تعلیم و تربیتخصوصینظریات

نظام کی تبدیلی میں تعلیمی نظریات کی اہمیت

تعلیمی کاوشیں انفرادی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ نہ صرف بہت حد تک نظریات سے متاثر ہیں بلکہ اکثراوقات نظریات ہی ان کی بنیاد ہوتے ہیں۔

محمد آصف اقبال

عام طور پر تصورات کسی نہ کسی نظریہ پر مبنی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے جس کے نتیجہ میں افراد متاثر ہوتے ہیں اس کے دور رس نتائج سامنے آتے ہیں۔ برخلاف اس کے وہ باتیں اور سرگرمیاں جن نظریہ سے خالی ہوں نہ ان کی زندگی ہوتی ہے اور نہ ہی پختگی ساتھ ہی ساتھ تصورات کو شکل دینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ غالباً اسی تناظر میں نظریہ کے فروغ کے لیے جو سب سے موثر طریقہ اختیار کیاجاتا ہے وہ  کسی بھی گروہ کا تعلیمی نظام ہے۔ تعلیمی نظام نظریات کو فروغ دینے کا آسان ذریعہ ہے اور تصورات کو ایک خاص رنگ میں ڈھالنے میں مددگار ہے۔ وہیں ماضی قریب میں یہ احساس بھی شدت سے اجاگرہوا ہے کہ تعلیم کے تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سماجی نقطہ نظر سے اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم جو اپنے تئیں سماجی مظاہر ہی میں سے ایک ہے، کا مکمل احاطہ اسی نقطہ نظر سے ممکن ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تعلیمی کاوشیں انفرادی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ نہ صرف بہت حد تک نظریات سے متاثر ہیں بلکہ اکثراوقات نظریات ہی ان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ تعلیمی عملیات (Educational Practices) کے تجزیے کے لیے تعلیم اور نظریات کے تعلق کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور یہ بھی کہ نظریات تعلیم کے تصور اور عمل میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ؟سماجی عملیات میں نظریے کی اہمیت کا مزید تجزیہ کرنے سے قبل ضروری ہے کہ لفظ نظریہ Ideologyکی وضاحت ہو جائے۔ نظریہ کو عام طور پر منفی معنی میں بیان کیا جاتا ہے اور لوگوں کو باور بھی کرایا جاتا ہے کہ فلاں نظریہ غالب آنے والا ہے، فلاں کے غلبہ کے لیے یہ کوششیں ہو رہی ہیں اور فلاں نظریات کے حاملین کو مخصوص نظریہ کے فروغ کے نتیجہ میں نقصانات کا اندیشہ ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ‘نظریہ ‘کو فلاسفی کا نعم البدل لفظ گردانا جانے لگا ہے۔ نظریے کو سادہ لفظوں میں عقا ئد کا مجموعہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے عقائد جو انفرادی نہیں بلکہ گروہی طور پر اپنائے گئے ہوں۔

 معاشرتی اداروں میں تعلیم کاسماجی عملSocializationاہم کردارادا کرتا ہے۔ چونکہ تعلیمی ادارے مخصوص نظریات کی تشکیل اورتسلسل میں اہم کردارادا کرتے ہیں اورمخصوص نظریات کی بنیاد پر معاشرے کے بااثر اورممتاز افراد کے مفادات کی نگہبانی کاکام انجام دیتے ہیں۔ لہذا عموماًنظریات پر مبنی تعلیمی اداروں سے ایک خاص گروہ اپنی دورے بنائے رکھتا آیا ہے۔ لیکن مضحکہ خیز یا حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ گروہ اور اس سے وابستہ افراد خود اپنے آپ میں چند نظریات سے وابستہ ہوتے ہیں اور اپنی مخصوص شناخت بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی مخصوص شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اور جن نظریات سے وہ وابستہ ہیں اس کے فروغ کے لیے ،نظریات کے حاملین اداروں سے دوری بنائے رکھتے ہیں اور ظاہراً یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ کسی مخصوص نظریہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ آزاد ہندوستان کا تذکرہ ہو یا آزادی سے قبل انگریز کے ہندوستان کاہردو ادوار میں تعلیمی نظریات کو بنیاد بناکر مخصوص نظریات کو فروغ دیا گیا وہیں مخصوص نظریات کو کمزور کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے اور یہ کوششیں آج2018کے ہندوستان میں بھی پوری آن بان اور شان کے ساتھ جاری ہیں۔

موجودہ تعلیمی نظام جس میں بہت ساری خوبیاں ہیں تو وہیں کافی تعداد میں خامیاں بھی موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ تعلیمی نظریات کا بھی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظریات میں استاد ممتاز ہے اور علم کاسرچشمہ وہی ہے جبکہ شاگرد کاکام صرف وصول کرناہے۔ استاد نظریات کے ساتھ نصاب مرتب دیتے ہیں ،تاریخ لکھتے ہیں اور ان سے لکھوائی جاتی ہے،اور ان معاشرتی اصولوں کو مرتب کرتے ہیں جن کی بنیاد پر معاشرہ کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوتی ہے۔ پھر اس کے ارد گرد تعلیمی اداروں میں وہ مخصوص ماحول پروان چڑھایا جاتا ہے جو ان تعلیمی نظریات کے فروغ میں معاون و کارگر ہوں۔ اس طرح آغاز تا اختتام طلبہ کو مخصوص نہج پر ہمارے تعلیمی ادارے نظام مہیا کرتے ہیں۔ نتیجہ میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جن نوجوانوں کو ہم پروان چڑھاتے ہیں وہ عموماً کسی اور نظریہ ، فکریا تصورکو قبول کے لائق ہی نہیں رہتے اور معاش سے وابستہ ہوکر انہیں کسی اور جانب سوچنے سمجھنے کے مواقع بھی میسر نہیں آتے۔ کیونکہ اب ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد باقی رہ جاتا ہے جس میں آرام و آسائش اور دنیا کی لذتوں کا حصول ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس طرح اچھے خاصے گھرانے اور خاندانوں کے بچوں کی زندگیاں مقصدیت سے عاری ہو جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا وہ تعلیمی نظام ہے جو آج مروج ہے۔ اور اس میں بھی ہمارا وہ موجودہ امتحانی نظام جو غیرمربوط قسم کی زبانی یاد کی گئی چیزوں پرمرکوز ہے۔ جن میں ایسے سوالات سرے سے امتحانی پرچے میں شامل ہی نہیں ہوتے جن کا تعلق حاصل شدہ علم کے اطلاق Application of Knowledgeسے ہوتاہے۔ لہذا یہ صورتحال ہمیں اس بات کی طرف راغب کرتی ہے کہ ہم اس تعلیمی نظام کی آئیڈیالوجی کاازسرنوجائزہ لیں جس کی بنیاد پرمعاشرے کے طاقتور گروہ مزید طاقتوربنتے جا رہے ہیں اور غریب مزید غربت میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے مروجہ تعلیمی نظام میں جس طرح کی تعلیم دی جارہی ہے اس کے مطابق تعلیمی ادارے موجودہ طاقتورافراد،گروہ اور برسراقتدار لوگوں کے معاون بنے ہوئے ہیں اوریوں امیراورغریب کے درمیان فرق بڑھتاچلارہاہے۔

موجودہ مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک جانب ان تعلیمی نظریات کو فروغ دیا جائے جو صرف مادیت پر مبنی نہ ہوں۔ بلکہ ان کے اندر عدل و قسط کے پیمانے بھی موجود ہوں۔ وہیں مسائل کے حل کے لیے موجودہ امتحانی نظام کو بھی بدلنا ہو گا جو کہ صرف یادداشت کا امتحان لیتا ہے۔ نتیجہ میں ایک طالب علم اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جہاں طالب علم تخلیقی اور تنقیدی سوچ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف صورتوں میں علم کو استعمال کر سکیں۔ کیونکہ یہ بات عیاں ہے کہ تحقیق کے نام پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ بھی قبل از وقت موجود علم ہی کو الفاظ کے الٹ پھیر کے ساتھ استعمال کرتے ہوتے ہوئے لفظ’تحقیق’سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ہمیں ٹرانسمیشنTransmission کے ماڈل سے ٹرانسفارمیشن Transformation کے ماڈل کی طرف جانا ہو گا۔ کیونکہ موجودہ ٹرانسمیشنTransmission ماڈل صرف نظریات اور تصورات کی نسل در نسل منتقلی کو ممکن بناتاہے۔ تعلیم کو بامعنی بنانے کے لیے ہمیں اب مکمل تبدیلی کے انداز کی طرف رجوع کرنا ہوگا جہاں تعلیم کامقصد سماجی ،معاشرتی ،معاشی اور سیاسی نظام کی اصلاح اور عدل و انصاف کا حصول ہونا چاہیے۔

مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close