خصوصیسیاست

ملت کا ماتم، مگر مچھ کے آنسو

ڈاکٹر سلیم خان

وگیان بھون میں جمہوری قومی محاذ کے نومنتخب ارکان کے سامنے وزیراعظم کا خطاب انتخابی دھوپ کے بعد  بادِ نسیم بن کر آیا ۔ اس کی مدد سے انہوں نے خود ساختہ  مکدرّ فضا کو بہتر بنانے کی کوشش کی یہ خوش آئند ہےمگر  امت کے سادہ لوح رہنما کچھ زیادہ ہی جوش و خروش کے ساتھ اس کی پذیرائی کر رہے ہیں۔  اس  تقریر میں اقلیتوں کو ساتھ لےکر ان کے اندر خوف  سے نکالنے اور انہیں تعلیم، صحت اور معاشی سطح پر دوسروں کے  برابر لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔  ان نیک ارادوں کے اظہارمیں یہ  اعتراف  پوشیدہ ہے کہ اقلیتیں این ڈی اےکے  ساتھ نہیں ہیں۔ دل میں خوف ہے اور وہ دوسروں کی بہ نسبت پچھڑ گئے ہیں۔ یہ کس نے کیا ؟ اس سوال  کا جواب  ہے کہ بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں نے یہ کام کیا ہے۔ ایسا کیوں گیا ؟ تاکہ ووٹ بنک کے طور پر ان  کا استعمال کیا جاسکے۔ بی جے پی گویا اس معاملے میں  مکمل طور پر بے قصور ہے۔ ساری غلطی  حزب اختلاف اور مسلمانوں کی  ہے جو ان کے جھانسے میں آگئے۔ یہ حقیقت ہے یا سیاست ؟ اس سوال کا جواب ملک کا  بچہ بچہ جانتا ہے۔

بھوک، بھئے اور بھرشٹاچار مکت بھارت بی جے پی کا بہت پرانا نعرہ ہے۔ رافیل کے بعد مودی جی بھرشٹاچار کی اصطلاح سے گریز کرنے لگے ہیں۔ ویسے بھی بدعنوانی میں مسلمان کم  ملوث ہیں کیونکہ جن سرکاری عہدوں پر بڑے بڑے گھوٹالے ہوتے ہیں ان سے امت کو دور کردیا گیا  ہے۔ اس کارِ شر میں اکثریتی طبقہ سر سے پیر تک ڈوبا ہوا ہے۔ خوف کی بابت مودی جی نے یہ کہہ دیا کہ یہ غیر حقیقی یعنی  خیالی خوف ہے۔ حسن اتفاق سے جس روز اخبارات میں مودی جی کی   تقریر شائع ہوئی اس کے بغل میں مدھیہ پردیش کے اندر گئو رکشکوں کے ذریعہ توفیق، انجم شمع اور دلیپ مالویہ  کو زدوکوب کرنے کی خبر بھی موجود تھی۔ یہ واقعہ اگر پہلی مرتبہ رونما ہوا ہوتا تو وہ  کہہ سکتے تھے کہ   اس کے لیے ایم پی کی  کانگریس حکومت ذمہ دار  ہے۔ یہ ناقابلِ تردید   حقیقت یہ ہےکہ مرکز میں بی جے پی اقتدار سنبھالنےکے بعد ان کےزیر اثر  ریاستوں میں ہجومی تشدد کا بول بالا ہوا۔ اس مرتبہ  کم ازکم خاطی گرفتار  توہوئے پہلے یہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک شبھل بگھیل  پرگیہ ٹھاکر کا قریبی ہے۔ اس کے باوجود خوف کو خیالی کہہ کر ہلکا کرنا  کیا قوم  کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف نہیں  ہے؟سچ  تو یہ ہے کہ  خود ان کی پارٹی نے اکثریتی طبقہ کو مسلمانوں اور پاکستان  کا جعلی خوف  دلاکر یر غمال بنا رکھا  ہے۔ بی جے پی کی حالیہ  زبردست کامیابی کے پیچھے یہ  حکمتِ عملی کارفرما رہی ہے۔

یہ خوف کیسے دورکیا جاسکتا  ہے؟ اور فلاح و بہبود کے ذریعہ مساوات کیونکرقائم ہوسکتا ہے؟  ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ  مرکز کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کا  اس میں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ معاشرے کے اندر طاقتور طبقہ کمزوروں کا استحصال کرنے کے لیے اسے خوفزدہ کرتا ہے۔ ایسے میں کمزور لوگ انتظامی سے رجوع کرتے ہیں۔ پولس ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کردیتی ہے اور عدالت ان کو کیفرِ کردار تک پہنچاتی ہے۔ انتظامیہ حکومت کے تحت کام کرتا ہےاس لیے وہ اس  کی سرپرستی کرتی ہے اور عدلیہ کے کام میں مداخلت نہیں کرتی۔  یہ سارا معاملہ  اگر عدل و انصاف کے مطابق ہوتو ظالم خوفزدہ ہوجاتا ہے اور مظلوم کے اندر بے خوفی آتی ہے۔  سرکار اگر اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ظلم و استحصال کے علمبرداروں کو تحفظ فراہم کرے تو سارا معاملہ الٹ جاتا ہے اور مظلومین خوف و ہراس کا شکار ہوجاتے  ہیں۔ اس لیے   صوبائی حکومت  کا کردار  کلیدی  ہے۔ اس سے بڑھ کر ریاستی  حکومت اگر پولس کو خوف پھیلانے کا آلۂ کار بنالے تو بڑی بھیانک صورتحال بن جاتی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کو کانگریس کے مقابلے مرکز میں کم عرصہ  حکومت  کرنے کا موقع ملا لیکن جیسا کہ اوپر بتایا گیا اس بابت صوبائی حکومت کی ذمہ داری زیادہ اہم ہے اوروزیراعظم  کی جماعت نے برسوں تک مختلف صوبوں میں سرکار چلائی ہے مثلاً گجرات میں1995سے بی جے پی  نے 23 سالوں تک  حکومت کی  ہے۔ اس دوران وہاں پر اقلیتوں کے اندر خوف کس نے پیدا کیا ؟ اور اسے دور کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے کیا کیا؟ اس سوال کا جواب مودی جی کو دینا پڑے گا کیونکہ وہ خود وہاں پر13 سال حکومت کرچکے ہیں۔ ان کے وزیر اعلیٰ بن جانے کے بعد جو  مسلم کش فسادات ہوئے اس میں ان کا کردار کیا تھا؟ اس موقع پر جو خوف و ہراس پیدا ہوا تھا اسے دور کرنے کے لیے انہوں نےاپنا راج دھرم کیسے نبھایا  ؟پولس نے فسادیوں کو تحفظ دیا یا سزا دلائی؟ حکومت فسادیوں کو بچا تی رہی یا کیفرِ کردار تک پہنچایا۔   فساد اور اس کے بعد فرضی انکاونٹر میں پولس کا استعمال کیسے کیا گیا اور اس کے ملزمین کوکیسے بچایا گیا؟ان سوالات کا جواب کون نہیں جانتا ؟   کیا  ایک چکنی چپڑی تقریر  سارے زخم بھر جائیں گے ؟ 1984میں ہونے والے سکھ مخالف فساد کو اگر’ جو ہوا سو ہوا ‘ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے تو کیا گجرات کے فسادات کو   بھلا دینا ممکن ہے؟

 تعلیم و ترقی کی سرکاری  اسکیموں  کو صوبائی حکومت عملی جامہ پہناتی ہے۔ کاش کہ مودی جی اعدادو شمار کی مدد سے یہ بتا سکتے کہ گجرات کے اندر ان  23 سالوں میں بی جے پی نے اقلیتوں کے فلاح و بہبود کی خاطر کون سے اقدامات کیے  اور ان کے کیا نتائج نکلے؟ اس سوال کا جواب ان کے پاس  نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں  ان کی پارٹی نے 15 سال تک حکومت کی اور کیا کیا ؟ یہی بتا دیا جائے تو کسی قدر اطمینان ہوجائے۔ اتر پردیش میں ان کے وزیراعلیٰ کا زہر افشانیاں ، مدرسوں اور اردو اساتذہ کے حوالے سے اپنائے گئے معاندانہ رویہ کیا  فلاح و بہبود اور خوف دور کرنے کے لیے اپنایا  جاتا ہے؟ نہیں تو وہ اس پر لگام کیوں نہیں لگاتے؟ ہندوعوام  کو مودی جی اپنی باتوں سے بہ آسانی  ورغلا لیتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ایسا  کرنا دشوار  ہے۔ ایک زمانے تک بی جے پی کے رہنما اقلیت اور اکثریت کی تفریق  کے سرے سے  قائل ہی نہیں تھے۔  اس لیے اقلیتوں  سے متعلق ہر سوال کو مسترد کردیتے تھے۔

 وزیراعظم  سارے قومی دلدرّ کے لیے کانگریس کی  مرکز ی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں حالانکہ جنتا پارٹی کی سرکار میں بی جے پی شامل تھی۔ اس نے جنتا دل  کی حمایت کی تھی اور اس میں شامل کئی لوگ  اب بھی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ اٹل جی کی قیادت میں بی جے پی نے 6 سال حکومت کی اور پانچ سال خود انہوں نے پورے  کرلیے۔ ایسے میں  ہر مصیبت کے لیے مخالفین   کو ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو پارساثابت کرنا جعلسازی نہیں تو کیا ہے؟ کاش کہ وہ دوچار سہی ایسے  اقدامات کا ذکر فرما دیتے کہ جو ان پانچ سالوں کے اندر  خوف دور کرنے کے لیے اور اقلیتوں کو آگے لانے کے لیے ان  کی حکومت نے کیے ہیں  لیکن اس بابت کہنے کے لیے ان کے پاس  کوئی جھوٹ بھی نہیں ہے۔ تین طلاق کے معاملے میں قانون سازی کا ذکر ان   کی سارے دعووں  کے خلاف دلیل ہے یہی وجہ ہے کہ  انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ مودی جی کو  یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ پانچ سال پورے کرچکے ہیں اور اب عوام ان کے قول سے زیادہ عمل کی مشتاق  ہے۔ اس کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ بقول غالب ؎

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close