خصوصی

مسلم پرسنل لا پرعمل ضروری کیوں؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ادھر کچھ عرصے سے ہمارے ملک عزیز میں مسلم پرسنل لا پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلمانوں کے عائلی قوانین کے بارے میں یہ تأثر دیا جا رہا ہے کہ وہ ظالمانہ ہیں اور ان سے عورتوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ اسلام اور اسلامی قوانین و احکام کے متعلق طرح طرح کے من گھڑت قصے ایجاد کیے جا رہے ہیں ۔ اس طرح یہ ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان قوانین کو تبدیل ہونا چاہیے۔ اس تعلق یہ وضاحت کردینی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ مسلم پرسنل لا سے کیا مراد ہے؟ اور اس پر عمل کیوں ضروری قرار دیا جاتا ہے؟

اس سلسلے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں ؟ کیا جس شخص کا نام عبد اللہ، عبد الرحمن ، ذاکر اور وارث ہو، اسے مسلمان کہیں گے اور جن لوگوں کا نام رام، شیام، گوپال، ورما وغیرہ ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں ؟ کیا جن لوگوں کا ایک مخصوص لباس ہو، وہ کرتا پاجامہ اور ٹوپی لگاتے ہوں ، وہ مسلمان ہیں اور جواس طرح کے لباس نہ پہنتے ہوں وہ مسلمان نہیں ہیں ؟کیا جو لوگ گوشت کھاتے ہیں ، یا گوشت کھانے پر اصرار کرتے ہیں ، ان کو مسلمان سمجھا جائے ؟اور جو لوگ گوشت نہیں کھاتے یا اس پر اصرار نہیں کرتے ان کو مسلمان نہ سمجھا جائے؟ ظاہر ہے کہ ہمارا جواب نفی میں ہوگا۔حقیقت میں مسلمان وہ ہے جو اسلام پر عمل کرتا ہو۔ اسلام کے لفظی معنی ہیں اپنے آپ کو حوالے کر دینا۔’ مسلم‘ وہ ہے جو اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے حوالے کردے اور انھوں نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔

اسی طرح ایک دوسرا لفظ’ مومن‘ ہے۔ مومن کے لفظی معنی ہیں ایمان لانے والا،مان لینے والا۔ گویا اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرے ، خواہ اسے احکام کی حکمتیں معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں ۔اگر حکمتیں معلوم ہو جائیں تو بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر نہ معلوم ہوں تو بھی وہ ان احکام سے منھ نہ موڑے اور یہ نہ کہے کہ جب تک ان احکام کی معقولیت میری سمجھ میں نہیں آئے گی، میں ان پر عمل نہیں کروں گا۔

قرآن مجید میں اس حقیقت کو بہت صاف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذَا دُعُوا إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ أَن یَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون(النور:51)
’’ جب ایمان لانے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے اور ان کو یہ بتایا جائے کہ اللہ اور رسول کا یہ حکم ہے کہ تو ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی صورت جائز نہیں کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ صرف وہی لوگ کام یاب ہیں ۔ ‘‘

یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ سماج میں جولوگ رہتے ہیں ان میں بسا اوقات بعض باتوں پر تنازعات ہو جاتے ہیں اور اختلافات سر ابھارتے ہیں ۔ اہل ایمان سے کہا گیا کہ اگر تمہارے درمیان کبھی ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ قرآن اور حدیث سے یہ جاننے کی کوشش کرو کہ ان اختلافات کا حل کیا ہے؟ پھر جو حل نکلے اسے قبول کرلو اور اس پر بے چوں و چرا عمل کرو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّہِ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ(النساء: 59)
’’ اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو، اگر تم واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

قرآن کریم کی ان دونوں آیتوں میں ایک بات مثبت انداز کہی گئی ہے۔ یعنی جو شخص ایمان اور اسلام کا دعوے دار ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرے ، ان معاملات میں بھی جن کا تعلق تنازعات سے نہیں ہے اور ان میں بھی جن کا تعلق تنازعات و اختلافات سے ہے ۔ لیکن جو شخص اسلام اور ایمان کا دعوے دار ہو، اس کے باوجود اپنے نفس کی پیروی کرتا ہو، اللہ اور رسول کو جاننے اور ماننے پر تیار نہ ہو، ان کے بارے میں بھی قرآن کریم میں صاف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔

یہود اور نصاریٰ کی پوری تاریخ یہی ہے کہ انھوں نے زبان سے تو یہی اقرار کیا کہ ہاں ، ہم اطاعت گزار ہیں ، ہم اللہ اور رسول کو ماننے والے ہیں ، لیکن حقیقت میں انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی کی اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن نے صراحت سے کہا ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں ، یہ لوگ ظالم ہیں ، یہ لوگ فاسق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْکٰفِرُونَ(المائدۃ:44)
’’جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں ، وہ کافر ہیں ۔

اگلی آیت میں کہا گیا ہے:
وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُونَ (المائدۃ:45)
’’ جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں ، وہ ظالم ہیں ‘‘۔

ان دو آیتوں میں یہود کا تذکرہ کیاگیا ہے اور ان کو صاف الفاظ میں کافر اور ظالم کہا گیا ۔اگلی آیت میں نصاریٰ کا تذکرہ کیا گیا ہے اور انھیں فاسق قرار دیا گیا :
وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُون(المائدۃ:47)
’’جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہ کریں وہ فاسق ہیں ۔‘‘

ان آیات سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ مسلمان اور مومن کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے؟ ضروری اس لیے ہے کہ اگر وہ اس پر عمل نہ کرے اور صرف زبانی جمع خرچ کرتا رہے تو پھر اس کے ایمان اور اسلام کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

چودہ سو سال کی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جس ملک میں بھی گئے اور جس زمانے میں بھی رہے، ان کی اکثریت نے اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کی۔ کسی بھی ملک میں چاہے وہ اکثریت میں رہے ہوں یا اقلیت میں ، انھوں نے اپنی زندگیوں میں اسلام کی تعلیمات کو نافذ کرنے کی کوشش کی۔ جن ممالک میں وہ اقلیت میں تھے،وہاں کے حکم رانوں سے انھوں نے اپنا یہ حق حاصل کر نے کی کوشش کی اور جن ممالک میں ان کا اقتدار قائم ہوا وہاں انھوں نے اسلام کی تمدنی اور سماجی تعلیمات، اسلام کے فوج داری اور دیوانی قوانین وغیرہ کو نافذ کیا ۔ انھوں نے قضا کا محکمہ قائم کیا او ر اسے انتظامیہ کے شعبے سے الگ رکھا۔ قاضی بسا اوقات حکم رانوں کے خلاف بھی فیصلہ کر دیتے تھے۔

ہندوستان میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی۔ پھر جب یہاں سے مسلم حکم رانی کا دور ختم ہوا اور انگریزوں کا اقتدار آیاتو انھوں نے آہستہ آہستہ اسلامی قوانین کو ختم کرنا شروع کیا اور ان کی جگہ برطانوی قانون نافذ کیا۔ لیکن جب انھوں نے عائلی قوانین کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کی طرف سے زبر دست احتجاج ہوا۔ پورے ملک میں اس کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں ۔ بالآخر ان مظاہروں اور تحریکوں کے نتیجے میں حکومت اس بات کی طرف مائل ہوئی کہ مسلمانوں کے جو عائلی قوانین ہیں ، ان پر عمل کرنے کی انھیں آزادی ہونی چاہیے۔ چنانچہ 1937ء میں ایک ایکٹ پاس ہوا، جس کو شریعت اپلیکیشن ایکٹ کہا جاتا ہے۔ یہ وہی ایکٹ ہے ، جسے آج ہم ’مسلم پرسنل لا‘ کے نام سے جانتے ہیں ۔ اس ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ نکاح، طلاق، خلع، مباراۃ، فسخ نکاح، حضانت، ہبہ، وصیت اور وراثت وغیرہ سے متعلق معاملات میں ، اگر دونوں فریق مسلمان ہوں تو ان کا فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہوگا، خواہ ان کا رواج اور عرف کچھ بھی ہو، قانون کو عرف و رواج پر بالا دستی حاصل ہوگی ۔

اس قانون پر1937ء سے عمل ہوتا آرہا ہے۔اگر چہ درمیان میں بعض ایسی مثالیں پائی جاتی رہی ہیں کہ ملک کی عدالتوں نے اس کے خلاف بھی کچھ فیصلے دیے ہیں ۔ لیکن چوں کہ اس قانون کو تحفظ حاصل تھا،اس لیے ان فیصلوں کے خلاف بھی اپیل کی جاتی رہی ۔ لیکن ادھرکچھ عرصے سے ہمارے سامنے یہ صورت حال آئی ہے کہ پورے مسلم پرسنل لا کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کہا جانے لگا ہے کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں ۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ یہ قوانین عورتوں کے حق میں ظالمانہ ہیں ۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان میں رہنے والے ہر شہری کے لیے انسانی بنیادی حقوق کی ضمانت دے، جو لوگ ان ظالمانہ قوانین سے متأثر ہو رہے ہیں ان کو ان سے آزادی دے اور ان قوانین کو ختم کرے۔

یہ اعتراضات کرنے والے تین چار طبقات ہمارے سامنے آتے ہیں : ایک تو عدلیہ کی طرف سے مستقل کچھ کچھ وقفے سے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جو مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے مترادف ہیں ،دوسری طرف حکومت کے بھی ارادے نیک نہیں ہیں ۔ اس کی طرف سے بھی وقتا فوقتا ایسے اشارے دیے جاتے رہیں کہ وہ پرسنل لا ختم کر کے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس کی وہ ترغیب دیتی ہے اور حکومت مسلسل منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ تیسرا طبقہ ہمارے سامنے ان فرقہ پرست طاقتوں اور تنظیموں کا ہے، جو ہندو احیاء پرستی کی علم بردار ہیں ۔ ان کو مسلمانوں کا مذہب، ان کی تہذیب، ان کی کوئی بھی علامت قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے وہ آنکھ بند کر کے اس کی برابر مخالفت کر رہی ہیں ۔

بعض نام نہاد مسلمان بھی اس طرح کی رائے ظاہر کر رہے ہیں کہ اسلام کے قوانین آج سے چودہ سال پہلے کے لیے تھے، لیکن بدلتے ہوئے حالات میں ان کی نئی تعبیر و تشریح کی ضرورت ہے۔ غیر مسلم اور ہندو احیاء پرست تنظیموں کے اعتراضات کا جواب دینا اور ان کا مقابلہ کرنا تو آسان توہے، لیکن جو لوگ نام کے مسلمان ہیں یا اسلام کا چولہ اوڑھ کر اسلامی تعلیمات پر کی جڑوں پر تیشہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ،ان سے نمٹنا زیادہ سنجید گی کا متقاضی ہے۔

اس تعلق سے ہمیں تین کام کرنے ہیں :

(1)سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم اپنے سماج کی اصلاح کی کوشش کریں ۔ مسلمانوں کو صحیح مسلمان بنانے کی کوشش کریں ۔ وہ لوگ جو اسلام پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اگر وہ اسلام کی بتائی تعلیمات پر صحیح طریقے سے عمل کرنے لگیں اور اپنے تنازعات جو ان کے درمیان ابھریں ، ان میں پورے صدق دل کے ساتھ، اس بات پر آمادہ ہوں کہ ان کے سلسلے میں اللہ اور اور اس کے رسول کا جو فیصلہ ہوگا، چاہے وہ ان کے خلاف ہو، وہ اس کو قبول کر لیں گے۔ اگر مسلمانوں کی اصلاح ہو جائے اور ان کے اندر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی آمادگی پیدا ہو جائے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ اصل تعلیمات کچھ اور ہیں اور مسلمانوں کا سماج کوئی اور دوسری تصویر پیش کر رہا ہے۔ یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ مسلم عورتوں پر بسا اوقات ظلم ہوتا ہے، لیکن جو لوگ ظلم کرتے ہیں وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے نہیں ہیں ۔ اسلام کی تعلیمات کچھ اور ہیں اور مسلمانوں کا عملی رویہ کچھ اور ہے۔

ضرورت کہ صحیح اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی مہم چلائی جائے۔ جتنے بھی واقعات پیش آتے ہیں ، وہ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کے نتیجہ میں ہوتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں موجودہ وقت میں تین طلاق کا مسئلہ بہت زیادہ ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے۔ اسلام نے طلاق کا جو تصور دیا ہے، وہ عورت کے حق میں بہت رحم پر مبنی ہے۔ جن مذاہب میں طلاق کا تصور نہیں ہے، زندگی بھر کا ساتھ ہے، ایک بار نکاح ہونے بعد علیحدہ ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہ عورتوں کو اپنے ساتھ رکھتے نہیں ہیں بلکہ وہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔ کسی عورت کو ناحق قتل کر دینا اچھا ہے یا اس کو آزاد کر دینا بہتر ہے۔ اگر کسی وجہ سے نباہ ممکن نہیں ہو رہا ہے طلاق دے دے اوردوسرا نکاح کر لے۔

آج اسلام کی تعلیمات پر جو اعتراض ہو رہا ہے وہ اسی لیے ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے ان پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم مسلم سماج میں بیداری لائیں ان کے درمیان صحیح اسلامی تعلیمات پیش کریں ، ان کے درمیان اسلام کی تعلیمات کو ابھاریں ، ان سے یہ کہیں کہ اگر آپ اسلام کو مانتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ آپ مسلم ہیں تو آپ کو اسلامی پر عمل کرنا ہوگا۔ اس طرح مسلم معاشرے کی اصلاح ہوگی تو یہ تمام اعتراضات ختم ہو جائیں گے۔

دوسرا کام ہمارے کرنے کا یہ ہے کہ ہم مسلمانوں میں یہ شعور بیدار کریں کہ قرآن کا یہ صریح حکم ہے کہ تم اپنے تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لے جاکر حل کرو، اگر تم ایسا نہیں کروگے تو تمہارے اسلام اورمسلمان ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ۔ بلکہ جو لوگ ایمان اور اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق اپنے معاملات کو حل کرنے کے بجائے دوسروں کی طرف رجوع کرتے ہیں وہ لوگ قرآن کی نظر میں ظالم ہیں ، کافر ہیں اور فاسق ہیں ۔ ضروری ہے کہ تنازعات بالکلیہ ختم ہو جائیں ۔ قرآن یہ چاہتا بھی نہیں ہے، قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ اگر تنازعات پیدا ہوں تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کیا جائے اور غیر اسلامی افراد اور دیگر پنچایتوں کی طرف رجوع نہ کیا جائے۔

تیسرا کام ہمارے کرنے کا یہ ہے کہ صحیح اسلامی تعلیمات سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے غیر مسلموں کے ذہنوں میں جو اسلام پر اعترضات پیدا ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں ان اعتراضات کی معقولیت ہم ان لوگوں کے سامنے رکھیں ، ان کی حکمتیں بیان کریں تاکہ لوگوں کے ذہن صاف ہوں اور جو شدت پسند لوگ ، لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں وہ اس میں ناکام ہوں ۔ ہم میں سے جو بھی باشعور افراد ہیں اس کو یہ تینوں کام کرنے ہیں ۔

اس طرح سے ہر شخص جب اس اصلاحی کام کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا اور سماج کی اصلاح کرنے کوشش کرے گا، تو ان عائلی قوانین کے بارے میں بھی جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں وہ بھی دور ہوں گی اور شکوہ شکایات اور اعتراضات ہوتے ہیں ان کا بھی ازالہ ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. یقینا ہم سب ان حالات کے ذمےدار ہیں اور سب کو عمل کیلیے میدان عمل میں آنا ہو گا…ایک گذارش ھیکہ ہمارے بیشتر مساجد اور ان کے ارکان اس فکر کو آگے بڑھا نے کے متحمل نہیں وجہ جو بھی ہو ..لہذا آپ جیسے اداروں سے گذارش ھیکہ حلقہ وار طور پر فکریہ مضامین کے ساتھ جمعہ کو اپنے مبلغین روانہ کرنے کا اہتمام کریں..مساجد کے ذمے داروں سے اجازت لیکر…

متعلقہ

Close