خصوصیصحت

مہنگی ہوتی صحت، مگر کیوں؟

ڈاکٹر خالد اختر علیگ

کوئی بھی بیمار نہیں رہنا چاہتا ہے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ صحت یاب ہو جس کی حصولیابی کے لئے اس کی آمدنی کا خاصہ حصہ خرچ ہونے لگا ہے، اس خرچ کو بڑھانے میں ڈاکٹروں یا معالجین کی حصہ داری کچھ کم نہیں ہے۔ صحت کے تئیں بیداری اور اس کے لئے خرچ کرنے کی سوچ نے معالجین کوصحیح یا غلط دونوں صورتوں میں اپنی جیبیں بھرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ چند سال پہلے امریکہ کے مشہور اخبار دی نیویارک ٹائمز نے چونکا دینے والی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس میں معالجین اور دواساز کمپنیوں کے مابین سازباز کا انکشاف کیا گیا تھا، رپورٹ کے مطابق ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ 47 فیصد ڈاکٹر باقاعدہ طور پرفارما یادواساز کمپنیوں سے معاوضہ حاصل کر رہے تھے۔ دواسازکمپنیوںاورمحققین کے درمیان بہت سے معاہدے ہوتے ہیں۔محقق جن کمپنیوں کی بنائی ہوئی ادویات کی جانچ کرتے ہیں انہی کمپنیوں کے لئے وہ کنسلٹنٹ کی طرح کا م بھی کرتے ہیں، وہ ایڈوائزری بورڈ کے رکن بن جاتے ہیں، انہیں پےٹےنٹ و رائلٹی کے حقوق ملتے ہیں، تحقیقی رسائل میں وہ مصنفین کی فہرست میں اپنا نام درج کرواتے ہیں۔طبی کانفرنسوں میں کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں اور ان کی اس طرح کی خدمات کے بدلے میں انہیں قیمتی تحائف ومختلف جگہوں پر جانے کا موقع ملتا ہے۔ بہت سارے ڈاکٹر کمپنیوں کے منافع میں برابر کے حصہ دار بھی ہوتے ہیں، اگر کمپنی کی دوا زیادہ فروخت ہوتی ہے تو اس منافع میں ان ڈاکٹروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ طبی تعلیم کے اداروں کا جھکاؤبھی دوا کمپنیوں کی طرف بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کو جو علم نصابی کتابوں اور اپنے اساتذہ سے ملتا ہے وہ زیادہ تر ادویات اور طبی صنعتوں کے تاجروں کی طرف سے دیا گیا گمراہ کن علم ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بھی ایسا دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کئی ڈاکٹر دوا کمپنیوں کی وجہ سے بہت پرتعیش زندگی بسر کرنے لگے ہیں عام معالجین، طبی اساتذہ اور دوا کمپنیوں کے درمیان رشتہ دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔میرا خیال ہے کہ ہمارے یہاں طبی تعلیم کے نظام میں ایک کمی ہے وہ یہ کہ طبی سائنس کے طالب علموں کوگریجوشن کی سطح پر ریسرچ اور شماریات(statistics )جیسے مضامین پڑھنے کو نہیں ملتے جس کی وجہ سے وہ دواسازکمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ گمراہ کن اعداد و شماراور حقائق کومن وعن تسلیم کر لیتے ہیں اگر یہی شماریات وہ خود سمجھ جائیں تو ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگے گی کہ دواساز کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کا حقائق سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مثال کے طور ہائی بلڈ پریشر کی دواکے استعمال کرنے والے افراد پر 17باربے ترتیب آزمائشی تجربات کئے گئے جن  میں مجموعی خطرے میں کمی 20فیصد درج کی گئی اور اسے فارما کمپنیوں کی جانب سے خوب مشتہر کیا گیا۔اگر مطلق خطرے میں کمی کے اشاریہ پر نظر ڈالی جائے تو یہ صرف 0.8فیصد ہے، یعنی دوا لینے سے زندہ رہنے کا فیصد0.8 ہے۔سادہ الفاظ میں اگرکہا جائے توہائی بلڈ پریشر کا وہ مریض جو پانچ سال تک بلڈ پریشر کم کرنے والی دوا کھاتا ہے اس کے زندہ رہنے کا فیصد96.8 ہوتا ہے جب کہ وہ شخص جو اپنے طرز زندگی اور کھانے پینے کے ضوابط میں تبدیلی کر لیتا ہے اس کے زندہ رہنے کا فیصد96ہے، یہاں اس بحث کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ مریض علاج کروانا چھوڑ دیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ پانچ سال تک ہزاروں روپے کی دوا کھانے کے بعد بھی صرف0.8فیصد ہی فائدہ حاصل ہواجس کو دواساز کمپنیاں بتانے سے گریز کرتی ہیں۔اسی طرح کے کچھ حقائق کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے بھی ہیں۔

میڈیکل کالجوں میں اساتذہ رائلٹی کے بدلے میں دواساز کمپنیوں کومصنوعات کی دریافت کا لائسنس لینے کی اجازت دیدیتے ہےں۔اس نظام نے تعلیم، تجارت اور ڈاکٹروں کے درمیان ایک اتحاد بنا دیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے ڈاکٹر دوا کمپنیوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں بن کے رہ گئے ہیں۔کمپنیاں ڈاکٹروں سے تب رابطہ کرتی ہیں جب وہ کم عمر ہوتے ہیں جیسے ہاؤس آفیسر وغیرہ، ایسے ڈاکٹروں کے پاس تجربہ تو کم ہوتاہے لیکن ان کا کیرئیرکافی لمبا ہوتا ہے ایسے میں اگر ڈاکٹر کا اعتمادحاصل کر لیا جائے تو کمپنیوں کی دوائیں لمبے وقت تک بکیں گی۔ یہی حالات میڈیکل کالجوں کے بھی ہیں جہاں کے اعلی درجہ کے طالب علموں کو کمپنیاں کم عمری میں ہی اپنے ریسرچ اداروں سے ریسرچ کے نام پر جوڑ لیتی ہیں۔اس وقت پورے ہندوستان میں کلینکل ریسرچ اداروںیاCROs کا سیلاب آیا ہوا ہے جن کو مغربی ممالک کی دوا کمپنیاں ہمارے جیسے ممالک میں اپنی نئی ادویات کا ٹیسٹ کرنے کے لئے چلاتی ہیں۔کئی مغربی ممالک میں اس قسم کی ریسرچ پر پابندی لگائی جاچکی ہے۔ یہ CRO ہمارے ملک کے لئے مصیبت بنتے جا رہے ہیں۔کسی بھی تحقیقی کام کو کرنے سے قبل اس میں رضاکارانہ طور پر حصہ لے رہے لوگوں سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔ہمارے ملک میں اب بھی زیادہ تر لوگ ناخواندہ ہیں جنہیں نہ تو ان ریسرچوں کا مطلب سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی وہ تحریری اجازت کا مطلب ٹھیک سے سمجھتے ہیں، ایسے میں کی گئی ریسرچ کو کہاں تک کامیاب سمجھا جا سکتا ہے اور اس میں طبی اخلاقیات کی کتنی پاسداری کی جاتی ہے اس پر سوچنے کے لئے ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہے۔اس کے علاوہ ایسے کئی محقق ہمارے ملک میں ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں شاید ہی کوئی مریض دیکھا ہو لیکن وہ سب کے سامنے بڑے بڑے امراض کا کامیابی سے علاج کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔صحیح بات تو یہ ہے کہ دواساز کمپنیاں ایسے مریضوں پر اپنا نشانہ سادھتی ہیں جن سے عمربھر کاروبار چل سکتا ہے جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی شریانوں کے مریض وغیرہ۔

علاج کا مطلب صرف دوا کھانا اور مہنگی جانچ کروانے تک محدود ہوگیا ہے، معروف برٹش میڈیکل جرنل کے سابق مدیررچرڈ اسمتھ نے اپنے ایک مضمون میں بہت صاف گویائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ جیسے جیسے کمپنیوں اور میڈیکل کالجوں کے فاصلے کم ہوتے جارہے ہے ویسے ہی طبی سائنس کے طالب علم ادویات اور جدید طبی کے وسائل پر کچھ زیادہ ہی منحصرہوتے جا رہے ہیں۔کمپنیوں کے مسلسل بڑھتے دباؤ سے ڈاکٹروں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہر بیماری کے لئے صرف دوا ہی دی جاتی ہے اور اگر کسی کے جسم کی ساخت معمول سے کچھ الگ ہے تو اس کے لئے آپریشن کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

دنیا میں اب بھی اسّی فیصد سے زیادہ لوگ طبی سائنس سے نابلد ہیں، امریکہ میں تو اعلیٰ درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والے اسّی فیصد لوگ ہیلتھ انشورنس اس لئے نہیں کراسکتے کیونکہ اس کا پریمئم بہت مہنگا ہے۔برطانیہ میں صحت خدمات قومی سطح پر مفت ہونے کے باوجود لوگ جدید طبی طریقہ سے علاج کرانا پسند نہیں کرتے۔ہندوستان میں جہاںسرکاری طبی نظام ناقص ہونے کی وجہ سے علاج مشکل ہوجاتا ہے وہیں غیر سرکاری ڈاکٹروں کاعلاج کافی مہنگا ہوچکا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جو دواکمپنی کے نمائندے زیادہ مہنگے تحائف دیتے ہیں ڈاکٹر ان ہی کمپنیوںکی دوائیںمریضوں کو لکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے جب ہمیں ا س چلن کو بدلنا ہوگا، ڈاکٹروں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے احترام کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ ایک دن مریض یہ کہنے لگیں کہ آپ لوگ صرف کچھ تحائف کے لئے ہمیں دوائیں لکھتے ہیں۔ طبی اداروں کو طالب علموں کو یہ بات بتانی چاہئے کہ کس طرح دواکمپنی کے نمائندے پرکشش آفر دے کر ہم سے غلط کام کرواتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ طالب علموں کو اس وقت کتابی علم کے علاوہ دواسازی سے متعلق اقتصادیات اور  طبی پیشہ وارانہ لیاقت سے آگاہ کرانا ضروری ہے تاکہ وہ طبی تعلیم مکمل ہونے کے بعد دوا صنعت کے تاجروں کے شکار نہ ہو جائیں۔نیز طبی اخلاقیات کی مکمل تعلیم دی جائے تاکہ ان میں مریضو ں کے لئے ہمدردی اور طبی خدمات کے لئے احترام کا جذبہ پیدا ہو۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مریض ڈاکٹر کے بغیر زندگی تو گزار سکتا ہے لیکن ڈاکٹر مریض کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا اس لئے طب سے جڑے افراد اس شعبہ کو خدمت کے جذبہ سے دیکھیں نہ کہ منافع کے جذبہ سے، اسے کمائی کی اندھی دوڑ سے دور رکھیں اور طب کے وقار کو برقرار رکھیں تاکہ عوام کا اعتماد ان پر قائم رہے۔

مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close