خصوصی

مودی جی!  عوام ایفائے عہد چاہتے ہیں 

نازش ہماقاسمی 
نوٹ بندی کا اب کیا اثر ہوگا اور اب تک عوام کو کیا ملا ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، حکومت کے پچاس دن کی مدت بھی اسی ہفتہ ختم ہورہی ہے لیکن اب تک کچھ ایسے آثار نہیں ملے ہیں کہ غریب عوام کو کچھ سکون مل جائے، البتہ یہ بات مکمل طور پر جگ ظاہر ہوچکی ہے کہ مالداروں اور صاحب حیثیت افراد کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے، پے در پے انکم ٹیکس کے چھاپوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے،کسی عام آدمی کے پاس سے لاکھوں اور کروڑوں کی تعدادمیں پیسہ نہیں ملا ہے اور نہ ہی اس کی امید کی جا سکتی ہے۔ البتہ امیروں کے بیڈ روم سے لے کر باتھ روم تک کار سے گھر تک ہر جگہ لاکھوں کی تعداد میں نئے نوٹ برآمدہوئے ہیں اور ہورہے ہیں۔ایک طرف دیش بھکتی کے نام پرعوام کولائن میں کھڑاکردیاگیاہے، دیش بھکتی کاپاٹھ پڑھایاجارہاہے لیکن چوردروازے سے صنعت کاروں اورنیتائوںکے گھرپیسے پہونچائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ دیش بھکتی کیاصرف عوام کیلئے ہے۔نتیائوں اور’دوستوں‘ کویہ پاٹھ کیوں نہیں پڑھایاگیا؟ انہیں دیش دروہی کیوں نہیںکہاجاناچاہئے؟  جولائن میں لگے بغیربینکوں کی ملی بھگت سے سفیددھن کرانے میں کامیاب ہو گئے۔اس ناکامی کی ذمہ داری کس پرعائد ہوگی؟ حدتویہ ہے کہ آربی آئی کے اہلکارتک گرفتار ہوئے۔ اورجس طرح ’مودی کے کپڑوں کی طرح ‘ساٹھ نوٹیفکیشن جاری کئے گئے، ہرروز نئے فیصلے سامنے آئے اور پھریوٹرن، اس سے صاف ظاہرہے کہ بغیرتیاری اور بغیر کسی مقصداورہدف کے پورے ملک کومصیبت میں ڈال دیا گیا۔ اس سے ملک میں غصہ کی زبردست لہراسی طرح ہے جس طرح ایمرجنسی کے زمانے میں میڈیاکے سامنے توعوام نہیںبولتی تھی لیکن الیکشن میں سبق سکھادیا گیا۔ ہاں حالیہ ضمنی یابلدیاتی الیکشن کے نتائج سے اس کااندازہ نہیں لگایاجاناچاہئے کیونکہ ریاستی حکومتیں جس پارٹی کی جہاں رہیں،بلدیاتی الیکشن کے نتائج اسی کے مطابق آئے۔ جس پیسہ کے حصول کیلئے غریب قطار میں لگ کر اپنی جان گنوا رہا ہے وہ گلابی دھن امیروں کو گھر بیٹھے مل رہا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے دھن کالا تھا اب گلابی ہوگیا ہے،یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ بینک سے اتنی مقدار میں پیسہ مل گیا ہو؟۔پھر اتنی مقدار میں پیسہ کہاں سے آیا؟۔اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جس کا جواب دیتا کوئی نہیں ہے لیکن جانتے سب ہیں، اور سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ اکثریت گلابی دھن والے بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ حتی کہ خود بکائومیڈیا نے بھی اس کی اطلاع دی ہے ۔
  مودی جی کا بیان کہ اگر پچاس دنوں میں نوٹ بندی کی پریشانی سے چھٹکارا نہیں ملا تو مجھے چوراہوں پر جوتے مارنا۔ عوام اس جملے سے پریشان؛ بلکہ مبہوت ہے کہ آخرش وزیراعظم بازاری جملے کیوں استعمال کر رہے ہیں؟  یہ تو سچ ہے کہ ہر ایک وعدہ پورا نہیں ہوتا اور پورا بھی نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ بطور وزیراعظم کے اپنی تمکنت کو مجروح کرنا وزارت عظمیٰ کے شایاں نہیں۔ کیوں کہ آپ کے نوٹ بندی کے فیصلے نے عوام کو غریب سے غریب تر کردیا ہے اور مالدار کالے دھن سے گلابی دھن والے ہوگئے ہیں۔ اب تک  105جانیں تلف ہوگئی ہیں اور مرنے والے سب کے سب غریب ہیں جن کے بارے میں آپ اور آپ کی حکومت یہ اعلان کررہی ہے کہ نوٹ بندی سے انہیں لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے جن کے پاس کالا دھن ہے۔ وہ بے چارے جو اپنی جان اے ٹی ایم اور بینکوں کی لائنوں میں دے چکے ہیں جن کے گھر صف ماتم بچھ چکی ہے اور ان سے ذرا پوچھئے کہ کتنے کالے دھن تمہارے باتھ روم اور کار میں جمع ہیں۔ مودی جی اب تو عوام کو دام تزویر میں الجھانا چھوڑ دیں، کیوں غریب کی جانوں سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ نوٹ بندی سے صرف اور صرف غریبوں کا نقصان ہوا ہے  اور ان ہی کا ہورہا ہے اگر ایک بھی مالدار بینک کی لائنوں میں مرتا تو ہم سمجھ لیتے کہ یہ فیصلہ آپ کا درست تھا آج تک ایک بھی مالدار شخص ہمیں بینک کی لائنوں میں نظر نہیں آیا اور نہ ہی آپ کے لیڈران۔ عوام پیسے پیسے کی محتاج ہوگئی ہے اور آپ جیسوں کا حال یہ ہے کہ کالا دھن سفید ہی نہیں بلکہ اب کلر فل گلابی ہوگیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ صحیح معنوں میں آپ کے ’جملے‘ والے بیان کو حقیقت کا جامہ پہنا دیں۔ افسوس ہوتا ہے کہ اتنے غریبوں کی جانیں ضائع ہوگئیں لیکن آج تک بی جے پی اور مودی جی ایک بھی بیان جاری نہیں کیے، کہیں سے بھی کف افسوس ملنے کی خبر نہیں آئی۔’دیش ہت ‘میں مرنے والوں کیلئے سرکارنے کیاکیا؟ کیا واقعی وہ سبھی کالے دھن کے سورما تھے۔ کیا واقعی ان کے پاس کالا دھن کا ذخیرہ تھا جو دن رات لائن میں لگ کر اپنے پانچ سو ہزار کی نوٹ بدلوارہے تھے۔ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ بس مودی جی کا یہ ہٹلری فرمان ہے اورشاید وہ اس پر عمل کررہے ہیں کہ کھائوں گا لیکن غریبوں کو کھانے نہیں دوں گا۔ خودتولاکھوں کا سوٹ پہنوں گا اور غریبوں کو ننگا کرکے ماروں گا۔
حکومت نے 8 نومبر کے بعد سے تقریباً ہر دن اور ایک دن میں کئی کئی بار قانون بدلا ہے، جتنا بچے ڈائپر نہیںبدلتے ہیں۔ آر بی آئی اور حکومت کے مزاج کو عوام یا تو سمجھ نہیں رہی ہے یا پھر سمجھ کر انجان بن چکی ہے، کرنسی کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے بلکہ ایک اعتماد ہوتا ہے جس کے تحت لوگ اس سے کاروبار کرتے ہیں،جس طرح آج 1000/500 کے نوٹ کی اہمیت ختم ہوگئی ہے اگر کل کو 100/2000 کے نوٹ کے متعلق حکومت بیان جاری کردے تو اس کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی، کرنسی سے اگر عوام کا اعتماد ختم ہوگیا تو حکومت مکمل طور پر اس کی ذمہ دار ہوگی۔نوٹ بندی کی ناکامی کو چھپانے کیلئے حکومت نے کیش لیس کا راگ الاپا ہے،وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں آج بھی دیہات کا ایک بڑا علاقہ ضروریات زندگی سے محروم ہے، جہاں بجلی نہیں ہے،موبائل نیٹ ورک صحیح کام نہیں کرتا ہے،سفر کیلئے سواری کا بندوبست نہیں ہے،پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں ہوتا ہے،بچوں کی تعلیم کیلئے اسکول نہیں ہے،علاج کیلئے اسپتال نہیں ہے،رہنے کیلئے گھر نہیں ہے،جینے کے سامان نہیں ہے،اسمارٹ فون کا رواج نہیں ہے،ایک ایسے ملک میں کیش لیس کہاں چلے گی جہاں لوگ ضرورت کی اشیاء شاپنگ مال سے نہیں بلکہ ٹھیلے والے اور پھیری والے سے خریدتے ہیں،جہاں سبزی فروشوں کو حساب تک نہیں سمجھ آتا ہے۔الیکشن کی ایک ریلی میں کھڑے ہوکر وزیر اعظم نے اتنا بڑا فیصلہ لیا تھا،اور عوام سے سینہ ٹھوک کر یہ عہد بھی لیا کہ صرف 50 دنوں کی مہلت دیجئے سب ٹھیک ہوجائے گا، اور اب کہا جانے لگا کہ 50 دنوں میں پریشانی کم ہوسکتی ہے ختم نہیں ہوسکتی ہے، پھر یہ پریشانی ختم کب ہوگی؟ کیوں حکومت کسی ایک فیصلہ پر قائم نہیں ہے؟ اور جس طرح سے آپ نے عوام کے پیسوں کی جانچ کے لئے انکم ٹیکس والوں کو فعال کیا ہے کیجری وال کی طرح آپ نے کیوں نہیں کہا کہ سیاسی لیڈران اور جماعتوں کے پیسوں کی بھی جانچ ہوگی آپ نے یہ کیوں کہا کہ سیاسی لیڈران وجماعت اس سے بالاترہیں۔ کیا وہ سبھی سفید دھن والے ہیں۔ کہیں آپ نے ایسا تو نہیں سمجھ لیا ہے کہ غریب اور کسمپرسی میں جینے والی عوام میلے کچیلے کپڑوں میں رہتی ہے اس لئے ان کے پاس کالا دھن ہے اور چونکہ لیڈران سفید اور رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں اس لئے ان کے پاس وہائٹ دھن ہے۔ اب ہمیں تو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں نوٹ بندی کے پچاس دن ہونے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر کوئی ایسا سانحہ رونما کرادیا جائیگا اور بکائو میڈیا صبح سے شام تک اور شام سے رات تک بریکنگ نیوز کے طور پر اسی خبر کوچلائے گی تاکہ عوام کے ذہنوں سے وہ چیز محو ہوجائے اور جو پریشانیاں ان پچاس دنوں میں ہوئی ہیں اسے موجودہ رونما کردہ واقعات کی آڑ لے کر ملک اور عوام کو دھوکہ دیا جائے کیوں کہ بی جے پی اور بزعم خویش وزیر اعظم وعدوں کی دنیا میں عوام کو رکھنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close