خصوصیماحولیات

نواز جنگ کا سوکھتا وطن

سید شجاعت حسینی

Q=C(0.368A)(0.925 – log0.386A / 14 )

انجینئرس ڈے (11 جولائی) کا موقعہ ہے۔ تو کیوں نہ  بات ایک انجینیرنگ فارمولے سے شروع کی جائے۔

 ہائیڈرولوجیکل کنسٹرکشنس  میں استعمال  کیا جانیوالا یہ فارمولا  مختلف علاقوں کی ندیوں کے  معکوس کیچمنٹ، اور ناقابل پیمائشاسٹریم فلو  بیسن  ( ان گاؤجڈ بیسنس )اور ان سے متعلق    انجینیرنگ کی باریکیوں تک پہنچنے کے لئیے  ایک نہایت کارآمد ٹول مانا جاتا ہے۔ واٹڑ مینیجمنٹ انجنیرنگ میں ایک  سنہرے باب کا اضافہ کرنے والا یہ فارمولہ  تقریبا ایک سو سال پہلے  ایک انتہائی  جینیس  اور اعلیٰ دماغ سے نمودار ہوا تھا۔ آج بھی انجینیرس اسے ” نواز جنگ فارمولہ ” کے حوالہ سےجانتے اور  پڑھتے ہیں۔

علی نواز جنگ کا یوم پیدائش تلنگانہ کے لئیے  سرکاری سطح پر ” انجینیرس ڈے” ہے۔

عثمان ساگر، نظام ساگر، حمایت ساگر، کوئل ساگر، تنگبھدرا، کڑم پراجکٹ،  مانیر  ، پربھنی  تا پورنا ۔ کئی پراجیکٹ علی نواز جنگ کی قابلیت اور انسانیت نوازی کے گواہ ہیں۔ اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک عنبر ( اورنگ آباد ) تا نواز جنگ( حیدرآباد)، جب جب  صلاحیت   کے ساتھ جذبہ خدمت و غمگساری یکجا ہوئی انسانیت  کو ترقی کے ساتھ حقیقی خوشحالی نصیب ہوئی۔ (1)

اسی حوالے سے آئیے ہمارے ماڈرن  ترقیاتی ماڈلس پر نظر ڈالتے ہیں۔

ہزارہا کروڑ روپیوں سے تعمیر کردہ کالیشورم پراجیکٹ سے پورے تلنگانہ کو  بڑی امیدیں ضرور وابستہ ہیں، لیکن افتتاحی ہنگاموں کے دوران اس  بات کا ذکربھی کم ہوا اور کم ہی لوگ یہ  جانتے ہیں کہ عملا ًاس پراجیکٹ کی لگام پڑوسی ریاست  مہاراشٹر کے ہاتھ میں ہے۔ تلنگانہ واٹر ریسورذ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیرمین پرکاش راؤ بھییہ بات یاد دلانے سے نہیں چوکتے کہ کالیشورم سے وابستہ  امیدیں  موجودہ صورتحال اور اس مستقبل کی اس توقع پر قائم ہیں کہ اپ اسٹریم ڈیمس کی تعمیر نہ ہو گی۔

یعنی مہاراشٹر میں بہنے والی وین گنگا، وردھا،  پراناہتا اور ساتھ ہی گوداوری ندیوں  پر مہاراشٹر کی جانب سے بیریجس کی تعمیر نہ ہوگی۔ کالیشورم  کو سیراب کرنے والے پانی کا گوداوری  کی اہم ٹرائیبیوٹریزیر منحصر بیشتر   کیچمنٹ ایریا مہاراشٹر میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ بڑی حد تک مہاراشٹر پر منحصر ہے۔ مہاراشٹر چیف منسٹر نے بھی افتتاحی تقریب میں اسے مہاراشٹر کا تلنگانہ کے لئیے تحفہ قرار دیا۔ خدا کرے کہ یہ تحفہ  قائم رہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس توقع کے باوجود سابقہ ریکارڈ تشویش کا سبب ہے۔

پرکاش راؤ کے مطابق اگر پڑوسی ریاست اپ اسٹریم ڈیمس کا فیصلہ کرتی ہے تو کالیشورم کا حشر بھی سری رام ساگر( پوچم پاڈ)  جیسا ہوگا، جسے تلنگانہ کی لائف لائین کہا جاتا ہے۔ (2)

صرف کالیشورم نہیں  تلنگانہ کےکئی   بڑے ریزروائرس کی لگام  بھی مہاراشٹر کے ہاتھ میں ہے۔ گوداوری پر موجود سری رام ساگر، مانجیرا پر سنگور اور نظام ساگر   اور اب کالیشورم سبھی کا بہت زیادہ  انحصار مہاراشٹر کے وسیع کیچمنٹ ایریا پر ہے۔ کرشنا پر موجود ناگر جنا ساگر بھی کسی حد تک مہارشٹر اوراور بڑی حد تک  کرناٹک سے جاری بہاؤ پر منحصر ہے۔ سوال یہ ہے کہ  کیا اپ اسٹریم بیریجس واقعی تعمیر نہ ہونگے  اور کیا کالیشورم کے تمام کیلکولیشنس تلنگانہ کے حق میں رہیں گے ؟ یہ نہیں کہا جاسکتا۔ اس حوالے سے مہارشٹر کا سابق  ریکارڈ گھاگ سیاستدانوں اور  شکر لابیوں کے گٹھ جوڑ کے زیر  اثررہا  ہے۔

اس بات کا فوری امکان کم ہے کہ پراناہتا ( وین گنگا، وردھا ) ندیوں پر کوئی اپ اسٹریم ڈیم تعمیر ہو جو کالیشورم کو متاثر کرے، اس لئیے کہ یہ مہاراشٹر کے مشرقی علاقہ میں بہنے والی وہ ندیاں ہیں جوریاست  کے دوسرے سب سے زیادہ بارش والے علاقوں سے گذرتی ہیں ( کوکن کے بعدتقریباً 1400 ملی میٹر اوسط کے ساتھ مشرقی ودربھ کا یہ علاقہ  یقینی  اور عمدہ بارش کا دوسرا سیراب علاقہ ہے )۔  جنگلات سے لیس یہ قبائلی علاقہ مغربی مہاراشٹر کے شوگر بیلٹ سے کافی دور ہے اس لئیے  ان ندیوں کے روکے جانے کا فوری امکان نہیں۔ ان تمام اسباب کے باوجود ڈیمس کی تعمیر ایک  پالیٹیکل فیصلہ ہوتا ہے اور حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیاں اور فیصلے  بھی اکثر یو ٹرن لیتے ہیں۔ اس رسک سے انکار ممکن نہیں۔

1975میں طئے پائے اگریمنٹ کے باوجود بابلی تنازعہ نے 2006 میں سر اٹھایا۔ بابلی  پروجیکٹ تنازعہ کے دوران مہاراشٹر نے  سات  سال طویل مقدمہ میں سپریم کورٹ سے فیصلہ جیت کر2013 سے  بابلی پراجیکٹ کے ذریعہ پانی کی  خاصی مقدار روکنے میں کامیابی پائی۔ مہاراشٹڑ صرف بابلی نہیں بلکہ 13 اپ اسٹریم ڈیمس تعمیر کرنے کی تیاری میں ہے۔ اگر یہ ہو  جائے تو سوچا جاسکتا ہے  کہ تلنگانہ کے سرحدی علاقہ میں واقع لائف لائین  رام ساگر کا کیا حشر ہوگا، جو گذشتہ چند سالوں سے سخت   مشکلوں سے دوچار ہے ۔ (3)

مہاراشٹریوں بھی بڑے ڈیمس کی تعمیر میں چمپین ہے۔ ہندوستان کے بڑے ڈیمس کی تقریبا 41 فیصد تعدادمہاراشٹر سموئے ہوئے  ہے۔  ڈیمس کی تعمیر میں اس  ترقی یافتہ ریاست کا  کوئی ثانی نہیں۔ گوداوری واٹر شئیرینگ اکورڈ ( این ششی دھر ) کے مطابق گوداوری واٹر ڈسپیوٹس ٹرائبونل کے اگریمنٹ. (1975) پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے گذشتہ 9 سالوں میں سری رام ساگر(گوداوری)  اور نظام ساگر ( منجیرا ) میں پانی کی دستیابی گر کر صرف٪33 فیصدرہ گئی ہے۔ (4) حیدرآباد واٹر سپلائی ایند سوریج بورڈ بھی شہر میں پانی کی قلت کا اہم سبب منجیرا سنگور کا سکڑکر رہ جانا قرار دیتا ہے۔

انچیلنجنگ حالات میں آئیے اب ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

گذشتہ سال نسبتا بہتر بارش کے باوجود امسال شہر حیدرآباد  کا ہر علاقہ پانی کے لئیے پریشان رہا۔ رواں سال مانسون کا ایک ماہ گذرنے کے باوجود ریاست کے تقریبا تمام علاقوں میں کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ حیدرآباد میں تاحال بارش کی کمی ٪28- ہے۔ آگے کیاہوگا خدا جانے۔ اگر یہ اوسط یونہی جاری رہا اور کمی برقرا ررہی تو شائد وہ وارننگ  سچ ہوجائے جسکا مختلف جیولوجسٹس نے اظہار کیا کہ 2020 تک حیدرآباداپنا گراؤنڈ واٹرکھو دیگا۔ اگر یوں ہوتا ہے تو ہمیشہ کی طرح اس بدترین کرب کو بھی حیلہ بہانے سے  مڈل کلاس, غیر منظور شدہ لے آؤٹس کالونیزیا غریب بستیوں کے سرمارا جائے گا۔   خدا نہ کرے۔

المیہ یہ ہے کہ شہر کی اکثریت کو پانی کے سمٹتے ذرائع اور اپنے ہاتھوں سے انکی چھوٹتی لگام کا علم ہے اور نہ انڈر گراؤنڈ بگڑتے کیلکولیشن کا شعور !!

سوکھتے  ایکویفرس:

حیدرآباد  شہر کی زمین میں بارش کے ذریعے  جذب ہونیوالے پانی کے مقابل یہاں پھیلے بورویلس ٪340 زائد پانی شہر کی زمین سے کھینچ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک لیٹر پانی اگریہاں  زمین میں جذب ہوتا ہے توتقریبا ساڑھے تین لیٹر بورویلس کے ذریعے نکال لیا جاتا ہے۔ بات صرف شہری علاقوں کی نہیں بلکہ کھیت کھلیان بھی پوری بے شعوری کے ساتھ اندھا دھند یہی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

چالیس سال قبل 1980 میں تلنگانہ کا 8545 ہیکٹرس علاقہ بورویلز کے ذریعے زیر کاشت تھا۔ اب بڑھ کر 666974 ہیکٹرس علاقہ بورویلز پر منحصر ہوگیا۔(5)

گورنمنٹ آف انڈیا منسٹری آف واٹر ریسورسز کی رپورٹ گراؤنڈ واٹر لیول سناریو ان انڈیا  (2013) کے مطابق جنوبی ہند کی تمام ریاستوں میں تلنگانہ کی زیر زمین پانی کی کیفیت سب سے خراب ہے۔  ( ٹیبل ملاحظہ فرمائیے)

زیر زمین ایکویفرس کوئی لامتناہی خزانہ نہیں کہ بس چلتا رہے۔ اندازہ کیجیئےکہ کیسے ہم اس خزانہ کی بوند بوند نچوڑنے پر تلے ہیں  اور کیسےیہاں کے بچوں کے حلق سے ایک ایک گھونٹ چھین کر انھیں  ایک سوکھا، بنجر اور بے پناہ  کشمکش اور کرائسس سے بھرا وطن دینے کی تیاری میں جٹے ہیں۔

واٹر چینیلس کی بربادی :

بڑی بڑی عمارتوں کے نیچے گہرے سیلرس کی تعمیر بھی ایک بےعقلی کی دوڑ ہے جو جاریہے  اور شہر کے آبی ذخائر کو تباہ کررہی ہے۔  اونچے مالس اور آفسوں کی بلند عمارتیں زیادہ پارکنگ اسپیس کی طلب میں ملٹی لیول سیلرس تعمیر کررہے ہیں۔ یہ سیلرس چند مقامات پر  4 تا 5 منزلہ ہوتے ہیں۔ زیر زمین نہروں کے لئیے ان کانکریٹ چیمبرس کی موجودگی قاتل  ہوتی ہے۔ جو نہروں کے آگے  رکاوٹ اورا نکے سلسلے کو توڑدینے کا کام کرتی ہے۔ سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ، منسٹری آف واٹر رسورسس کی رپورٹ ( گراؤنڈ واٹر بروچر حیدرآباد  2013-) کے مطابق شہر میں 25 بڑے تالاب ہوا کرتے تھے۔ لیکن بڑی عمارتوں نےکچھ تالاب اور  ان کئی  چینلس کو تباہ  کردیا جو ان تالابوں کی سیرابی کا سبب تھیں۔ (6)

حیدرآباد ہندوستان کا وہ  منفرد شہر  ہے  جو ایف ایس آئی  کی بندشوں سے عملا  غیر معلنہ آزاد ہے۔  دہلی، پونے، بنگلور کے بشمول دیگر بڑے شہروں میں ایف آیس آئی کی حد 2 تا 4 ہے اور یہاں بلا تکلف  10 تک جاپہنچتی ہے۔  (کھلے پلاٹ پرکتنے  اسکوائر فیٹ تعمیر کی جاسکتی ہے ، ایف آیس آئییہی گائیڈلائنس واضح کرتی ہیں )۔ حیدرآباد میں بلند ترین  ( عملا ًلا محدود ) ایف ایس آئی  کا  مطلب یہ  ہے کہ یہاں محدود پلاٹ پر من چاہی بلند عمارت بنانے، کھلی زمین کے ہر انچ کو سیمنٹ کانکریٹ سے ڈھانک دینے ، ہزاروں فیٹ ڈریل کرنے، اور ایک ایک بوند کو زمین سے کھینچ نکالنے کی  کھلی چھوٹ ہے۔ یہ عمارتیں زیر زمین ایکویفرس کوکس تیزی سے چوس بھی  رہی ہیں اورانکے چینلس کو  کس بے دردی سے کاٹ بھی رہی ہیں، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ (7)

ڈیمس کا استحصال:

امسال حیدرآباد واٹر سیوریج بورڈ نے سنگور اور نظام ساگر کے سمٹ جانے کے بعد ہمیں پانی کی فراہمی کے لئے آخری سطح تک کوشش کرلی۔ ناگر جنا ساگر کے کم ترین سطح ( منیمم ڈرا ڈاؤن لیول ) ڈیڈاسٹوریج سے بھی پانی کھینچ لایا گیا۔

جو 510 فٹ کی نچلی سطح چھورہا تھا۔ مئی میں جب منجیرا سپلائی  پورا تھم گیا تو ہم نے ناگرجنا ساگر کے ڈیڈ اسٹوریج میں دس ایمرجنسی پمپس نصب کرکے ہر ممکن پانی کھینچ لیا۔ اب پیاس بجھانےکی خاطر آنے والے سالوں میں کیا کوئی ڈیڈ اسٹوریج بھی کہیں بچے گا۔ کہنا مشکل ہے۔ اب ہمیں مانسون کا انتظار کرنا ہوگا کہ پہلے کرناٹک کے الماٹی  اور نارائین پور ڈیم بھر جائیں اور اضافی پانی سری سیلم کے بعد ناگرجنا تک پہنچے۔ (8)

تلنگانہ کے فطری مسائل :

تلنگانہ چٹانوں (ہارڈ راکس ) اور پتھر کی سخت سطح سے سے گھرا  علاقہ ہے۔ حیدرآباد ویسٹ کے بشمول کئی علاقے  بنجر پتھریلے بیڈ اور گرینائیٹ کی سخت  تہوں  سے ڈھکے ہیں ۔  اس لئے فطری  رچارجنگ  کی شرح بھی یہاں  کم ہے۔

یہ علاقہ  نسبتا ً کم تا اوسط درجہ بارش کا علاقہ ہے۔ پانی کی ضروریات کے لئیے  تلنگانہ کا  کافی انحصار پڑوسی صوبوں کے  کیچمنٹ ایریاز پر ہے۔

تلنگانہ کا بیشتر علاقہ سطح سمندر سے اونچائی پر واقع ہے۔ زمینی ثقل ( گریویٹی ) کی اُس دولت سے  ریاست بڑی حد تک محروم ہے جو پانی کو  نگر نگر بہا لے جاتی ہے۔ نتیجتا ناگر جنا ساگر کا پانی بھی ایک مقررہ  سطح سے نیچے چلا جائے تو  بڑے الیکٹرک پمپس کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کالیشورم  کے ذخائر تو تلنگانہ کی اوسط سطح سے 300 میٹر نیچے ہیں اسلئیے یہ ایک مکمل لفٹ اریگیشن سسٹم ہوگا  جو  آنے والے دنوں میں ریاست کی  الیکٹریک پیداوار کا ایک بڑا حصہ کھا جائے گا۔

تلنگانہ کاساحل سمندر سے کوئی رشتہ نہیں۔ حکومت تاملناڈو چنئی کو پانی کے کرب سے چھٹکارہ دلانے کے لئیے ڈی سالینشن ( سمندری پانی کی صفائی )  پروجیکٹ  پر غور کررہی ہے۔ (یہ اور بات ہے کہ   ڈی سالینیشن سعودی عرب جیسی کم آبادی والی شاہانہ مملکت کے لئیے تو ممکن ہے جو اپنی جی ڈی پی کا دو فیصد پانی کے لئیے خرچ کردیتا ہے لیکن ڈی سالینیشن پروجیکٹ کی لاگت، ہماری آبادی، ضرورت اور ہمارے وسائل ایسے کسی پروجیکٹ کی اجازت نہیں دیتے۔ )  لیکن تلنگانہ ایسے پروجیکٹ پر غور کرنے اور پڑوسی  ساحلی علاقوں میں ایسےبڑے  انوسٹمنٹ کا متحمل بھی نہیں ہوسکتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال کا سامنا ہم کیسے کریں۔

غذائی ترجیحات

گذشتہ مضمون میں اس بات کا تفصیلا ً ذکر ہوا تھا کہ کسطرح شراب اور شکر  زمین کو اجاڑ کر سوکھا کرجاتی ہیں۔ ( ملاحظہ فرمائیے : چار دریاؤں کا تحفہ )۔

 تلنگانہ  ان دونوں چیزوں کی پیداوار میں یقیناً بہت پیچھے ہے لیکن انکے استعمال میں قائدانہ پوزیشن سنبھالے ہے۔ شراب کے بارے میں یہ بات  بیان کی گئی تھی کہ مہاراشٹر کے مقابل تلنگانہ میں شراب کے استعمال کی شرح پانچ گنا سے زائد ہے۔ یہاں سماج میں شراب کو وہ  مقام حاصل ہے جسکے مقابل پانی کی اہمیت  بھی کہیں نہیں ٹھہرتی، بقول کشفی۔ ۔

آب حیواں کو مے سے کیا نسبت

پانی پانی ہے اور شراب شراب

ایک اسٹڈی کے مطابق شکر کا 60 فیصد استعمال سافٹ ڈرنکس، بیکریز اور کنفیکشنریز میں ہوتا۔ سافٹ ڈرنکس شکر سے لبریز وہ  تباہ کن چاشنی ہوتی ہیں جن میں شکر کی بے تحاشا مقدار ہوتی ہے۔ (9)

کے استعمالمیں اضافہ کی  ہوشربا شرح ملاحظہ فرمائیں۔ Sugar-Sweetened Beverages.

اکنامک ٹائمز کی رپورٹ ( 19 اپریل 2019) کے مطابق 2021 تک ملک میں سافٹ ڈرنکس کا استعمال دوگنا  ہوجائیگا۔ بچوں میں بھی اوسطا دودھ کا استعمال کم ہورہا اور سافٹ ڈرنک کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ریڈیف کی ایک رپورٹ ( 27 جولائی 2017) کے مطابق ہندوستان میں سب سے زیادہ  سافٹ ڈرینکس تلنگانہ و آندھرا میں  پئیے جاتے ہیں۔ (10) کوک کے باٹلنگ پلانٹس کی تعداد میں  بھی تلنگانہ و آندھرا  کی  پوزیشن بلند ہے ۔ ہندوستان  کا سب سے بڑا پیپسی پلانٹ بھی  آندھرا میں واقع ہے۔

تلنگانہ خواہ شکر و شراب پیدا نہ کرے لیکن  بلند استعمال  کے ذریعے شاندار مارکیٹ آفر کرتا ہے  جسکا فائدہ پڑوس کی لابیاں اٹھاتی ہیں اور خشکی کی مار پورا علاقہ جھیلتا ہے۔ یہ ایسا  استحصالی سائیکل ہے جسکا راست نظر آنا مشکل ہے۔

حالانکہ سافٹ ڈرنک کمپنیاں زمینی پانی کے استحصال کے الزام کی تردید کرتی ہیں، بلکہ انکی اشتہاری مہمات میں یوں بتایا جاتا ہے کہ کولڈ ڈرنک کی ٹھنڈک سے پورا علاقہ ہرا اور   شاداب ہورہا ہے لیکن کئی سماجی تحریکات کی رپورٹس  سے بڑے سخت الزامات واضح ہوتے ہیں کہ کسطرح  ایک باٹلنگ پلانٹ پورے علاقے کو سکھادیتا ہے۔ صرف پلاچی ماڑہ نہیں بلکہ کالا ڈیرہ راجستھان، وارانسی، اتراکھنڈ، تاملناڈو  کے بشمول نارتھ تا ساؤتھ کئی مقامات  کی بیدار ذہن عوام نے کئی پلانٹس کو اپنے علاقوں سے ہٹایا  یا اجازت نامے کینسل کروائے۔ مدراس ہائیکورٹ نے باضابطہ ان کمپنیوں کے پانی کے استعمال پر پابندی لگوائی۔

 لیکن ادھر  تلنگانہ و آندھرا کے شہری علاقوں کے باشندے  سافٹ ڈرنکس کمپنیوں کی بزنس کی خاطر نہ صرف صحت  بلکہ دھرتی اور پانی بھی خوشدلی سے برباد کرنے کے لئیے تیارہیں۔ (11)

ایگریکلچر اور گھریلو ضروریات کے درمیان توازن

یہ سچ ہے کہ ریاست  تلنگانہ گنا جیسی غیرضروری فصل پر پانی صرف نہیں کرتی بلکہ یہ چاول   کی سرزمین ہے اور دھان کے کھیت یہاں  زیادہ پانی پی جاتے ہیں  جو ایک ضروری فصل ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ کیا ہم ضروری  پیداوار کی ترجیحات کو بھی اسطرح بدل سکتے ہیں کہ عوام کی غذائی ضرورت بھی پوری ہو اور پانی کے  90 فیصد  حصہ سے کچھ بچ جائے جو ڈومیسٹک استعمال  کے لئیے پہنچے۔ یہ بنیادی غذائی ضرورت سے وابستہ ایک حساس موضوع ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ  چاول کی کاشت کم کی جائے لیکن اگریکلچر ماہرین کوئی مناسب حل اس سلسلے میں  ڈھونڈھ سکتے ہیں۔

ہارویسٹنگ

دہلی میں پالیسی سازوں نےواٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دیا لیکن لائیو منٹ کی ایک آر ٹی آئی کے مطابق نیتی آیوگ کی بلڈنگ کے بشمول بیشتر  سرکاری عمارتیں بھی ہارویسٹنگ پریکٹس سے  بہت دور ہیں۔ (12)۔ معلوم ہوا کہ سرکاری بندشیں اور اعلانات کافی نہیں بلکہ سوچھ بھارت تا ہارویسٹنگ، ایسے کئی دل لبھانے والے  اعلانات نے صرف نیتاؤں کا قد بڑھایا۔ ضروری ہے کہ  ہر فرد اسے اپنی ذمہ داری مانے۔ اور اس سلسلے میں عملی دشورایوں کا حل پیش کیا جائے۔

جب ڈپارٹمنس بھی ہارویسٹنگ نظر انداز کرتے ہیں تو عام آدمی کیوں دھیان دے۔  انفرادی سطح پر لوگ متوجہ ہوں اور گھروں میں ہارویسٹنگ ماڈلس تعمیر کریں اسکا امکان کم ہے۔ اگر یہ کام کوآپریٹیو سوسائیٹیز بنا کر محلوں کی سطح پر کیا جائے تو نتائج کی امید ہے۔

کچھ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مختصر گھروں کے نیچے ہارویسٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے پلانٹس زیادہ سے زیادہ زمین کی اپری تہہ نم کرسکتے ہیں۔ گہرائیوں تک پہنچ کا ٹیبل ریچارج کرنا چھوٹے پلانٹس کا بس نہیں۔ اسلئیے اجتماعی کوششوں سے کالونیز کی سطح پر یہ کام ہوتو مفید ہوسکتا ہے۔

انفرادی سطح پر ہارویسٹنگ کا ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ آن لائین پھیلے بے شمار سستے اور ان سائنٹفک  طریقوں کو اپنا کر لوگ واٹر ٹیبل کو آلودہ کرنے، اپنے ہی بورویلس کو تباہ کرنے اور انڈر گراؤنڈ چینلس    کو خراب کرنے کا سبب نہ بن جائیں۔ اس لئیے بھی سائنٹفک اور اجتماعی ہارویسٹنگ زیادہ مفید عمل ہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا، منسٹری آف واٹر رسورسس نے مکمل گائیڈلائینس کے ساتھ رہنمائی آن لائین فراہم کررکھی ہے۔

MANUAL ON ARTIFICIAL RECHARGE OF GROUND WATER

مساجد میں وضو اور بارش  کی سنٹرل ہارویسٹنگ کا منصوبہ کمیونیٹی کو آپریشن کی عمدہ مثال اور دیگر بستیوں کے لئیے نمونہ و محرک ہوسکتا ہے۔

پلانیٹیشن

درج ذیل ٹیبل بتاتا ہے کہ کھلے ایریا ز اور پارکس  کے سکڑاؤ  نے ہائیڈرولوجیکل سائیکل کو تباہ کیا  اور رچارجنگ کا نیچرل عمل بگڑ گیا اور اس سبب شہر کا گراؤنڈ واٹر ختم ہوا جارہا ہے۔  (13)بے پناہ نکاسی کے باوجود شہر کے مغربی علاقہ ( ٹولی چوکی ) میں اگر گراؤنڈ واٹر برقرار ہے تو اس کا ایک سبب  ملٹری ایریا، ٹومبس   کا سرسبز علاقہ اور ان سے متصل کھلے میدان بھی  ہیں,

لیکن کس تیزی سے یہ اوپن ایریازاب  سمٹتے جارہے ہیں  ہم جانتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بایوڈائیورسٹی پارک  کے  تین جانب بائیو ڈائیورسٹی کو اجاڑا گیا۔ پارک کی پچھلی جانب پہاڑ توڑ اگیا، ایک جانب فلائی اوور کے لئیے کئی پیڑ کاٹے  گئے اور سامنے تالاب کو بتدریج دبوچا جارہا ہے۔  حیدرآباد اس کارناموں کے حوالوں سے بہت مظلوم ہے۔ اور یہ چلتا رہا تو شہر ڈارک بلاککا حصہ بن جائے گا۔

ریگولیٹڈ سپلائی اور واٹر آدیٹنگ

ان سب سے بڑھ کر پانی کو قدرتی نعمت ہی نہیں امانت ماننے  کا عام رجحان ہر سطح پر پیدا ہو۔ کئی چھوٹی چھوٹی ٹیکنیکس ہیں جن سے 50 فیصد سے زائد پانی بچایا جاسکتا ہے۔ انھیں اپنانا ضروری ہے۔

مانسون اسٹیٹسٹکل ماڈل ایکسپرٹ ارتھ سائنس سیکریٹری مادھون نائر کے مطابق پچھلے 150 سال کے ڈیٹا کے مطابق مانسون ملٹی ڈیکیڈل اوسلیشن  ( دہائیوں پر مبنی نشیب و فراز ) سے گذرتا ہے۔ فی الحال  کم مانسون کا دورانیہ( لو اِپوک ) جاری ہے اور اگلے چند سال مانسون بارش کم ہی رہے گی۔ (14)

ان حالات میں عوامی شعور کا جاگنا بہت ضرور ی ہے۔ ساتھ ہی انتہائی ریگولیٹڈ سپلائی، آبادی کے لحاظ سے مناسب تقسیم، اور واٹر آدیٹنگ  بھی  ضروری ہے۔

بات طویل ہوجائے گی، لیکن اس تسلسل کو سمجھنے کے لیے   گذشتہ دونوں تحریریں بھی معاون ہیں۔  چلتے چلتے   بشیر بد ر کے الفاظ میں سبھی  قارئین سے  یہ خواہش کہ،

اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

٭٭٭

اس سلسلے کے مزید مضامین:

چار دریاؤں کا تحفہ

چار دریاؤں کی پکار

مزید دکھائیں

سید شجاعت حسینی

مضمون نگار سافٹ ویئر انجینئر اور معروف قلم کار ہیں۔ آپ مختلف تخلیقی فورم پر فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ جدید ٹکنالوجی اور سماجی و تعلیمی مسائل آپ کے خاص موضوعات ہیں۔ ان دنوں موصوف حیدرآباد میں مقیم ہیں۔

3 تبصرے

  1. I have not seen such a good article on natural water research.

    If you could have published the resources of information of your article, it would have been superb.

    1. Thanks for your valuable comment
      .Regarding references , each point is already marked. Sharing their corresponding references . Please find :

      References:
      1- حیدرآباد کے بڑے لوگ ( سید غلام پنجتن)
      2- Kaleshwaram, only in view of current availability of water :The Hindu ( 25 Jun 19)
      3- SC deals Babli blow to Telangana farmers : (New Indian express 01st March 2013)
      4- GODAVARI RIVER WATER SHARING ACCORD : N. Sasidhar
      5- The Hindu : Aquifer mapping best to locate groundwater ( 26 April 2016)
      6- CENTRAL GROUND WATER BOARD MINISTRY OF WATER RESOURCES GOVERNMENT OF INDIAGROUND WATER BROCHURE HYDERABAD DISTRICT,
      7- Water crisis: Hyderabad realtors seek tweak in FSI norm (TOI : 2 July 19)
      8- Drinking water crisis: All hands to the pumps in Hyderabad (NIE: 27May 19 )
      9- https://business.mapsofindia.com/sugar-industry/
      10- Why is South India consuming more cola than North? ) https://www.rediff.com/money/report/why-is-south-india-consuming-more-cola-than-north/20170727.htm
      11- Don’t let Coca-Cola and Pepsi set up bottling plants unless they have a roadmap to replenish drinking water availability ( Financial express : March 3, 2017)
      12- The new plan to solve India’s water crisis ( live Mint : 04 Jul 2019)
      13- GROUND WATER BROCHURE
      14- HYDERABAD DISTRICT, ANDHRA PRADESH
      15- Hyderabad IT and education hub stares at severe water crisis (TOI17 June 19)
      16- 20% of Coca-Cola Company Owned Plants Closed in India) http://www.indiaresource.org(
      17- DYNAMIC GROUND WATER RESOURCES OF INDIA (As on 31st March 2013
      18- https://www.coca-colaindia.com/about-us/our-manufacturing-footprint
      19- Central Ground Water Board Ministry of Water Resources, River Development &Ganga Rejuvenation Government of India

  2. ماشاءاللہ ، بہترین ، معلوماتی، سماج کی حقیقی صورتحال کو اجاگر کرنے والا مضمون ہے، اسلامی تحریکات سماج میں اسطرح کے مسائل پر گفتگو چھیڑنے اور شعور کی بیداری کا کام کرنا چاہیے.

متعلقہ

Close