خصوصی

مولانا نظامی شہید اور اہم ہندستانی ملّی تنظیمیں

⚫ 10 اور 11 مئی 2016 کی درمیانی رات کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر، بنگلہ دیشی مرکزی حکومت کے سابق وزیر اور ممبر پارلیمنٹ اور 73 سالہ بزرگ اسلامی رہنما *مولانا مطیع الرحمن نظامی* کو پھانسی کے ذریعے شہید کر دیا گیا. یہ گھناونا جرم بنگلہ دیش کی اسلام دشمن اور نیم پاگل وزیراعظم حسینہ واجد کے اشارے پر کیا گیا. انتہائی گندے، نجس اور ناپاک کردار کی حامل نام کی حسینہ کی سرپرستی میں کچھ اندھے، بہرے اور گونگے احمقوں کی ٹولی جج بن کر بیٹھی اور انھیں جو سکھا کر بھیجا گیا تھا، اسے فیصلے کی شکل میں سنا دیا. یہ ڈرامہ ہیومن رائٹس واچ اور ترکی حکومت سمیت دنیا کے منصف مزاج لوگوں کو پاگل پن معلوم ہوا. اس جنونی کھیل میں شکار بننے والوں کو شہادت کی بے مثال دولت ملی اور ڈرامہ اسٹیج کرنے والوں کے حصے میں دنیا و آخرت کی لعنت آئی. مولانا مطیع الرحمان نظامی شہید سے پہلے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے چوٹی کے رہنماؤں میں سے 90 سالہ پروفیسر غلام اعظم شہید کو جیل میں رکھ کر دوا علاج سے محروم کر کے اور عبدالقادر ملا شہید، محمد قمر الزماں شہید اور علی احسن مجاہد شہید کو پھانسی کے ذریعے شہید کیا جا چکا ہے. ابھی کچھ لوگوں کو اور شہید کیا جائے گا.
⚫ بنگلہ دیش میں یکے بعد دیگرے اسلامی قائدین کی شہادت پر ملت اسلامیہ ہندیہ کا عجیب و غریب رویہ دیکھنے میں آیا. بے حسی، بے ضمیری، بے غیرتی اور بزدلی کا رویہ. مذکورہ بالا قائدین کو ایک کے بعد ایک علی الاعلان شہید کیا جاتا رہا اور ہندستان کی تمام اہم دینی ملی تنظیمیں بے حس و بے جان بت بنی رہیں.
1⃣ *جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپ* اس لیے خاموش رہے کہ شہید ہونے والوں سے ان کا فکری اختلاف ہے. مزید یہ کہ اس پورے قضیے کی تانت اندرا گاندھی پر جا کر ٹوٹتی ہے. لہٰذا شہداء بنگلہ دیش کے حق میں آواز اٹھانے سے اپنے فکری مخالفین کی تائید اور سیاسی آقاؤں کی مخالفت ہوجاتی. اس لیے خاموشی میں ہی بھلائی سمجھی گئی اور اپنے "مسلم فکری مخالفین” پر "کافر سیاسی حامیوں” کو ترجیح دی گئی.
2⃣ *جمعیۃ اہل حدیث کے دونوں گروپ* بھی سانس روکے پڑے رہے. ان کی خاموشی کی بھی دو وجہیں تھیں. ایک جماعت اسلامی سے فکری اختلاف اور دوسرا جزیرۃ العرب میں براجمان اپنے آقاؤں کی پیشانیوں پر شکن کا خوف. اگر سعودی حکمرانوں نے جماعت اسلامی کی تائید کو اخوان المسلمین کی تائید سمجھ لیا تو کیا ہوگا؟ "السلام” ناراض ہو جائے لیکن "سلمان” ناراض نہ ہو. چنانچہ یہاں بھی آخرت پر دنیا کو ترجیح دی گئی.
⚫⚫ سچ پوچھیے تو ہمیں ان بڑی تنظیموں کے اس رویے پر کوئی حیرت بھی نہیں. ہمیں ان تنظیموں اور ان کے قائدین سے کبھی اس وسعت فکر و نظر، اخلاص و اعتدال اور غیرت و حمیت کی امید نہیں رہی کہ وہ اسلامی اخوت کو مسلک و مشرب پر ترجیح دیں گے.
3⃣ اس مسئلے میں سب سے زیادہ حیرت انگیز رویہ *جماعت اسلامی ہند* اور اس کی طلبہ تنظیم *اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن* کا رہا. سمجھ میں نہیں آیا کہ یہاں چُپ کا روزہ کیوں رکھ لیا گیا؟ یہاں تو غیر ملک میں مقیم سگے بھائی کا معاملہ تھا. اس کے باوجود نہ کوئی احتجاج، نہ ریلی، نہ مہم، نہ دھرنا. اگر صرف "پریس ریلیز” اور "پریس میٹ” ہی کافی ہے تو پھر سوتیلے بھائیوں (اخوان المسلمین) کے معاملے میں جوش خروش کے کیا معنی؟ سگے کی موت پر سکوت اور سوتیلے کی مصیبت پر شور غوغا؟ یہ کہاں کی عقل مندی اور کہاں کی انسانیت ہے؟ جب مختلف مسائل پر فرانس، انگلینڈ، اسرائیل اور مصر جیسے بڑے ممالک کے سفارت خانوں پر پُرزور احتجاج کیا جاسکتا ہے تو بنگلہ دیش جیسے چھوٹے ملک کے سفارت خانے پر کیوں نہیں؟ کیا ان شہداء کی مقدس جانوں کا حق اپنے رسائل یا اردو اخبارات میں بیانات جاری کرنے سے ادا ہو جاتا ہے؟ احتجاج تو بہت دور کی بات ہے مولانا نظامی شہید کی وفات پر تو ڈھنگ کی پریس ریلیز بھی جاری نہیں کی گئی. انگریزی زبان میں چند سطور پر مشتمل ایک پریس ریلیز عام ہوئی، جس پر کسی ذمے دار کا نام یا دستخط نہیں ہے. جب ترکی میں احتجاج اور برطانیہ میں غائبانہ نماز جنازہ ہوسکتی ہے، تو نئی دہلی میں کیوں نہیں؟ کیا آج کے دور میں یہ عذر کوئی معنی رکھتا ہے کہ فلاں ذمے دار موجود نہیں، اس لیے بڑا قدم نہیں اٹھایا جاسکا؟
اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ہے کہ جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم *اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن* کے جوانوں کو کیا ہو گیا؟ صبح و شام young leadership کا نعرہ لگانے والوں کی جوانی کہاں چلی گئی؟ ان کے خون نے کیوں جوش نہ مارا؟ کیا مولانا نظامی شہید اور دوسرے شہداء بنگلہ دیش کی شہادت کا سانحہ، کنہیا کی گرفتاری کے واقعے سے بھی کم تر ہے؟ اگر جماعت اور اس کی طلبہ تنظیم نے یہ رویہ بنگلہ دیشی سیاست میں ہمارے ملک کے سرگرم رول اور موجودہ حکومت کے خوف سے اختیار کیا ہے، تو ہوچکی اقامت دین اور قائم ہوچکا نظام اسلامی.

*آخری بات*
سچی بات یہ ہے کہ شہداء کو ہمارے احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں. وہ تو کامیاب و کامران ہو چکے اور اپنی منزل کو پا چکے. یہ سب چیزیں ہماری غیرت و حمیت اور جرات و ہمت کی آئینہ دار ہوتی ہیں. *آج بنگلہ دیش میں جاری اسلام کے خلاف سرکاری و عدالتی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سب تنظیمیں اسلامی اخوت، دینی غیرت اور عزم و ہمت کے مقدس جذبات سے عاری نظر آتی ہیں.*
چلتے چلتے یہ شعر بھی پڑھتے چلیے:
*اُس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا، میرا نمبر اب آیا*
*میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں آپ کا نمبر میرے بعد*

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہ اجمل فاروق ندوی

انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی

متعلقہ

Close