خصوصی

ننگا ملک بھوکی حکومت، مرنے والوں کو 10 کے بجائے 3لاکھ

حفیظ نعمانی
پاک پروردگار ان کی مشکلیں آسان فرمائے جو اپنے وزیر اعظم کے فیصلوں سے لہولہان، خون ٹپکاتے ہوئے اپنے وطن جارہے تھے یا کسی عزیز کی شادی رچانے جارہے تھے یا شادی میں محبت کے پھول برسا کر آرہے تھے، جن کی پہلی خبر20 نومبر اتوار کی صبح کو آئی کہ 60سے زیادہ مسافر موت کی نیند سو گئے اور سیکڑوں زخمی ہوگئے اور بے ساختہ ہماری زبان سے نکلا کہ یہ تعداد ابھی بڑھے گی اور آج صبح کی خبر کے مطابق یہ تعداد دو گنی سے بھی زیادہ ہوگئی اور زخمیوں کی تعداد 300ہوگئی۔
یہ ٹرین اندور سے پٹنہ جارہی تھی اور اس میں اکثریت بہاری مزدوروں کی تھی جو نہ جانے کب سے اپنا گھر بار چھوڑے بچوں کے لیے کمانے میں مصروف تھے۔ خبروں کے مطابق رات کے تین بجے تھے اور ٹرین110 کلومیٹر کی رفتار سے جارہی تھی۔ نہ جانے وہ کون اپنی ماؤں کے دشمن تھے جنھوں نے اپنی گؤماتاؤں کو ٹرین کی پٹری پر اپنا رزق تلاش کرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ ڈرائیور اور معاون کے بیان میں گائے کا ذکر ہے نیل گائے کا نہیں کہ’’ انجن میں اس کی ہڈیاں اور گوشت پھنس گیا تھا جسے نکال کر ٹرین کو پھر روانہ کیا گیا۔‘‘ اب جو بھی باتیں ہیں وہ سب ہوائی ہیں اور جانچ کا انجام جو ہوگا وہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے گی۔ آپ کو اور ہمیں نہ معلوم ہوگا اور نہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے۔
مودی جی نے پربھو بھیا کو ریل کا محکمہ دیا ہے۔ ان کے منہ سے ہر دن ا یک ہی بات سنی کہ ریلوے گھاٹے میں ہے جبکہ کرائے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اے سی کا ٹکٹ بعض روٹ پر ہوائی جہاز سے بھی زیادہ ہوگیا ہے اور آئے دن موازنہ کرکے لوگ بتاتے رہتے ہیں۔ اور صرف کرایہ ہی نہیں بڑھا ریزرویشن اور تت کال کے ذریعہ عوام کی جیبیں خالی کرائی جارہی ہیں لیکن شرم کی بات ہے کہ جب 10 برس میں روپے کی قیمت آدھی رہ گئی تو پربھو بھیا نے مرنے والوں کے وارثوں کو تین لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ دس برس پہلے ممتا بنرجی ہر حادثہ کی پہلی خبر پر ۵ لاکھ کا اعلان کردیا کرتی تھیں۔
حاکم کی قصیدہ خوانی جب ہمارے خون میں نہیں ہے تو فطرت میں کیا ہوگی؟ لیکن کسی اچھی اور بہت اچھی بات کی تعریف نہ کرنا بھی صحافت کے آداب کے خلاف ہے۔ اس لیے یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آج تک کسی بھی بڑے یا چھوٹے حادثہ کے بعد یہ نہیں دیکھا کہ زخمی یا مرنے والوں کے وارث حکومت کے انتظام کی تعریف کریں اور کہیں کہ سرکاری مشینری نے بہت سہارا دیا۔ اور یہ تو کمال خاں نام کے رپورٹر نے کہا بھی اور دکھایا بھی کہ ایمولنس 50سے زیادہ لائن میں کھڑی ہیں اور جیسے ہی راحت اور بچاؤ کا کام کرنے والی ٹیمیں کسی مردہ جسم کو یا زخمی کو نکالتی ہیں فوراً ایک ایمبولنس اسے لے کرہوا ہوجاتی ہے اور پولیس نے ایمبولنس کے راستوں کو بھی پوری طرح خالی کرادیا ہے اور عوام کو اس راستہ پر نہیں آنے دیتے اور پہلی بار دیکھا ہے کہ ایک صاف جگہ پر ٹرین کی بوگیوں سے نکالا ہوا مسافروں کا سامان عمدہ قسم کے سوٹ کیسوں اور گٹھریوں کی شکل میں ترتیب سے رکھا ہے اور ان کی تلاش کے لیے موبائل ڈائری یا کوئی کارڈ ملے جس سے پتہ لگ سکے کہ کس کا سامان ہے؟ اور وہیں پر شادی کے کارڈوں کا ڈھیر ہے جنھوں نے بہت مدد کی۔ اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ نہ چیخ نہ پکار نہ حکومت کو برا بھلا کہنا اورنہ یہ شکایت کہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر عورتوں کے زیور، مردوں کی گھڑی، موبائل اور نوٹوں کا پرس غائب کردیا۔
یہ تو ہر کسی نے بتایا کہ سب سے پہلے قریب کے گاؤں کے لوگ مدد کے لیے آئے لیکن صورت حال اتنی بگڑی ہوئی تھی کہ وہ ہر کسی کی مدد کرنے کی ہمت نہ کرسکے مگر جتنی کرسکتے تھے کرتے رہے۔ فوراً ہی ارد گرد کے تھانوں کی پولیس آئی اور اس نے انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد مرکزی دستے آئے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے وہ کیا جو پربھو بھیا کو کرنا چاہیے تھا کہ مرنے والوں کو5.5لاکھ اور زخمیوں کو 50 ہزار یا 25 ہزار کا اعلان کردیا۔ یہ ٹرین مدھیہ پردیش اور بہار کے درمیان چلتی ہے۔ اترپردیش سے صرف گذرتی ہے۔ لیکن اکھلیش یادو نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ہر کسی کی دعائیں اپنے حق میں کرالیں۔
آزاد ملک میں ٹرین کا پہلا حادثہ اس وقت ہوا تھا جب لال بہادر شاستری ریلوے کے وزیر تھے۔ انھوں نے فوراً استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیر اعظم پنڈت نہرو کے اصرار کے باوجود انھوں نے استعفیٰ واپس نہیں لیا۔اس کے بعد اس سے بہت بڑے بڑے حادثے ہوئے لیکن کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اسے اپنی ذمہ داری مانے ۔اور پربھو بھیا تو نہ کپڑوں سے وزیر لگتے ہیں اور نہ صورت سے۔ اس لیے انھوں نے دس دس لاکھ کے بجائے3 لاکھ دے کر جان چھڑائی اور ان کے جو اسٹیٹ منسٹر ہیں وہ پرانے نوٹ ان بدنصیبوں کو دینے لگے جو اسپتال میں پڑے ہائے ہائے کررہے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ دودھ یا پھل یا کوئی دوا با زار سے منگوائیں گے تو ان کاغذ کے ردی ٹکڑوں کا کیا کریں گے؟ انھیں اس پر بھی غیرت نہیں آئی جب لوگوں نے وہ نوٹ پھینک دئے تو کہیں سے بھی کرتے نئے نوٹوں کا انتظام یا چھوٹے نوٹوں کا انتظام کرکے اپنی ذمہ داری نبھاتے۔
ہم نے اپنی عمر میں نہ جانے کتنے ریل حادثے دیکھے ہیں۔ بوگی پر بوگی چڑھنے کا منظر جہاں بھی دیکھا ہے وہ حادثہ آمنے سامنے کی ٹکر سے دیکھا ہے۔ عمر میں یہ پہلی بار دیکھا کہ جاتے جاتے کوئی ٹرین بریک مارنے سے کھلونوں کی طرح چور چور ہوگئی ہو۔ یہ تو اسی وقت ہوسکتا کہ ڈرائیور نے دیکھا ہو کہ سامنے پٹری نہیں ہے۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ کئی دن کے بھوکے انتقام کی آگ میں اتنا جل گئے ہوں کہ اب انھوں نے سرکار کو ہی انتقام کے لیے منتخب کیا ہو۔ یہ بات عوام سے بار بار کہی جاچکی ہے کہ ریل، بس، ڈاک خانے، پولیس تھانے سرکار کے نہیں عوام کے ہیں۔ لیکن ایسی ہر کوشش کو مودی سرکار مودی سرکار سن سن کر سب کو یقین ہوگیا اب سرکار مودی کی ہے اور سرکار سے انتقام لینا مودی سے انتقام لینا ہے۔
وزیر اعظم کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ شوقین مزاج ہیں۔ ان کے پاس بھی اگر اتنے کپڑے نہ ہوں جتنے جے للتا کے پاس تھے تب بھی ہر لیڈر یا سابق وزیر داخلہ ایس کے پاٹل سے زیادہ ہوں گے۔ اور وہ جس نے 32 لاکھ روپے کا نیلا سوٹ دیاتھا جو ساڑھے چار کروڑ میں نیلام ہوا وہ بھی جانتا تھا کہ شوقین ہیں۔ اور یہی شوق ہے جو بلٹ ٹرین ان پٹریوں پر چلانے پر اکسارہا ہے جن پر شاید دنیا میں سب سے زیادہ حادثے ہوئے ہیں۔ اور مزاج کی نزاکت کا یہ حال ہے کہ چین کی بلٹ ٹرین شہرت کی حد تک اپنی عمر میں ایک حادثہ کا شکار ہوچکی ہے۔ اس لیے چین کی نہیں جاپان کی بلٹ خرید یں گے جس پر حادثہ کا داغ نہیں ہے۔ کل کے حادثہ کے بعد بھی کیا مودی جی یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ بس اپنی حکومت کی پوری عمر ملک کی پٹریاں بلٹ کے قابل بنانے پر خرچ کروں گا اور بلٹ کی خریداری سریش پربھو کے پوتے کریں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close