خصوصیگوشہ خواتین

مساوات مردو زن کے کھوکلے دعوے!

آصف اقبال

 مغربی تہذیب انسانیت کو تقسیم کرنے کے تصور پر یقین رکھتی ہے۔ لہذا اس نے ہمیشہ ایسے نظریات کو تقویت بخشی ہے جو انسانوں کو ذات پات،نسل و قبیلے، رنگ و زبان اور صنف میں تقسیم کرتے ہیں ۔ پھر ان بنیادوں کو تسلیم کرکے اس نے حقوق اور فرائض متعین کیے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے ان مصنوعی اور غیر فطری تقسیموں کو اپنے معاشرتی نظام میں دومتضاد مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ایک طرف اس نے تفریقات کو مستحکم کیا ہے اور دوسری طرف ان سے پیدا شدہ نتائج کا ازالہ کرنے کے لیے حقوق و فرائض کی جنگ چھیڑی ہے۔ نیز ہر تقسیم پر مبنی گروہوں کو متحارب گروہوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اس تقسم کا سب سے شاطرانہ شکار اس زمانے میں مرداور عورت کی تفریق ہے۔ جس کو gender disparityکے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے۔ اس تقسیم کا نام ہی اس نقطئہ نظر کا شاہد ہے کہ مرد اور عورت کو حقوق کے اعتبار سے موجودہ دور میں ناانصافی کا شکار بنادیا گیا ہے۔ اس ناانصافی کے سدباب کے لیے حقوق کی لڑائی چھیڑنا لازم ہے۔

دور حاضر کی تہذیب کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے مختلف عناصر کو حق کی بازیافت کے لیے مسلسل معرکہ آرائی میں الجھائے رکھا جائے۔ اس معرکے میں حقوق کا تعین اولین مقام حاصل کرلیتے ہیں ۔ حقوق کی اس لڑائی میں چند اہم اصول یکسر نظر انداز کردیے جاتے ہیں ۔ اول یہ کہ حقوق کی تقسیم کی صحت مند بنیاد ہر طبقے کی فطری صلاحیت اور استعداد کو بننا چاہیے۔ مرد اور عورت کی فطری استعداد اور صلاحیت میں کسی اساسی تغیر کا امکان معدوم ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ حقوق اور فرائض دونوں ایک دوسرے کے سہارے تکمیل پاتے ہیں ۔ اگرصرف حق کے سہارے معاشرہ تشکیل کیا جاتا ہے تو وہ اپنے مقاصد کی تکمیل نہیں کر سکتا اور اگر صرف فرائض کے سہارے اس کی تکمیل کی جاتی ہے تو وہ ظلم اور استحصال کو جنم دیتا ہے۔ حقوق پر زور دینے سے ایسی آزادی نصیب ہوتی ہے جو ذمہ داریوں سے فرار سکھاتی ہے۔ اصول اور ضوابط اور اقدار سے بے نیازی سکھاتی ہے۔ جو انسانوں کو ایک دوسرے سے مل جل کر رہنے کا سبق فراموش کردیتی ہے۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے گریز ایسے سماج کا شعار بن جاتا ہے۔

 متذکرہ مغربی فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے آزادی نسواں (women’s liberation)کی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کی غرض یہ تھی کہ حقوق کے اعتبار سے مرد اور عورت دونوں کو برابر قرراردیا جائے۔ مساوات کی اس تحریک کے نزدیک محض حقوق کا اثبات نہیں ہے بلکہ اس کا اصل ہدف مردوں کی دست برد ہے۔ یعنی نقطئہ آغاز اس تحریک کا یہ ہے کہ مردوں سے حقوق چھینے جائیں ۔ اس کے لیے ہر مرحلے اور ہر شعبے میں لڑائی کا آغاز ہو۔ تحریک نسواں کی دوسری غایت جو عموماً سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی اس طرح توسیع کی جائے کہ وہ پوری زندگی اور ہر طرح کی جدوجہد پر اس طرح حاوی ہو جس طرح مرد کے حقوق،سیاست،معاشرت،آرٹ و فن،روزی،مزدوری سب میں اس کو مردوں کے برابر حق ملے۔ اِس دُھن کی لَے اتنی بڑ ھ گئی کہ خاندانی زندگی کی ذمے داریاں ناقابل برداشت بوجھ سمجھی جانے لگیں ۔ نیز اولاد کی تعلیم و تربیت ناگوار خاطر سمجھ کر ایسی تجاویز اور ایسے منصوبے پیش کیے جانے لگے جس سے یہ کلیدی ذمے داری فرد سے ہٹاکر اجتماع کو منتقل کی جاسکے۔ اسی درمیان اس خوش نما نعرے مساوات مرد و زن میں کچھ ایسے بھی گروپ پیدا ہوئے جنھوں نے عمل ولادت کے بوجھ کو مردوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے انسانی اعضا اور ساختanatomyمیں ایسی تبدیلی پیداکرنے پر زور ڈالا،جس سے وظیفۂ ولادت کی مشقتیں مردوں کو بھی منتقل کی جاسکیں ۔ جس طرح وہ لذت اٹھاتے ہیں اسی طرح مشقت بھی اٹھائیں ۔ لیکن دوسری جانب جو بڑا نقصان سامنے آیا وہ یہ کہ حقوق کی اس لڑائی میں یہ لوگ بھول گئے کہ صدیوں سے قائم شدہ نظام خاندان کو کتنا عظیم نقصان پہنچے گا؟چنانچہ بہت جلد اِن تہذیب کے علمبرداروں کو معلوم ہوگیا کہ مجرمانہ رجحانات معاشرے میں فروغ پارہے ہیں جس کے نتیجہ میں ماں کے اندر جس قدر اپنی اولاد کے تعلق سے محبت والفت اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہونا چاہیے تھا وہ بتدریج کم ہوتا گیا۔

دوسری جانب اولاد کو جس قدر اپنے بوڑھے ماں باپ کا احترام کرنا چاہیے تھااس میں بھی تیزی کے ساتھ کمی آئی۔ ان دو متضاد نتائج نے جہاں ایک جانب معاشرتی برائیوں کو جنم دیا وہیں دوسری جانب بوڑھوں کی پناہ گاہ(old age homes) میں بھی اضافہ کیا۔ موجودہ دور میں یہ اولڈ ایج ہومس ہمارے علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ ان اولڈ ہومس پر اگر ایک سرسری نظر ڈال لی جائے، وہاں کے حالات کا جائزہ لیا جائے،بوڑھوں کی تکالیف اور ان کے دکھ درد کو چند لمحات کے لیے سن لیا جائے، تو خوب اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ جس حقوق نسواں کی بازیافت میں معاشرہ کو کبھی تقسیم کیا گیا تھا،آج اس کے نتائج کیا ہیں اور سماج کا ایک بااثر طبقہ جو بظاہر خوشحال نظر آتا ہے اس نے خاندان اور معاشرہ ہر دوسطح پر کس طرح مسائل میں اضافہ کیا ہے۔

موجودہ دور میں جن نظریات سے ہم وابستہ رہے ہیں یا ہیں اس کے راست یا بلاواسطہ نتائج بھی ہم دیکھ رہے ہیں ۔ ان نظریات میں ہر دوسطح پر تشدد کھل کے سامنے آیا ہے۔ ایک جانب عورت کو حقیر و ذلیل سمجھا گیا اور اس پر بے پناہ ظلم و زیادتیاں کی گئیں ۔ تو وہیں دوسری جانب عورت کو ڈھال بناتے ہوئے، اس کو خوشنما نعروں کا سہارا دیتے ہوئے،اس کی حقیقی حیثیت تبدیل کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اسے صرف ایک جنسی موضوع تک محدود کردیا گیا۔ اور چونکہ عورت کی حدیں جنسی تعلق تک محدود کردی گئی لہذا اب اس کو جسمانی کشش کی اصل اور قابل توجہ شے بنائے رکھنا ضروری تھا۔ اس بازارو حسن و آرائش میں مصنوعات کی بھرمار کی گئی ہے۔ جہاں ایک جانب بازار میں اچھال آیا،مالدارتاجروں کی دولت میں بڑا اضافہ ہواوہیں عورت کا حسن بھی بازار کی زینت بن کے رہ گیا۔ اب اگر کسی چیز کی مارکیٹ بنانی ہے تو عورت کے حسن کی نمائش ضروری ہو گئی۔ لیکن اس کا حد درجہ بدترین پہلو جو سامنے آیا وہ یہ کہ عورت کو تکریم اور احترام سے گراکے تذلیل کے اس مقام پر پہنچا دیاگیا جہاں وہ ہر مقام پر ہوس شدہ نظروں کا نوالہ بن گئی۔ اور انتاہی ذلت کا بدترین مقام وہ ٹھہرا جہاں ایک بیٹی اپنے ہی رشتہ داروں ، بھائیوں اور باپ کی ہوس کا شکار ہوئی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آج نقطئہ نظر کی تبدیلی نے عورت اور مرد دونوں کی فطرت اس طرح مسخ کردی ہے کہ اب پہچاننا دشوار ہو گیا ہے کہ یہ وہی عورت ہے جس کی عفت و عصمت کا انسان کبھی دم بھرتا تھا۔

گفتگو کا ایک اور پہلو جو گرچہ دور جاہلیت سے جاری ہے اورجہاں عورت کی پیدائش کو رسوائی کا سبب سمجھا جاتا تھا اس میں اضافہ ہوا۔ یعنی رحم مادر میں بچیوں کی اموات میں اضافہ،جس میں امیر غریب سب شامل ہیں ۔ فی الوقت بیٹے کی چاہت میں پیدا ہونے والی ان چاہی بیٹیوں کی تعداد ہندوستان یں میں دوکروڑ سے زائد اور لاپتہ بچیوں کی تعداد تقریباً چھ کروڑ ہوگئی ہے۔ ملک میں بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹیوں کی بڑھتی چاہت کو ظاہر کرنے والے اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش اقتصادی سروے میں سامنے آئے ہیں ۔ ان چاہی لڑکیوں پرپہلی بار قومی سطح پر کیے گئے سروے کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں 0سے 25سال کے عمر کی ان چاہی لڑکیوں کی تعداد2کروڑ 10لاکھ ہے۔ آخری بچہ کے جنسی تناسب کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ والدین کو ایک بیٹے کی خواہش تھی لیکن یہ نہیں ہوا اور وہ بیٹے کے انتظار میں ان لڑکیوں کو پیدا کرتے گئے۔ پیدائش سے قبل رحم میں قتل کرنے اور جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی وجہ سے لاپتہ بچیوں کی تعداد سن1990میں چار کروڑتھی جو 2014میں 6کروڑ30لاکھ ہو گئی۔ وہیں ہر سال ایسی20لاکھ بچیاں غائب بھی ہورہی ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کی ترغیب کے لیے شروع کی گئیں تمام اسکیموں کے باوجودلڑکیوں کی شرح پیدائش میں بہت معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ خوشحال ریاست پنجاب اور ہریانہ میں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کی چاہت سب سے زیادہ ہے۔ ۔ ۔ (جاری)

مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close