خصوصی

ملک میں ایمرجنسی کی آہٹ، حکومت تاناشاہی کی راہ پر گامزن

سبطین کوثر

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ ایسی تنوع و رنگارنگی کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔بیشتر ممالک ایک زبان ایک اقدار وروایات کو اختیار کرتے ہیں جبکہ یہاں ہر میل پر زبان اور رسوم و رواج بدل جاتے ہیں۔دستور نے ملک کے ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دی ہے اور اس میں میڈیا بھی شامل ہے۔ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کو جیسا دیکھے من وعن ویسا ہی بیان کرے۔لوگوں کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں بلکہ اختلاف رائے ہی تو جمہوریت کی اساس اور روح ہے۔
اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملک کا زمام کار جن کے ہاتھوں میں ہے وہ ملک کی بنیادی اقداروروایات پر حملہ آور ہیں ۔ اطلاعات ونشریات کی وزارت کے ذریعہ تشکیل شدہ بین وزارتی کمیٹی نے معاصر نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر 24گھنٹے کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے یعنی این ڈی ٹی وی کو اپنی نشریات ایک دن تک بند کرنی ہوں گی۔حکومت نے این ڈی ٹی وی کے لئے یہ سزا اس لئے تجویزکی ہے کہ اس نے پٹھان کوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی رپورٹنگ میں توازن قائم نہیں رکھا۔ حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ این ڈی ٹی وی نے حساس نوعیت کی حامل اس خبر سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے جو ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا این ڈی ٹی وی کے علاوہ اس خبر کو دیگر معاصر چینلوں نے نشر نہیں کیا تھا اور اگرکیا تھا تو این ڈی ٹی وی کی رپورٹنگ سے ان کی رپورٹنگ میں کیا فرق تھا۔ ٹی وی خبروں پر نظر رکھنے والے اس دعوے کو پوری طرح خارج کر دیں گے کیوں کہ دیگر چینلوں کے مقابلے این ڈی ٹی وی نے اپنی خبر میں کافی توازن رکھا تھا اور حکومتی اہلکاروں کے بیانات پر ہی خاص توجہ دی تھی۔ سرکار نے جو ان پٹ انہیں مہیاکی تھی این ڈی ٹی وی نے اسی کو بنیاد بنایا تھا۔
دوسری اور اہم بات یہاں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ملک کے تمام چینلوں نے تو صرف واقعہ کی خبر ہی نشر کی حکومت ہند نے تو پاکستان(حکومت جسے اس دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار مانتی ہے)کے افسران(اس میں آئی ایس آئی کے اعلی افسران بھی شامل تھے)کو اس کی جانچ کے لئے اپنے ملک میں آنے کی دعوت ہی دے ڈالی۔ ان کے اس آواز پر حکومت پاکستان نے اپنے افسران کو نہ صرف یہاں بھیجا بلکہ ان افسران کو جائے واقعہ تک لے جایا گیا اور ان کی مہمان نوازی کی گئی۔بعد ازاں،حکومت نے ان افسران کو حملے کی بابت دستاویزات بھی سونپے اور پاکستان ثبوت بھیجے گئے کہ یہ حملہ پاکستان کی ایماء پر ہی کیا گیا ہے۔تو پابندی صرف این ڈی ٹی وی پر ہی کیوں؟دیگر چینلوں پر کیوں نہیں؟این ڈی ٹی وی کا قصور صرف یہ ہے کہ یہ چینل’مودی آرتی‘کے خصوصی پروگرام منعقد نہیں کرتا اور ہر خبر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ’گن گان‘پر زور نہیں دیا جا تا بلکہ ایک عام شہری کے سوالوں کا بھرپور جواب دینے کے لئے یہ اپنے پروگرام پیش کرتا ہے۔ خصوصا اس چینل کے ممتاز صحافی رویش کمارکا یہ طرزہے کہ وہ ہر واقعہ پر سوالات رکھتے ہیں،حقیقت پسند سوچ کے حامل ہیں اس لئے سنگھی ذہنیت رکھنے والے انہیں گوارہ نہیں کرتے۔ جس ملک میں سچ بولنے والوں کو پابند سلاسل کرنے کا چلن شروع ہوجائے تو سمجھ لیجئے وہ ملک’ہٹلر شاہی‘کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بد قسمتی سے ملک کو اسی راستے پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف این ڈی ٹی وی یا کسی دیگر چینل پر قلیل یا طویل عرصے کی پابندی کی بات نہیں ہے بلکہ جمہوریت کو قتل ہونے سے بچانے کا معاملہ ہے اور اگر آج ہم اس کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے تو آنے والے کل میں نہ ہم اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں اور نہ جلسے ، جلوس و مظاہرہ ہی کر کے اپنی مخالفت درج کراسکتے ہیں۔ یہ کسی چینل پر پابندی عائد کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جمہوریت کے تمام اداروں کے دروازوں پر قفل لگ جائیں گے۔
غور طلب ہے کہ یہ ایمرجنسی سابقہ ایمرجنسی سے قدرے مختلف ہے۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم اندراگاندھی نے جو ایمرجنسی نافذ کی تھی اور جمہوریت کا گلا گھونٹا تھا اس وقت ملک کے حالات اتنے ناگفتہ بہ نہیں تھے۔سیاسی چپقلش تھی، اٹھا پٹک تھی، اپنی بات مسلط کرنے کی ضد تھی لیکن ملک کے کسی طبقے کو نشانہ بنانا مقصود نہیں تھا بلکہ ہرصورت اور ہر قیمت پر اقتدار پر قابض رہنے کی ہوس تھی۔ آج مظلوموں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو نشانہ بنایا جانا مقصود ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ جو ملک کی حکومت کی پالیسوں کے خلاف لب کشائی کرنے کی ہمت کرتا ہے وہ ملک مخالف ہے۔اگر وہ اقلیتوں سے متعلق ہے تو اس پر ہر ظلم و جبر روا، دلت ہے تو اسے جینے کا حق نہیں اور اگر باہمت ہے تو اسے طوق غلامی پہنانے کے لئے ہر حد سے گزرجانا مناسب ۔
یہاں واضح کرتا چلوں کہ ایک روز قبل ہی انڈین ایکسپریس کے زیر اہتمام رام ناتھ گوئنکا جرنلزم ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا تھا کہ ایمرجنسی کو ہمیشہ یاد کیا جانا چاہئے تاکہ کوئی لیڈر پھر اس طرح کی غلطی نہ کرنے پائے اور دوسرے روز ہی انہوں نے ہندوستان کے سب سے معروف،غیر جانبدار، حق پرست،حقیقت پسند چینل پر یک روزہ پابندی کی تجویز کو منظوری دے دی اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے والوں میں اپنا نام سرفہرست کر لیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سبطین کوثر

سبطین کوثر نے صحافت کا آغازاپنے وطن بہار میں واقع چمپارن کی سرزمین (موتہاری) سے کیا۔ انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا بحیثیت نامہ نگاراپنی خدمات کا آغاز کیا جہاں وہ بعدمیں ڈسٹڑکٹ انچارج اور بیورو چیف ہوئے۔ سبطین فی الوقت ایشیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی یونائیٹیڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی) سے وابستہ ہیں۔ ادارتی شعبے سے ان کا تعلق ہے، جہاں بنیادی طور پر خبر نگاری اور خبر نویسی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close