خصوصی

میر ے قتل پہ آپ بھی چپ ہواگلا نمبر آپ کا ہے

سیف ازہر

دیوالی کا تہوار ختم ہوچکا ہے مگر سچائی یہ ہے کہ پانچ سو کروڑسے زیادہ کے پٹاخہ سے ہونی والی آلودگی ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی ۔دن نکلتا ہے مگر اس کی کرنیں اتنی ماندپڑچکی ہوتی ہیں کی اس کااثر کہیں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ہر طرف دھواں دھواں نظر آتا ہے ۔حدنظر اس قدر محدود ہوچکی ہے کہ گا ڑیاں بعض جگہوں پر ہڈ لائٹ جلانے پر مجبور ہیں ۔تین دن کے لیے اسکول بند کر دئیے گئے ہیں ،ساتھ ہی پانچ دن کے لیے پوری دہلی میں تعمیراتی کاموں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ یہ دوچار دن میں ختم ہوسکتی مگر وہ آلودگی کیسے ختم ہوسکے گی جو لوگوں کو زخم تو دیتی مگر نہ تو تڑپنے کی اجازت دیتی ہے نہ چلانے کی آزادی دیتی ہے ۔اتنے مسائل ہیں، اتنی چیزیں ہیں، مگر شروع کہاں سے کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ہاں البتہ میں بھی ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں میں طلبہ کی پریشانیاں سمجھ سکتا ہوں ۔جے این یو میں نجیب کا معاملہ مجھے رہ رہ کر ستا تا ہے ۔ نجیب کی گمشدگی کو محض گمشدگی کوئی نابینا شخص بھی ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔اے بی وی پی کے غنڈوں کا نجیب کو مارنا اور اس کے بعد اس کاپوری طرح غائب ہوجانااور ساتھ ہی ساتھ انتظامیہ کا تماشائی بنا رہنا بہت کچھ کہہ دیتا ہے ۔اس واقعہ کی تفصیل بتانا میر امقصد نہیں ہے مگر اس واقعہ کا ذکر نہ کروں تو میرا زخم ادھورا رہ جائے گا۔دہلی پولیس کی سرد مہری صاف صاف کہہ رہی ہے کہ ان کو کوئی تفتیش کی اجازت نہیں ہے ۔ظاہر ہے دہلی پولیس پرمرکزی حکومت کا کنٹرول ہے ۔مجھے یاد آرہا ہے ابھی دوسال پہلے دہلی میںترلوک پوری میں ایک مندر کولے کر فساد ہوا تھا ۔فساد متاثرین جب دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر فسادیوں پرایف آئی آر کرانے پہنچے تو پولیس نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ رپورٹ درج نہیں کرسکتے ہوم منسٹری سے دباؤ ہے ۔ ستم بالائے ستم جب انڈیا گیٹ پر جے این یو طلبہ اور نجیب کی ماں احتجاج کے لئے گئیں تو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔دفعہ 144؍کی خلاف ورزی میں اس لاچا ر ماں کو اٹھا لیا گیا جس کو آج کل اپنے بیٹے کے علاوہ کچھ بھی پتہ نہیں ۔پولیس کا یہ دعوی بھی بہت ہی گھٹیا ہے ۔ماناکہ نجیب کی ماں نے خلاف ورزی کی تھی مگر درندوں کی طرح گھسیٹتے ہوئے تمہیں شرم بھی نہیں آئی ۔ایک مجبور ماںجو صرف اپنے بیٹے کی بازیابی کامطالبہ کر رہی ہے اگر انتظامیہ اس کابیٹا نہیں دلا سکتا ہے تو اس پرظلم کااختیار کہاں سے مل گیا۔مانا کہ اس نے قانون توڑا تھا مگر اس کی اس قدر توہین سے کیا تمہاری حیوانیت کو ذرا بھی شرم نہیں آئی ۔مزید تو یہ کہ یہ سب اس ملک میں ہورہا ہے جس ملک کا سر براہ تین طلاق پر خوب چلا چلا کر کہتا ہے کہ مسلم بہنوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ہم مسلم بہنوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے ۔ذرابھی اگر انسانیت کی کوئی صفت بچی ہو تو شرم کر واور حیوانیت کا لبادہ اب بھی چھوڑ دو ۔کیا یہ خاتون کے حقوق کی پامالی نہیں ہے ۔یہ تو مسلم خاتون ہے ۔مودی کی مسلم دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔جس کو ماں کے پیٹ سے بچہ نکلواتے ہوئے شرم نہیں آیا اس کو نجیب کی ماں کی بے حرمتی اور بے بسی پر شرم کہاں سے آئے گا۔نجیب کی ماں اگر میری ماں ہے تو نجیب ہمارا بھائی ہے ۔تمام لوگوں کواس بات کا نہ صرف احساس کرنا ہوگا بلکہ ماننا بھی ہوگا کہ تمام مائیں ہم سب کی مائیں ہیں ۔ہر نجیب ہمارا بھائی ہے ۔ہر مظلوم ماں ہماری ماں ہے اور ہر مظلوم بھائی ہمارا بھائی ہے ۔جو ہورہا ہے یہ کھلاظلم ہے ۔نجیب کو مارنے والے اس کو غائب کرنے والے اب بھی آزاد ہیں مگر نجیب کی مظلوم ماں صرف اس لیے حراست میں ہے کہ وہ نجیب کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہے ۔اس سلسلہ میں بھوپال فرضی انکاؤنٹر میں مارے گئے مظلوم لوگوں کے ساتھ بھی ہمیں کھڑا ہونا ہوگا ۔اس بات سے کسی کوانکار نہیں ہے کہ ملزم نہیں تھے ۔ان پر بہت سے مقدمات تھے ۔ظاہر ہے ان کاماضی کسی طور پر بہتر نہیں تھا۔مگر کیا ماورائے قتل کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے ۔اگر اسی طرح قتل کرنا ہے تو پھر عدالت اور قانون کا کیا مطلب ہے ۔تین ویڈیو جو اس سلسلہ میں سامنے آئے ہیں اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو گولی ماری گئی ہے اور تمام کی تما گولیاں بدن کے اوپر ی حصہ میں ماری گئیں ہیں ۔بالکل بٹلہ ہاوس انکاؤنٹر کی طرح جس میںتمام کی تمام گولیاں صرف سر میں ہی لگی تھیں ۔ بھوپال پر سوال اٹھنا اور بھی ضروری ہے کہ سیمی کے جن کارکنان کو مارا گیا ہے ان پر عدالت میں فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے ۔مانا یہ بھی جاتا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آجاتا تو سیمی سے پابندی بھی ہٹ سکتی تھی۔ظاہر سی بات ہے ایسے وقت میں اتنے ڈرامائی انکاؤنٹر پر آنکھ بند کر کے نہ یقین کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کومجرم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اب ایسے حالات میں جہاں روز ایک خونی داستاں رقم ہورہی ہے ۔ایسی حالات میں جہاں دستور زبان بندی نافذ ہو رہا ہے وہاں بولنا اور ضروری ہوجاتا ہے ۔ ابھی تو ہم نظر انداز کرتے رہے ۔چلا چلا کر خاموش ہوجاتے رہے مگر اس ماحول اور اس ماحول میں بڑا فرق ہے ۔پہلے بھی انکاؤنٹر ہوا ہے پہلے بھی نجیب جیسے مظلوموں کی گمشدگی ہوئی ہے مگر نوعیت بدلی ہوئی ہے ۔اب تو دن دہاڑے نہ صرف گولی ماری جاتی ہے بلکہ اس کاویڈیو بھی تیار کیا جاتا ہے ۔پہلے اگر چہ ظلم ہوتا تھا مگر مظلوم کی فریاد رسی کسی نہ کسی صورت میں کی جاتی تھی مگر اب ظلم بھی ہوتا ہے اور انصاف مانگنے پرمظلوموںکی گرفتاری بھی ہوتی ہے ۔یہ صرف نجیب کی ماں تک محدود نہیں ہے ۔صرف ایک مظلوم نہیںہے ۔بہت سارے ناموں میں رام کشن گروال کابھی ہے ۔گروال نے ون رینک ون پنشن کی جنگ میں خود کشی کر لی ہے ۔میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ اس فوجیکے رشتہ داروں کی کیا غلطی تھی ان کو کیوں گرفتار کیا گیا مگر اب سمجھ میں آرہا ہے کہ اب یہ ایک ماحول تیار کیا جارہا ہے کہ اب صرف ظلم ہی نہیں مظلوموں کو انصاف بھی مانگنے نہیں دیا جائے گا۔ مزے کہ بات یہ ہے کہ پہلے مسلم خواتین کی اور فوجیوں کی حقوق کی دہائی دی جاتی ہے ۔بیان بازی خوب کی جاتی ہے مگر کسی بھی بات کو عملی صورت نہیں دی جاتی ۔ہاں اگر کوئی چیز عملی صورت اختیار کرتی ہے تو ظلم ہے ،صرف ظلم۔وہ ظلم صرف نجیب ،بھوپال اور کشن اگروال تک محدود نہیں ہے ۔کشمیر سے کنیا کماری تک ،چاہے وہ فوج کا ظلم ہو چاہے وہ دلتوں پر ٹوٹنے والا پہاڑ ہو یا گئو رکشوں کی غنڈہ گردی ہو ۔یہ سلسلہ بہت دراز ہے اگر ہم نہیں سمجھتے تو نہ سمجھیں مگر یہ بہت ہی منصوبہ بند ہے ۔ ہر واقعہ کا کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوتا ہے ۔تما م مظالم کاسلسلہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتا نظر آتا ہے۔مگر افسوس ہے تو صرف ایک بات کا ہم مظلوم ہاتھ نہیں ملا سکتے ۔ہم دلتوں پر ظلم ہوتا ہے تو دور سے تماشہ دیکھتے ہیں اور جب مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے توغیر مسلم جو سیکولر بھی ہیں وہ خاموش رہتے ہیں ۔اس لیے کہ حکمران ہندو ہے ظلم ہندوؤں پر نہیں ہوگا مگر ظالم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ذرا رک کے سوچوجب مسلمانوں اور دلتوں کی باری ختم ہوجائے گی تو ظالم کس کو نشانہ بنائے گا۔ آگ جب لگتی ہے تو صرف ایک گھر نہیں جلاتی بلکہ پڑوسیوں کو بھی لے جاتی ہے بلکہ اگر نہ بجھایا جائے تو بہت سے علاقوں کوخاکستر کر دیتی ہے ۔جب آگ لگتی ہے تو بجھانے کوئی ایک شخص نہیں جاتا بلکہ جو بھی دیکھتا ہے جس کی بھی نظر پڑتی ہے دوڑتا ہے ،آگ بجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔اس وقت پورے ملک میں آرایس اور مودی حکو مت نے آگ لگا رکھی ہے اب بجھانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ آگ نہ بجھائی گئی تو صرف جے این یو ،کشمیر اور بھوپال نہیں جلے گا رفتہ رفتہ پورا ملک جل جائے گا کیونکہ اس آگ کے پیچھے صرف تیز ہوا نہیں بلکہ مودی حکومت اور آرایس ایس کی مشترک آندھی ہے ۔بس اتناسمجھ لو۔
جلتے گھرکو دیکھنے والوپھونس کاچھپر آپ کا ہے
آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے آگے مقدرآپ کا ہے
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرانمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہو اگلا نمبر آپ کا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close