خصوصی

مولانا ابوالکلام آزاد قومی یکجہتی کے علمبردار

ظفردارک قاسمی 

مولانااابوالکلام آزاد 11؍نومبر 1888 کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر میں 1898ء میں ہندوستان کے شہر کلکتہ میں وارد ہوئے۔14؍سال کی چھوٹی عمر میں آپ نے رسالہ ’’لسان الصدق‘‘ جاری کیا جو آپ کی خداداد صلاحیت اور علمیت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ 1912ء میں آپ نے اردو اخبار ’’الہلال‘‘ جاری کیا جو اپنا ثانی نہیں رکھتا 1914ء میں برطانوی حکومت نے ’’الہلال‘‘ کی ضمانت ضبط کرلی۔ جس کے بعد آپ نے اخبار ’’البلاغ کا اجرا کیا۔
جب دہلی میںمولانا کی گاندھی جی سے پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی جن کی قیادت میںتحریک عدم تعاون میں حصہ لینے کی 1920ء پاداش میں انہیں گرفتار کرلیا گیا اور دو سال قید کی سزا ہوئی ستمبر1923میں انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس منعقدہ دہلی کے صدر ہوئے اور پھر 1930میں کانگریس کے قائم مقام منتخب کیے جانے کے بعد گرفتار کرلیے گئے اور 1932ء تک جیل کاٹی اس کے بعد 1937میں کانگریس پارلیمینٹری سب کمیٹی کے ممبر ہوئے اور 1940میںکانگریس کے صدر چنے جانے کے بعد 1944ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔یہ آپ کی زندگی کے اہم واقعات ہیں جس سے آپ کی استعداد کاپتہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
یہ سچ ہے کہ ابوالکلام آزاد برصغیر کی تاریخ کا وہ نفیس کردار ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ غیر منقسم ہندوستان کی عظیم اور مقتدر شخصیتوں میں سے ایک تھے اور یقینا علم و فراست کے امام تھے۔ آپ کو سماج معاشریہ زبان کلام بیان مذہب بین المذہبی تقابلات اور سیاست کے پیچ و خم پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے قرآن کی تفسیرلکھی مذہب کو جانچا آباء کی دیرانیہ رسومات کو ترک کیا سیاست کے دشت میں آبلہ پائی کی و نظریات کو نیا اور معتبر لب و لہجہ دیا۔ سیاسی بصیرت کے مفاہیم کو نئی روشنی دی اور خود ساختہ قائدین ملت کے اجتماعی سیاسی شعور کو نیا کردار عطاکیا۔ یقینا یہ متحدہ بھارت کا عظیم سرمایہ تھا جسے نفس پرست سیاست داں سمجھ نہ سکے اور آج نصف صدی سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود بھی ان کے ویژن، حالات کی نبض شناسی اور ان کی عظیم سیاسی بصیرت پر ہم جیسے طالب علم انہیں خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ مولانا بیک وقت انشاپرداز جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ ابوالکلام آزاد ہرلحاظ سے جامع شخصیت (Polynoth)کے مالک تھے جس میدان میں قدم رکھا اپنی شخصیت تھے۔ساتھ ساتھ یہ تھی عرض کرنا مناسب ہے کہ آپ قومی یکجہتی اور انسانی دوستی کے سچے علمبردار تھے چنانچہ اس مضمون میںآپ کے اسی نظریہ پر روشنی ڈالی جائے گی۔
ابوالکلام سمجھتے تھے کہ مسلمان ہند کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ ہندوستانی قومیت اور سیکولرزم کو قبول کرلیں لہٰذا انہوں نے کانگریس میںشمولیت اختیارکی اور بہت جلد مہاتمام گاندھی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کے جانے لگے۔
ابوالکلام قیام پاکستان کی مخالف میں برصغیر کے قائدین میں سے سے آگے رہے۔ اپنے اس موقف کوجائز ثابت کرتے ہوئے ابوالکلام واضح کرتے ہیں:
’’مسلم لیگ کی پیش کردہ قیام پاکستان کی تجویز محض ایک تخیل ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ تجویز پیش کی ہے وہ وقت، قومیت اور جدید زمانے کے خلاف جارہے ہیں۔ ہندواور مسلمانان ہند کے آبا و اجداد مشترکہ قوم ہیں کسی ایک قوم کی برتری یا کمتری کا قائل نہیں۔ انسانیت ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا چاہیے، فطرت ہمیں ہزاروں سال پہلے ایک ہی جگہ اکٹھا کرچکی ہے۔ بے شک ہم لڑتے بھی ہیںمگر یہ لڑنا دوسگے بھائیوں کے لڑنے کے مترادف ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے انگریزوار آف روزز کے دوران آپس میں نبردآزما رہے مگر دونوں متحارب انگریز گروپوں نے کبھی الگ قوم ہونے پر اصرار نہیں کیا۔ گزشتہ ایک ہزار سال سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ سماجی روحانی، اخلاقی اور مادی مفادات کے تعاقب کے حامل رہے ہیں۔ امن سے محبت رکھنے والا ہر شخص ہندو مسلم یکسانیت کا حامی ہوگا۔ مجھے سب سے زیادہ نفرت قومی مسائل کے بارے میں گروہی سوچ استعمال کرنے کے رویے سے ہے۔ مستقبل کاجو بھی دستور ہندوستانی نمائندگان طے کریں گے اس کے مطابق ہندو اور مسلم اپنی حیثیت مفادات کا تعین ہندو اور مسلم شناخت کے بجائے ایک کسان زمین دار مزدور اور سرمایہ دار وغیرہ کی حیثیت سے طے کریں گے۔
سیکولر قومیت کے تصور کے فروغ کی شدید خواہش نے ابوالکلام کے مسلم برادری کے تصور پر برتری حاصل کرلی۔ آپ نے اپنے عالمانہ دماغ کی صلاحیتیں سیکولر قومیت کے تصور کی مذہبی بنیادوں پر تلاش میں صرف کردیں۔ آپ نے فرمایا:
’’ایک مسلمان سیاسی جدوجہد میں کسی طرح ایک ہندو کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل سکتا ہے؟ قرآن ایک مسلم کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی عیسائی عورت سے شادی کرلے ایسی صورت میں ایک مسلم مرد یقینا اپنی عیسائی بیوی سے محبت کے تعلق سے وابستہ ہوگا اس طرح کوئی اور رشتہ اسے اس رشتے سے محبوب نہ ہوگا پھر اگر قرآن مسلمانوں کو غیر مسلموں سے کسی بھی قسم کے تعلق کی اجازت نہیں دیتا تو یہ کسی طرح ممکن ہے کہ قرآن مسلم مردوں کو یہ اجازت دیدے کہ وہ غیر مسلم عورتوں کو اپنے گھروں کی ملکہ اور تمام امور کی نگراں مقرر کردیں؟ اسی دلیل میں ہندو مسلم اتحاد کا راز پوشیدہ ہے‘‘۔
مولانا نے زور دے کر کہا کہ تمام مذاہب اپنے جوہر کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
’’مذہب کی جڑیں مختلف نہیں بلکہ ان کے پتے اور شاخیں جداجدا ہیں۔ ان کی روح مختلف نہیں مختلف مذاہب کی رسومات، تقریبات یقینا جدا ہوں گی اور زمان و مکان کے اختلاف سے بھی یہ امور مختلف قرار پاتے ہیںمگر خالق کائنات نے یہ تنوع ایک زبردست حکمت کے تحت ترتیب دے رکھا ہے۔ مذہب دراصل ایک ہے صرف اس کے بیرونی مظاہر، رسومات اور تہوار الگ الگ قرار پاگئے ہیں جس کے نتیجے میںکسی ایک مذہب کے ماننے والے اپنے آپ کودیگر مذاہب سے اعلیٰ وارفع خیال کرنے لگے ہیں۔ کسی ایک مذہب کا پیروکار اپنے طریقے کار کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا۔ اس طرح اگر آپ کا طریقہ یامذہب آپ کی نگاہوں میں بہترین ہے تو دیگر لوگوں خیال میں ان کا طریقہ و مذہب اعلیٰ ترین ہے برداشت ہی اس مسئلے کا آخری حل ہے‘‘۔
مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت کا ہی جو نہ صرف نظریہ پاکستان کے خالقین کے تصوراتی مملکت کے خدوخال پر ان کی گہری نگاہ تھی۔ بلکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس وقت بھی سارا منظر اور پس منظر ماضی، حال اور مستقبل کی جزئیات اور تفصیل کے ساتھ مولانا کی دور رس نگاہوں کے سامنے موجود تھا۔ یہ مولانا آزاد کی سیاسی بصیرت ہی تھی جو قومیت کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے بھیانک مضمرات محسوس کررہی تھی اور مولانا آزاد کی دور رس نگاہیں حالات کے دونوں پہلو کو دیکھ رہی تھیں۔ اکتوبر1947ء میں جامع مسجد دہلی میںمسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے خبردار کیا تھا کہ:
’’میں تم سے یہ نہیںکہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کی سرٹیفیکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انہیں بھلاؤ نہیں انہیں چھوڑ و نہیں ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم نے بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگانہیں سکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہماراہے ہم اس کے لیے ہیں اور اس کے تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔
یوپی سے پاسکتان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا:
آپ مادر وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعوی لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل فومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے حسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کا مذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے قومی مخالف نہیں آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاسکتان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اور وطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پرجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے۔
میں مسلمان ہوں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہوں۔ اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دار روایتیں میرے ورثے میںآئی ہیں میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں ۔اسلام کی تعلیم، اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم و فنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچر دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیںکرسکتا کہ اس میںکوئی مداخلت کرے، لیکن اس تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا، اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی، بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے، میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں میں ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے۔ میںاس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہوسکتا۔ ہم تو اہنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے، اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال ہے۔
متذکرہ بالا سطور کی روشنی میں یہ بات یقینی طورپر کہی جاسکتی ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور وطن عزیر کے سچے اور مخلص جانثار تھے ۔ مولانا کی طرح اور بھی بیشتر شخصیات ہیں جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد ویکجہتی کی روایت کو زندہ و تابندہ کرنے میں فخر محسوس کیا ہے۔ مگر افسوس آج اس بات ہے کہ جس ملک کو ہندو مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی نے ہی سینچا اور اس کے گیسوئے دراز کو سنوارا تھا اُسی ملک میں مسلسل گذشتہ کئی دھائیوں سے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بناکر نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور یہاں کی علامت ہندو مسلم اتحاد کو مزید مضبوط کریں یہی کوشش مولانا آزاد ، مہاتماگاندھی ، پنڈت جواہرلال نہرو ، سرسید ،علامہ اقبال وغیرہ نے کی تھی۔ جس کی آج بھی حد درجہ ضرورت ہے۔مولاناابوالکلام آزادکویہی سچا خراج عقیدرت ہوگا۔اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی اور نوجوان نسل کے لیے مینارہ نور ثابت ہوگا اور یہ ہماری قدیم تہذیب و ثقافت کا حصہ بھی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Close