبہ موقع آئے گا تو ان کا لوہا مان لیا جائے گا لیکن انہیں نہ جانے کیا سوجھی جو قائداعظم محمد علی جناح کی قبر پرجاکر خراج تحسین  پیش کر آئے۔  اس سے سارا سنگھ پریوار ان کے خون کا پیاسا ہوگیا۔ وہ لوگ بھول گئے کہ اڈوانی جی صوبہ سندھ کے رہنے والے ہیں۔ انہیں اپنی مٹی سے محبت ہےاور وہ سرزمین مملکت خداداد پاکستان میں ہے۔

اپنے آبائی وطن کراچی میں پہنچ کر لال کرشن اڈوانی سنگھ کے نظریاتی شکنجے سے پوری طرح آزاد ہوگئے تھے۔ پہلے تو انہوں نے سنگھ کے اکھنڈ بھارت والے نظریہکو مسترد کرکے پاکستان کے وجود کو  تسلیم کیا اور پھربانیٔ پاکستان محمد علی جناح کو تاریخ ساز قائد کی حیثیت سے سراہا۔ اڈوانی جی  کے بیان پر ہنگامہ اس لیے ہوا کہ  ۲۰۰۵ ؁ میں وہ اقتدارسے محروم تھے  ورنہ ۱۹۹۹ ؁ میں اٹل بہاری واجپائی بھی لاہور مینار پاکستان پر علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرچکے تھےلیکن سنگھ اس کڑوی گولی کو اقتدار کے خوف سے نگل گیا۔۲۰۰۹ ؁ میں سنگھ پریوار نے جونیر  لوہ پوروش اڈوانی سے اپنی ناراضگی بھلاکر ان کی قیادت میں انتخاب لڑا لیکن ناکامی ہاتھ لگی اور ظاہر ہوگیا کہ لوہے کی چھڑی سےانتخاب جیتنا مشکل  ہوتا ہے۔ اپنے لوہ پوروش سے  مایوسسنگھ پریوار نے۲۰۱۴ ؁ میں مودی جی کو میدان میں اتارا۔ مودی جی جانتے تھے انتخاب جیتنے کے لیے پٹیل یا اڈوانی کے بجائے نہرو اور اٹل کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انہوں نے رام مندر اور پاکستان جیسے گھسے پٹے راگ کو الاپنے کے بجائے بدعنوانی،  مہنگائی،  اوربیروزگاری جیسے مسائل کو اٹھا کر’ سب کا سب کا وکاس‘ کی بات کی۔ عوام کے بنیادی  مسائل باہم مربوط  تھےاس لیے مودی جی کو کامیابی مل گئی۔

ولبھ بھائی پٹیل کے ساتھ کانگریس کی ناانصافی کا شور مچانے والوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے لوہ پوروش کے ساتھ کیا سلوک کیاہے۔ مودی جی  اور پنڈت نہرو  یا اٹل جیمیں یہ  فرق ہے  کہ ان دونوں نے اپنے اپنے  لوہ پوروش کو نہ صرف  وزیرداخلہ  کی اہم ترین وزارت سے  نوازہ بلکہ ڈپٹی وزیراعظم بھی بنایا۔ مودی جی نے تو اڈوانی  جی کو سیدھے بن باس پر مارگ درشک منڈل میں روانہ کردیا اور کسی کو اپنا ڈپٹی بنانے کا حوصلہ نہیں دکھایا۔جس زمانے میں پٹیل اور اڈوانی وزیرداخلہ تھے اس وقت   وزیراعظم کا دفتر صرف اپنا کام کرتا تھا۔ سارے  وزراء آزادی کے ساتھ بغیر کسی مداخلت  کے اپنی ذمہ داری  ادا کرتے تھے۔ وزیراعظم کے دفتر سےآدھی رات کوآپسی صلاح و مشورے کے بغیر فرمان  نہیں جاری ہوتے  تھے۔ ویسےبعید نہیں کہ آگے چل اپنی اس بدسلوکی کو چھپانے کے لیے یہ لوگ اڈوانی جی کابھی بلند ترین مجسمہ نصب کردیں۔

سنگھ پریوارکی  سردار بھکتی اور نہرو دویش( نفرت)  کو سمجھنے کے لیے  تاریخ کا جائزہ لینا پڑے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔ پنڈت نہرو نے جن سنگھ کے پہلے صدر ڈاکٹر شیاما پرشاد مکرجی کو اپنی کیبنٹ میں شامل کیا تھا۔ آر ایس ایس والے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ پنڈت نہرو نے اسے ۱۹۶۳ ؁ کے موقع پر یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ اس لیےسنگھ کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کے بجائے پنڈت جی کا احسانمند ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ  یہ ہے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا انتقال  ۱۹۵۰ ؁ میں ہوگیا۔ اس وقت تک کسی قومی رہنما کی اولاد ہندوستانی سیاست میں نہیں آئی تھی۔ ۱۹۶۴ ؁ میں جب پنڈت نہرو کا انتقال ہوا تو اندرا گاندھی ان کا ہاتھ بٹانے لگی تھیں۔

تاشقند میں لال بہادر شاستری کی ناگہانی موت کے بعد کانگریس کی اندرونی خلفشارنے اندرا گاندھی کو وزیراعظم بنادیا اور ان کے بعد راجیو نے بی جے پی ۲ نشستوں تک محدود کردیا۔ سونیا نے اٹل جی کو شکست فاش سے دوچار کردیا  اور اب راہل گاندھی  مودی کی چیلنج کررہے ہیں۔ ان سب کا تعلق اگر پنڈت نہرو کے بجائےسردار پٹیل کے خاندان سے ہوتا تو مودی جی پنڈت نہرو کا مجسمہ بنواتے۔ کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں چونکہ پٹیل اور مودی دونوں گجراتی ہیں اس لیے یہ ہورہا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔مرارجی دیسائی بھیگجراتی ہی  تھے اور وہ کانگریس کے نہیں بلکہ  جنتا پارٹی کے وزیراعظم تھے۔ ان پارٹی میں جن سنگھ شامل تھی  لیکن بی جے پی بھول کر انہیں یاد  نہیں کرتی کیونکہ انہوں نے جنتاپارٹی میں سنگھ پریوار کو قدم جمانے کا موقع نہیں دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ  پٹیل سے محبت بغض معاویہ ہے اور نہرو  سے بغض کے پیچھے سیاسی حریفائی کارفرما ہے۔

اتحاد و سالمیت کے مجسمہ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے  کہا کہ مرکزی حکومت سردار پٹیل کےمضبوط، مستحکم اور جامع ہندوستان کا  خواب  شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کررہی ہے جس میں سب کے لئے گھر، بجلی،سڑک اور لاسلکی رابطہ فراہم کیا جائے گا۔ یہ وہی خواب ہے جس کے سہارے مودی جی اقتدار میں آئے تھے لیکن اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ کرکیا رہے ہیں؟وزیراعظم مجاہدین آزادی اور عظیم رہنماؤں کےکارناموں  کی  یادگاریں بنوا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف   اتحاد کا مجسمہ بنوایا  بلکہ دہلی میں سردار پٹیل کا میوزیم، گاندھی نگر میں مہاتما مندر اور ڈانڈی کوٹیر، بابا صاحب بھیم راؤ کے لیے پنچ تیرتھ، ہریانہ میں سری چھوٹو رام کا مجسمہ،  کچھ میں شیام جی کرشن ورما اور ویر نائک گوبند گورو کے میموریل قائم کئے۔ ا بھی ان کے ارمان پورے نہیں ہوئے مستقبل میں وہ  دہلی میں سبھاش چند بوس میوزیم،  ممبئی میں  شیوا جی کی مورتی   اور  ملک بھر میں  قبائلی میوزیم کی تعمیر کا ارادہ رکھتے  ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا ہندوستانیوں  کے اچھے دن ان یادگاروں اور مجسموں کے قیام سے آجائیں گے؟ کیا بی جے پی نے اپنے منشور  میں اسی کا وعدہ کیا تھا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close