خصوصیماحولیات

ممبئی کی برسات: ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر، تباہی بال کھولے سو رہی ہے

ڈاکٹر سلیم خان

ممبئی میں بادوباراں کی آمد جون کے دوسرے ہفتہ میں ہوجاتی ہے۔ اس بار تاخیر ہوئی تو عوام و خواص تشویش اور اندیشوں کا شکار ہوگئے۔ محکمہ آب رسانی نے اعلان کردیا کہ تھا اب چند دنوں کا پانی بچ  گیا ہے اور پھر شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یہ کیفیت  ۲۰۱۹ ؁ کے قومی انتخاب سے قبل بی جے پی والوں جیسی تھی۔ وہ لوگ سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں دوبارہ منتخب ہوسکیں گے یا نہیں ؟ اور اگر اکثریت نہیں آسکی تو کیا ہوگا؟ کس کی مدد سے سرکار بنائی جائے گی؟ کون وزیر اعظم ہوگا وغیرہ وغیرہ  مگر نتائج کے آتے ہی  سارا منظر بدل گیا۔ ممبئی کی برسات بھی ایسی آئی کہ اس نے صرف ایک استثنیٰ  کے ساتھ ۴۵ سال کا ریکارڈ تقریباً توڑ دیا ۔ ۴۵ سال سے یاد آیا  مودی سرکار نے بھی بیروزگاری کے میدان میں ۴۵ سال کا ریکارڈ توڑ دیا تھا اور اب تو پتہ چلا ہے کہ اس کی مدتِ کار میں  ساڑھے ۶ لاکھ صنعتیں بند ہوگئیں  لیکن  ان سب تباہیوں کے باوجود مودی جی کامیاب ہوگئے اور بربادیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا۔ ممبئی کی برسات بھی اپنے ساتھ مشکلات اور تباہیاں لائی لیکن لوگ پہلی بار تین سو پار کی مانند خوشی منارہے  تھے۔

اس  دھواں دار برسات کے پیش نظر حکومت نے تعطیل کا اعلان کیا  جسے بادلوں نے سن لیا اور نہایت فرمانبرداری کے ساتھ دوسرے علاقوں کی جانب چھٹی پر نکل گئے۔ اپنی ہجرت سے قبل ان بارشوں نے ممبئی کے اندر جو ہنگامہ برپا کیا اس میں  سب سے بڑا نقصان ملاڈ کے کرار گاوں میں ہوا۔ وہاں پر دو مقامات پر جنگل کی دیوار گر گئی۔ اس میں سیکڑوں جھگیاں بہہ گئیں ، ہزاروں بے گھر ہوگئے ۲۲ لوگوں کے ہلاکت کی تصدیق ہوگئی اور نہ جانے کتنے زخمی ہوئے۔ ایک زمانے میں فصیل شہر باشندوں  کو تحفظ فراہم کرتی  تھی  اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جنگلوں کوانسانی قبضے سے محفوظ رکھنے کے لیے دیوار کھڑی کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے سارے بڑے شہر کانکریٹ جنگل میں تبدیل ہوچکے ہیں جن میں ممبئی بھی شامل ہے لیکن اس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس میں ایک باقائدہ جنگل ہے۔ گوریگاوں میں  آرے کالونی سے لے کر بوریولی اور تھانے تک وسیع و عرض جنگل کو اپنی حالت میں محفوظ رکھنے کے لیے حکومت  کو سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ  جمہوریت میں اس  زمین پر بلڈرس کو تعمیر کاپروانہ دیا جاتا ہے مگر غریب لوگوں کے راستے میں دیوار کھڑی کی جاتی ہے۔ بقول شاعر؎

غریب لہروں پہ پہرے بٹھائے جاتے ہیں

سمندروں کی تلاشی کوئی نہیں لیتا

اس سال  ممبئی (ملاڈ )کے کرار گاوں میں ایک دیوہیکل دیوار ڈھے گئی اوراپنے  نیچے کئی لوگوں کو زندہ درگور کردیا۔ اس دیوار کے گرنے کی دو اہم وجوہات تھیں  اول تو اس کی بنیاد کو بدعنوانی نے  کمزورکیا   اور دوسرے اس کے سائے میں رہنے والوں نے زمین کھود کر اسے مزید خستہ حال  کردیا۔ عوامی  تحریکوں کے لیے ان اسباب میں درسِ عبرت ہے۔ اگر کسی اجتماعیت  کی بنیاد کمزور ہو اور دیوار  مضبوط ہو تو وہ مشکلا ت کا مقابلہ نہیں کرپاتی اور جب آزمائش کا تیز ریلہ آتا ہے تو اس کے ساتھ بہہ جاتی ہے۔ اس تباہی  سے سب سے زیادہ اس کے سائے میں پناہ لینے والے لوگ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ  وہی اس کی بنیاد کو کمزور کرنے کے لیے بھی  نادانستہ  ذمہ دار ہوتے ہیں۔  ہر خاص و عام پر یہ حقیقت واضح  ہے کہ بنیان ِ مرصوص تعمیر کرنے  کے لیے مضبوط بنیاد لازمی ہے اس کے باوجود یہ سچائی ہے کہ باطن  کے بجائے ظاہری زیب و زینت پر زیادہ توجہ کی  مستحق بن جاتی ہے؟ اس خرابی  کی پہلی  وجہ تو یہ ہے کہ  زمین کے اندر پوشیدہ  بنیاد کی پختگی  نظر نہیں آتی اور اوپر تعمیر شدہ دیوار کی چمک دمک  دکھائی دیتی ہے۔ فی زمانہ ہر تحریک اپنے ہمعصروں کی مسابقت میں اونچی سے اونچی دیوار تعمیر کرکے اپنا قد بڑھانا چاہتا ہے۔

  اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بنیاد مضبوط کرنے کا کام زیادہ محنت طلب ہے۔ اس میں سخت زمین کو کھودنا  اور  نرم کرنا پڑتا ہے اس کے برعکس  ہوا میں دیوار اٹھانے کا کام بغیر کسی مزاحمت کے ہوجاتا ہے۔ اس طرح کم محنت سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے چکر میں ایسی دیواریں اٹھائی جارہی ہیں جو بظاہر بہت خوشنما معلوم ہوتی ہیں لیکن تندو تیز  حالات کے زیروبم کا مقابلہ نہیں کرپاتیں۔  دینی تحریکات کو خاص طور پر اس جانب بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے کہ ان کی نظریاتی بنیاد نہایت مستحکم ہو۔ قرآن حکیم میں شجر طیبہ کا خبیثہ پر یہ امتیاز نہیں بتایا گیا کہ اس کا تنا کتنا مضبوط ہوتا ہے یا پتےّ کتنے خوشنما ہوتے ہیں بلکہ سورۂ ابراہیم میں  فرمایا‘‘ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں’’۔

اس آیت کریمہ میں  جڑ کی گہرائی کو شاخوں کی اونچائی پر اولیت دی گئی  ہے۔ اسی کے ساتھ آرائش و زیبائش کے بجائے افادیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ‘‘ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے ’’۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اذن الٰہی سے  اس کے شاخوں پر لگنے والے  ثمرات  سے  عامتہ الناس فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اسی طرح شجر خبیثہ کے غیر مستحکم ہونے  کو اس طرح بیان کیا کہ  ‘‘ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے ’’۔ عدم استحکام  شجر طیبہ و  خبیثہ کو یکساں طور پر کمزور کردیتا ہے۔ ان  دلنشین تمثیلات  کے درمیان میں ارشادِ ربانی ہے ‘‘یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں’’۔ ان آیات  میں امت کی تعمیر و ترقی میں غلطاں  اصحابِ حل و عقد کے لیے عبرت کا سامان  ہے لیکن  اب تو شاعر اسلام حفیظ میرٹھی کا یہ شعر افراد کے ساتھ ساتھ تحریکات  پر بھی صادق آنے لگا ہے؎

اک یہی دوڑ ہے اس دور کے انسانوں کی

 تیری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے

پس نوشت: ناصر کا ظمی کے شعر میں اداسی کو تباہی سے بدلنے کےلیے معذرت۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

3 تبصرے

  1. بمبئی کی برسات، دیوار خستہ بنیاد سے شجر طیبہ کی حکایت عبرتناک ہے نصیحت لینے والوں کے لیے۔

  2. ماشاء الله تبارك الله…
    بمبئی کی زبردست برسات، دیوار كى خستہ بنیاد سے شجر طیبہ کی حکایت واقعى عبرتناک ہے نصیحت لینے والوں کے لیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close