مسئلہ قومیت: حقیقت اور فسانہ

ڈاکٹرحسن رضا صاحب

مجھے واقعی بڑی مسرت ہے کہ دلی پردیش میں اسٹڈی سرکل کے پلیٹ فارم سے وابستگان جماعت کی علمی و فکری تربیت کا سامان مستقل کیا جارہا ہے۔ ورنہ زیادہ تر مقامات پر ہماری تحریکی سرگرمیوں میں یہ پہلو کمزور ہوگیاہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ بھارت میں کہیں اور ریاستی سطح پر اس طرح کا نظم قائم ہے کہ نہیں لھذا آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے باضابطہ ایک پلیٹ فارم بنا رکھا ہے  جس کی سہ ماہی نشستیں ہوتی ہیں۔ آپ جانتے ہونگے کہ تحریک اسلامی کی بنیادی خصوصیات جیسا کہ( مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے بھی ظاہر ہے) تین ہیں۔

پہلی خصوصیت اس کا علمی و فکری پہلو ہے۔ اس تحریک نے عصر حاضر کے فکری اور علمی پہلو پر اعلی تحقیقی سطح سے تنقید کی اور اسلام کو بھی عصری علمی سطح پر پیش کیا۔ دوسری خصوصیت ادبی سطح ہے یعنی جو کچھ پیش کیا اس کو ادب کے اعلی معیار کے ساتھ پیش کیا تاکہ وہ اپنی علمی قوت سے دماغ کو مسخر کرے اور جمالیاتی قوت سے دل اور جذبے پر بھی چھا جائے۔ تیسری خصوصیت یہ ہے جو افراد اس کام کے لئے آمادہ ہوئے ان کو منظم کرکے منصوبہ بند طریقے سے ٹیم کے طور پر متحرک رکھا یہ کام اب ہمارا شعبہ تنظیم کرتا ہے۔ اس طرح علمی و فکری، عملی اورادبی وتخلیقی سطح پرمنظم و منصوبہ بند طریقے سے حرکت اور عمل کو تحریک اسلامی کہتے ہیں۔ یہی اس کا بنیادی مزاج ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ رفقاء کو میدان عمل میں چہارسالہ میقاتی منصوبے کے میدانی اور عملی نشانے کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف رواں دواں  رکھا جائے بلکہ ان کی علمی و فکری تربیت کا باضابطہ اہتمام اور ادبی و تخلیقی تربیت کا سامان بھی کیا جائے، تب توازن کے ساتھ تحریک سماج کے ہر طبقے میں صرف عددی قوت کے اضافے کے ساتھ نفوذ نہیں کرے گی ، بلکہ اس کے ساتھ سماجی و تہذیبی تبدیلی کا عمل بھی جاری رہے گا ۔

لہٰذ ا میرامشورہ ہے کہ دہلی پردیش نے جس طرح تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ علمی و فکری تربیت کا انتظام کیا ہے  اسی طرح تخلیقی و ادبی صلاحیتوں کی نشو و نما کا بھی ادارہ ادب کے ساتھ مل کر اہتمام کرے تاکہ دہلی پردیش تحریک اسلامی کے حلقہ میں ایک مثالی حلقہ بن جائے۔ مرکز اور دار السلطنت میں رہتے ہوئے آپ کی ذمہ داری ہے کہ پورے ملک کی ریاستوں کے لئے فکری، ادبی، وعملی پہلؤوں سے  ایک نمونہ پیش کریں۔ مرکز میں رہنے کی وجہ سے آپ کو مرکزی ذمہ داروں سے استفادے کا موقع بھی ہے اور مختلف موقعے پر ہندوستان سے مختلف تجربے اور صلاحیتوں کے لوگ آتے بھی رہتے ہیں، آپ منصوبہ بند طریقے سے مرکز اور ہندوستان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرکے مثالی حلقہ کا نمونہ بن سکتے ہیں۔

حضرات !ابھی آپ کے احباب اظہار خیال فرمارہے تھے ڈاکٹر رفعت صاحب نے بہت صحیح کہا کہ قومیت ایک عملی مسئلہ بھی ہے اور  نظری بھی، ملکی مسئلہ بھی ہے اور عالمی حالات کا نتیجہ بھی ۔ ایسے  مسئلوں پر گفتگو کرنا تحریک اسلامی کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں تک پیش کئے گئے مقالوں کا سوال ہے ان میں بعض میں تشنگی محسوس کی گئی  ۔ جو میرے خیال میں وقت کی کمی کی وجہ سے ہوگی یا  لوگوں کے حالات ایسے رہے ہوں گے کہ وہ پورا وقت نہ دے سکے۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے بارے میں ایک مقالہ نگار نے کہا کہ ابتدائی دور میں ان کے یہاں بھی وطن پرستی کارجحان جھلکتا ہے، میرا خیال ہے کہ  وطن پرستی کا اظہار ڈاکٹر اقبال کی شاعری میں نہیں ہے۔ شاعرانہ منطق اور اس کے اظہار کرنے کے طریقے کی وجہ سے یہ گمان ہو سکتا ہے۔  علامہ اقبال کی فکر میں ارتقاء ضرور ہے لیکن ان کی جوتعلیمی نشو و نما ہوئی ہے اس میں وطن پرستی نہیں پائی جاتی البتہ حب الوطنی ضرور ہے۔دوسرے  مقالوں میں ایک  مقالہ مولانا مودودی کی کتاب مسئلہ قومیت کا خلاصہ تھا جس کو بہت اچھے طریقے سے تنویر آفاقی صاحب نے پیش کیا میرے خیال میں تحریک کا لٹریچر جو حالات حاضرہ سے متعلق ہے۔ ان کا مطالعہ پیش کرنے کا اور اس کو تازہ کر لینے کا یہ بہت اچھا طریقہ ہے، جو آپ لوگو ں نے یہاں شروع کیا ہے۔ رہی اس سے متعلق مزیدکتابیں تووہ بھی آپ کے سامنے رہنی چاہئیں تاکہ سلسلہ آگے چلتارہے۔

 شرکاء کو مسئلہ قومیت کے سلسلے میں دیگرکتابوں کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔ مقالوں کے علاوہ سروے کی جو رپورٹ پیش کی گئ ہے  اس سے بھی خوشی ہوئی کہ یہ گویا واقعاتی تحقیق Action Research  کا کام ہے۔ جوعملی میدان میں کارآمد ہے۔ صحیح بات یہ کہ آدمی آفاق و انفس کو بھی پڑھے، کتاب کوبھی پڑھے، سماج کو بھی پڑھے تب صحیح طریقے سے سماج میں کام کر سکتا ہے، موجودہ سروے کے بعد بھی  سروے ہونگے، ان کو اور بہتر طریقے ے جاری رکھنا چاہئے۔ ایک مقالے میں جماعت اسلامی اور بائیں بازو کی آفاقیت پر بھی گفتگو کی گئی ہے، بائیں بازو کی جمہوریت نوازی پر جاوید علی صاحب نے چند باتیں رکھیں اور جیسا کہ معلوم ہوا کہ ان کی ڈیوٹی کچھ ایسی رہی کہ وہ وقت نہیں دے سکے اس لئے بات مکمل نہیں ہو سکی ۔ کچھ باتیں  ڈاکٹر رفعت صاحب نے قوم پرستی nationalismکے حوالہ سے بڑی وضاحت سے بتائیں کہ قومnation اور قوم پرستی nationalismمیں کیا فرق ہے۔

پس منظر

اگر مغرب میں اس کا تاریخی پس منظر بھی آپ کے سامنے آجائے کہ یہ nation کیسے بنا اور یہ nationalismکیسے پروان چڑھی تو بات مکمل ہو جائے گی۔ ہم تو 60 یا 70 برسوں سے اس چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یورپ میں تو گویا دو سوں برسوں کی بات ہو گئی ہے۔تاریخ داں اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کشمکش وہاں کن مراحل سے گزری۔ اگر اس تاریخ کو آپ سامنے رکھیں تو بات سمجھنے میں اور لائحہ عمل بنانے میں آسانی ہوگی۔ یہ بات ہم لوگ  جانتے ہیں کہ یورپ میں دو بڑے مضبوط ادارے چرچ اور بادشاہت تھے۔ ان کے تسلط کے نتیجے میں عوام مذہبی اور سیاسی اعتبار سے غلام رہے،ان دونوں اداروں میں بھی بالادستی کی کشمکش شروع ہوئی  ایک عرصے تک تو چرچ کی بادشاہت پر بالادستی رہی پھر کشمکش تیز ہوئی  ۔ اسی وقت دو سطحوں پراصلاحی کوششیں شروع ہوئیں۔ ایک سطح مذہبی اوردوسری سیاسی تھی۔ مذہبی سطح پر تحریک چلائی گئی کہ بائبل کو عوام بھی براہ راست  پڑھ اور سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجہ میں نئی مذہبی بیداری آئی، عوام کی قوت بڑھی، مذہب کو سمجھنے کے لئے اسکی تشریح و تفہیم کی ایک عام فضا بنی، اس سے چرچ کی اتھارٹی کم ہوگئی اور عوام کو اپنے اندر ایک نئی قوت EMPOWERMENTکا احساس پیدا ہوا۔  اس کو ریفارمیشن کی تحریک کہتے ہیں۔

رومن امپائر کے تحت جو بڑی حکومت تھی اس میں چرچ اور اسٹیٹ دونوں مستحکم ادارے تھے جب چرچ اور بادشاہت دونوں کمزور ہوئے تو مغرب میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آئیں۔ 18 ویں صدی تک یہ تمام ریاستیں اپنے اپنے مقام پرخاندانی بادشاہت کے طرز پر قائم ہو گئی۔ صنعتی انقلاب نے جاگیردارانہ نظام کو کمزور کر دیا ، تب عوام کی حاکمیت کا زور پکڑنے  لگا، جس کے نتیجہ میں بادشاہت کی جگہ نئی نئی قومی ریاستیں پنپنے لگیں۔ ابتدا میں قوم  نہ رنگ کا نام تھا نہ نسل اور نہ جغرافیے کا بلکہ قوم بادشاہ کا نام تھا۔ ایک بادشاہ کی حکومت میں مختلف رنگ نسل، زبان کے لوگ قوم کہلائے۔ عوام کے اندر بھی طبقات اور گروہ بندیاں تھیں۔ جب بادشاہوں کی آپسی جنگیں بڑھتی چلی گئیں تو یہ فلسفہ سامنے آیا کہ قوم بادشاہ کا نہیں عوام اور جمہور کا نام ہے چنانچہ حاکمیت قوم یا حاکمیت جمہور کا دور شروع ہوا اور تب جمہوریت کو بڑھنے کا نیا موقع ملا۔ پھر قومی جمہوری ریاست کا دور شروع ہوا۔ جمہوریت میں بھی باہم اقتدار کی نئی لڑائی شروع ہوئی۔ جو لوگ اپنے آپ کو اعلیٰ نسل race  سے متعلق کہتے وہ اپنے لیے اصل حکمرانی کا حق سمجھتے تھے ان لوگوں نے اقتدار اور اختیار پر قبضہ کرنے کے لئے  قوت فراہم کی پھر یہ قوت آگے بڑھی تو فسطائی  fascistقوت کہلائی۔عوام میں دوسرا طبقہ وہ تھا جو سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجہ میں منظم ہوا وہ اپنے آپ کو حکمرانی کا حقدار سمجھتا تھاتب محنت کش طبقے کی حمایت میں طبقاتی کشمکش شروع ہوئی یہی طبقہ  communistکمیونسٹ کہلاتاہے۔تیسرا طبقہ وہ تھا جو نسلی برتری اور طبقاتی کشمکش میں یقین نہیں رکھتا تھا بلکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت پر یقین رکھتا تھا وہ بھی سامنے آیا۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب میں قومی ریاست  nation state کے وجود میں آنے سے تین طرح کی سیاسی تحریکیں بھی وجود میں آئیں۔

ہندوستان میں بھی یہی تین طاقتیں ابھریں جب 1857میں تحریک آزادی ناکام ہوئی اور مغرب کا اثریہاں کی سیاسی زندگی پر پڑا تو یہی تین دھارے اور حکمرانی کے فلسفے یہاں پربھی آئے۔ اور یہاں بھی وہ لوگ ابھرے جو اپنے کو جمہوریت نواز سیکولر ڈیموکریٹس کہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حق حکمرانی  لوگوں کو حاصل ہونا چاہئے۔ اور عوام میں اس نظریہ کو غلبہ ہونا چاہئے۔ رہا مذہب وہ لوگوں کا پرائویٹ نجی معاملہ ہے یہ بات یورپ میں طے ہوچکی تھی جب ریاست چرچ سے الگ ہوئی تھی۔چنانچہ ہمارے ملک میں ایک طاقت سیکولر ڈیموکریٹس کی ہے اور دوسری طاقت فاشسٹوں کی ہے جس کی نمائندگیBJP کرتی ہے۔ اور تیسری طاقت left بائیں بازوکی ہے جو کمزور پڑ گئی ہے۔یہی تین طاقتیں جنگ آزادی کے وقت کم و بیش پائی جاتی تھیں اور اب آہستہ آہستہ ہندتواکاغلبہ بڑھ رہا ہے۔ اب اس سلسلہ میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہئے اصل سوال  یہی ہے اس کا جواب ملنا چاہیے۔تاکہ ہم صحیح سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

 ہندوستان کی نوعیت

حضرات  !  آج ہندوستان کو قومی ریاست( nation state)کہا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک علاقےTERRITORYکی آبادی جب حق حکمرانی حاصل کرلیتی ہے تو ( nation (state وجود میں آتا ہے، اس سبب سے ہندوستان کو ایک قومی ریاست  ( (nation stateکہتے ہیں لیکن ذرا غور سے دیکھئے تو یہاں ایک قوم نہیں کئی قومیں بستی ہیں۔ لہٰذا یہ کئی اقوام پر مشتمل ریاست (state of nations)ہے۔ یہ صرف ہماری سمجھ نہیں ہے بلکہ بعض دوسرے لوگ بھی کہہ رہے ہیں ملک کےدستور میں بھی اس تعبیر کی گنجائش ہے۔ مگر ابھی یہ آواز اتنی کمزور ہے کہ کہ وہ آگے بڑھتی نہیں ۔ کیونکہ غالب قوم کافائدہ اس میں نہیں  اس لئے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک قوم بستی ہے لہٰذا اقتدار اور تہذ یب پر غلبہ اکثریتی قوم کا ہونا چاہئے۔ لیکن اگر ہم یہ مان لیں اور حقیقت پسند لوگوں کے ساتھ اس خیال کو قوت پہنچائیں کہ یہ قومی ریاست نہیں ہے بلکہstate of  nationsہے تو یہ ہماری دعوت کے ساتھ دعوت کی راہ ہموار کرنے کی کار گر سیاست بھی ہوگی۔ اسی کے ساتھ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمان اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ اگر پورے ہندوستان کا جائزہ لیجئے تو بعض جگہ وہ بہت کمزور نظر آتے ہیں اور بعض مقامات پر مضبوط ہیں ان کی تعداد اچھی ہے سیاسی قوت کے پہلو سے ملک میں قوت کی کئی سطحیں اور مراکز ہیں۔ پنچایتی راج کے بعد عوام کے ایک اور ذیلی مراکز بھی بن گئے ہیں۔

اس  پہلوں سے غور کیجئے تو  بعض پنچایتوں، ضلعوں اور علاقوں میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ جہاں اچھی تعداد ہے وہاں اس بات کا انتظار کیے بغیر کہ دعوت کا مخصوص نظام قائم کریں اور اس کے نتائج ظاہر ہوں، ہم لوگوں کو ایک ایسا اجتماعی نظام بنانا چاہئے کہ ظلم کی جتنی شکلیں وہاں پائی جاتی ہوں۔ اُن کا مقابلہ کیا جاسکے۔ جبر پر مبنی تہذیبی غلبہ کے نتیجے میں لوگ دب رہے ہیں، کچلے جارہے ہیں، ان کے حقوق مارے جارہے ہیں، ہم کو عملی جدوجہد میں ان لوگوں کے  ساتھ شریک ہونا چاہئے جو مظلوم ہیں۔ یہ کام اس جگہ کرنا چاہئے جہاں ہم قابل لحاظ تعداد میں ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ لازماً جنترمنتر پرجاکر دھرنا دیں اوربعض علامتی symbolicکام کریں بلکہ مؤثر کام انجام دیں۔ بعض جگہ آپ اپنی تعداد کے اعتبار سے اکثریت میں ہیں بعض پنچایتوں ، ضلعوں اور علاقوں میں آپ ایسے موقف positionمیں ہیں کہ عملاً جو ظلم ہو رہا ہےاسے روک سکتے ہیں، عدل و انصاف کی سماج میں جو لڑائی جاری  ہے اس میں حصہ لیتے ہوئے اپنی اصولی دعوت کوجاری رکھ سکتے ہیں۔ مشکل یہ پیش آئی ہے کہ عوامی  سیاست میں حصہ وہ لوگ لیتے ہیں جو دعوت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور وہ لوگ حصہ نہیں لیتے ہیں جو دعوت دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے ان مقامات پر جہاں ہم قابل لحاظ تعداد میں ہیں وہاں عدل و انصاف کی لڑائی  جو زمینی سطح پر جاری ہے اس میں حصہ لیتے ہوئے  دعوت کی گفتگو کریں، اگر ظلم کے خلاف جدوجہد) (struggle ہم نہیں کریں گے، تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری یہ دعوت صرف قولی سطح تک محدود ہوکر رہ جائیگی۔ ڈاکٹر رفعت صاحب نے جو دعوت کی بات کہی میرے خیال میں اس کے ساتھ اس جدوجہد کو بھی شامل کرلینا چاہئے۔ ایک بات اور محسوس ہوتی ہے ہندوستان میں قومیت کی کشمکش میں بسا اوقات ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ہندو قومیت کے مقابلہ میں صرف ایک مسلم قومیت کھڑی ہوجاتی ہےجس سےکہ اسلام کی دعوت پرقومیت کے جذبات کا سایہ پڑنے لگتا ہے۔ اس طرح کی فضا نہیں بننی چاہئے۔ اسلام کا کمال یہ بھی ہے کہ وہ انسانوں کی(مختلف شناختوں ) (different identities)کوتسلیم کرتا ہے بشرطیکہ وہ توحید اور رسالت کے تابع ہوں۔ توحید اور رسالت کے تحت ہونے کا مطلب کیاہے ؟ توحید کے معنیٰ ہیں خدا کی ذات کو اُس کی صفات حسنیٰ کے ساتھ مانناہے، اگرکوئی بھی شناخت identityہمارے اور خدا کے رشتہ کو متاثر کریگی وہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔دوسری بات امت کے حوالے سے  ہے  یعنی  جو اجتماعیت امت کے تعلق کو مجروح کرے وہ ہم قبول نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ جتنی بھی(شناخت) identitiesہیں، جتنے بھی گروپ بنتے ہیں، جتنی بھی تعارف کی  سطحیں بنتی ہیں، جتنی  طرح کی اجتماعیت وجود میں آسکتی ہیں اُن کی گنجائش ہے۔

’’ اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہارے قبائل اورشعوب بنادیے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘‘۔ اس آیت میں قرآن مجیدنے  محض شعوب اورقبائل کے وجود ہی کو تسلیم(recognize)  نہیں کیا بلکہ اس نے کہا کہ ہر وہ اجتماعیت، ہر وہ گروپ، مل جل کے رہنے کا وہ عمل، آپس کی محبت کی وہ ساری ترکیبیں جو تعارف کیلئے ہوں وہ سب قابل تسلیم (recognize)ہیں۔ تو ہندوستان میں ہماری محض ایک حیثیت نہیں ہے۔ کئی حیثیتیں ہیں۔ اور ان  تمام حیثیتوں سے جہاں جدوجہد) struggle)ہونی چاہیے۔اُن میں سے ہر جدو جہد (struggle) میں ہم کو شریک ہونا چاہئے بشرطیکہ وہ توحید و رسالت سے متصادم نہ ہو یعنی امت کے مفاد اور حقوق اللہ سےنہ ٹکرائے۔

مشکل یہ ہے کہ یہ جو ہماری  اساسی شناخت(identity) ہے اور (مختلف شناختیں ) multiple identityہیں، جن کو اسلام تسلیم (recognize)کرتا ہے۔ اس کوہم بھی نہیں سمجھتےRSSوالے صرف ایک شنا خت identityپر اصرار کرتے ہیں ہم بھی جوابا محض ایک  دوسریidentityپر اصرار کرتے ہیں، ان کو بس یہ معلوم ہے کہ اس دھرتی کی پوجا کرویہی اصل پہچان ہے۔ اگر تم نے اس دھرتی کی پرستش نہیں کی اس زمین کونہیں پوجا تو بس اب تم ہمارے نہیں ہو۔ اسلام اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کرتا  اسلام تمام طرح کی اجتماعیت کی گنجائش رکھتا ہے۔ بشرطیکہ وہ  آپس میں ٹکرائے نہیں۔ وہ ایسی چیز ہے جس میں ٹکرانے کا سوال بہت کم اٹھتا ہے الا یہ کہ کوئی کھڑاہو کر خود خدائی کا دعوہ کرے ورنہ دنیا کی کونسی ایسی اجتماعیت ہے جو خدا سے ٹکرا جائے۔ اسلام کے نزدیک توحید کے سایہ میں رہتے ہوئے کوئی اجتماعیت ارتقاء پذیر dovelopہوتی ہے وہ اجتماعیت دنیا کی تمام اجتماعیت کے ساتھ بڑے اطمینان کے ساتھ خیر کے کاموں میں تعاون کر سکتی ہے۔ اس لئے ہم سب کی یعنی مسلمانوں کی یہی شناخت ہونی چاہئے۔ وہ سارے کام مقامی سطح پر ہوں،  ادارہ جاتی سطح پر ہوں ملکی سطح پر ہوں یا بین الاقوامی سطح پر ہوں دوسرے لوگوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر کام کرنے کی اور صلاحیت اور استعداد ہمیں پیدا کرنی چاہئے۔

ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جس سے ہمارا اختلاف ہو جائے اس کو  ( فاشسٹوں کی طرح) مٹانے کے در پے ہوجائیں بلکہ ہم زیادہ سے زیادہ maximum لوگوں سے  خیر کے کاموں میں تعاون کرتے ہیں، گفتگو اور مکالمہ بھی جاری رکھتے ہیں۔ تہذیبی تصادم ( clash of civilisation) کے ہم قائل نہیں ہیں بلکہ مکالمہ اور گفتگو کے قائل ہیں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہندوستان میں ٹھیک سے ان فتنوں کو سمجھتے ہوئے ہمیں ایک state of nationsکے تصور کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ہندوستان میں جو قوتیں اس کو state of nations مانتی ہیں، انُ کے ساتھ تعاون ہونا چاہیے۔ ذیلی قوتوں کا، ذیلی قوموں کا ذکر ڈاکٹر رفعت صاحب نے بھی کیا ذیلی قومیتیں یہاں ہیں ذیلی قومیتوں کو مٹانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ یہاں مضبوط دھارے  main stream سے الگ بعض علاقائی regional پارٹیاں اٹھی تھیں (علاقائی عزائم کے نتیجہ میں ) لیکن بعد میں سب نے مصالحت کرلی اور بڑی قومیت nationalism نے اُن کوہضم کر نے کا طریقہ اختیا ر کرلیا ہم بیدار ہوتےتو ذیلی قومیتوں کو بڑی قومیت  میں سےانضمام  بچاسکتے تھے۔ ان کی تہذیب  و تشخص کے لئے عدل و انصاف کا سامان کر سکتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے اپنے دور میں خلافت میں جب  ملک فتح ہونے لگے تو ان علاقو ں کی تہذیب زبان اور لباس کو محفوظ کرنے کی بھی گارنٹی دی۔ اس لئے کہ اسلام تنوع پسند ہے ہمارا امتیاز ہے کہ ہم تنوعات کو پسند کرتے ہیں۔ تہذیبیں جو انسانی خیرکے چشموں سے ابھری ہیں، انسانی فطری حسِ جمال سے پروان چڑھی ہیں۔ ہم اُن سب کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ دعوت کے سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ ملک میں دعوتی فتوحات کی راہیں کشادہ اور کھلی ہوئی ہیں  اس سلسلے میں ہمارا ذہن ایک دم کھلا اور صاف ہونا چاہئے۔ تبھی کام کرسکتے ہیں۔ اور لائحہ عمل بنا سکتے ہیں۔

مولانا مودودی نے لٹریچر کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کی بات کہی تھی،ہم نے اس کا آسان  طریقہ اختیار کیا کہ بس جو کتابیں اردو میں ہیں ان کا ترجمہ کردیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں  مختلف، لسانی قومیتیں ہیں ان کے یہاں communicate  گفتگوکرنے کے اپنے محاورے ہیں، ان کا اپنا ادب ہے، اپنی شاعری ہے، مؤثر انداز اظہار ہے۔ تو ہماری تحریک کو چاہئے کہ اپنے جیالوں کوان محاذوں پر اس طرح تیار کریں۔ وہ ہر لسان، ہر قوم، ہر ذیلی قوم  کے ادب کو توحید سے، رسالت محمدی سے، خیر کے سر چشمہ سے  جوڑ دیں تاکہ جو اس ادب سے جڑے، جو اس ادب کو پڑھے وہ ہمارے اس تصور کی کشش محسوس کرے۔ جس جذبہ اور حوصلہ سے ہم کام کر رہے ہیں یہ سب اپنی جگہ قابل قدر ہے لیکن سیاسی اور فکری افق پر، اس ملک کو ہم کہاں دیکھنا چاہتے ہیں اس پر نظر رکھیے۔ اگر ہم اس کو state of nationsمان کر  ذیلی قومیتوں کو ابھرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، ایک تہذیب کے غلبہ سے اس کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ نیشنلزم کے فتنے سے اس کو بچانا چاہتے ہیں اوراس میں اسلام کا رول دیکھنا چاہتے ہیں تواس میں توحید و رسالت پر مبنی بامعنی ڈائلاگ یعنی دعوت کے لئے ہم کو آگے بڑھنا چاہئے یہ کام نئی بصیرت، نئی جدو جہد، اور نئی محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ جو سیمینار ہم کر رہے ہیں، یہ جو مذاکرہ کی نشست ہے اس سے ہم کو یہی سبق سیکھنا چاہیئے۔

ہندوستان میں ہر قدم پر جاکر آبادیاں بدل جاتی ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، ہم کو اپنے حالات میں، اپنی بستیوں میں، اپنے محلوں میں بھی غلبہ اسلا م کے لئے کام کرنا چاہیے ہندوستان جواس وقت بظاہر ایک نیشن اسٹیٹ ہے اس میں غلبہ اسلام کی پوزیشن سے مایوس نہ ہوں بلکہ اپنے علاقے، اپنے حلقے، اپنے محلے میں غلبہ اسلام کے جذبے کے ساتھ توحید کی دعوت دیں اور خیر میں تعاون کریں اگر ہم کوشش کریں گے تب ہم یہاں کی فضا کو نئے ڈھنگ سے بدل سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے کاموں میں تنوع لائیں  اپنے حالات میں، اپنے اجتہادات سے نئی قوت پیدا کرنے کی کوشش کریں، محض با لا تر نظم کی  بتائی ہوئی راہ، میقاتی منصوبہ میں بتائے ہوئے نکات سے کام نہیں چل سکتا ۔ ہمیں خود سوچنا چاہئے۔ حضرت معاذ بن جبل کا واقعہ بھی ہے آپ جانتے ہیں اللہ کے رسول نے ان کو یمن بھیجتے ہوئے پوچھا تم کیسے فیصلہ کروگے تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی کتاب سے، پھر پوچھا  اگروہاں نہ پاؤگے توکیسے فیصلہ کروگے، کہا کہ رسول کی سنت سے،اگر وہاں بھی نہ پاؤتو، کہا کہ اجتہاد کروں گا،  یعنی اپنی حد تک معلوم کرنے کی کوشش اپنے حالات میں اس کی  بڑی اہمیت  ہے۔ ہمارے  ملک کے  نئے حالات  میں اپنے مقام پر کیسے راہیں نکالی جائیں ان کے لئے جو اجتہاد، جدو جہد، کوشش ہونی چاہئے بسا اوقات ہم اس میں کمزوری اور کوتاہی کرتے ہیں۔

آج کی اس مجلس میں ہم آخری بات یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  !  ہمارے سامنے نیا چیلنج فرقہ پرست فسطائیت  communal fascism ہے جس نے تہذیبی  وطنیت، اور تہذیبی جارحیت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس کا مقابلہ مقامی اور علاقائی سطح پر بھی کیا جائے اور یہ مقابلہ اس وقت کیا جاسکتا ہے جب اپنی اپنی سطح پر ہر آدمی متحرک ہو کر دعوت، سیاست، خدمت اور تربیت، چاروں محاذ پر کام کرے اور اس طرح کام کرے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں  بلکہ تقویت پہنچانے والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ سیاست کا کام کریں جو دعوت کی اہلیت رکھتے ہوں، وہ لوگ دعوت کا کام کریں جو سیاست اور عملی کام کر سکتے ہوں۔ جو خدمت کریں وہ سیاست نہ کریں، جو خدمت کریں وہ دعوت نہ دیں، جو دعوت دیں ان کی تربیت نہ ہو، جو سیاست کریں انکی تر بٔیت نہ ہو، یہ خطرناک بات ہے۔ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی ایک متوازن تصویر ایک حسین خوبصورت تصویر نہیں بنتی بلکہ ایک منتشر ایک ٹوٹی پھوٹی ہوئی الٹی ٹیڑھی تصویر بنتی ہے  ایسا نہیں لگتا ہے کہ امن اور عدل کے قیام کے مشن پر مامور قوم ہے۔ تحریک اسلامی کے سامنے یہی چیلنج ہے۔ اس اُمت کی اگر ہم صحیح تصویر بنا دیں تویہ تصویر اتنی خوبصورت ہے اتنی حسین اور فطرت سے ہم آہنگ ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی خراب ہوں،   اس کی کشش  ماند نہیں پڑتی۔ باطل اور شر بہر حال باطل ہوتا ہے، اس کی قبولیت کی آدمی کے اندر صلاحیت نہیں ہوتی ہے کسی وجہ سے مسموم فضا ہو جائے، آدمی سحر زدہ ہوجائے، نشہ طاری ہو جائے، کوئی چیز پلا دی جائے تو عارضی طور پر اثر ہوتا ہے پھر بھی یہ اطمینان رکھنا چاہئے اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پوری کائنات کا اور اس زمین کا مالک خدا ہے وہی اس کوچلا رہا ہے اور جب وہ چلا رہا ہے۔ تو وہ دیکھ رہا ہے کبھی بھی ناامیدی کا سایہ نہیں ہونا چاہئے۔

دعوتی عمل کرنے میں تاریخ کے سبق کی بڑی اہمیت ہے جب تاتاریوں نے بغداد کو  بالکل شکست دے دی اور مسلمان بری طرح مغلوبیت کے شکار ہو گئے تو تاریخ میں آتا ہے کہ ایک تاتاری شہزادہ شکار کے لئے جا رہا تھا اس نے ایک مسلمان کو دیکھا تو اس کو بلا کر حقارت سے پوچھا  ! میرا کتا اچھا ہے یا تو؟اس نے کہا اگر میں اپنے مالک کا وفادار رہا تو میں   اچھا ورنہ تیرا یہ کتا بہترہے کیونکہ یہ اپنے مالک کا وفادار ہے۔ یہ بات بڑی خوبصورتی سے اس نے کہی لیکن صرف خوبصورتی سے کام نہیں چلا بلکہ اس کے چہرہ پر جو داعی کی عظمت تھی، جو بے نیازی تھی، اس سے شہزادہ شکست کھا گیا اس نے دیکھا کہ یہ آدمی تو شکست خوردہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ فتحیاب نظر آتا ہے۔ ہندوستان کے جو کچھ حالات ہیں فلسفہ اپنی جگہ، نیشنلزم کا چرچہ اور اس کی اجتماعیت اپنی جگہ، قوت و طاقت و اقتدار اپنی جگہ لیکن داعیانہ عظمت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور داعیانہ عظمت اس یقین سے پیدا ہوتی ہے کہ اس کائنات کو خدا چلا رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں ساری عزت و قدرت اور اقتدار ہے۔ ’’ سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض‘‘آدمی حالات سے ماحول سے متأثر و مرعوب ہو جائے تو دعوتی کام نہیں کر سکتا ۔

لہٰذا یہ اطمینان رکھئے کہ ملک کے جو حالات ہیں وہ ہمارے لئے ایک نیا چیلنج ہیں لیکن ہمارے لئے ایک امکان بھی ہے، اگر ہم ان نئے چیلنج میں نئے امکانات کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیں تو ہمارے حالات بدل سکتے ہیں. اس لئے کہ بدلنے والا وہی خدا ہے جس کے دین کے لئے ہم کام کر رہے ہیں، آج کے سیمی نار کا فائدہ اسی وقت  ہو سکتا ہے جب ہم مزید مطالعہ کرکے، جن کتابوں کی رہنمائی کی گئی، ان کو تازہ کریں، مزیدتحقیق کریں، اور پھر اس سلسلہ میں کام آگے بڑھائیں پھر جائز ہ لیتے رہیں یہاں تک کہ سماج کو بدلنے کے عملprocess میں یہ مطالعہ study ہمارامعاون بن جائے۔



⋆ ڈاکٹرحسن رضا

ڈاکٹرحسن رضا
مضمون نگار، ادارہ ادبِ اسلامی ہند کے صدر اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نئی دہلی کے ڈائریکٹر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے