خصوصی

نظیر ؔ کا شہر آشوب اور ہندوستان کی موجودہ مفلسی

 ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ہندوستان کے موجودہ بگڑے اقتصادی حالات میں ہمیں بے اختیار اردو نظم کے نامور شاعر نظیر اکبر آبادی کا لکھا وہ شہر آشوب یاد آجاتا ہے جس میں انہوں نے آگرے کی بدحالی کا نقشہ بڑے ہی جذباتی انداز میں کھینچا تھا۔ شہر آشوب اس نظم کو کہتے ہیں جس میں کسی شہر یا ملک کی اقتصادی یا سیاسی بے چینی کا تذکرہ ہو یا شہر کے مختلف طبقوں کی مجلسی زندگی کا نقشہ طنزیہ یا ہجویہ انداز میں کھینچا گیا ہو۔ سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی (1735-1830) اردو کے مشہور نظم گو شاعر گذرے ہیں۔ دہلی میں پیداہوئے بعد میں اکبر آباد آگرہ میں منتقل ہوگئے اور ساری زندگی وہیں گذاردی۔ نظیرؔ سیر سپاٹے کے رسیا تھے وہ عرسوں اور جاتراؤں میں شرکت کرتے اور زندگی کے مشاہدات کو نظموں میں بیان کرتے تھے وہ فطری شاعر تھے۔ انہیں اردو کا عوامی شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عوامی زبان استعمال کی۔ ان کی مشہور نظمیں آدمی نامہ‘ بنجارہ نامہ وغیرہ ہیں۔نظیر نے اپنے طویل دور حیات میں تقریباً بارہ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا تھا۔ اس دور میں اگر بادشاہ رعایا کا اچھا خیال نہ کرے تو شعرا ہجویہ قصیدے بھی لکھا کرتے تھے۔ نظیر نے اس شہر آشوب میں اس دور کے آگرے کی بدحالی کی جو تصویر پیش کی ہے اگر اس شہر آشوب میں آگرے کی جگہ ہند کا لفظ بدل دیا جائے تو موجودہ زمانے میں نوٹوں کی تنسیخ کے حکومت کے فیصلے کے بعد معاشی بدحالی کے جو حالات ملک بھر میں ہیں ان کا اندازہ نظیر کے اس شہر آشوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نظیر نے اس شہر آشوب کو مخمس کی شکل میں لکھا ہے یعنی ہر بند میں پانچ مصرعے لکھے۔پہلے بند کے آخری مصرعے میں انہوں نے لکھا کہ ’’ جب آگرے کی خلق کا ہو روزگار بند‘‘ اس کے بعد دوسرے بند میں جو حالات پیش کیے ہیں وہ موجودہ حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ نظیر کہتے ہیں:
بے روزگاری نے یہ دکھائی ہے مفلسی کوٹھے کی چھت نہیں ہے یہ چھائی ہے مفلسی
دیوار و در کے بیچ سمائی ہے مفلسی ہر گھر میں اس طرح سے پھر آئی ہے مفلسی
پانی کا ٹوٹ جاوے ہے جوں ایک بار بند
نظیر نے جس طرح لکھا کہ چاروں طرف سے لوگوں کو مفلسی نے آگھیرا ہے آج اسی طرح کا حال ہندوستان میں ہے۔ نوٹ بندی کے بعد غریب اور محنت کش طبقہ مفلسی کا زیادہ شکار ہوگیا ہے۔ لوگوں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے کیوں کہ حکومت کی جانب سے بڑی مقدار میں رقم نکالنے پر پابندی ہے۔ زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ تعمیراتی کام رکے ہوئے ہیں اور لوگ روزانہ ضروریات زندگی کی تکمیل میں پریشان ہیں۔ لوگوں کو اپنی رقم نکالنے پر پابندی ہے اور قطار میں ٹہر کا اپنی رقم نکالنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں دولت کا چکر رک گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے سے چاروں طرف مفلسی چھا گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات اگلے پانچ چھ مہینے تک رہیں گے۔ کالے دھن کو بے نقاب کرنے حکومت نے یہ اقدام کیا ہے لیکن اس کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے سے یہ اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف اقدام بن گیا ہے اور ہندوستان کی شرح نمو انتہائی حد تک گر جانے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔آج جس طرح کاروبار بند ہونے سے محنت کشوں کو بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کچھ اس طرح کی منظر نگاری نظیر نے بھی اپنے اس شہر آشوب میں کی ہے وہ کہتے ہیں:
اب آگرے میں جتنے ہیں سب لوگ ہیں تباہ آتا نظر کسی کا نہیں اک دم نباہ
مانگو عزیزو ایسے بر ے وقت سے پناہ وہ لوگ ایک کوڑی کے محتاج اب ہیں آہ
کسب و ہنر کے یاد ہیں جن کو ہزار بند
ماریں ہے ہاتھ ہاتھ پہ سب یاں کے دست کار اور جتنے پیشہ ور ہیں سو روتے ہیں زار زار
کوٹے ہے تن لوہار تو پیٹے ہے سر سنار کچھ ایک دو کے کام کا رونا نہیں ہے یار
چھتیں پیشے والوں کے ہیں کاروبار بند
نظیر نے جس طرح چھتیس پیشے کی بات کی ہے آج ہندوستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو بہت حد تک صورتحال وہی نظر آتی ہے جس کے بارے میں نظیر نے دو سو سال قبل بات کہی ہے ۔ نوٹ بندی کے فوری بعد لوگوں کے ہاتھ سے کرنسی چھین لی گئی۔ ہندوستان ایک دیہی ملک ہے آج بھی ملک کی % 70آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس کے بدل ملنے والے روپیے سے اپنے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ اپنے پرانے نوٹ بنک میں جمع کراؤ اور کریڈٹ کارڈ یا پے ٹی ایم سے رقم کی ادائیگی کرو۔ حکومت کو کیا اندازہ نہیں ہے کہ بازار میں ترکاری پھل اور دیگر اناج کی دکانوں پر نہ ہی الیکٹرانک مشین لگی ہوتی ہے اور نہ ہی غریب کے ہاتھ میں الیکٹرانک پیمنٹ کارڈ ۔دیہاتوں میں بنک نہ ہونے سے لوگوں کو اپنی مزدوری چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں قائم بنکوں کو جانا پڑ رہا ہے اور وہاں لمبی قطار میں لگ کر اپنی دولت حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں ٹرک چلانے والے بیروزگار ہوگئے ہیں کیوں کہ لوگ مال نہیں بھر رہے ہیں۔ کسانوں نے اپنی پیداوار کو سڑکوں پر لاکر پھینک دیا کیوں کہ ان کے خریدار نہیں رہے۔ دودھ والوں نے اپنے دودھ کو پھینک کر احتجاج کیا۔ بہرحال ملک میں انارکی کا عالم ہے ۔کام نہ ملنے اور اس کے نتیجے میں آنے والی مفلسی کو بیان کرتے ہوئے نظیر کہتے ہیں :
محنت سے ہاتھ پاؤں کی کوڑی نہ ہاتھ آئے بے کار کب تلک کوئی قرض و ادادھار کھائے
دیکھو جسے وہ کرتا ہے رو رو کے ہائے ہائے آتا ہے ایسے حال پہ رونا ہمیں تو ہائے
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند
جب انسان انتہائی مشکل حالات کا شکار ہوتا ہے تو وہ دل سے کہتا ہے کہ دشمن بھی ایسے حالات کسی پر نہ لائے۔ ہمارے حکمران ملک سے غریبی دور کرنے کے نام پر ووٹ لیتے ہیں لیکن ان کے اقتدارا پر آنے کے بعد سارے کام ایسے ہوتے ہیں جس سے غریبی تو کیا دور ہوگی غریب ہی مر جائے گا۔ کیوں کہ نوٹ بندی کے بعد پریشان حال لوگوں میں اب تک 70سے ذائد لوگ قطار میں ٹہر کر مر چکے ہیں۔خواتین قطاروں میں ٹہری ہیں کچھ لوگ دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کر رہے ہیں۔ اور ہماری حکومت روز ایسے اعلانات کرتی ہے جس سے امیر کو فائدہ پہونچتا ہے غریب کو نہیں۔ جب سے نوٹ بندی شروع ہوئی حکومت کے کسی وزیر نے کسی گاؤں کا دورہ نہیں کیا۔ متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کی بات تک نہیں کی بس دہلی میں بیٹھ کر ٹی وی کے سامنے بیان دیا جاتا ہے کہ جب اچھا کام کیا جاتا ہے تو مشکلات تو آتی ہی ہیں لیکن یہ کیسی مشکل کے امیر کا کالا دھن نکالنے کے لیے غریب کی جان ہی لے لی جائے۔ ہمارے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ دیش غریب کی محنت سے چلتا ہے امیر کی دولت سے نہیں۔
نظیر نے شہر آشوب میں مفلسی کے سبب لوگوں کی حالت زار کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
قسمت سے چار پیسے جنہیں ہاتھ آتے ہیں البتہ روکھی سوکھی وہ روٹی کھاتے ہیں
جو خالی آتے ہیں وہ قرض لیتے جاتے ہیں یوں بھی نہ پایا کچھ تو فقط غم کھاتے ہیں
سوئے ہیں کر کواڑ کو اک آہ مار بند
جتنے ہیں آج آگرے میں کارخانہ جات سب پر پڑی ہے آن کے روزی کی مشکلات
کس کس کے دکھ کی روئے اور کس کی کہیے بات روزی کے اب درخت کا ہلتا نہیں ہے پات
ایسی ہوا کچھ آکے ہوئی ایک بار بند
جب حکمران حالات پیدا کرکے خاموش ہوجاتا ہے تو غریب عوام اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ رب ہی ہے جو کسی کو بھوکا سونے نہیں دیتا ۔ اس لیے اپنی ہر ضرورت کو اپنے پالنے والے رب سے مانگنے کی تلقین کرتے ہوئے نظیر غریب عوام کے جذبات کی عکاسی یوں کرتے ہیں:
کوئی پکارتا ہے پڑا بھیج اے خدا اب تو ہمار کام تھکا بھیج اے خدا
کوئی کہے ہے ہاتھ اٹھا بھیج اے خدا لے جان اب ہماری تو یا بھیج اے خدا
کیوں روزی یوں ہی لی مرے پروردگار بند
ہے میری حق سے اب یہ دعا شام اور سحر ہو آگرے کی خلق پہ اب مہر کی نظر
سب کھاویں پیویں شاد رہیں اپنے اپنے گھر اس ٹوٹے شہر پر بھی الہی تو فضل کر
کرتے ہیں ہونٹ اپنے شرمسار بند
جس طرح نظیر نے شہر آشوب کے آخر میں رب کے حضور دعائیہ الفاظ کہے ہیں ویسے ہی اہل وطن کو چاہئیے کہ وہ رب کے حضور دعا کریں کہ لوگوں کے حالات بہتر ہوں۔ ان کی معاشی بدحالی دور ہو۔ اور فطرت کے قانون کے خلاف جو کام ہورہا ہے وہ بند ہو۔ اہل وطن کو چاہئیے کہ وہ اپنے اطراف رہنے والے غریبوں کا خیال رکھیں۔ بڑی مارکیٹ سے خریداری کرنے کے بجائے چھوٹے بیوپاریوں سے خریداری کریں۔ ترکاری بیچنے والے اور پھل بیچنے والے غریب ٹھیلہ فروشوں سے کاروبار کریں تاکہ ان کا سامان بکے اور ان کے گھر بھی چولہا جلے۔ دولت کا چکر چلتا رہے تو حالات سدھریں گے اور ہندوستان کی مفلسی دور ہوگی۔ نظیر نے جس طرح اپنے دور کے حالات بیان کئے اس طرح ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب ملک پر حالات آئیں تو ادیب اور قلمکار بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور عوام کے غم کو بانٹتے ہیں۔ نظیر کہتے ہیں:
عاشق کہو اسیر کہو آگرے کا ہے     ملا کہو دبیر کہو آگرے کا ہے
مفلس کہو فقیر کہو آگرے کا ہے   شاعر کہو نظیر کہو آگرے کا ہے
اس واسطے یہ اس نے لکھے پانچ چار بند

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close