خصوصیسیاست

مروج سیاست کی دوسری ہار

یہ فیصلہ صرف اروند کیجریوال کی جیت اور گورنر یا مرکزی حکومت کی ہار نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں مروج سیاست کی ہار ہے اور وہ بھی دوسری ہار۔

ڈاکٹر عابد الرحمن

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ دہلی میں منتخب حکومت ہی اہم اختیارات کی مالک ہے لیفٹننٹ گورنر نہیں۔ پولس, زمین اور عوامی حکم ناموں کے علاوہ تمام اختیارات اور تمام معاملات میں فیصلہ کر نے اور پالسی بنانے کا اختیار صرف منتخب حکومت کو ہے، گورنر کی حیثیت صرف نام کی ( Titular) ہے جس کا کام صلاح اور مدد ہے،گورنر کو یاد رکھنا چاہئے کہ با اختیار وہ نہیں بلکہ منتخب حکومت ہے، گورنر کاکام حکومت کے آئینی کام کو اکھاڑنا یا اٹکانا نہیں بلکہ اس کی مدد کرنا ہے انہیں صرف قومی اہمیت کے معاملات میں ہی دھیان دینا چاہئے، گورنر کے پاس کوئی آزاد اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ خود سے کوئی فیصلہ کر سکیں سوائے ان معاملات کے جو دہلی کی حکومت کے تحت نہیں آتے۔ گورنر اور حکومت کے درمیان اختلاف خیال تدبیری نہیں ہونا چاہئے یعنی گورنر نے حکومت کے کسی فیصلہ کوجان بوجھ کر روکنے کی خاطر کوئی اختلاف نہیں پیدا کرنا چاہئے بلکہ اگر اختلاف ہو تو وہ واقعی اہم ہونا چاہئے۔ گورنر کو چاہئے کہ وہ اپنے دماغ کا استعمال کرے بغیر ہر ایک اختلاف صدر کو ریفر نہ کرے۔ نیز اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر فیصلے پالسی یا اقدام کی اطلاع گورنر کو دے دے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ گورنر حکومت کے تحت آنے والے معاملات میں اس کے کسی بھی فیصلے پالسی یا اقدام سے راضی ہو یعنی ریاستی حکومت گورنر کے اتفاق یا دستخط کے بغیر کوئی بھی قانون یا پالسی بنا سکتی اور اسے لاگو کر سکتی ہے۔

حکومت اور خاص طور سے اروند کیجریوال کے لئے یہ بہت بڑا فیصلہ ہے یہ صرف گورنر کی ہار نہیں ہے بلکہ اس میں مرکزی حکومت کی بھی سبکی ہوئی ہے، کسی بھی ریاست کا گورنر گوکہ صدر کو جواب دہ ہوتا ہے لیکن اس کی کار کردگی اصلاً مرکزی حکومت کی مرضی کے مطابق ہی ہوتی ہے اور پچھلے کچھ دنوں میں اس کی واضح مثالیں بھی سامنے آئی ہیں اور دہلی کا معاملہ تو بالکل صاف تھا وہاں تو گورنر اور کیجریوال حکومت جیسے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہی تھے، گورنر محترم نے کیجریوال حکومت کے تقریباً ہر اہم معاملہ میں ٹانگ اڑائی ہوئی تھی، سلامتی کی خاطر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی تجویز پیش کی گئی تو اس کے انتظام کے نام پر اپنی طرف سے ایک کمیٹی بناکر ٹانگ اڑادی۔ حکومت نے راشن میں ہونے والی خورد برد کو روکنے کے لئے لوگوں کے لئے گھر پہنچ راشن ڈیلیوری کی تجویز پیش کی تو اسے بھی مسترد کردیا کچھ فیصلے اس لئے مسترد کر دئے کہ حکومت نے ان کی اجازت نہیں لی تھی، آئی اے ایس افسروں کی ہڑتال کے معاملے میں تو گورنر صاحب نے کئی دنوں تک کیجریوال سے ملاقات کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی یعنی گورنر صاحب کا رویہ بالکل مطلق العنان شاہ کا سا تھا اور غالب گمان ہے کہ یہ سب مودی حکومت کی مرضی کے مطابق بلکہ ان کی ہدایات کی وجہ سے ہی تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اپنے مذکورہ فیصلے کے ذریعہ گورنر محترم کے زیادہ پھڑ پھڑاتے پر کترے ہیں نیز انہیں اور ان کے ذریعہ مودی سرکار کو بھی انکی اوقات یاد دلائی ہے۔

یہ فیصلہ صرف اروند کیجریوال کی جیت اور گورنر یا مرکزی حکومت کی ہار نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں مروج سیاست کی ہار ہے اور وہ بھی دوسری ہار۔ اس سیاست کی ہار جو جو یوں تو بری سمجھی جاتی ہے لیکن پھر بھی ملک کے طول و ارض میں نہ صرف یہ کہ مروج ہے بلکہ پوری شد ومد کے ساتھ برتی بھی جاتی ہے۔ اور نہ صرف بی جے پی بلکہ کانگریس سمیت ملک کی تقریباََ تمام ہی پارٹیاں اس میں ملوث ہیں وہ ہے دوغلی اور فرقہ وارانہ سیاست،جو دکھائی کچھ دیتی ہے اور اصلاََ ہوتی کچھ ہے،جو نعرے کچھ لگاتی ہے اور کرتی کچھ ہے۔ جس میں زمینی اور اہم مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر انہیں ذات پات فرقہ زبان اور علاقے کے جذباتی اشوز میں الجھا کر بے وقوف بنایا جاتا ہے اور اپنا سیاسی الو سیدھا کر نے کے لئے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کے اتحادی اپنے آپ کو ہندو مذہب اور قومیت کا سب سے بڑا علمبردار اور رکھوالا بنا کر پیش کرتے اور مسلمانوں کو ہندوؤں کا دشمن اور انکے مذہب کے لئے خطرہ بتا کر ہندوؤں کو بے وقوف بناکر اپنا ووٹ بنک بنانے کی سیاست کرتے ہیں تو دوسری طرف کانگریس بھی جھوٹے سیکولرازم کا مکھوٹا پہن کر یہی کرتی ہے وہ اگر فعال طور پر ایسا نہیں کرتی تو بی جے پی یا دوسری متشدد پارٹیوں کو جارحیت کی کھلی چھوٹ دے کر اپنا کام نکالتی ہے۔

 دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے اس سیاست کو بھرپور استعمال کیا تھا۔ رام زادوں اور حرام زادوں سے لے کر ہندو مذہب کو بچانے کے لئے عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر نے کی تلقین تک وہ سارے کام کئے گئے تھے جو ہندو ووٹ بنک کو گرمانے کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ویسے بھی مودی جی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے سنگھ اور بی جے پی کے لوگوں نے لو جہاد، گھر واپسی، بیٹی بچاؤ بہو لاؤ اور ہندو راشٹر وغیرہ کی تحریکیں شروع کر کے دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو فرقہ وارانہ طور پر گرما دیا تھا۔ اس کے علاوہ دہلی اسمبلی انتخابات سے کچھ ہی پہلے وہاں ہندو مسلم فسادات کشیدگی اور گر جا گھر جلانے کے کچھ واقعات بھی رونما ہوگئے تھے۔

یعنی یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جو بی جے پی کی جیت کے لئے انتہائی سازگار تھیں لیکن اس کے باوجودوکیجریوال کی نو زائدہ عام آدمی پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ جیتی تھی۔ ان انتخابات میں بی جے پی کا بری طرح ہار جانااور اس کے مقابلہ کانگریس کا نہ جیت پانا دراصل اس مروج سیاست کی پہلی ہار تھی۔ اس کے بعد اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ تو بن گئے تھے لیکن انہیں لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات کے نام اس قدر جکڑ دیا گیا تھا کہ وہ کچھ کر ہی نہیں پا رہے تھے، یہ بھی دراصل اسی مروج سیاست کا دوسرا رخ تھا جس نے دہلی کی حکومت کے کام میں یہاں تک کہ عوام کی فلاح کے لئے اسکے اہم اقدامات میں بھی صرف اس لئے رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ اپنے اختیارات کا رعب جما کر انہیں نیچا دکھایا جا سکے اور عوام میں ان کی ساکھ بگاڑی جا سکے۔ بلکہ ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ جس طرح اسرائیل نے غزہ کے تمام رہاشیوں کا محاصرہ انہیں اس جرم کی سزا دینے کے لئے کیا تھا کہ انہوں نے اسکی مخالف حماس کو منتخب کیا تھا اسی طرح دہلی میں بھی کیجریوال حکومت کے کام میں رکاوٹیں ڈالنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ دہلی کے عوام کومروج سیاست خاص طور سے مرکز کی مقتدر بی جے پی کے خلاف عام آدمی پارٹی کو منتخب کر نے کی سزا دی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ اس سیاست کی اور اس کے سارے ہتھکنڈوں کی دوسری ہار ہے جو خوش آئند ہے۔

خیر اب معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ گورنر اور مرکزی حکومت کے پر کٹ گئے ہیں کیجریوال اور ان کی پوری ٹیم کو کام کا اختیار اور آزادی مل گئی ہے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ وہ اس مروج سیاست سے الگ سیاست کرتے ہیں یا اسی میلی گنگا میں نہانے لگ جاتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close