خصوصی

نجیب کی ماں: میں کس سے شکوہ کروں یہاں سب ہی تو۔۔۔۔

محمد انس فلاحی سنبھلی

وہ اپنی ماں کا لاڈلا تھا، اپنے باپ کا لخت ِجگر اور بہن کا نورِنظر تھا۔باپ نے اسے بچپن ہی سے اعلی تعلیم دلانے کا تہیہ کر لیا تھا۔اسے بھی پڑھنے کا غیر معمولی شوق تھا۔وہ مقامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک کی مشہور ومعروف یونیورسٹی جے این یو میںداخلہ لینے میں کامیاب ہوگیا تھا، اس کامیابی کے بعد اس نے اپنی زندگی کے سنہری خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے۔ اب اس کی ماں کو بھی اپنے ارمان پورے ہوتے نظر آرہے تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تعلیم میں مگن تھا ۔ماں اس سے روز بات کیا کرتی تھی ،وہ ماں سے اپنی تعلیم کے بارے میں ذکر کرتا تو ماں کی زبان پر دعائیں جاری ہوجاتیں ،اور دل میں اپنے ارمانوں کے پورا ہونے کا یقین مزید پختہ ہوجاتا ۔
پتا نہیں کس کی نظر لگی اس کی زندگی میں اچانک بھونچال آگیا ،حکومت کے کارندے اسے نامعلوم وقت ، نامعلوم جگہ پر نامعلوم مدت کے لیے لے گئے ۔ یہ خبر ماں پر بجلی بن کر گری وہ اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے احتجاج کرنے لگی ۔سرکاری دفتروں کے چکر اور سرکاری افسروں سے ملاقات کرنا اس کا روز کا معمول بن چکا تھا۔ لیکن حکومت اور سرکاری کارندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی۔عوام یہ سب دیکھ رہے تھے اور وہ بھی اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے تھے ۔ انہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے تین ہفتے گزر چکے تھے۔کل وہ انڈیا گیٹ پر احتجاج کے لیے جا رہے تھے۔ حکومت کے کارندوں نے بڑی ہوشیاری سے اور اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں پر احتجاج کی پابندی لگا دی ،اور barricadeکے ذریعے جگہ کا مکمل محاصرہ کر رکھاتھا۔ لیکن ماں اور عوام بضد تھے۔ وہ اپنی سی کوشش انجام دینے کے لیے وہاں پہنچ تو گئے ۔
اس کے بعدعوام کی محافظ سمجھی جانے والی پولس فورسز نے جو کیا وہ زبان بیان کرنے سے قاصر ہے ۔ اس کی ماں چیختی چلاتی رہی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ظالموں نے کسی کوبھی نہیں بخشا سب کو اپنی حراست میں لینے کی ناکام کوشش بھی کرڈالی۔عوام یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ کل تک جو لوگ عورتوں کے حقوق کے لئے نئے نئے قوانین لاگو کرنے پر مصر تھے ۔ اب انہیں کیا ہوگیا ہے !ان کا یہ چہرہ اصلی ہے یا وہ چہرہ اصلی تھا!!!
ان کا دل یہ سوچ سوچ کر بیٹھ جاتا تھا کہ پولس فورسز اور حکومت اس معاملے میں اتنی تساہلی کیوں برت رہی ہیں ؟جس نے بھوپال جیل سے بھاگنے(بقول پولس فورسز) والے قیدیوں کو چند گھنٹو ںمیں صرف پکڑا ہی نہیں بلکہ موت کے گھاٹ ہی اتاردیاتھا۔ اس سوال کوئی جواب انہیں اب تک نہیں سوجھا تھا۔
عوام لوٹ رہے تھے ،اور ان کا دل ٹوٹ رہا تھا ۔ پولس ،عدلیہ اور حکومت پر سے ان کا اعتماد اٹھ چکا تھا۔ بس ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ کیا یہی وہ حکو مت ہے جسے ہم نے منتخب کیا تھا ؟ اس کا کوئی جواب نہ ان کے پاس تھا اور نہ ہی ان کے پاس جن سے یہ سوال تھا!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close