خصوصیہندوستان

نربھیا کا رام سنگھ اور آصفہ کا سانجھی رام  

ڈاکٹر سلیم خان

عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے پھر ایک بار عدالت عظمیٰ نے نربھیا اجتماعی عصمت دری کے چاروں قصورواروں مکیش، ونے، اکشے اور پون کے لیے پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ گذشتہ سال پانچ مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے یہ سزا سنائی تھی جس کے خلاف  قصورواروں کی نظر ثانی کی عرضی  داخل کی تھی۔ نربھیا کے خاندان والے فیصلہ سنائے جانے کے دوران  عدالت میں موجود تھے۔ نربھیا کے والدین نے فیصلے کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ پھانسی کے نفاذ  میں طویل عرصہ نہیں لگنا چاہئےورنہ  انصاف کی تکمیل نہیں  ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو پھانسی کی سزا ہونے سے مجرموں میں خوف پیدا ہوگا۔ نربھیا کے والد نے کہا کہ آج بھی بیٹیوں کے ساتھ جرائم ہورہے ہیں۔ ایسے میں جلد سے جلد پھانسی دی جائے تاکہ ایسی حرکت کرنے والے ڈریں۔ انہوں نے نظر ثانی کی عرضی مسترد کرنے پر عدالت کا شکریہ ادا کیا نیز نابالغ ملزم کی رہائی پر افسوس کا اظہار کیا۔

دارالحکومت دہلی  میں ۱۶ دسمبر ۲۰۱۲ کی  منحوس رات کو  فلم دیکھنے کے بعد  نربھیااپنے دوست  کے ساتھ ایک پرائیویٹ  بس میں سوار ہوکر منیرکا سے دوارکا کے لیے روانہ ہوئی۔  بس میں بیٹھتے ہی تقریباً پانچ سے سات اوباش نوجوانوں نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ نربھیا  کے دوست کی مزاحمت بے سود ثابت ہوئی۔  ان لوگوں  نے اس کے ساتھ بھی مار پیٹ کی اورلڑکی کے ساتھ اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایا۔ آگے چل کرنربھیا  اور اس کے دوست کو جنوبی دہلی کے وسنت وہار علاقے میں بس سے پھینک دیا۔ متاثر ہ کو ناز ک حالت میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ واردات کے خلاف اگلے ہی دن سوشل میڈیا پر غم وغصے کا ا ظہار ہونے لگا۔ ۲۷دسمبر ۲۰۱۲ کو علاج کے لئے  نربھیا کو نازک حالت میں سنگا پور لے جایا گیا۔ جہاں ۲۹دسمبر کووہ فوت ہوگئی۔

اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے۔ دہلی پولیس نے تمام ملزمین کو گرفتار کرلیا تاہم  احتجاج جاری رہا۔اس معاملے کے اصل ملزم رام سنگھ نے ۱۱  مارچ۲۰۱۳ کوتہاڑ جیل میں خودکشی کرلی۔ ایک فاسٹ ٹریک کورٹ نے ۱۰ستمبر ۲۰۱۳ کو مکیش، ونے شرما، پون گپتااور اکشے ٹھاکر کو قصور وارقرار دیا اور ۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ کو پھانسی کی سزا سنائی۔ اس واردات میں شامل ایک نوعمر کو تین سال کے لئے اصلاحی مرکز بھیج دیا گیا اور اب وہ جنوب ہند کے کسی صوبے میں آزاد ہے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوسکا کہ نربھیا کے قاتلوں کو انکور شرما جیسا ڈھیٹ اور مکار وکیل میسر نہیں آیا۔ فرض کیجیے کہ رام سنگھ نے انکور شرما کو اپنا وکیل مقرر کرلیا ہوتا تو اسے خودکشی کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی اور نام نہاد نوعمر کی طرح جس نے آبروریزی کی دوران سب سے زیادہ سفاکی کا مظاہرہ کیا تھا مکیش، ونئے، پون اور اکشے بھی عیش کررہے ہوتے۔

یہ چمتکار کے لیے پہلے سوشیل میڈیا کے ذریعہ افواہیں پھیلائی جاتیں کہ دہلی میں کوئی عصمت دری یا قتل کی واردات سرے سے رونما ہی نہیں  ہوئی ۔  اس کے بعد انکور جی عدالت میں حاضر ہوکر فرماتے دراصل نر بھیا کا ساتھی مسلمان تھا۔ اس کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔ وہ دہلی میں یوم جمہوریہ کے دوران دھماکے کرنے کی غرض سے داخل ہوا تھا۔ وہ لوجہاد کے ذریعہ نربھیا کو ورغلا کر اپنے ساتھ فلم دیکھنے لے گیا۔ اس نے بس کے اندر نربھیا کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی۔ بجرنگ دل کے نوجوانوں نے رام سنگھ کی قیادت میں نربھیا کو بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اپنی محبوبہ کے ساتھ چلتی بس میں سے کود گیا۔ اس لیے رام سنگھ، مکیش، ونئے، پون اور اکشے سمیت نابالغ نوجوان کو ساورکر پرسکار سے نوازہ جانا چاہیے۔ مودی جی میں اگر اس کی جرأت نہیں ہے تو بھاگوت جی کو ناگپور میں بلا کر ان  دیش بھکت نوجوانوں کا ستکار کرنا چاہیے۔

آپ کہیں گے کہ کوئی شخص عدالت کے اندر اس قدر جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟ یقین نہ آتا ہوتو کٹھوعہ معاملے میں انکور شرما کا موقف دیکھ لیں۔ انکور شرما نے پریس کلب جموں میں اخباری نمائندوں  کو  خطاب کرتے ہوئے کہاکہ  ضلع کٹھوعہ کے رسانہ میں گجربکروال خاندان سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کی آبروریزی یا  قتل نہیں ہوا بلکہ وہاں لاش کو پلانٹ کیا گیا۔  آصفہ کی لاش کولا کر رکھنے والوں  کا مقصد بتاتے ہوئے انکور شرما نے کہا کہ رسانہ کے ہندوؤں کو کمزور کرکے وہاں کی جنگلی اراضی پر قبضہ جمانے کے لیے یہ حرکت کی گئی۔ شرما نے  پوری ذمہ داری کے ساتھ اور معقول  معلومات و شواہد کی بناء پر کہا  کہ رسانہ میں  ہونے والا مبینہ ریپ اور قتل ایک جہادی قتل ہے۔

ان اوٹ پٹانگ  الزامات کو شرما عدالت میں دوہرانے سے بھی باز نہیں آیا۔ اس نے کہا  کٹھوعہ  ہولناک واقعہ کے پیچھے ’’جہادی عناصر‘‘ ہیں ۔ اس  قتل کا مقصد ب پریس کلب سے عدالت میں آنے تک تبدیل ہوگیا۔ اب  اس نے کہا  جموں و کشمیر میں مذہبی آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے ۸ سالہ لڑکی کی نعش کو اس مقام پر ڈال دیا گیا تھا۔ انکور شرما نے مذکورہ الزام ضلع و سیشن کورٹ (پٹھان کوٹ) میں قلمبند کرایا۔  حسب توقع وہ اپنے اس بے بنیاد الزام کی تائید میں  کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کرسکا  لیکن اس نے ہندتواوادیوں کی درندہ صفت سفاکیت کا پردہ فاش کردیا۔  حقیقت تو یہ ہے کہ اس معاملے  کا اصل ملزم سانجھی رام بکروال خانہ بدوش فرقہ کو نشانہ بناتا آرہا تھا، تاکہ یہ قبیلہ کٹھوعہ میں سکونت اختیار نہ کر پائے اور انہیں ڈرا دھمکا کر بھگانے کی خاطر اس نے اپنے بھتیجے کی مدد سے ایک ایسی وحشت ناک حرکت کرڈالی جس سے ابلیس کا سر بھی شرم سے جھک گیا۔

انکور شرما کے بیان پر اندھے بھکت یقیناً بہت خوش ہوئے ہوں گے لیکن اس نے محبوبہ مفتی کی قیادت والی سابقہ مخلوط حکومت کے گرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وہابی، سلفی، شدت پسند اور اسلام پسند حکومت تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ محترمہ مفتی نہ صرف جنگجو تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں بلکہ وہ ان تنظیموں کے تئیں ہمدردی بھی رکھتی ہیں۔ انکور شرما کے اس  بیان کو اگر درست  مان لیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے  کہ ہندوتوا وادی بی جے پی  محبوبہ  کے  عشق میں کیوں گرفتار ہوئی ؟ اور اس کےساتھ مخلوط  کیوں قائم کی؟  مودی جی کشمیر میں جاکر وزیراعلیٰ کی تعریف میں رطب السان کیوں رہے؟ کیا وہ سب دھوکہ  تھا اب وہ فریب  دے رہے ہیں ؟ مخلوط حکومت سے الگ ہونا اگر قوم کے لیے دی جانے والی قربانی تھی تو پی ڈی پی کے ارکان اسمبلی کو خرید کر ان کی مدد سے حکومت سازی کی سعی  کیا  قوم سے غداری  نہیں ہے؟  کیایہ  ہوسکتا ہے کہ ایک وہابی، سلفی، شدت پسند اور اسلام پسند سربراہ کی پارٹی کے ارکان جنگجو تحریکوں کے رابطے میں نہ ہوں؟  اور انہیں بھی   جنگجو تنظیموں سے  ہمدردی نہ ہو؟   ان سوالات کا جواب نہ انکورشرما جیسے وحشی  وکیل کے پاس ہے اور  نہ مودی بھکتوں کو ان کی ضرورت ہے۔ ان کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دماغ بھی بند ہے اور دلوں پر مہر لگی ہوئی ورنہ غیر ممکن ہے کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جائے اور اس کی پذیرائی بھی ہو۔

 جنہوں نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سامنے آنے کے دن سے اب تک متعدد متنازع بیانات دیے ہیں، نے عصمت دری کے اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے اور 14 فروری کو منعقد ہوئی محکمہ قبائلی امور کی ایک میٹنگ کے ’منٹس‘ (جس میں مبینہ طور پر گجر بکروالوں کو کہیں بھی جنگلی اراضی پر اراضی طور رہنے کا حق دیا گیا ہے)کو واپس لینے کا گورنر سے مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ’رسانہ کا کیس جان بوچھ کر سی بی آئی کے حوالے نہیں کیا گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

2 تبصرے

  1. تحریر کو ڈاکٹر سلیم خان نے کافی حد تک انصاف کے مطالبے اور عدل و قسط کے قیام کے تحت لکھا ہے۔جو انکی تحریر کا بالکلیہ خاصہ رہا ہے۔
    تحریر میں بعض جگہوں پر کافی اختصار سے کام لیا گیا،اگر وہاں (بالخصوص انکور اور کٹھوعہ سے لنک کے دوران) مزید تفصیلات بیان کی جاتیں تو تحریر اور معنی خیز ہوتی۔ایسا مجھے لگتا ہے، منجملہ اس انداز سے فراہم کی گئی تحریر سلیم صاحب کی منفریدیت کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔
    مطلوب ہے کہ اس قسم کی تحاریر کو مرکزی حکومتی منصفین تک پہنچانے کی سعی کی جائے،تاکہ اس موٹی چمڑی پر بھی رفتہ ر فتہ کچھ اثر پہنچ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close