خصوصی

ناول 1984: عصر حاضر میں سیاست کی بائبل

ڈاکٹر سلیم خان

جارج  اورویل  سیاسی ناول نگاری کا مغلِ اعظم  ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جارج اورویل کا جنم چانکیہ کی دھرتی بہار میں ہوا  لیکن جب اس کی عمر ایک سال تھی تو والدہ  اپنے ۶ ماہ کے بچے کے ساتھ برطانیہ چلی گئی۔ ددیہال میں جارج اورویل کی پرورش ہوئی لیکن اس کی فرانسیسی نژاد ماں نے اپنے والد کے ساتھ  برما میں  خاصہ وقت گزارا تھا۔ جوانی میں  ملازمت کے لیے جارج اپنے ننہال برما آیا۔ اس کے بعدآسٹریا میں  فسطائیت کے خلاف عملاً بندوق اٹھا کر میدان جنگ میں اترگیا۔ وہاں  موت کے منہ  سے نکل کر لوٹا لیکن اس بیچ اسے اشتراکیوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور انکشاف ہواکہ جن  کے ساتھ مل کر وہ فسطائیت کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا وہ خود فسطائی ہیں۔ زندگی کے متنوع   مشاہدات نے جارج اورویل کو ایک بیباک صحافی بنادیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان تجربات کے بغیر ممکن نہیں تھا کہ وہ انیمل فارم اور ۱۹۸۴ جیسی شہرہ آفاق ناول لکھ کر نہایت  کم عمری میں دنیا ئے ادب پر انمٹ نقوش چھوڑ پاتا۔

  جارج اورویل کا  ناول ۱۹۸۴ ؁ انگریزی ادب میں سیاست کا حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ ’ بگ برادر   ‘ کی  جواصطلاح  جارج  نےاشتراکی حکمرا نوں کے لیے وضع کی  تھی اسے  جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ  نے  ہوبہو اپنالیا ہے اور نائن الیون کے بعد تو وہ  کھلے بندوں ساری دنیا کا    ’بھائی ‘ بن گیا۔  بھائی یعنی ممبئی کا ’منا بھائی، ایم بی بی ایس‘۔ جارج اورویل نے  اشتراکی نظام کی منافقت کو واضح کرنے لیے جو علامات اور استعارے  وضع کیے تھے  ان  سب کو یکے بعد دیگرے سرمایہ دارانہ جمہوریت نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکی ہے۔ ۱۹۴۸ میں بیٹھ کر جارج اورویل نے جب ۱۹۸۴ کا تصور کیا تو اسے محسوس ہوا کہ اس وقت  تک سب کچھ الٹ پلٹ جائے گا ۔  اورویل کے الفاظ میں ’ وہ اپریل کا ایک روشن  سرد دن تھا جب گھڑی ۱۳ بجا رہی تھی‘۔  اس جملے ایک ایک لفظ غورطلب ہے۔ اپریل، روشن، سرد، ۱۳۔ یہی انوکھا  خیال اس عظیم تخلیق  کی  وجہ تسمیہ بن گیا۔

اورویل کو مغلِ اعظم کہنے کی ایک وجہ یہ  بھی ہے کہ ہندوستان کی بڑی بڑی فلموں کو جہاں ایک بڑا مکالمہ نویس مشکل سے میسر آتا  ہےوہیں مغل اعظم کو چار عظیم مصنفین  کی خدمات حاصل تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ  اس فلم کا ہر لفظ سنگ تراش کی فنکاری کا بہترین نمونہ بن گیا۔ اورویل کے ۱۹۸۴ کے مکالموں کو اگر کوئی نشان زد کرنا چاہے توتقریباً پوری  کتاب اس  کی زد میں آجاتی ہے مثلاً اس ناول کاوہ مشہور جملہ دیکھیں جو ضرب المثل بن گیا ہے۔ ’’جنگ امن ہے، آزادی غلامی ہے ، جہالت قوت ہے‘‘۔ کیا واقعی یہ سب نہیں ہوگیا؟ کیا  عراق میں امن کے نام پر جنگ کا بازار گرم نہیں کیا گیا؟  کیا  افغانستان میں آزادی کا نعرہ بلند کرکے غلامی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ؟ کیا ٹرمپ، پوتن، جن پنگ، اور مودی جیسے لوگ تمام  قوت  و حشمت پر قابض نہیں  ہوگئے ؟ اس طرز عمل کو جارج ڈبل اسپیک کا نام دیتا ہے جس میں  بے معنی ٰالفاظ معکوس مفہوم کی  ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔

اورویل ڈبل نے اسپیک یعنی دوغلا پن کے ساتھ ڈبل تھنک (دوہری سوچ) کا بھی تصور پیش کیا۔ وہ لکھتا ہے ’دو ہری (منافقانہ) سوچ  اس قوت کو کہتے ہیں جس میں ایک ذہن کے اندر  بیک وقت دو متضاد عقائدموجود ہوتے ہیں اور ان دونوں کو تسلیم کیا جاتا ہے‘۔ آج کے رہنما دوہری گفتگو کرتے ہیں اور عوام دوہرے تذبذب میں گرفتار ہیں۔ حق و باطل گڈ مڈ ہوچکاہے۔   جارج اورویل نے ایک ایسے وقت میں انسانوں کے سوچ کو قابو میں کرنے کی بات کہی جب نہ انٹر نیٹ  موجود تھااور نہ میڈیا  اتنا طاقتور تھا۔ اس کی قوت پرواز نے محسوس کرلیا  کہ اگر ایسی شے عالم  وجود میں آجائے تو اس کا استعمال کسی اور مقصد کے لیے  نہیں ہوگا۔ آج  کا انسان وہی سوچتا ہے جو میڈیا چاہتا ہے اور میڈیا نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ  اپنے سیاسی  آقاوں کی بندگی بجا لاتا ہے۔ میڈیا اگر عوام کو ورغلانے  میں ناکام بھی ہوجائے تو  کم ازکم حقیقی مسائل  کی جانب سے توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ حکومت کے خلاف جس دن  کوئی بڑی خبر  متوقع ہوتی ہےاچانک اخبارات کے پہلے تین صفحات پر اشتہارات نمودار  ہوجاتے  ہیں۔ اس طرح اپنے آپ  پہلے صفحہ کی  خبرچوتھے صفحہ پہنچ جاتی  ہے۔ ذرائع ابلاغ میں پھیلائے جانے والی  فیک نیوز کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فیس بک نے  کانگریس  اور بی جے پی کے ہزاروں صفحات حذف کردیئے حالانکہ فیس بک کے اشتہارات پر کانگریس نے  ۳۹ ہزار ڈالر اوربی جے پی ۷۰ ہزار ڈالر خرچ کیے ہیں۔  کسی ایک ادارے کو دی جانے والی اس خطیر رقم   سے دیگر ذرائع ابلاغ پرہونے والے  خرچ  کا بخوبی  اندازہ لگانا  مشکل نہیں ہے۔

عصر  حاضر کا ایک  سنگین مسئلہ نجی  رازداری ہے۔ فی زمانہ  انٹر نیٹ خوابگاہ تک میں داخل  ہوگیا   ہے۔ انسان کب تک جاگتا ہے اور کب سو کر اٹھتا ہے یہ جاننے کے لیے تو واٹس ایپ پر موجودگی کے اوقات  دیکھ لینا کافی ہے۔ گوگل کے متعلقہ  اشتہارات یاد دلاتے ہیں کہ جو کچھ آپ   اپنے کمپیوٹر پر پڑھ رہے ہیں اسے کوئی اور دیکھ رہا ہے اور اپنی یادداشت میں محفوظ بھی کررہا ہے۔ آپ   کے زیر مطالعہ موضوع  پر گوگل کے اشتہارات اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ   ایک خفیہ آنکھ ہماری   نگرانی میں مصروف ِ عمل رہتی ہے۔ اس پر جارج اورویل کا یہ مکالمہ صادق  آتا ہے کہ’اگر آپ کوئی راز رکھنا چاہتے ہیں تو اسے اپنے آپ سے بھی چھپائے رکھیں ‘۔ اس لیے کہ اگر آپ  نے خود بھی  اس کا ادراک کر لیا  تو سارا جگ جان جائے گابقول  جارج   ’بگ برادر(بڑا بھائی) آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے‘۔ وہ اپنے محبوب سے کہتا ’ہم  ایسی جگہ ملیں گے جہاں اندھیرا نہ ہو‘ یعنی  فی الحال  ایسی کوئی جگہ موجود ہی نہیں ہے۔  ٹویٹر پر جب کوئی مودی بھکت گوری لنکیش کے قتل پر لکھتا ہے کہ ’ایک کتیا کی موت پر سارے کتے بھونک رہے ہیں‘ تو بے ساختہ ۱۹۸۴ کا یہ مکالمہ یاد آجاتا ہے’ لیکن اگرخیالات زبان کو خراب کرتے ہیں تو زبان بھی افکار کو آلودہ کرتی ہے‘۔

یہ گھناونا  کھیل اقتدار کے حصول اور اس کی  بقاء کے لیے کھیلا جاتا  ہے۔ ۱۹۸۴  کا مرکزی کردار اپنے ساتھی کو یہ بات اس طرح سمجھاتا  ہےکہ ’ پارٹی صرف اپنے لیے ساری قوت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں دوسروں کی فلاح وبہبود میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمیں صرف قوت( اقتدار) میں دلچسپی ہے۔ خالص طاقت( اقتدار)۔ خالص طاقت کا کیا مطلب ہے اب تم سمجھ جاوگے ۔  طاقت یہ ہے انسانی دماغ کا پرزہ پرزہ الگ کرنا   اور پھر اس کو اپنی پسند کے مطابق  دوبارہ جوڑ دینا ‘ ۔ ہندوستان کے انتخابی ہماہمی میں کون سی قومی یا علاقائی جماعت ایسی ہے جس پر یہ الفاظ صادق نہیں آتے۔ ۱۹۸۴ کی خصوصیت جارج اورویل کی پیش بینی ہے۔ اس کتاب کے ایک مکالمہ میں  مستقبل کے جبرو استبداد کی منظر کشی ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتا ہے’ اگر آپ مستقبل کی تصویر دیکھنا  چاہتے ہیں تو  چہرے پر جوتے کی مہر کا تصور کریں ۰۰۰ہمیشہ کے لیے‘۔

اس مقصد کے حصول کی حکمت عملی کو    جارج اورویل ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ ’’جو ماضی کو کنٹرول کرتا وہ مستقبل کو قابو میں رکھتا ہے۔ جو حال پر کنٹرول کرتا ہے ماضی اس کے قبضۂ قدرت میں ہوتا ہے‘‘۔اس تناظر میں اگر رام مندر کی تحریک  کو دیکھا جائے تو کیا ’حال   کےذریعہ ماضی اور ماضی کی مدد سے مستقبل کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ نظر نہیں آتا؟‘۔ اس انقلابی مصنف نے  ایسی پیچیدہ صورتحال سے نکلنے   کے لیے انڈے اور مرغی جیسی مثال دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ جب تک  وہ باشعور نہیں ہوتے باغی نہیں ہوں گے  اور جب تک وہ بغاوت نہیں کرتے اس وقت تک باشعور نہیں ہوں گے ‘۔ یعنی جس طرح بغاوت کے لیے شعور لازم ہے اسی طرح شعور کے لیے بھی بغاوت ناگزیر ہے۔   اس ماحول میں جب کوئی روایت سے ہٹ ک کوئی بات ر سوچتا یا بولتا  ہے تو لوگ  دیوانہ کہہ کر اس کا تمسخر اڑاتے  ہیں  لیکن جارج اوریل  ایسے لوگوں کی  حوصلہ افزائی میں رقمطراز ہے ’ آپ کا اقلیت میں ہونا یعنی صرف تنہا ہونا بھی آپ کو پاگل  ثابت نہیں کرتا۔ ایک حق ہے اور دوسرا باطل۔ اگر آپ ساری دنیا کے خلاف بھی  حق  پر ثابت قدم ہیں تو پاگل  یامجنون نہیں ہیں‘۔    خردمندانِ عصر  کے لیے ۱۹۸۴ کے اس پیغام میں سامانِ  عبرت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close