خصوصیصحتمعاشرہ اور ثقافت

نشہ آور چیزوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات

بہ حیثیت خیر امّت ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ملک کے باشندوں کو اس بُرائی سے روکنے کی کوشش کریں

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اللہ تعالٰی نے اس دنیا میں انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس نے یہاں ان کی ضرورت کی تمام چیزیں پیدا کی ہیں اور انھیں استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہے۔ اس نے کھانے پینے کی چیزیں بھی وافر مقدار میں فراہم کی ہیں، جنھیں استعمال کرکے وہ تنومند رہ سکتے ہیں اور آرام و آسائش سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اس نے واضح طور پر یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ کھانے پینے کی صرف پاکیزہ اور حلال چیزیں استعمال کریں، جن سے صحت قائم رہتی ہے اور جسم اور عقل پر بُرے اثرات نہیں پڑتے۔ اس نے ہوشیار کیا ہے کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں، جو انھیں سیدھے راستے سے بھٹکانے میں لگا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ گندگیوں میں لت پت رہیں اور خبیث چیزوں کے عادی بنے رہیں۔ اللہ تعالٰی روئے زمین کے تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے :

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا  ۖ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ (البقرۃ :168)

 ” لوگو ! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ "

جس زمانے میں اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ہوئی اس زمانے میں لوگ طرح طرح کی بُرائیوں میں مبتلا تھے، ان کے درمیان حلال اور حرام کی تمیز اٹھ چکی تھی۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی وہ کسی اصول و ضابطے کے پابند نہ تھے۔ شراب ان کی گُھٹّی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ اس کے بے انتہا رسیا تھے۔ انھوں نے اس کی ہزاروں قسمیں بنا رکھی تھیں۔ شراب پی کر وہ ترنگ میں آجاتے تو آپے سے باہر ہوجاتے، اپنا مال و اسباب لٹا دیتے، الٹی سیدھی حرکتیں کرتے، دوسروں کی عزّتوں پر حملہ آور ہوتے، عصمتیں پامال کرتے، بے بنیاد الزام لگاتے۔ قتل و غارت گری اور جنگ و جدال ان کا معمول بن گیا تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر ان کے درمیان لڑائی بھڑک اٹھتی تو بیسیوں بلکہ پچاسوں سال تک جاری رہتی تھی۔ لوگ اپنی اگلی نسلوں کو انتقام کی وصیت کرجاتے تھے۔ اس طرح کشت و خون کا بازار مسلسل گرم رہتا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا، انھیں صحیح اور غلط کی تمییز سکھائی، انھیں اچھی باتوں اور اچھے کاموں کا حکم دیا اور بُری باتوں اور بُرے کاموں سے روکا ۔ کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کی نشان دہی کی اور انھیں استعمال کرنے کی ہدایت کی اور جسم و عقل کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کو حرام قرار دیا اور ان سے احتراز کرنے کی تلقین کی۔ لوگوں نے اپنے اوپر جو خود ساختہ بوجھ لاد رکھے تھے انھیں اتار پھینکا اور جن بیڑیوں میں خود کو جکڑ رکھا تھا انھیں کاٹ پھینکا۔ اس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود انسانیت کے لیے عظیم نعمت ثابت ہوا۔ سورۂ اعراف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ منصبی ذمے داریاں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہیں :

 يَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهٰٮهُمۡ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡخَبٰۤٮِٕثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِىۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ‌ (الأعراف : 157)

"وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ "

 یہی وجہ ہے کہ اسلام میں شراب اور نشہ آور تمام چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے، اس لیے کہ اس کی نظر میں یہ سب ‘ناپاک چیزیں’ ہیں، جو انسانی جسم کے لیے ضرر رساں ہیں، عقل کو ماؤف کردیتی ہیں اور روح کو پراگندہ کردیتی ہیں۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:

  يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ، اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ، وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاحۡذَرُوۡا‌ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ (المائدۃ :90۔92)

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟ اللہ اور اُس کے رسول کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ "

ان آیات میں اہلِ ایمان سے خطاب کرتے ہوئے کئی باتیں کہی گئی ہیں :

پہلی بات یہ کہ اس میں دیگر بڑے گناہوں : بت پرستی، فال نکالنے اور جوا کھیلنے کے ساتھ شراب نوشی کا تذکرہ کیا گیا ہے، انہیں ‘رجس’ (یعنی گندے کام) کہا گیا ہے اور  ‘شیطانی’ اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ شراب اور جوا میں مصروف کرکے دراصل شیطان تمھارے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اور بغض و نفرت پیدا کرنا چاہتا ہے، تمھارے درمیان دوریاں پیدا کرکے تمھیں ایک دوسرے سے لڑانا چاہتا ہے، ساتھ ہی وہ تمھارا تعلق تمھارے رب سے بھی کاٹ دینا چاہتا ہے، تمھیں اللہ کے ذکر سے غافل اور نماز سے بے پروا کردینا چاہتا ہے ۔  یہ ہیں وہ شیطانی اعمال جو شراب نوشی میں مبتلا انسانوں سے صادر ہوتے ہیں۔

 تیسری بات یہ کہ ان آیات میں بار بار انسانوں کو ان گندے کاموں سے روکا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اگر زندگی میں کام یابی چاہتے ہو تو ان سے دور رہو، ان کے قریب نہ پھٹکو، اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور ان کاموں سے بچو، ان کاموں کے نقصانات بیان کرکے انھیں جذباتی طور پر ابھارا گیا ہے کہ وہ ان سے فاصلہ بنائے رکھیں اور ان میں مبتلا نہ ہوں۔

چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کا کہنا نہیں مانا اور ان گندے کاموں میں لگے رہے تو اس میں تمھارا اپنا خسارا ہے۔ رسول کا کام اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دینا ہے۔ اس نے اپنا کام کردیا۔ اب اس کی بات ماننا یا نہ ماننا تمھارے اوپر ہے۔ اگر مانو گے تو تمھارا اپنا فائدہ ہے اور اگر نہیں مانو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے اور اس کی مضرّتیں جھیلو گے۔

  شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اس کا بزنس عالمی سطح پر اربوں کھربوں ڈالر کا ہے۔ افراد اور پرائیوٹ کمپنیاں تو دولت کمانے کی ہوس میں اس کا فروغ دیتی ہی ہیں، حکومتیں بھی اس کا خوب کاروبار کرتی ہیں اور بھاری زرِمبادلہ کماتی ہیں ۔ کسی کو پروا نہیں کہ اس کے ذریعے انسانی جانوں کے ساتھ کتنا بڑا کھلواڑ ہو رہا ہے اور انسانی سماج کو کتنے بھیانک طریقے سے تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔

 شراب نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال اُمُّ الخبائث یعنی برائیوں کی جڑ ہے۔  یہ سست رفتار زہر ہے جو دھیرے دھیرے جسم کو کھوکھلا کرتا چلا جاتا ہے۔ دل، دماغ، گردہ، جگر اور جسم کے دیگر اہم اعضاء اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں، نظامِ ہضم بگڑ جاتا ہے، دورانِ خون کے نظام میں خرابی آجاتی ہے، پیچیدہ نفسیاتی امراض پیدا ہوجاتے ہیں، الغرض نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنے والا اپنے ہاتھوں اپنی صحت برباد کرتا ہے اور دھیرے دھیرے موت سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ نشہ کرنے والا اپنے بیوی بچوں، والدین اور رشتے داروں سے غافل ہوجاتا ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ ان کے حقوق ادا نہیں کرتا، بلکہ ان پر ظلم و تشدّد کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ اولاد کی تربیت سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس طرح اس کی عائلی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ نشہ انسان کی عقل کو ماؤف کردیتا ہے۔ نشہ کرنے والا بھلے بُرے کی تمییز سے عاری ہوجاتا ہے۔ اس کے نزدیک رشتوں کی حرمت باقی نہیں رہتی۔ نشہ بد کاری اور حرام کاری کا زینہ اور بے راہ روی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ نشہ کرنے والے شخص کو اپنی زبان پر قابو نہیں رہتا۔ وہ بدزبانی اور گالم گلوچ کرتا ہے، دوسروں پر جھوٹے الزامات لگاتا ہے، ان کی عزّت و آبرو سے کھلواڑ کرتا ہے۔ نشے میں مبتلا شخص مختلف جرائم کا ارتکاب بے دھڑک کر بیٹھتا ہے۔ ابتدا میں انسان اپنی مرضی اور ارادے سے نشہ کرتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کا اس قدر عادی ہوجاتا ہے کہ اس کے بغیر جی نہیں سکتا۔ ہر ممکن طریقے سے وہ نشہ آور اشیا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنا سارا مال اس راہ میں خرچ کر ڈالتا ہے، کنگال ہوجاتا ہے تو بھیک مانگتا ہے، اپنا خون بیچتا ہے، کہیں سے پیسوں کا نظم نہیں ہوپاتا تو چوری کرتا ہے، چھین جھپٹ اور لوٹ کھسوٹ کرتا ہے، ڈاکے ڈالتا ہے۔ الغرض شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال سے پورا انسانی سماج تباہ ہوکر رہ جاتا ہے، انسانی قدریں پامال ہوتی ہیں، اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے اور شر و فساد اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔

 انہی اسباب سے اسلام میں شراب نوشی اور نشہ پیدا کرنے والی تمام اشیاء کا استعمال حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی آیات آپ کے سامنے گزریں۔ احادیث میں بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت صاف اور صریح الفاظ میں ان کی حرمت بیان کی ہے اور ان سے روکا ہے۔ آپ نے شراب نوشی کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے (بخاری) اور اس کا استعمال کرنے والے کو جنت سے محروم رہنے والا بتایا ہے (ابن ماجہ) آپ نے شراب کو ہر طرح کی برائی کی کنجی قرار دیا ہے (ابن ماجہ) آپ نے شراب کے ساتھ ہر اس چیز کو حرام کیا ہے جو نشہ پیدا کرے اور عقل کو گم کردے ( ابوداؤد، ابن ماجہ ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اہم بات یہ بھی ارشاد فرمائی ہے کہ ہر وہ چیز جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی کم سے کم مقدار بھی حرام ہے۔ (ابن ماجہ) اس طرح آپ نے نشہ خوری کی جڑ کاٹ دی اور اس پر مطلق پابندی عائد کردی۔

یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محض ہدایات اور تنبیہات ہی نہ تھیں، بلکہ آپ نے ان کو سماج میں نافذ کرکے بھی دکھادیا۔ عرب کے لوگ شراب کے بے انتہا رسیا تھے، اس کے بغیر ان کا زندگی گزارنا محال تھا، لیکن جب شراب کی حرمت کا اعلان ہوا تو وہ اس سے ایک دم رک گئے، شراب کے مٹکے اور اس کے برتن توڑ دیے گئے اور مدینے کی نالیوں میں شراب پانی کی طرح بہا دی گئی۔

 افسوس کی بات یہ ہے کہ سماج کے بُرے اثرات مسلمانوں کی نئی نسل پر بھی پڑ رہے ہیں۔ چنانچہ شراب اور دیگر منشیات میں جہاں ملک میں بسنے والے لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی بڑی تعداد مبتلا ہیں وہیں اس برائی کا شکار مسلمان اور خاص طور پر مسلم نوجوانوں کی تعداد کم نہیں ہے۔ بہ حیثیت خیر امّت ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ملک کے باشندوں کو اس بُرائی سے روکنے کی کوشش کریں، انھیں اس کی خطرناکی اور بُرے انجام سے آگاہ کریں اور خاص طور پر مسلمان نئی نسل کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔ جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا، اللہ تعالٰی نے شراب کے نقصانات بیان کرنے کے ساتھ اہلِ ایمان سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ اس سے باز نہ آئیں گے؟ اور اس سے نہ رکیں گے؟ جو بھی ایمان کا دعوے دار ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دم بھرتا ہے، اسے فوراً پکار اٹھنا چاہیے کہ ہاں، ہم اس سے دور رہیں گے اور اس کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close