تاریخ ہندخصوصی

مری فنا سے ہے پیدا دوام آزادی

ہمیں اپنا وقار محفوظ رکھنے کے لیے بذات خود محنت کرنی ہوگی کیونکہ مدد چاہے اپنوں سے لی جائے یا غیروں سے انسان کو کمزور، بزدل اور کاہل بنا دیتی ہے۔

محمدخان مصباح الدین

آج یوم آزادی ہے………!

کتنا چھوٹا سا یہ جملہ ہے جو زبان کی ایک حرکت سے بآسانی ادا ہو رہا ہے لیکن اس کے پس پشت دامن دری کا افسانہ بڑا ہی کرب انگیز اورالم میں ڈوبا ہوا ہے، کتنے ہی سمندروں کو لانگنا پڑا، کتنی ہی چوٹیوں سے کودنا پڑا، پھر آتش و پنبہ کا افسانہ، برق وخرمن کی کہانی ہے، مسلسل جان ومال کی قربانی کے بعد آج ہی کے دن ہندوستانیوں کو راحت کی فضا میسر آئی، اسلاف نے آزادی کی فضا میں خوابوں کے نہ جانے کتنے ہی محل تعمیر کیے تھے، چشم تصور میں اپنے خوابوں کا محل، اسکا منظر، اسکی ہیئت ساری چیزیں سمیٹ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، شاید انہیں یقین تھا کہ اب انکی نسلیں غلامی کی زنجیروں سے نکل کر مکمل آزاد فضا میں سانس لینگی اور اپنے مستقبل کو  ہر روز کامیابی و ترقی کے منازل پر لاکر اپنے مٹے ہوئے نقوش کو زندہ کرکے دنیا کو اپنے کارناموں سے ایک مثال اور با اثر پیغام دینگی، لیکن افسوس ملک کی آزادی نے تقریبا 72 سالوں کی مسافت طے کرلی، مرور ایام کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا ہر عام انسان ان خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اسلاف نے کبھی دیکھے تھے، آزادی کا پروانہ ہاتھ آئے کتنے ہی ایام گزر چکے، مگر فیصلہ کن اثرات کا ثبوت دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا،  مانا کہ یہ وقفہ ملک و ملت کو چارچاند لگانے میں ناکافی ہے لیکن اس مسافت میں قوموں کی تاریخ بدلی گئی ہے، اس مسافت میں بچے بوڑھے، اور جوان عالم دگر میں پہونچ جاتے ہیں۔

 آخر وہ عوامل کیا ہیں کہ آزادی کی فضا میں زندگی بسر کرنے والا عام انسان، سر سے پاوں تک پسینہ بہا کر امیروں کے عیش وعشرت کا سامان مہیا کرنے والا مزدور آج بھی اپنی زندگی کا احتساب کرکے اپنے وجود، اپنی ذات سے سوال کرتاہے کہ ان گزرے ہوئے ایام نے اب تک اسے کیوں نہیں اس لائق بنایا کہ اسے دو وقت کہ روٹی کے لیے سوچنا نہ پڑے، ایک حساس عام ہندوستانی ہر 15 اگست اور 26 جنوری کو کہیں نہ کہیں مجمع میں بیٹھ کرب والم میں ڈوبی آزادی کی سرگزشت سن کر اپنے اجداد کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کی ممکن کوشش کرتا ہے، وہیں خود سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ آخر وہ آزادی ہے کہاں جو ہر 15اگست اور26 جنوری کو دہرائی جاتی ہے۔

اب اپنے دیس کی آب وہوا ہم کو نہیں بھاتی

غلامی ایک ذلت تھی سراپا درد آزادی

یوم آزادی کے اس خوبصورت موقعے پر آج پھر کہیں نہ کہیں کسی مجلس میں اپنے کانوں پر دبیز پردے ڈال کر ہمارا بیٹھنا ہوگا اس انتظار کے ساتھ کہ کب مٹھائیوں کا دور چلے اور ہم سارے احساس کو حلوائے شکر سمجھ کر پانی کےساتھ پی جائیں اور گھر جاکر رداء غفلت تان کر لمبی نیند سو جائیں، وقتی طور پر وہ ساری باتیں ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہیں جو ہمیں سنایا جاتاہے، وہ سب کچھ لمحہ بھر کے لیے احساس بھی ہوتا ہے جو ہمارے چشم تصور کی نذر کیاجاتا ہے مگر چشم زدن میں سب ہوا ہو جاتا ہے، باقی ہمیں ذاتی طور پر، فکر ونظر کی بصیرت سے کچھ دکھائی نہیں دیتا، اس کا مطلب سوائے اس بات کے اور کچھ نہیں کہ جس غلامی کی چادر کو ہمارے اجداد نے لعنت سمجھ کر  اپنے وجود سے اتار پھینکا تھا ہم نے دوبارہ اپنے احساسات کو کچل کر اسی غلامی کی چادر کو اپنے دامن سے مضبوطی کے ساتھ باندھ لیا ہے، ہم نےاس لعنت کو مجبورا اپنے سر نہیں اٹھا رکھا ہے بلکہ اسے فخر سمجھ کر عمدا اختیار کیا ہے۔

اسلاف نے اپنے خون سے اس مٹی کی آبیاری کر کے ملک کو آزادی کا پروانہ بخشا تھا تاکہ ہم کھلی فضا میں سانس لے کر اپنے آپ کو ہر اعتبار سے مستحکم بنا سکیں اور ترقی کی راہ ہموار کر سکیں، لیکن ہم طوق سلاسل سے تو نکل گئے مگر آزادی ہمیں راس نہ آئی اور دوبارہ غلامی نے اپنے چہرے پر نقاب ڈالا اور اس بار ہماری عقلوں کو ہی محصور کرلیا گیا، آج اسے ہم اپنا مقدر سمجھ کر جیے جا رہے ہیں۔

کل تک ہماری لڑائی بندوقوں اور تلواروں کی، فرنگیوں کے روبرو، واضح لڑائی تھی لیکن آج ہماری جنگ فکری جنگ ہے، آستین میں چھپے ہوئےسانپوں سے جو اس ملک کی مٹی کو گندلا کرکے اسکا الزام ہماری بدقسمتی کے دامن پر لکھ دینا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے جس دن اس قوم میں احساس کا کانثا چھبا یہ لوگ دوبارہ اس ملک کی تقدیر کے فیصل بن جائینگے جو انہیں کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں، یہ ہمیں پست کرنے کے لیے ہر وہ حربہ اٹھانے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں جسکا تصور ہمارے احساس سے پرے ہے لہذا ہمیں آج کے دن اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ اب تک ہم نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے، کیا ہمیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ہندوستان کا آئین ہمارے لیےمتعین کرتا ہے، اگر نہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے حقوق کا علم ہونا بہت ضروری ہے، جسکے لیے محنت کی ضرورت ہے، مگرسب سے اہم بات یہ کہ بنا اتحاد کے کسی بھی طرح کا اثرورسوخ نا ممکن ہے، اس کے لیے ہمیں تنگ نظری اور فرقہ پرستی سے نکل کر ایک ہی سائے تلے جمع ہونا پڑیگا ورنہ ساری باتیں سوائے فضول کے اور کچھ بھی نہیں

قارئین کرام!

جو خواب آر ایس ایس نے آزادی سے قبل دیکھا تھا اسکے حصول اور اسکی تعبیر کے لیے انہوں نے بہت سی چالیں چلیں، جس میں وہ آج تک کامیاب صرف اس لیے ہیں کہ ہم نے اپنے مقاصد سے نظریں چرا رکھی ہیں، ہمیں خوبصورت باغ، اور سراب کا شکار بنایا گیا، برسوں تک حکومت کرنے کے باوجود آج ہم محکوم اسی لیے ہیں کہ ہمارے خیالات بدل چکے ہیں، ہم غلامانہ زندگی کے قائل اور مکمل عادی بن چکے ہیں یہی وجہ کہ جنگ آزادی کے تماشائی آج ہم پر قابض ہیں اور ہم اس ملک کے لیے سب کچھ لٹاکر بھی انہیں اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں، کل جب ہم سوئے تھے تو دنیا اور تھی، نیند سے بیدار ہوئے تو دنیا اور ہے۔

راہ چلتے کسی نوجوان کو ایک گروہ اپنے گھیرے میں لیکر اسکا نام دریافت کرتا ہے اسے زدوکوب کرکے اسکا نام پوچھا جاتا ہے اگر وہ مسلم ہے تو اسی کی زبان سے اسکے مذہب، اسکی قوم، اسکے خاندان کو مجبورا گالیاں دلوائی جاتی ہیں، جانوروں کے ایک تاجر کو راستے کے درمیان خون میں نہلا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے، ایک معصوم بچی کی عصمت دری اوراسکے  قاتلوں کی رہائی کے لیے صدائے احتجاج بلند کی جاتی ہے کیونکہ کہ مقتولہ مسلم تھی، یہ کس طرح کے سماج میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں، کیسا ماحول، کیسی زہر آلود فضا بنا دی گئی ہے اس ہندوستان کی جس کے بارے میں علامہ اقبال یہ کہہ کر چلے گئے…!

"سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”

جذبات کی آندھی میں بہہ کر جو لوگ غلط قدم اٹھاتے ہیں وہ منہ کی کھاتے ہیں اس لیے ہمیں ان خطرات کو متحد ہوکر ایک نگاہ سے دیکھنے اور سمجھنےکی ضرورت ہے تاکہ اس پر فیصلہ کن کاروائی کی جا سکے، جو لوگ خوف و دہشت کا سایہ بنا کر فکری جنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں انکی ہی چال سے مات دینی ہوگی، ایسی جنگ میں ہتھیار ہماری عقل ہے اسے کام میں لانا ہوگی، جذبات کی رو میں آکر کوئی بھی فیصلہ ہمیں ذلت وپستی میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہاں حساب لینے والے ہزاروں کی تعداد میں مل جائینگے مگر اپنا حساب دینے والا کوئی نہیں۔ یہاں یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ آزادی ہماری تاریخی، تہذیبی، سماجی اور معاشی اقدار کے تحفظ کا نام ہے، اس لیے جو قومیں ماضی اور حال کی روشنی میں احتساب کا فن جانتی ہیں وہ آزادی کی بقاء اور تحفط بھی خوب کر سکتی ہین، تاریخ کو زمین کی تہوں میں دفن کرکے منزل کا حصول اور اور خوبصورت وپرسکون زندگی ناممکن ہے جسکی ہزاروں دلیلیں تاریخ کے دامن میں موجود ہیں جو ہماری عقل و بصیرت کو دعوت نطارہ دے رہی ہیں۔

ہمیں اپنا وقار محفوظ رکھنے کے لیے بذات خود محنت کرنی ہوگی کیونکہ مدد چاہے اپنوں سے لی جائے یا غیروں سے انسان کو کمزور، بزدل اور کاہل بنا دیتی ہے۔

اللہ ہمیں عقل وبصیرت عطا فرمائے اور حسن عمل کی توفیق آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close