خصوصیسیاست

موت پر آنسو اور زندگی سے کھلواڑکی سیاست

ڈاکٹر سلیم خان

ملک کے عوام حیران و ششدر ہیں کہ پلوامہ پر آنسو بہا بہا کر ووٹ مانگنے والوں کو برخواست شدہ بی ایس جوان  تیج پال  سے کون سا خطرہ ہے؟ وہ   کیجریوال کی مانند کوئی جانا مانا سیاستداں بھی  نہیں ہے  تو اس سے بی جے پی والے اتنا کیوں ڈر گئے؟ یہ انتخاب اگر ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نام پر لڑا جارہا ہوتا  توبی جے پی  کو تیج پال سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت اگر کانگریس اقتدار میں ہوتی تو  مودی جی تیج پال کی حالت زار پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنے ووٹ کی گنگا بہاتے لیکن افسوس کہ اب تو خود بی جے پی اقتدار میں ہے اور پلوامہ میں مرنے والے فوجیوں کی گہار لگا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ تیج پال اس بات کی علامت ہے کہ جن فوجیوں کی موت پر سیاسی روٹیاں سینکی جارہی ہیں  وہ کس فاقہ مستی کی زندگی گزار رہےہیں ۔ تیج پال نے دوسال قبل  یہ راز فاش کرنے کے لیے ساری دنیا کے سامنے   اپنے کھانے کی ویڈیو نشر  کردی تھی۔ اس معاملے میں کوئی سیاست نہیں تھی۔ اس کا  کہنا تھا کہ  غذا کی  اس خستہ حالی میں حکومت کا قصور نہیں ہے بلکہ درمیان والے افسران ان کے پیٹ پر لات ماردیتے ہیں۔ اس ویڈیو کو  دیکھنے کے بعد وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ  نے یقین دلایا تھا کہ وہ  مناسب کارروائی کریں گے۔

  مرکزی سرکار کو چاہیے تھا کہ وہ اس شکایت   پر توجہ دیتی  اور ان افسران کے خلاف  سخت اقدام کرتی  جو جوانوں کے منہ کا نوالہ چھین لیتے ہیں اور انہیں بھوکا سونے پر مجبور کرتے ہیں  لیکن اس وقت بھی  یہ حکومت ڈر گئی اورکسی افسر کو کٹھہرے میں نہیں کھڑا کرسکی۔   اس ویڈیو کو  کسی نے غلط  یا جعلی نہیں کہا  بلکہ تیج بہادر  پر جھوٹے الزام لگا کر ملازمت سے برخواست کردیا۔ حکومت نے مظلوم کی مدد کرنے کے بجائے ظالموں کی پشت پناہی کی حالانکہ زیادتی کا شکار ہونے والا نیم فوجی دستے کا جوان تھا۔ حکومت نے اپنی  کمزوری  سے یہ پیغام دیا کہ جوانوں کو ہر ظلم و زیادتی چپ چاپ برداشت کرلینی چاہیے اور اگر انہوں نے لب کشائی کی جرأت کی تو اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔  اس معاملے سے بی جے پی کی جعلی دیش بھکتی اور دلیری کی قلعی کھل گئی   لیکن انتخاب کے آتے آتے لوگ اس معاملے کو بھول بھال گئے۔ سماجوادی نے اسے ٹکٹ دے کر عوام کی یاد تازہ کردی۔

تیج بہادر یادو کی نامزدگی کے رد ہونے پر کیجریوال کا تبصرہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے  کہا  کہ ’’تاریخ میں ایسے کم ہی مواقع ہوں گے جب اس ملک کا جوان اپنے پی ایم کو چیلنج کرنے کو مجبور ہو۔ تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ وزیراعظم  ایک جوان سے اس قدر ڈر گئے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے تکنیکی خامی نکال کر نامزدگی رد کرا دی۔‘‘ کیجریوال کے بیان کا  یہ حصہ  ہر شہری کے من کی بات ہے کہ  ’’مودی جی! آپ تو بہت کمزور نکلے، ملک کا جوان جیت گیا‘‘۔ ہار  جیت کا فیصلہ تو خیر نتائج کے بعد  ہوتا   لیکن مودی جی تو جنگ سے پہلے ہی ہار گئے۔

تیج بہادر جیسے لاکھوں فوجیوں پر ظلم کرنے والے وزیراعظم اپنی  تقریر میں کہتے ہیں   کیا وہ نوجوان، جو پہلی بار ووٹ کرنے والے ہیں پلواما شہیدوں کے لئے بی جے پی کو اپنا ووٹ دے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم  کو توقع رہی ہوگی کہ اس جال میں پھنس کر نوجوان جوق در جوق کمل کھلائیں گے لیکن اس کا الٹا اثر ہوا ہے۔ وارانسی کے توفہ پور کا بی ایس ایف جوان  رمیش یادو پلوامہ میں ہلاک ہوگیا۔ اس  کے اکلوتے بھائی راجیش یادو کا کہنا ہے ، ـ’مودی کیا بکواس کر رہے ہیں۔ ان کی باتیں سن‌کر مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ یہ شہیدوں کے خون سے کرسی سجانے میں لگے ہوئے ہیں۔جوانوں کے نام پر ووٹ مانگنے سے بدتر اور کچھ نہیں ہو سکتا‘۔ راجیش سی بی آئی تفتیش کا مطالبہ کرتے ہیں  کہ  ’ جوانوں نے ہوائی جہاز کی مانگ کی تھی حکومت نے کیوں  نہیں سنی؟‘

اسی گاؤں کے کسان رام ناتھ پٹیل بھی  شہید کے نام پر ووٹ دینے کے بجائے  مودی سے  اپنا کام دکھا نے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ رمیش کے والد شیام نارائن یادو کو شکایت ہے کہ ،’جب میرا بیٹا شہید ہوا تھا تو ڈی ایم کے ساتھ کئی افسر میرے گھر پر آئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ راستے بن جائیں‌گے، میرے بیٹے کے نام پر گیٹ بنے‌گا، لیکن وہ لوگ کہہ‌کر چلے گئے اور ابھی تک نہیں آئے۔ ‘اس گاوں کے پہلی بار ووٹ ڈالنے والے ببلو یادو کہتے ہیں،’جس دن سے ٹی وی پر پی ایم کی تقریر سنا ہوں دماغ اس دن سے خراب ہے۔ ہم کتنی عزت کرتے تھے مودی کی۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ ہمارے جوان کی شہادت کا بدلہ لیں‌گے لیکن کیا کیا انہوں نے، کچھ تو نہیں۔ ‘ببلو کے ساتھی انوپ کمار کا کہنا ہے۔ ’’ ایئر اسٹرائک میں کتنے مرے، سب لوگ الگ الگ بتا رہے ہیں۔ جو چیز ہماری فوج کو بتانی چاہیے وہ مودی جی بتا رہے ہیں اور اب وہی مودی جوان کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں ‘۔

خواتین کے اندر بھی  اس بابت ناراضگی ہے۔ کالج  کی طالبہ  ریکھا سنگھ کہتی ہیں،’ ’بی جے پی کی حکومت ان کو شرم بھی نہیں آتی۔ یہ اپنی غلطی کو اپنی تعریف بتا رہے ہیں۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنا جوان کھویا ہے وہ ابھی اس دکھ سے ابھر بھی نہیں پائے ہیں اور یہ جگہ جگہ بینر لگاکر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ مودی کو دیکھیے، وہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ پلواما شہیدوں کے لئے آپ ووٹ نہیں کریں‌گے۔ مطلب یہ کیا چاہتے ہیں کہ ہم ان کو ووٹ دےکر پھر اپنے جوانوں کو جان‌کے دشمن بن جائیں۔اس حکومت سے اتنا دل اوب گیا ہے کہ کسی کو ووٹ دینے کا دل ہی نہیں کرتا ہے۔ لوگوں کو صرف اپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے، کسی کو عوام کی فکر ہی نہیں ہے۔ کوئی عورتوں کے تحفظ پر بات کرنے والا نہیں ہے۔ ‘

رمیش یادو کی ۲۶ سالہ  بیوہ  رینو  سوال کرتی ہیں ’’مودی کون ہوتے ہیں فوج کے نام پر ووٹ مانگنے والے؟ میرے شوہر تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، وہ تو چلے گئے اور آج مودی ان کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ اگر مودی ہوائی جہاز کا انتظام کر دیتے، تو آج میرے شوہر زندہ ہوتے۔ اس دنیا میں ہوتے، ہمارے ساتھ ہوتے۔ ‘رمیش کی ماں راجمتی دیوی کہتی ہیں ’’یہ یوگی-مودی کون ہیں، اب ہم کسی رہنما کو نہیں جانتے۔ ہمارا بیٹا ملک کی راہ میں شہید ہوا ہے۔ اب ہم بھی ملک کے لئے کچھ کریں‌گے۔ یہ ہمارے ملک کی فوج ہے، یوگی-مودی کی نہیں۔ ملک کے لوگوں نے میری مدد کی ہے، ہم بھی عوام کی مدد کریں‌گے، کسی رہنما کی نہیں۔ ‘وزیر اعظم بڑے بڑے جلسہ جلوس کرکے جتنا چاہیں اپنا من بہلا لیں لیکن عوام انہیں سبق سکھا کر رہیں گے۔

مودی جی کے احساسِ کمتری کا ایک ثبوت ان کے اپنے پرچۂ نامزدگی کے موقع پر سامنے آیا۔ یہ کسی طابعلم کے مدرسے میں داخل ہونے جیسی ایک سادہ سی تقریب ہوتی ہے امیت شاہ سے لے کر راہل گاندھی تک سبھی نے اسی طرح سے اپنے کاغذات داخل کیے لیکن وزیراعظم نے گویا امتحان میں کامیابی کا ماحول بنادیا۔ وہ ایک ٹرین بیٹھ کر دہلی سے بنارس گئے۔ راستے میں کانپور اور الہ باد میں اسے ۴۰ منٹ روک کر انتخابی تقاریر کیں  اور ایک بہت بڑا جلوس نکالا جس میں وارانسی کے کم اور باہر کے زیادہ لوگ تھے۔ اس کے بعد ہندوستان بھر سے این ڈی اے اور بی جے پی کے معمر رہنماوں کوو ہاں  بلاوجہ آشیرواد دینے کے لیے بلایا گیا۔ یہ سب کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی  کیونکہ  پانچ سالوں میں انہوں نے اپنے حلقہ کی ترقی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔اگر شہر میں کام ہوا ہوتا تو اس نو ٹنکی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ خیر دیکھنا یہ ہے کہ لوگ ان کے جھانسے میں آتے ہیں سبق سکھاتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close