خصوصیسیاست

مودی و کیجریوال: کسی کو اس کی رعنائی نے مارا، کسی کو اس کی زیبائی نے مارا

عام آدمی پارٹی  پر لگام لگانے کی خاطر ان  کے وزراء پر دھوکہ دہی اور رشوت خوری کے الزام لگائے گئے لیکن جب اس سے بات نہیں بنی تو انہیں  عدالت میں کھینچا گیا۔

ڈاکٹر سلیم خان

اروند کیجریوال جس وقت نریندر مودی کے خلاف وارانسی سے انتخاب لڑ رہے تھے تو بہت سارے لوگوں کو یقین تھا کہ وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ ان لوگوں میں خود مودی اور کیجریوال بھی شامل تھے اس لیے کہ مودی جی نے تو حفظ ماتقدم کے طور پر بڑودہ سے بھی کاغذات نامزدگی داخل کردیئے تھے مگر کیجریوال جی نے کسی اور حلقہ انتخاب کی جانب نگاہِ غلط بھی نہیں ڈالی تھی۔ انتخابی نتائج نے سب کو مایوس کیا مودی جی دونوں مقامات پر بڑے فرق کے ساتھ کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد سیاسی مبصرین نے اروند کیجریوال کی سیاسی تعزیت کردی لیکن ۹ ماہ بعد دہلی کے صوبائی انتخاب میں کیجریوال  جی نے اپنی ہزیمت کا زور دار انتقام لیا اور راجدھانی دہلی میں مودی جی کو دھول چٹا دی۔ بی جے پی کو ۳۱ سے ۳ پر پہنچا دیا۔ مودی جی کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ایسی ذلت آمیز شکست کا سامنا کبھی بھی نہیں کرنا پڑالیکن انہوں نے اپنے کو سنبھال لیا۔ اتر پردیش کے صوبائی انتخاب میں زبردست  کامیابی درج کروا کر اپنی ساکھ بچالی اور پھر بلدیاتی انتخابات میں کامیابی درج کراکے بی جے پی دہلی کی سیاست میں لوٹ آئی۔

دہلی میں حکومت بنانے کے بعد اروند کیجریوال کے حوصلے بلند تھے مگرایسے میں ان سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی۔ انہوں  نے ۱۳ مارچ ؁۲۰۱۵ سے ۸ستمبر ؁۲۰۱۶ کے درمیان اپنے ۲۱اراکین اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری مقرر کردیا۔ حکومت کے اس فیصلے کو پرشانت پٹیل نام کے وکیل نے چیلنج کیا اس پر حکومت نے اسمبلی میں پارلیمانی سکریٹریوں کی تقرری کو منظوری دینے والی تجویزمنظور کرکے صدرجمہوریہ کے پاس توثیق  کےلئے روانہ کردی۔صدرجمہوریہ نے منظوری دینے کے بجائے اسے الیکشن کمیشن کو بھیج دیا اور الیکشن کمیشن نے صدر جمہوریہ سے  اراکین اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کی سفارش کردی تھی۔ صدر جمہوریہ نے الیکشن کمیشن کی سفارش کو منظوری دے دی جس کے بعد وزارت قانون نے ۲۱جنوری کو ان اراکین اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ آفس آف پرافٹ کے اس  معاملہ میں عدالت نے ارکان کی رکنیت کو بحال کرکے کیجریوال کی لاج رکھ لی  اور الیکشن کمیشن کو پھر سے سماعت کاحکم دے دیا۔

آسمان سے گرے تو کھجور میں اٹکے کی مصداق اس دوران دہلی کے چیف سکریٹری انشو پرکاش کے ساتھ بدسلوكی کا معاملہ سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق جناب  پرکاش کے ساتھ مبینہ طور پر یہ بدسلوکی وزیراعلیٰ  کجریوال کی موجودگی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی۔ امانت اللہ خان نے شکایت کی کہ راشن کی دکانوں پر مشین لگنے کے سبب ڈھائی لاکھ خاندانوں  کو گزشتہ مہینے سے راشن نہیں ملا ہے۔ اس شکایت پر چیف سکریٹری نے کہا کہ وہ ان سبھی سوالوں کا جواب لیفٹیننٹ گورنر کو دیں گے۔ اس پر بحث بڑھ گئی اور دو ارکان اسمبلیپرکاش جاروال اور امانت اللہ خان نے چیف سکریٹری کے ساتھ مبینہ  بدتمیزی کی۔ امانت اللہ نے الٹا انشوپرکاش پر دست درازی کا الزام لگایا۔ کیجریوال خود کسی زمانے میں آئی اے ایس افسر تھے۔ اس معاملے کو سمجھا منا کر نمٹا دیتے تو بات وہیں ختم ہو جاتی لیکن وہاس میں ناکام رہے اوراس کا فائدہ اٹھا  سرکاری افسران نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اس نا گفتہ با صورتحال سے نمٹنے کے لیے پھر سے کیجریوال نے اپنا آزمودہ نسخہ یعنی  دھرنا شروع کردیا۔ اس حکمت عملی کا عآپ کو دو بار فائدہ ہوچکا ہے۔

اس بار دھرنا دینے کے لیے سڑک پر اترنے کے بجائے دہلی گورنر کے دفتر کا انتخاب کیا گیا۔ کیجریوال  کے دو بنیادی مطالبات ہیں، اول تو  گذشتہ چار مہینوں سےہڑتال کرنے والے  دہلی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین افسران کام پر واپس لایا جائے اور جو نہیں آنا چاہتا اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ‘ڈور ٹو ڈور ‘ مہم کے تحت راشن دیے جانے کے دہلی حکومت کے فیصلے کو نافذ کیا جائے۔ دہلی کے افسران نے کام بند نہیں کیا ہے بلکہ ارکان اسمبلی سے بات کرنے کے بجائےتحریری تبادلہ خیال تک خود کو محدود کرلیا۔ عدالت میں ان لوگوں نے کہا کہ وہ لازمی نشستوں میں شریک ہوتے ہیں لیکن فروعی میٹنگس میں تحفظ و احترام کے پیش نظر شرکت نہیں کرتے۔ اس معاملے کو بیٹھ کر سلجھانے کے بجائے ان پر کارروائی کی راہ اختیار کی گئی جس حالات بگڑ گئے۔ دہلی حکومت کے سرکاری اسکولوں کے بہتر نظم و نسق کے ساتھ چلانے والے سابق آئی اے ایس افسر اور حکومت کے تعلیمی مشیر  دھیر جھنگران بھی اس معاملے میں بدظن ہوکر استعفیٰ دے دیا۔

اس ہڑتال کا قضیہ عدالت میں پہنچا تو ججوں نے سوال کردیا دھرنا تو دفتر کے باہر ہوتا ہے۔ ایل جی  دفتر میں ہڑتال کرنے کی اجازت کس سے لی گئی؟ گوکہ  حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا مگر عدالت کے رخ کا اندازہ ہوگیا۔ اس ایک ہفتے کی مشقت سے مرکزی حکومت یا اس کے مہرے گورنر جنرل کا پتھر دل تو نہیں پگھلا مگر سرکاری افسران کو اسپتال میں داخل ہونے والے دووزراء پر رحم آگیا اور انہوں نے تحفظ و احترام کی شرط پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ورنہ وہ غیر مشروط معافی نامہ پر اڑے ہوئے تھے۔ ایسے میں سسودیہ نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور  اس کی یقن دہانی کہ اس لیےبہت ممکن ہے کہ یہ معاملہ سلجھ جائے لیکن عآپ کا اس نشست میں گورنر کی موجودگی پر اصرار پھر سے ایک طفلانہ ضد ہے۔ گورنر سے جنہیں راضی کرنے کے لیے کیجریوال  گہار لگا رہے تھے وہ تیار ہیں تو پھر گورنر کو درمیان میں لانے سے کیا حاصل؟ عآپ رہنماوں کی اس عدم پختگی سے بنابنایا کام بگڑ جاتا ہے۔

عام آدمی پارٹی  پر لگام لگانے کی خاطر مرکزی حکومت نےاس  کے وزراء پر دھوکہ دہی اور رشوت خوری کے الزام لگائے گئے لیکن جب اس سے بات نہیں بنی تو  عدالت میں کھینچا گیا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیر مواصلات نتن گڈکری اور سابق وزیر قانون کپل سبل نے ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ کیجریوال کے پرستاروں کو یہ توقع  نہیں تھی کہ وہ معافی مانگیں گے لیکن انہیں مایوسی ہوئی۔ کیجریوال نے سب سے معافی مانگ لی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا  لیکن پنجاب کے ضمنی انتخاب میں ہاتھ آنے والی زبردست ناکامی نے ان کے ہوش اڑا دیئے۔ پچھلے سال پنجاب کےشاہ کوٹ میں عآپ  امیدوار کو۴۱ ہزار ووٹ ملے تھے جو اس سال گھٹ کر ۲ہزار ہوگئے۔ کیجریوال کی سمجھ میں آگیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ؁۲۰۱۹ میں وہ داستانِ پارینہ بن جائیں گے۔اس لیے قومی انتخاب سے قبل انہوں نے ہاتھ پیر مارنا شروع کردیئے۔

اروندکیجریوال کے من کی بات ان کے حالیہ ٹوئٹر پیغام میں کھل کرسامنے  آگئی۔ انہوں نے لکھا ’’ گذشتہ ایک برس سے میں نے کچھ نہیں بولا اُس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ روز بروز ہمارے خلاف نئے نئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں‘‘۔ سچ یہی ہے کہ اس ایک سال میں کیجریوال بالکل ذرائع ابلاغ سے باہر ہوگئے تھے اور انہوں نے دوبارہ اپنی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے یہ ہنگامہ برپا کیا ہے۔ یہ ستم ظریفی  ہے کہ سیاسی رہنماعوام کی خدمت  کرنے کے بجائے اپنی تشہیر کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ مودی جی کبھی غیر ملکی دورے پر نکل جاتے ہیں تو کبھی اپنی ورزش کے مضحکہ خیز ویڈیوجاری  کرکےسستی شہرت حاصل کرتے ہیں اور ان کے مدمقابل کیجریوال جی دھرنے کا ناٹک کرکے اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے ان لوگوں کو صرف انتخاب کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ کسی کو عوامی فلاح و بہبود میں دلچسپی نہیں ہے۔ عوام بیچارے ان پاکھنڈی رہنماوں کی چکی میں پس رہے ہیں اورمہنگائی کی مار سہہ رہے ہیں  بقول عنایت علی خاں(مع ترمیم)؎

کسی کو اس کی رعنائی نے مارا،کسی کو اس کی زیبائی نے مارا   

مگر اب خود کھڑی ہے منہ بسورے، کہ اس جنتا کو مہنگائی نے مارا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close