خصوصی

مودی جی کاش کہ آپ بھی عام آدمی ہوتے

عزیر احمد

مودی جی! ہمارے اس ملک کی بدقسمتی تھی کہ آپ 31 پرسنٹ ووٹ پانے کے باوجود جیت گئے, لوگوں کا اختلاف رنگ لایا, اقلیت اکثریت پہ غالب آگئی, آپ ملک کے وزیر اعظم بن گئے, بڑی بڑی باتیں کرنی شروع کردیں, کبھی من کی باتیں کیں, کبھی دھن کی باتیں کیں, ہر روز بڑی بڑی باتیں, بڑے بڑے دعوے, لوگ آپ کو سنتے رہے, اور سر دھنتے رہے, مگر اس بار آپ کے فیصلے نے انہیں سر دھننے کا بھی موقع نہیں دیا, راتوں رات آپ نے امیروں کو غریب بنادیا, اور غریبوں کو مزید غریب, کھانے کے لالے پڑ گئے, کچھ لوگ خبر سن کے مر گئے, اور کچھ لوگ لائن میں لگ کے مر گئے, پر آپ کو اس سے کیا فرق پڑا, آپ تو آمری فیصلہ سنا کر ملک سے باہر بھاگ گئے, ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ ایک ارب چوبیس کروڑ لوگوں کا کیا ہوگا, آپ کے اس ایک فیصلے کی وجہ سے ان کی زندگی نرک بن کے رہ گئی, ہر طرف افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا, لوگ سارے مسئلے بھول کر اپنی زندگی کی گاڑھی کمائی کو پھر سے کمانے میں لگ گئے, اب نہ انہیں تعلیم کی فکر رہی, نہ ترقی کی, نہ کسی کو بھوپال انکاؤنٹر یاد رہا, نہ نجیب کا غائب ہونا, بس انہیں ایک ہی فکر دامن گیر ہوئی کسی طرح وہ اپنے نوٹوں کو تبدیل کرادیں, وہ بینکوں کی طرف بھاگے, ایک ایک کیلومیٹر کی لائنیں لگائیں, دن دن بھر کھڑے رہے, سیکورٹی گارڈوں کی گالیاں سنیں, بینک منیجروں کے نخرے برداشت کئے, پھر بھی انہیں دو ہزار بھی ہاتھ نہ آئے, کیونکہ بینکوں نے کیش ختم ہونے کا اعلان کردیا, تھک ہار کے ATMs کی طرف متوجہ ہوئے, وہاں بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی, کیونکہ ابھی مشینوں میں پیسہ ہی نہیں آیا.
حیران و پریشان لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں, سمجھ میں نہیں آرہا ہے, جائیں تو کہاں جائیں, مانگیں تو کس سے مانگیں, پر آپ کہاں سے سمجھیں گے, آپ کے پاس نہ تو فیملی ہے, اور نہ ہی آپ تین گھنٹے تک لائن میں کبھی کھڑے ہوئے ہیں, تو آپ درد کہاں سے سمجھیں گے.

آپ کے بھکت آپ کے گن گا رہے ہیں, کہہ رہے ہیں, اس سے بلیک منی پہ کنٹرول ہوگا, تین دن سے ہم تماشا دیکھ رہے ہیں, بینکوں کی لائنوں میں تو صرف عام آدمی ہی نظر آرہے ہیں, غریب, فقیر, عورت, اور مڈل کلاس کے لوگ, کوئی بھی سوٹڈ بوٹڈ اور بزنس مین دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا ہے, انہوں نے تو اپنے بلیک کو وائٹ میں بدلنے کے لئے نہ جانے کتنے طریقے اختیار کر لئے ہیں, کچھ لوگوں نے اپنے گھر میں سے ہر ایک اکاؤنٹ کھلوا دئیے, اور ہر ایک کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ ڈال دئیے ہیں, کچھ لوگوں نے لاکھوں کے ٹرین ٹکٹ خرید لئے ہیں, کچھ لوگوں نے اسپتالوں اور پٹرول پمپوں سے ساز باز کرلیا ہے, بارہ تیرہ پرسنٹ پہ اپنے بلیک کیش کو وائٹ کیش میں تبدیل کروا دیا, دو چار لوگوں نے اپنے نوٹوں کو پھاڑ کے جمنا کو سونپ دئیے ہیں, غرضیکہ جتنے لوگ ہیں, اتنے ہی طریقے ایجاد کر لئے ہیں, اور ویسے بھی کوئی بھی بندہ دس بیس لاکھ سے زیادہ کیش اپنے پاس نہیں رکھتے ہیں, اس سے زیادہ پیسہ زیادہ تر لوگ گولڈ کی شکل میں رکھتے ہیں, یا پھر جائیداد کی شکل میں, لہذا آپ کا یہ کہنا کہ یہ کرپشن ختم کرنے کے لئے ہے, سراسر کرپشن ہے, آپ کے اس فیصلے نے تو اور زیادہ کرپشن کردیا ہے, پورے ملک میں فنانشئل ایمرجنسی لاگو ہوگئی ہے.

ویسے اس فیصلے سے بھلے ہی ملک کی سوا سو کروڑ کی آبادی کا نقصان ہوا ہے, ان کے زندگی کے بہترین اوقات بینک کی لائنوں میں دھکے کھاتے ہوئے گزرنے لگی, پر اس فیصلے سے آپ کی پارٹی کا بہت فائدہ ہوا, کانگریس, عاپ, سپا, بسپا اور دیگر پارٹیاں بیک فٹ پہ چلیں گئیں, آپ نے ڈھائی سال کے عرصے میں اپنی پارٹی کئی سالوں تک کے لئے مالیاتی طور پہ مضبوط کردیا ہے, اب اسے کوئی بھی ٹکر نہیں دے سکتا یے.

آپ نے اپنے فیصلے سے اپنی پارٹی کا مستقبل سالوں تک کے لئے محفوظ کرنا چاہا ہے, پر مجھے امید ہے کہ آپ کا یہ فیصلہ آپ کے گلے کا پھندا بن کے رہ جائیگا, وہ ایک ایسی ہڈی کی شکل اختیار کرلے گا کہ آپ کو نہ نگلتے بنے گا, نہ اگلتے, اور اس کا اندازہ شاید آپ کو آنے والے الیکشن میں ہوجائیگا, آج بینکوں میں بھیڑ لگی ہے, اس دن بوتھوں پہ بھیڑ لگی ہوگی, اور لوگ آپ کو ووٹ دینے کے لئے نہیں, بلکہ کی تابوت میں کیل ٹھونکنے کے لئے اکٹھا ہوں گے, پر ہوسکتا ہے یہ بھی میری خوش فہمی ہو, کیوں کہ یہاں کی عوام بہت بھولی ہے, حکومتوں کے ذریعہ دئیے گئے زخم بہت جلدی بھول جاتی ہے, اس لئے میری دعا ہے کہ اس کی یہ پریشانی جلدی نہ ختم ہو, ہر طرف ہاہاکار مچا رہے, تاکہ جن کے دل میں ابھی آپ کے محبت کی رہی سہی کسر باقی ہے اس کا بھرکس نکل جائے, پھر لوگ آپ کو ووٹ دینا تو کجا نام سنتے ہی بدکنے لگیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close