ملک کی موجودہ صورت حال اور امت مسلمہ

سید جلال الدین عمری 

حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہم سب کے لیے قابل غور ہیں ۔ اتر پردیش کے الیکش کے بارے میں جو خیال تھا، نتجہ اس کے بالکل بر عکس نکلا۔ الیکشن کے نتائج سے پہلے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ بی جے پی بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی، لیکن اسے اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ لیکن یہ تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں اور یوپی میں بی جے پی کو 312؍ سیٹیں ملیں ۔ اسی طرح گوا، اترا کھنڈ اور پنجاب کے نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں ۔

حالیہ اسمبلی الیکشن میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ مایاوتی نے مسلمانوں کا بار بار نام لیا اور 88؍ افراد کو پارٹی کاکنڈیڈیٹ بھی بنایا اور بعد میں یہی چیز اس کے گلے کی ہڈی بن گئی۔ اس کے علاوہ پورے الیکشن میں کسی پارٹی نے مسلمانوں کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا اور نہ ان کے مسائل کو حل کرنے کی بات کہی۔ اس لیے نہیں کہی کہ اگر مسلمانوں کا نام لیا تو وہ اکثریت کے ووٹ سے محروم ہو جائیں گے ۔ اور مایاوتی کے ساتھ یہی ہوا۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی بر سر اقتدار آگئی ہے۔ لوک سبھا میں تو اس کی اکثریت پہلے سے تھی، اس بات کا عین امکان ہے کہ یوپی میں اتنی بڑی اکثریت حاصل کرنے کے بعد راجیہ سبھا میں بھی اسے اکثریت حاصل ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو وہ کوئی بھی قانون بنا سکتی ہے اور اسے منظور بھی کرا سکتی ہے۔ چوں کہ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف ہے، اس لیے ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قانو ن بنائے، ان کے پرسنل لا میں تبدیلی کردے۔
ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگر بی جے پی بر سر اقتدار آئی ہے تو یہ اس کی ستر اسی سالوں کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وہ مسلسل اپنے نظریات کو پھیلانے میں لگی رہی۔ نشیب و فراز سے گزری۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنے نصب العین پر جمی رہی۔ اس دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جو کوشش کرتا ہے، اسے اس کا پھل ملتا ہے۔

مسلمانوں کی یہ تشویش بالکل فطری ہے۔ ملک میں ایک ایسی پارٹی بر سر اقتدار آگئی ہے، جو مسلمانوں کے ملی اور تہذیبی وجود کو ختم کر نا چاہتی ہے۔ان حالات میں ہم سب کو اس بارے میں غور کرنا چاہیے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟

1۔ ایک بات یاد رکھیے کہ مسلمان (موجودہ وقت میں ) سیاست کے میدان میں اگر متحد ہو جائیں اور فیصلہ کر لیں کہ انھیں کسی ایک کنڈڈیٹ کو ووٹ دینا ہے تو بھی وہ کوئی بڑی کام یابی حاصل نہیں کر سکتے۔ ایک لمحے کے لیے مان لیجیے کہ مسلمان، جو کہ اس ملک میں 20 فیصد ہیں ، متحد ہو جائیں (جس کا کوئی امکان نہیں ہے) تو کیا فریق ثانی جو کہ اس ملک میں 80 فیصد ہے، متحد نہیں ہو گا۔ ان کی آدھی تعداد بھی اگر متحد ہو گئی تو آپ ان سے ہار جائیں گے۔ اس لیے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اس ملک میں اس وقت اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ جس کو چاہیں ، تخت پر بٹھادیں اور جس کو چاہیں تخت سے اتار دیں۔ ہمیں چاہیے کہ سنجیدگی سے مسائل کو دیکھیں ، سوچیں اور سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے حل کے لیے حکمت عملی اختیار کریں ۔

2۔ دوسری بات یہ کہ اس وقت مسلمانوں کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ وہ کسی خاص نصب العین کے ساتھ کوشش نہیں کر رہے ہیں ۔ الیکش کا موقع آتا ہے تو اس پر خوب گفتگو کرتے ہیں ، لیکن سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے کہ اس جمہوری ملک میں ہماری کام یابی کا کیا راستہ ہے ؟ لوگ اتحاد کا نعرہ تو بہت بلند کرتے ہیں ، مگر وہ نعرہ خلوص سے خالی ہوتا ہے۔ اس میں یہ بات پوشیدہ ہوتی ہے کہ ہر شخص یہ دیکھتا ہے کہ قیادت کس کے ہاتھ میں رہے گی؟ ظاہر سی بات ہے کہ اگر آپ کی نظر اتحاد کے بجائے قیادت پر ہوگی تو آپ کیسے کام یابی حاصل کر سکتے ہیں ؟

3۔ ہمیں اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ مسلمانوں میں موجود انتشار کی کیفیت ختم ہو ۔ اگر ہم متحد ہوں گے تو ہمارا اپنا وجود اپنے آپ میں ایک قوت کی شکل میں ہوگا، جس کو ختم کرنا بہر حال ممکن نہیں ہوگا۔ اگر اس کے مقابل منتشر رہیں گے تو سرے سے ہمارا وجود ہی بے معنی ہوگا۔

4۔ اب اس بات کا وقت نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تنقید کریں ، ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں ، ایک دوسرے پر لعن طعن کریں ۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جو ہونا تھا ہو چکا۔ ہمیں ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند بننا ہوگا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جنگ احد میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے جیتی ہوئی بازی شکست میں تبدیل ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ کچھ لوگوں کی وجہ سے یہ شکست ہوئی۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ہدایت کی کہ : ’ان کے قصور معاف کردو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور امور مملکت میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو‘ (آل عمران: 159)۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ بیتی باتوں کو بھلا کر باہم مشورہ سے پروگرام طے کیں ۔

5۔ بی جے پی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک حریف کی طاقت کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا پورا فلسفہ ہی اس بنیاد پر ہے کہ مسلمان اس ملک میں اپنی انفرادیت کے ساتھ باقی نہ رہیں ۔ دنیا میں شاید ہندوستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں اقلیت سے اکثریت ڈرتی اور خوف کھاتی ہے۔ اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اب ہم انھیں بتائیں کہ ہم ان کے حریف نہیں ہیں ، بلکہ ان کے خیر خواہ ہیں ۔

6۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ مسلمان زیادہ تر معاملات میں جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حالات اچھے برے ہر طرح کے آتے ہیں ۔ پہلے بھی آتے رہیں ہیں اور اب بھی آئیں گے۔ لیکن سخت سے سخت حالات میں بھی ہمیں جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر آپ نے جرأت اور ہمت کھو دی تو کام یاب نہیں ہو سکتے۔ جنگ احد میں مسلمانوں کی شکست ہوئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: (تم ہی سربلند رہو گے اگر تمہارے اندر ایمان ہے)۔

اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو سربلند ہونے کے لیے ہی پیدا کیا ہے اور ہم سربلند ہو کر رہیں گے۔ بشرطے کہ ہم اپنے اندر جرأت و ہمت پیدا کریں کہ ہم اسلامی نظریات اور اصولوں پر قائم رہیں گے اور دین کے جس حصے پر عمل کر سکتے ہیں اس پر لازماً عمل رکیں گے اور جس پر عمل نہیں کر سکتے اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ اس میں ہماری مدد فرما اور جو رکاوٹیں ہیں اسے اپنے فضل و کرم سے دور فرما!

7۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری حیثیت اس ملک میں داعی امت کی ہے۔ یعنی ہم دوسروں کو اللہ کے دین کی دعوت دینے والے ہیں ۔ ہمیں اپنی اس حیثیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے_دشمن ہو یا دوست، سب تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

8۔ آخری بات یہ کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نازک حالات میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ اہل ایمان کی پہچان ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مادی تدابیر کے بارے میں تو خوب غوروفکر کرتے ہیں ، لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ہم سے غفلت ہوتی ہے۔ دراں حالےکہ اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر ہم کوئی بھی کام انجام نہیں دے سکتے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ ’ جب کوئی مصیبت ان پرآتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے‘۔ (البقرۃ: 154)
اللہ تعالی ہمیں دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین

(تلخیص: محمد اسعد فلاحی )



⋆ سید جلال الدین عمری

سید جلال الدین عمری

مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند ہیں۔ آپ صاحب طرز ادیب اور معروف دانش ور ہیں۔ موصوف نے کم و بیش ساٹھ کتابیں تصنیف کی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

قلب اور کیفیاتِ قلب

جو لوگ دل و دماغ سے کام نہیں لیتے، دیکھنے میں تو جانوروں سے وہ مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کا قد سیدھا ہے، چار پیر کی جگہ دو پیر سے چلتے ہیں، ہاتھوں سے چیزوں کو پکڑتے اور استعمال کرتے ہیں۔ بے زبان نہیں، منہ میں زبان رکھتے ہیں، لیکن ذہن و مزاج اور رویہ کے لحاظ سے جانور ہی ہیں۔ جانور کو زندہ رہنے، کھانے پینے اور جنسی خواہش کی تکمیل اور نسل کَشی سے آگے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی ان ہی امور کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: بل ہم اضل، (بلکہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں )۔ اس لیے کہ جانور کوعقل نہیں ہے، لیکن یہ باعقل و باخرد جانور ہیں۔ جانور سے قیامت میں باز پرس نہ ہوگی کہ اس نے کیا دیکھا، کیا نہیں دیکھا، قلب و دماغ سے کام لیا یا نہیں لیا، لیکن انسان کو ان سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وجہ سے کہا گیا کہ یہ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔