موت کی دستک: اپنے بچوں کو بچائیے

ڈاکٹر عابد الرحمن

کیرالا کے ایک سولہ سالا لڑ کے نے خود کشی کر لی ، اس نے اپنی ماں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر وہ مر گیا تو پریشان مت ہونا، یعنی وہ خود کشی کی پیشگی تیاری میں تھا۔ اس کے بعد ممبئی میں ایک 14، سالہ لڑ کے نے بلڈنگ کی ساتویں منزل سے کود کر خود کشی کی۔ اگست میں مغربی بنگال میں ایک پندرہ سالہ لڑ کے نے اپنے گھر کے باتھ روم میں منھ پر پلاسٹک بیگ لپیٹ کر خود کشی کرلی۔

مدھیہ پردیش میں ساتویں کلاس کے ایک کمسن بچے نے بھی اپنے اسکول کی تیسری منزل سے کود کر خود کشی کر نے کی کوشش کی لیکن ساتھی طلباء نے اسے پکڑ لیا اس طرح وہ بچ گیا۔ اسی طرح خود کشی ہی کے لئے اپنے گھر سے بھاگ کر پونہ کی طرف جانے والے سولا پور کے ایک لڑ کے کو پولس نے اس اقدام سے بچا لیا۔ خود کشی اور خود کشی کی کوششوں کی یہ ساری خبریں ،گھریلو تنازعات ، ٹینشن ،ڈپریشن ،کوئی معلوم نفسیاتی مرض، تعلیمی میدان میں ناکامی، والدین کی غربت یا قرض سے پریشانی کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ یہ انٹرنیٹ کی مدد سے چلنے والے ایک کھیل کی وجہ سے ہیں جس میں کھیلنے والابراہ راست انٹر نیٹ کے ذریعہ اس کھیل کے اڈمنسٹریٹر سے جڑا ہوتا ہے اس کھیل کے لئے لازمی شرط یہ ہے کہ کھیلنے والے کو اس کے اڈمنسٹریٹر ( اڈ من) کے ذریعہ دی جانے والی ہدایات پر من و عن عمل کر نا ہوتا ہے اور اس کی فوٹو یا ویڈیو بطور ثبوت اسے بھیجنا بھی ہوتا ہے، اس سے سرتابی کی صورت میں اسے اور اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔

اس گیم کا نام بلو وھیل چیلنج ( BLUE WHALE CHALLENGE ) ہے جس میں کھیلنے والا دراصل چیلنج قبول کرتا ہے جو اور اسے ہدایت کار کے ذریعہ دی جا نے والی مختلف ہدایات ہوتی ہیں جو بتدریج پر آشوب ہوتی جاتی ہیں خبروں کے مطابق اس کی شروعات کچھ بظاہر آسان ہدایات سے ہوتی ہے جیسے کوئی خاص قسم کی موصیقی جو ہدایت کار کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے سننے یا ڈراؤنے ویڈیو دیکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے ،ان ہدایات کی کامیاب تکمیل کے بعد کے مر حلوں میں کسی اونچی چھت ( جو جتنی اونچی ہو اتنی بہتر ) کے کنارے پر کھڑے رہنے یانیچے پیر لٹکا کر بیٹھنے ،کسی پل کے کنارے کھڑے رہنے ،رات کے وقت قبرستان جانے، علی الصبح اٹھ کر ریلوے ٹریک پر جانیکی ہدایات ہوتی ہیں اور ان کی کامیابی کے بعد شروع ہوتا ہے اصل گیم جس میں سب سے پہلا کام اپنے جسم کے کسی حصہ پر بلیڈ یا کسی نوکدار چیز سے کٗوئی خاص نشان بنانے یا کوئی لفظ، عدد یا جملہ لکھنے کی ہدایت سے ہوتی ہے جن کی کامیابی کے بعد ،کسی نوکدار چیز سے اپنے جسم کو چھید نے یا اور کسی قسم کا زخم لگانے یا نقصان پہنچانے کی ہدایات ملتی ہیں۔

یہ چیلنجس پورا نہ کر نے کی صورت میں ہدایت کار کے ذریعہ سزا بھی تجویز کی جاتی ہے جو اپنے جسم کو مختلف طریقوں سے زخم لگا کر یا چھید کر تکلیف پہنچانے کی صورت میں ہوتی ہے۔ ان سب چیلنجس کو پورا کر نے والوں کو یہ گیم جیتنے کے لئے آخری چیلنج موت کی صورت میں قبول کر نا ہوتا ہے اور پوری دنیا میں جتنے بھی لوگ اس گیم میں جیتے ہیں وہ دراصل خود کشی کر کے مرے ہیں۔ بلو وھیل چیلنج کے علاوہ اس گیم کے اور بھی کئی نام ہیں مثلاً اے سائیلنٹ ہاؤس A SILEN HOUSE))، اے سی آف وھیلس(A SEA OF WHALES) اور ویک می اپ ایٹ 4;20am  WAKE ME UP AT 4:20am))  یہ گیم روسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے ذریعہ کھیلا جاتا ہے ،کھیلنے والے اسے دوسری نیٹ ورکنگ سائٹس پر بھی شیئر کرتے ہیں اس طرح اس کا سرکل بڑھتا جاتا ہے۔ یہ گیم ایک روسی شہری Philipp Budeikinنے بنایا ہے جو کہ نفسیات کا طالب علم تھا لیکن کسی وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ روس میں اس گیم کی وجہ سے ہونے خود کشیوں کے منظر عام پر آ نے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا اس نے  کم از کم سولہ نوجوان لڑکیوں کو اس گیم کے ذریعہ خود کشی پر اکسانے کا جرم قبول کیا تھا، ا س گیم کو بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ وہ سوسائٹی کو ایسے لوگوں سے صاف کرنا چاہتا ہے جن کی کوئی ویلیو نہیں ایسے لوگوں کو اس نے BIOLOGICAL WASTE  کہا تھا۔

یعنی اس کے مطابق اس گیم سے وہی لوگ جڑتے ہیں جوبے وقعت اور حیاتیاتی کوڑا ہیں جن کی صفائی سوسائٹی کے لئے مفید ہے۔ اس گیم کی وجہ سے صرف روس میں 130 نوجوان لڑ کے لڑ کیوں کی خود کشی کی خبر ہے اور اب تو یہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ وطن عزیز میں بھی مذکورہ بالا معاملات اسی جڑے دکھائی دیتے ہیں ،حالانکہ ابھی اس کے پختہ شواہد سامنے نہیں آئے ہیں لیکن مدھیہ پردیش میں ساتویں کلاس کے جس بچے کو اس کے ساتھیوں نے بچالیا اس کے متعلق خبر ہے کہ اس نے گیم کی تمام اسٹیجس اپنی اسکول ڈائری میں لکھ رکھی تھیں۔

   یہ دراصل موت کی دستک ہے جوہمارے گھروں میں گھس کر سیدھے ہمارے معصوم بچوں کے دماغوں تک آ پہنچی ہے۔ اس سے اپنے بچوں کو بچانا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ حکومت نے اپنا کام کردیا ہے کہ اس نے فیس بک واٹس ایپ گوگل یاہو اور مائکرو سا فٹ وغیرہ سوشل نیٹورکنگ اورانٹر نیٹ کے بڑے ناموں کو خط لکھ دیا ہے کہ موت کے اس کھیل تک لے جانے والے تمام مواد بند کردئے جائیں۔ لیکن یہی کافی نہیں ہے اس میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے بچے اس جال میں کیوں کر پھنسے جارہے ہیں۔ یہ سب دراصل ٹکنالوجی کی آسان اور سستی فراہمی اور سماج کے اس پر منحصر ہو جانے کا کرشمہ ہے ،ہمارے یہاں اسمارٹ فون کلچرعام ہو گیا ہے ،سوشل میڈیا کا استعمال بے تحاشہ بڑھ گیا ہے اسمارٹ فون کے ذریعہ ننھے بچوں کو تفریح فراہم کرنے کا رجحان بھی بڑھا ہے، بلکہ اسے اسٹیٹیس کا معاملہ بنا لیا گیا ہے۔ لیکن اس کے نقصان کی کسی کو پروا نہیں ،اول تو اس سے یہ ہورہا ہے کہ سوسائٹی سوشل میڈیا کے ذریعہ تو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے لیکن حقیقتاً اور پریکٹیکلی کسی کو کسی سے بات کر نے کی بھی فرصت نہیں رہی یہاں تک کہ گھر کے افراد اور اپنے بچوں تک سے کھل کر تفصیلی بات کر نے کی بھی فرصت کسی کو نہیں رہی جس کی وجہ سے گھر کا ہر شخص اپنی علٰحیدہ دنیا میں مگن ہو گیا ہے اور یہ بات بچوں کے معصوم اذہان پر بہت شدت سے اسٹرائک کر رہی ہے۔

اسمارٹ فون سے ہمارا یہ تعلق اور اسی اسمارٹ فون تک ان کی آسان رسائی کی وجہ سے ان میں اپنے بڑوں سے پوچھنے ،صلاح لینے اور ان کی ہدایات پر عمل کر نے کی بجائے دیکھا دیکھی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وہ سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعہ اپنے گھر میں رہ کر بیرون ممالک کے لوگوں سے دوستی کر نے میں فخر محسوس کرتے ہیں ،انہی کی طرح رہنے اور کر نے کی خواہش ان میں پیدا ہو رہی ہے خاص بات یہ کہ سوشل میڈیا کی زیادہ تر باتیں جھوٹ اور جعلی ہوتی ہیں ،لوگ رہتے ہیں جھونپڑیوں میں ،فٹ پاتھوں پر اور بنگلوں کی تصویروں کو اپنا گھر بتا تے ہیں جس کی وجہ سے یہاں ان سے اچھی حالت میں رہنے والے بھی اپنے آپ کو کم حیثیت سمجھ کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان جیسے بننے کی خواہش میں الٹے سیدھے اقدام کر نے لگتے ہیں جس میں دور دراز کے ان انجان لوگوں سے مشورہ لینے اور ان کی ہدایات پر عمل کر نے میں بھی انہیں کوئی پرابلم نہیں ہوتا اس طرح ڈپریشن بڑھتا رہتا ہے جو انہیں بلو وھیل جیسے جان لیوا کھیلوں تک پہنچا دیتا ہے۔

لہٰذا اس طرح کے کھیلوں کو بند کر نے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے موبائل استعمال ،موبائل گیمس اور ان کے سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اسی طرح ان کے مزاجوں میں ہونے والی یک لخت یا بتدریج تبدیلیوں پر بھی خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دہرادون میں ایک اسکول پرنسپل کی اسی توجہ نے پانچویں کلاس کے ایک بچے کو بلو وھیل کے منھ میں جانے سے بچا یا ہے۔ ہوا یہ کہ اسکول پرنسپل نے نوٹس لیا کہ سب بچے کھیل رہے ہیں اور ایک بچہ اکیلا کھڑا ہے اور یپریس بھی دکھائی دے رہا ہے اس نے اس بچے کی کلاس ٹیچر سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ بچہ ابھی تک ایسا نہیں تھا ، پرنسپل نے حکمت سے اس بچے سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتا یا کہ وہ بلو وھیل چیلنج سے جڑا ہوا ہے۔ جس کے بعد اس کی نفسیاتی کاؤنسیلنگ کی گئی۔ سو ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پوری آزادی دیں لیکن انہیں اپنی توجہ کے مکمل حصار میں رکھ کر بلو وھیل گیم کے موجد کے بقول حیاتیاتی کچرا ( Biological Waste)بننے سے بچائیں۔

 نوٹ : اس مضمون کی تیاری میں وکی پیڈیا اور انٹر نیٹ پر موجود دیگر رپورٹس سے مدد لی گئی۔ 



⋆ عابد الرحمن

عابد الرحمن
ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. شاہد حبیب فلاحی

    بہترین تحریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے