خصوصیدعوتمذہب

موجودہ حالات میں سرگرمیوں کا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز ہونا چاہیے!

محمد آصف اقبال

انسانوں کی بڑی تعداد اس بات سے ناواقف ہے کہ ان کی حقیقی ضروریات کیا ہیں ۔یہاں تک کہ وہ دنیا میں آنے کے  مقصد سے بھی ناواقف محسوس ہوتے ہیں ۔پھر جس انہماک کے ساتھ موجودہ دور میں فرد واحد اور معاشرہ معاشی تگ و دو میں سرکرداں ہے اِس میں اُسے سرے ہی سے اس بات کا موقع میسر نہیں آتا کہ وہ معاشی سرگرمی کے علاوہ بھی دیگر مسائل کی جانب متوجہ ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ جن حالات سے وہ دوچار ہے اِن حالات میں مسائل کا آغاز اور انتہا اُس کے معاشی مسائل کے ارد گرد گھومتے ہوتے ہیں ۔ویسے دیکھا جائے تو معاشی استحکام انسانی بقاء کے لیے ضروری ہے۔اس کے باوجوداس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ فرد واحد یا معاشرہ موجودہ معاشی ضروریات کے پس منظر میں آئندہ آنے والی پشتوں کی فکر میں مبتلا ہوجائے۔

دوسری جانب معاشی استحکام میں مصروف عمل رہنے والے وہ لوگ زندگی کے آخری ادوار میں اور زندگی کے بعد کے دور میں ناکام ٹھہرتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد ہی ہر طریقہ سے دولت کا حصول ہے۔دولت کے حصول میں انہوں نے حرام و حلال کی فکر نہیں کی اور نہ ہی وہ دوسروں پر استحصال سے گریز کرتے ہیں ۔دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو استحصال کا شکار ہوتے ہیں ، دولت ان کے پاس نہیں ہے ،سماج کا کمزور ترین طبقے میں شمار کیے جاتے ہیں ،معاشی استحکام تو بہت دورکی بات ہے ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں ۔وہ لوگ بھی اُسی بیماری کا شکار ہیں جس میں پہلا گروہ،یعنی دولت مند طبقہ ملوث ہے۔اور چونکہ دولت سے محروم افراد و گروہ کی زندگی کا مقصد  ونصب العین بھی دولت کا حصول ہی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ فی الوقت وہ اس سے محروم ہیں ۔لہذا نسانوں کے یہ دونوں ہی گروہ ،خاندان و معاشرے اور ملک اور دنیا کے حالات ،مسائل اور ریوں کو اسی نظریہ و فکر کے پس منظر میں دیکھتے ہیں ۔اور جب جائزہ لیتے ہیں تو جائزہ اور تجزیہ بھی اسی پس منظر میں کرتے ہیں ۔

 وطن عزیز میں سنہ 2014میں لوک سبھا انتخابات عمل میں آئے تھے۔ان انتخابات میں 543سیٹس والی لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 282سیٹوں پر راست کامیابی ملی جبکہ اُن کے اتحاد کو 336سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد 26مئی 2014کو ملک کے پندرویں وزیر اعظم کے طور پر نریندر کمار مودی نے حلف اٹھایا تھا۔اس حلف میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ملک اور اہل ملک کے مسائل حل کریں گے اور جس وعدے اور نعرے کے ساتھ یعنی سب کا وکاس سب کا ساتھ انہوں نے بطور وزیر اعظم حلف لیا تھا، اسے پورا کریں گے۔مودی حکومت کے تین سال مکمل ہو چکے ہیں ۔

ان تین سالوں کا مختلف لوگوں اور سیاسی پارٹیوں نے تجزیہ بھی کیا ہے اور جائزہ بھی لیا ہے۔موٹے طور پر جو بات ابھر کر سامنے آئی ہے اس کے دو عام  اور دو خاص دائرے سامنے آتے ہیں ۔ایک:معاشی استحکام کے نعرے اور وعدے،جس میں بہت حد تک وہ ناکام رہے ۔تو دوسری جانب "سب کا ساتھـ”یعنی معاشرے کے مختلف گروہ و اقوام کی ترقی،ان کی فلاح و بہبود کے کام اور اور انہیں امن و امان فراہم کرنا ،جس میں وہ انفرادی و اجتماعی کوششوں کے نتیجہ میں ایک خوشگوار زندگی گزارسکیں ۔وعدوں اور نعروں کے اس دائرہ میں باالمقابل پہلے وہ اور بھی بری طرح ناکام رہے ہیں ۔برخلاف اس کے ملک کے چند ہاتھوں کومعاشی و معاشرتی سطح پر فائدہ پہنچا ہے لیکن یہ وہی ہاتھ ہیں جو مودی جی سے عموماً ہاتھ ملاتے ہیں یا ان کے نظریہ سے اتفاق رکھتے ہیں ۔

وہیں دو خاص دائروں میں ایک ملک کے اندر تو دوسرا بیرون ملک موجود مختلف طاقتوں کے مقابلہ ملک کی سا  لمیت ،بقا اور تحفظ کا مسئلہ ہے۔مودی کے گزشتہ دوسالوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات ابھر کے سامنے آتی ہے کہ جس تیز رفتاری کے ساتھ وزیر اعظم نے بے شمار ممالک کے دورے کیے،اس میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی پوزیشن کا مزید اوپر اٹھانا چاہتے ہیں ۔اِسی دوران میڈیا کے ذریعہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض اوقات وزیر اعظم نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی کئی مرتبہ نظر انداز کیا۔اس کے باوجود تین سالہ جدوجہد کا اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو جس تیز رفتاری کے ساتھ بڑی تعداد میں دورے کییگئے، نتیجہ کے اعتبار سے وہ کامیاب نہیں ٹھہرے۔وہیں ملک کی سالمیت اور تحفظ کی اندرون و بیرون خانہ بات کی جائے  تو اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

اس کی ایک مثال تو کشمیر کے بد ترین حالات ہیں جہاں ریاست اور اہل ریاست پریشان ہیں تو وہیں ہندوستان کا پڑوسی ملک چین اور اس کا نیو سلک روڈ منصوبہ او ر اس میں ہندوستان کا شریک نہ ہونا ،یہ واضح کرتا ہے کہ ہم اندرون خانہ ہی نہیں بیرون خانہ بھی بے شمار مسائل سے دوچار ہیں ۔یہاں تک کہ نیپال جو ہندوستان ہی کا چربہ سمجھا جاتا رہا ہے ہندوستان سے اس منصوبہ سے دوری اختیار کیے جانے کی جانکاری رکھنے کے باوجود اُس نے بھی اِس منصوبہ پر دستخط کر دیے ہیں ۔اور صرف ہندوستان ایشائی ممالک میں واحد ملک ہے جو اس منصوبہ کا حصہ نہیں ہے۔برخلاف اس کے چین کا کہنا ہے کہ ہمارے اس نیو سلک روڈ منصوبے کا مقصد ایک ایسی اقتصادی راہ داری قائم کرنا ہے، جس کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کو زمینی اور سمندری راستے کے ذریعے ایک دوسرے سے بہتر انداز میں ملایا جائے گا۔

ان حالات میں جبکہ حکومت کو تین سالہ کارکردگی کے نتیجہ میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ملک اندرون و بیرون خانہ مسائل سے دوچار ہے۔معاشی و معاشرتی سطح پر چند ہاتھوں کے علاوہ ملک کی عوام بے چینی و اضطرابی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ایسے حالات میں حکومت جس نظریہ سے وابستگی رکھتی ہے ،سے تعلق کے نتیجہ میں بقول شخصے ابتدا میں ایک مخصوص قوم کے لوگوں ہی سے بیزاری کا اظہار کرتی آئی ہے ،لیکن موجودہ حالات میں نظریہ سے وابستہ افراد و گروہ مختلف ناموں سے یا بے نام تشدد و ظلم و زیادتیوں میں شریک ہیں ،اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹی ہے، ان کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتی نظر آتی ہے۔

اسی کا نتیجہ ہے کبھی واٹس اَپ گروپس کے ذریعہ تشدد کو فروغ دیا جاتا ہے تو کبھی مسافروں کو ظلم و زیادتیوں کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔کبھی مقدس گائے کے نام پر لوگوں کو بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جاتا ہے تو کبھی بچہ چوری کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔اس سب کے باوجود خواب دیکھنے اور دکھانے کا عمل جاری ہے وہیں جملے اور نعرے بھی مستقل استعمال کیے جا رہے ہیں ۔اور سمجھا جا رہا ہے کہ جس طرح "ہم "اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں اسی طرح پورے ملک میں امن و امان برقرار رہے۔ملک کی یہ وہ تشویشناک صورتحال ہے جسے ایک عام شہری بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔

 ان حالات میں گرچہ اقلتیں خصوصاً مسلمان سب سے زیادہ خوف و ہراس کا شکار ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دائرہ صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ملک کا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا خوب اچھی طرح واضح کررہا ہے کہ دائرہ ہر دن وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔اس دائرہ میں ہر وہ شخص آتا چلا جائے گا جو مخصوص فکر و نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ان حالات میں اب کون کیا کرے گا یہ تو وہ جانیں لیکن بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ان حالات میں اسلام سے مکمل طور پر وابستگی اختیار کی جائے۔ساتھ ہی دیگر سرگرمیوں کو ذرا کم کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی نظریہ اور اس کے عقائد سے برادران وطن کو منظم و منصوبہ بند انداز میں واقف کرایا جائے۔نیز اپنی تمام تر سرگرمیوں کے دائروں میں ایک بڑا یا سب سے بڑا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز کیا جانا چاہیے ۔یہی وقت کی آواز ہے اور یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی روشنی میں ہم اورآپ کامیاب و سرخ رو ہوں گے!

مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close