خصوصی

میرا نام نثار ہے اور میں ایک زندہ لاش ہوں!

"میں نے جیل کے  اندر اپنی زندگی کے 8150 دن گزارے ہیں. میرے لئے زندگی ختم ہو چکی ہے. آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک زندہ لاش ہے. "

کیا یہ سطریں اتنی عام ہیں کہ اسے پڑھنے کے بعد کسی کو فرق ہی نہیں پڑا ہو. جس دن انڈین ایکسپریس میں مزمل جلیل کی یہ کہانی چھپی ہے اس دن بہترین وسائل اور تحقیقی ٹیم سے لیس میڈیا کے ناينكر (اینکر اور نایک سے مل کر بنا ایک نیا لفظ ہے) اس کہانی سے بے خبر رہے. انڈین ایکسپریس تو سب پڑھتے ہیں پھر بھی اس بات سے سماج، ادارے، میڈیا، سیاست اور صحافیوں میں خاموشی چھائی رہی. اس کا مطلب ہے کہ اب ہم عام ہونے لگے ہیں. ایک آدمی جو خود کو زندہ لاش کی طرح دکھانا چاہتا ہے، ہم اس کی لاش کو دیکھ کر عام ہونے لگے ہیں. ہمیں نہ تو مر ے ہوئے کو دیکھ کر فرق پڑتا ہے نہ ہی مرے جیسے کو دیکھ کر.

نثار کی کہانی تنمے کی کہانی سے ہار گئی. تنمے نے ہندوستانی رتنوں کی مبینہ طور پر توہین کر دی تھی جسے لے کر تمام چینلوں کی پرائم راتیں بے چین ہو گئی تھیں. آخر وہ بھارت رتن کے ساتھ ہوئے توہین کو کس طرح برداشت کر سکتے تھے. صدر کے  ذریعہ نامزد رکن پارلمینٹ ريالٹي ٹی وی میں پھوہڑ ہنسی ہنستے ہیں، سب برداشت کر لیتے ہیں. منتخب رکن پارلمینٹ صابن، تیل اور شیمپو کی تشہیر کر رہے ہیں کیا کسی کو فرق پڑتا ہے. کیا کسی نے پوچھا کہ اسٹوڈيو میں جتنے گھنٹے دیتے ہیں کیا یہ رکن پارلمینٹ عوام کے درمیان بھی اتنے آرام سے باتیں کرتے ہیں. بھارت رتن سے نوازے گئے نایک پنکھا، گھڑی اور لیمچوس کی تشہیر کرتے ہیں کیا کسی کو فرق پڑتا ہے. کیا ہندوستانی حکومت اپنے بھارت رتنوں کے رہنے کھانے کا انتظام نہیں کر سکتی جس سے انہیں بلڈلر سے لے کر برتن تک کی تشہیر نہ کرنی پڑے. مجھے نہیں معلوم کہ بھارت رتن کی فکر میں یہ سوال آئے یا نہیں لیکن مجھے تنمے کی حرکتوں پر بھی کچھ نہیں کہنا ہے.

آزادی اور ذمہ داری کا مسئلہ چلتا رہے گا. کچھ لطیفے توہین آمیز نہ بھی ہوں تو اتنے گھٹیا تو ہوتے ہی ہیں کہ سن کر چپ رہا جائے. مگر انٹرنیٹ پر سیاسی طور پر گالی گلوج کی ثقافت کو ہضم اور نظر انداز کرنے کا درس دینے والے بھی اس بحث میں کود پڑے. ہو سکتا ہے کہ یہ سنگین مسئلہ ہو اور قوم کی پرائم راتوں کی حسین بات چیت سے اس کا تصفیہ ہوا ہو لیکن بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے نثار کی زندگی کے 23 سال جیل میں گزر گئے. کیا اس کے ساتھ جو مذاق ہوا وہ کسی تنمے کے پھوہڑ مذاق سے کم بھدا تھا. اگر ہمیں بھدے مذاق کی فکر ہے تب تو پھر ناصر کا ہی مسئلہ ناينكرو کے اہم مراکز پر چھا جانا چاہئے تھا.

نثار الدین  احمد کو23 سال پہلے بابری مسجد شہادت کی پہلی برسی پر ہوئے دھماکے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا. اس واقعہ میں دو مسافر ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے تھے. فارمیسی کے طالب علم ناصر کو پولیس نے کرناٹک کے گلبرگہ سے اٹھا لیا. اس کا بھائی ظہیر بھی سازش کے الزام میں اٹھا لیا گیا. 23 سال تک جیل میں رہا لیکن پولیس ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر پائی.

نثار نے کہا ہے کہ وہ 20 سال کا تھا جب جیل میں بند کر دیا گیا. آج 43 سال کا ہے. تب اس کی چھوٹی بہن 12 سال کی تھی جس کی شادی ہو چکی ہے. اب اس کی بیٹی 12 سال کی ہے. میری بھتیجی ایک سال کی تھی اب اس كي شادی ہو چکی ہے. میرے رشتے کی بہن مجھ سے دو سال چھوٹی تھی، اب وہ دادی بن چکی ہے. میری زندگی سے ایک پوری نسل چلی گئی ہے.

15 جنوری 1994 کو اسے کرناٹک کے گلبرگہ سے اٹھا کر حیدرآباد لایا گیا تھا. کرناٹک پولیس کو بھی پتہ نہیں تھا کہ نثار کو گرفتار کیا گیا ہے. جب نثار کے گھر والوں کو پتہ چلا تو مقدمہ لڑنے کی تیاری میں مصروف ہو گئے. اس کے والد مقدمہ لڑتے لڑتے 2006 میں چل بسے. ظہیر کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر پھیپھڑوں میں کینسر کی وجہ سے وہ باہر آ گیا. وہ کینسر سے لڑتا رہا اور اپنے بھائی کی بے گناہی کے لئے.

نثار کو پہلے پولیس نے اسے حیدرآباد میں 1993 میں ایک مسلم ادارے میں ہوئے دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا. بعد میں دونوں بھائیوں کو کئی اور دھماکوں میں ملزم بنا کر ٹاڈا لگا دیا گیا. اقبالیہ بیان کے دم پر پولیس نے دعوی کیا کہ نثار نے اے پی ایکسپریس میں بم رکھنے کی بات قبول کر لی ہے. کرناٹک اور حیدرآباد پولیس  تحقیقات کر ہی رہی تھی کہ یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا. 21 مئی 1996 کو حیدرآباد کی عدالت نے ان پر لگائے گئے ٹاڈا کی دفعات کو ہٹا دیا اور کہا کہ بغیر کسی سنگینی کے ٹاڈا کے دفعات لگا دیے گئے ہیں.

صحافی مزمل جلیل کو نثار نے بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے وی ریڈی اور انسپکٹر بی شیاما نے اس کا بیان لکھوایا تھا، اس پر دستخط تک نہیں تھے. حیدرآباد کے ٹرائل کورٹ نے 2007 میں ہی سب کو چھوڑ دیا تھا لیکن ان ہی اقبالیہ بیانات کی بنیاد پر نثار اور 15 ملزمان کو اجمیر کی ٹاڈا عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی. کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ ایک ثبوت ایک عدالت کے لئے بیکار ہے دوسرے کورٹ کے لئے عمر قید کے قابل. دو ریاست کے ٹاڈا کورٹ ہیں. اتنا فرق کیسے آ سکتا ہے.

سپریم کورٹ کے جسٹس ایف محمد ابراہیم كیف اللہ اور جسٹس ادے امیش للت نے چاروں ملزمان کے اقبالیہ بیانات کو دیکھا اور کہا کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا. نثار کا کردار نہ تو اقبالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے نہ اس کے خلاف دیگر دوسرے ثبوت ملے ہیں. 12 سال لگ گئے اجمیر کی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ سے مسترد کرانے میں. میں اس کہانی کو پڑھتے وقت حیران رہ گیا. نثار سے زیادہ ان افسروں اور وکلاء کے بارے میں سوچنے لگا. کیا ان افسروں کے ہاتھ نہیں كانپے ہوں گے، کسی بے گناہ کی زندگی برباد کرتے ہوئے. ان کے دل اور ایمان پر کوئی بوجھ پڑتا ہی نہیں ہوگا.

بات صرف نثار کی نہیں ہے، کسی نریش کی بھی ہو سکتی ہے. اگر یہ نثار کے لئے آسان ہے تو کسی نریش کو بھی حکومتیں ہمیشہ کے لئے جیل میں سڑا سکتی ہیں. آخر عوام کس ادارے کی انکوائری یا فیصلے پر یقین کرے. اس زندہ لاش کا ہم کیا کریں جو 43 سال کے نثار کی شکل میں باہر آئی ہے. ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں. کاش کہ سپریم کورٹ الزام سے بری کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے بھی سوال کرتا جو اتنے سالوں تک بغیر ثبوت کے کسی کو جیل میں سڑاتے رہے.

آئے دن ایسے نوجوانوں کو جیل سے رہا ہونے کی خبریں پڑھتا رہتا ہوں. نہ تو ان کے لیے کانگریس بولتی ہے نہ بی جے پی نہ سماج وادی پارٹی. رہائی منچ جیسے ادارے اپنے طور پر لڑتے رہتے ہیں. جب کوئی سیاسی جماعت معصوم لوگوں کے حق میں بولنے کی ہمت نہیں کر پاتی ہے تو کیسے مان لیں کہ ہندو مسلم مسئلے پر ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے. جبکہ ان ہی باتوں کو لے کر ملک میں کتنا ہندو مسلم تنازعہ ہوا. لوگوں کے ذہن میں کتنا زہر گھولا گیا.

کیا ٹی وی بحث و مباحثے سے کچھ حل نکلے گا؟ کیا یہ سارا قصور چینلوں کے بحث و مباحثہ کرنے یا نہ کرنے کو لے کر ہے؟ کیا ہم ایسا کوئی نظام یا کسی نظام میں بحث و مباحثے کے ذریعے سے بہتری لا پائے ہیں؟ ٹی وی چینلوں کے بحث و مباحثے ایک طرح سے نظام اور ادارے کے مجازی متبادل بنتے جا رہے ہیں. نظام تو پھر وہی رہے گا چلو بحث و مباحثے میں نپٹاتے ہیں. وہاں ہم اپنی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر بھڑاس نکال لیتے ہیں. ہر دن ایک نیا مباحثہ ہوتا ہے. ہر روز ایک نئی کشتی ہوتی ہے. ہم بہتر کی جگہ بدتر ہوتے جا رہے ہیں. شہری بے حسی کی انتہا کی مثال ہیں یہ مباحثے.

نثار کو بھی اپنے باقی ماندہ لاش کے ساتھ نیوز چینلوں کی پرائم راتوں کے بحث و مباحثے دیکھنے چاہئیں. رہنے کے لئے کوئی ذریعہ نہ بھی ہو تو مرنے کا ایسا سہارا مل جائے گا. ہم ایسی کون سی تنظیم بنا پائے جس کی غیرجانبداری کانگریس بی جے پی کے آنے جانے سے آزاد ہو. کیا کوئی ایسی تنظیم ہے؟ کیا کانگریس اپنے اقتدار کے وقت نثار کے ساتھ جو ہوا اس کی ذمہ داری لے گی؟ کیا بی جے پی اکشردھام حملے میں گرفتار مفتی عبدالقیوم کی ذمہ داری لے گی جسے  ایسے الزامات میں 11 سال جیل کی سزا کاٹنی پڑی جو ثابت ہی نہ ہو سکے. آپ قارئین سوچئے کہ ہم زہر تو پی لیتے ہیں لیکن کیا ہم دیکھ پاتے ہیں کہ ہندو مسلم کی سیاسی پڑیا کے اندر  کتنے بے قصور ہندو مسلم چورن کی طرح استعمال کئے جا رہے ہیں. نہیں دیکھنا چاہتے تو بحث و مباحثے دیکھئے.(ہندی سے ترجمہ: مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close