خصوصی

نوٹ بدلی ! کاخ امرا کے در و دیوار کا غازہ

 ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

8؍نومبر2016کو ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک رات کو ۸؍بجے ٹیلی ویژن پر آکر اپنے مخصوص انداز میں تقریر کرتے ہوئے پانچ سو اور ایک ہزار روپیے کے نوٹوں پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا اور اس اعلان کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ ملک میں کالے دھن کی حوصلہ شکنی ،جعلی کرنسی پر پابندی اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔اس اعلان سے قبل انھوںنے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی اور اپنے خفیے منصوبے کی تفصیلات سے انھیں آگاہ کیا۔اس ملاقات کے فورا بعد ساڑھے سات بجے شام کو اچانک کابینہ کی میٹنگ طلب کی اور اپنے کابینی رفقا کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔گویاکابینہ سے مشورہ نہیںکیاگیابلکہ کابینہ کو حکم دے دیاگیاکہ وہ اس فیصلے کی توثیق کریں اور اس کے فورا بعد اپنے گھر پر ہی دور درشن کے اسٹاف کو بلاکر قوم کے نام پیغام نشر کردیاگیا۔اس دوران کسی بھی کابینی وزیر کو  کمرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔یہ اندازکار بالکل وہی ہے جو 25؍جون1975کو ایمرجنسی کا اعلان کرتے وقت اس وقت کے وزیراعظم اندرا گاندھی نے اختیار کیاتھا۔کسی بھی جمہوریت میں اس انداز کار کردگی کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھاجاتا۔یہی وجہ ہے کہ آج 41؍سال گزر جانے کے باوجود بھی انداراگاندھی کے اس اقدام کو جمہوریت کا سیاہ باب کہاجاتاہے ۔بالکل اسی طرح نوٹ بندی کے اس معاملے کو بھی دیکھاجارہاہے۔پہلی چیز تو یہ کہ اس اچانک اقدام سے ملک کے اصل کالے دھن پر کسی قدغن کے لگنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے ،کیوںکہ کالی آمدنی کا اکثر حصہ زمینوں کے ناجائزکاروباروںمیں لگاہے،غیر ملکی بینکوں میں رکھاہے اور بڑے بڑے سرمایہ دار اور صنعت کاروں کے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں کروڑوں روپیے کے قرضوں کی صورت میں موجود ہے،جسے واپس لینے کی کوئی تدبیر موجودہ حکومت نے آج تک نہیں کی ۔ نیز سونے اور اور شئیر کاروبار میں لگا ہے۔سونے پر سہاگہ نوٹوں کی اس تبدیلی کے لیے خاطر خواہ انتظامات بھی نہیں کیے گئے اور ملک کے عام لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں پر کوئی غور نہیں کیاگیا،بلکہ ایک مطلق العنان حکمراں کی طرح بغیر کچھ سوچے سمجھے ایک نادر شاہی فرمان جاری کردیاگیا۔اگلے روز وزیرخزانہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ ملک میں کل کرنسی سولہ لاکھ کروڑ روپیے ہے جس کا ۸۶؍فیصد پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی صورت میں ہے،یعنی تقریبا چودہ لاکھ کروڑ روپیے کے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ ملک بھر کے بازاروں میں سکہ رائج الوقت ہیںاور ملک کا ہر کاروبار ابھی تک بھی نقد کاروبار کی حیثیت سے چلتاہے ۔آن لائن کاروبار ملک میں ابھی تک رائج نہیں ہوسکاہے۔اگر رائج ہوبھی جائے تو دنیا میں کبھی بھی کرنسی کی ضرورت ختم نہیں کی جاسکتی ۔دنیا کا کوئی ملک ایسانہیں کہاجاسکتا جس کے بارے میں یقین سے کہہ سکتے ہوں کہ وہاں دونمبر کا کوئی کاروبار ہوتاہی نہیںیا وہاں کوئی جعلی کرنسی موجود نہیں ہے۔حد یہ ہے کہ دنیا کا سب سے طاقت ور کہاجانے والا ملک امریکہ جس کی کرنسی ڈالرساری دنیا کی اہم ترین کرنسی شمار کی جاتی ہے اور جو دنیا کی سب سے زیادہ مروج کرنسی کا درجہ رکھتی ہے ،وہاں بھی بڑی تعداد میں جعلی ڈالر رائج ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ جعلی کرنسی ڈالر کی صورت میں ہی موجود ہے ، لیکن یہ سب جانتے ہوئے بھی کسی امریکی حکمراں نے آج تک ڈالر کو بند کرنے یا بدلنے کی جسارت نہیں کی ۔ایسے میں ہندوستان جیساملک جو بینکنگ کے معاملے میں دنیا کے 190ملکوں میں سے ابھی130ویں نمبر پر ہی موجود ہے ،اس کو اچانک اس کرنسی میں تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟کیا واقعی جعلی کرنسی کو ختم کرنا اور دہشت گردی میںاس کے استعمال کرنامقصود نظر ہے یا دیگر عوامل بھی کارفرماہے؟۔
غور سے دیکھاجائے تو مودی جی کا یہ اعلان در اصل نوٹ بند کرنے کا معاملہ سرے سے ہے ہی نہیں،بلکہ اصل میں یہ نوٹ بدلنے کا معاملہ ہے۔اس لیے کہ پانچ سو روپیے کا نوٹ بند نہیں کیاگیابلکہ بدل دیاگیاہے۔اسی طرح ایک ہزار روپیے کا موجودہ نوٹ بازار سے ہٹاکر اگلے چند مہینوں میں نیا ہزار کا نوٹ لایاجارہاہے۔مزید برآں دوہزار روپیے کے نوٹ کا اضافہ بھی کردیاگیا،ایسے میں اس معاملے کو نوٹ بندی نہیں کہاجاسکتاہے۔یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ اگر یہ محض نوٹ بدلی کا واقعہ ہے تو ملک میں پہلی بار کرنسی کی تبدیلی نہیں کی جارہی ہے،اس سے قبل متعدد بار کرنسی میں تبدیلی کی جاتی رہی ہے ۔مثلا ایک روپیہ ،دوروپیہ اور پانچ روپیہ کے نئے نوٹ مزید چھاپنے کا سلسلہ بند کردیاگیاہے اور اس کی جگہ سکے بازار میں دستیاب ہوگئے لیکن عام لوگوں کو کانوں کان خبر نہیں چلی کہ یہ تبدیلی کب واقع ہوئی اور نہ ہی عوام کو اس سے کوئی پریشانی ہوئی ۔اسی طرح قارئین اگر غور فرمائیںتو دس روپیے کا نوٹ دسیوں بار بدلاجاچکاہے ،بیس روپیے،پچاس روپیے اور سو روپیے کے نوٹ میں بھی متعدد بار تبدیلی آچکی ہے،لیکن اس تبدیلی سے کبھی بھی ملک کا کوئی ایک باشندہ بھی متأثر نہیں ہوا۔خود پانچ سو روپیے کا نوٹ ابھی گزشتہ سال بدلاگیاہے تب بھی ملک کا کاروبار متأثر نہیں ہوا۔ 1979میں ایک ہزار ،پانچ ہزار اور دس ہزار کے نوٹوں پر پابندی لگائی گئی تھی ،اس وقت بڑی تعداد میں دونمبر کا پیسہ برآمد ہواتھا اور لوگوں نے نوٹ ضائع کیے تھے لیکن اس زمانے میں وہ نوٹ عام لوگوں کے پاس موجود نہیں تھے اور صرف چند کاروباریوں کے ہاتھوں تک ہی محدود تھے ،اس لیے اس نوٹ بندی سے بھی عام لوگوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑاتھالیکن ملک کی معیشت اس سے بھی متأثر ہوئی تھی اور قارئین کو یاد ہوگاکہ چند شیکھر کی وزارت عظمی کے دوران اسی نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کے سونے کے ذخائر سستے داموں فروخت کرکے معیشت کو سنبھالاگیاتھا۔لیکن اب معاملہ بالکل برعکس ہے،نریندر مودی جی کے اس تغلقی فرمان کے نتیجے میں ملک کا غریب سے غریب آدمی بھی سڑک پر آکر کھڑا ہوچکاہے اور ایک طرح سے ملک کا ہر شخص بینکوں کے باہر قطار میں کھڑا ہواہے۔اس دوران 100؍سے زائد لوگ لائنوں میں کھڑے کھڑے اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔گزشتہ بارہ دنوں میں پندرہ بینک کے ملازمین بھی مر چکے ہیں اور ان اموات کی ذمہ داری لینے کو کوئی حکومت تیار نہیں ہے،بلکہ حکومت کے کسی وزیر یاحکمراں جماعت کے کسی راہنما نے اظہار تأسف کے لیے ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیاہے۔معاوضہ دینا تو درکنار۔بجا طور پر پوچھا جاسکتاہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم رکھنے والی حکومت چند دنوں کی اس مختصر مدت میں بے قصور مارے جانے والے ان ہندوستانیوں کی جان تلفی کے لیے کس دہشت گرد کو ذمہ دار قرار دے گی۔
طرفہ تماشا یہ بھی ہے کہ چودہ لاکھ کروڑ روپیے کی کرنسی میں سے گزشتہ دس دن کے اندر چھ لاکھ کروڑ کی کرنسی ملک کے عوام بینکوں میں واپس جمع کراچکے ہیں جب کہ اس کے بدلے میں بینکوں نے محض ایک لاکھ کروڑ روپیہ ہی عوام کو اداکیاہے۔ریزروبینک آف انڈیاکے ذمہ داران یہ کہہ رہے ہیں کہ اگلے دوہفتے میں تقریبا دس لاکھ کروڑ روپیہ واپس آجائے گا لیکن یہ بتانے کو تیار نہیں ہے کہ اسی رقم کے برابرنئے نوٹ بھی کیا اسی مدت میں عوام تک پہنچادیے جائیں گے۔ریزروبینک کے گورنر نے حال ہی میں اپنے ایک مبہم سے بیان میں صرف اتنا کہاہے کہ نئی کرنسی کو پورے طور پر عوام تک پہنچنے میں تقریبا سات ہفتے کا وقت لگے گالیکن انھوںنے یہ نہیں بتایاکہ کیا ان سات ہفتوں میں وہ دس لاکھ کروڑ روپیہ واپس عوام تک پہنچادیں گے یا موجودہ تقسیم کے تناسب کے مطابق محض تین لاکھ کروڑ روپیہ ہی عوام تک پہنچے گا اور اگر چودہ لاکھ کروڑ واپس لے کر محض تین یا چار لاکھ کروڑ روپیہ عوام کو واپس دیاجاتاہے تو باقی11؍لاکھ کروڑ روپیے کے بقدر کرنسی کی مالیت کا کیاہوگااور وہ کس کی جیب میں جائے گی۔ابھی صورت حال یہ ہے کہ ملک کا سارا کاروبار کرنسی نہ ہونے کی وجہ سے ٹھپ ہوچکاہے۔انڈسٹری میں مینو فیکچرنگ بند ہے۔خریدوفروخت بند ہے،درآمد برآمد بند ہے۔کھیتی میں بوائی کا کام بند ہوچکاہے۔جائیدادوں کی خریدوفروخت اور تعمیرات کا کام بھی ٹھپ ہوچکاہے ۔ایسے میں ملک کے اندر کاروبار کی ہر شکل تقریبا بند ہوچکی ہے اور ملک ساکت وجامد کھڑا ہے۔اندازہ یہ ہے کہ یہ صورت حال اگلے چند ماہ تک جاری رہے گی۔دہلی میں صرف چاندنی چوک اور صدر بازار میں ہزاروں کروڑ روپیے روزانہ کی خریدوفروخت ہوتی ہے،جو بندہے۔اس طرح اگر پورے ملک کی تجارت ،معیشت ،صنعت اور زراعت کا حساب لگایاجائے تو لاکھوں کروڑ روپیہ بے مصرف ہوکر رہ گیا۔کیانریندر مودی جی نے نوٹ بندی کے اعلان سے قبل اس نقصان کا کوئی تخمینہ لگایاتھا؟،اگر ہاںتو انھیں ملک کے سامنے اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس نوٹ بندی سے ملک کی معیشت پر فوری اثرات کیامرتب ہونے والے ہیں اور کل کتنا کالا دھن اور جعلی کرنسی بے اثر ہوگی۔وزیراعظم اور وزیر خزانہ کو مشترکہ طور پر یہ بھی بتاناچاہیے کہ گزشتہ جولائی میں بینکوں نے پانچ لاکھ کروڑ روپیے کے جن قرض خوروں کی فہرست جاری کرکے ان کے اثاثہ جات کو نیلام کرنے کی اجازت لی تھی ،ان میں سے کتنی کمپنیوں کے کون کون سے اثاثے ابھی تک فروخت ہوچکے ہیں اور ان سے کتنی آمدنی ہوئی اور ان اثاثوں کا خریدار کون تھا۔وزیر اعظم کو یہ بھی بتاناچاہیے کہ نوٹ بندی کے اعلان کے تیسرے ہی دن 70؍ہزار کروڑ روپیے کے قرض کیوں معاف کردیے گئے ،جن میں12؍ہزارکروڑ روپیہ ہندوستان کے بھگوڑے سرمایہ دار وجے مالیہ کا بھی شامل ہے۔ملک کے عوام کو یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ ملک کے قدیم مندروں ،مٹھوںاور درگاہوں میں لاکھوں کروڑ روپیے کے جو زیورات اور نقدی موجود ہیں،کیا چھپن انچ کی چھاتی رکھنے والے اس بہادر وزیر اعظم میں یہ ہمت ہے کہ وہ تروپتی ،سبری مالا کے مندروں اور اجمیر کی درگاہ سے اس دولت کو لے کر ملک کے خزانے میں جمع کراسکیں۔100؍دنوں کے اندر غیر ملکی بینکوں میں جمع سرمایہ داروں اور سیاست دانوں کی کالی آمدنی کو ملک میں واپس لاکر ایک سو پچیس کروڑ ہندوستانیوں کے درمیان پندرہ پندرہ لاکھ روپیے کی صورت میں تقسیم کرنے کا وعدہ کرنے والے وزیر اعظم آج ایک ہزار دن گزر جانے کے بعد یہ بتائیں کہ آخر کب یہ مذکورہ کالا دھن ملک میں واپس لائیں گے۔پانچ سالوں میں ایک کروڑ روگار پیداکرنے کا وعدہ کرنے والی حکومت یہ بتائے کہ پچھلے ڈھائی سال میں محض 25؍ہزار روزگار ہی کیوں پیدا ہوسکے جو پچھلے چودہ سال میں سب سے کم اوسط پر ہے۔وزیر اعظم عوامی جلسوں میں دیش بھکتی کا راگ الاپتے ہوئے لچھے دار تقریریں کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میںکھڑے ہوکر مکمل اعدادوشمار کی بنیاد پر ملک کو اعتماد میں لیں۔اگر وہ ایسانہیں کرتے تو صرف یہ سمجھا جاسکتاہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر ایک فسطائی حکومت برسرکار ہے جسے عوامی مفادات کے بجائے سرمایہ داروں کے مفادات سے ہی سروکار ہے۔ پھر یہ سرمایہ دار ملک کے اندر کے ہوں یا بیرونی ممالک کے۔اگر وزیر اعظم ایسا نہیں کرتے تو اروند کیجری وال اور ممتا بنرجی کا یہ الزام صحیح ثابت ہوگاکہ نوٹ بندی کا معاملہ آزاد ہندوستان میں 8 لاکھ کروڑ روپے کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ جو کھلے بندوں عوام کے جمہوری حقوق صلب کر کے کیا جا رہا ہے اور پورے ملک کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی نذر کر کے اندرا گاندھی کے طرز پر مرد آہن بننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  مزید برآن اب یہ احساس عام ہو تا جا رہا ہے کہ ملک اگلے چند مہینوں میں ہی ایمرجنسی کا دور دوبارہ دیکھنے والا ہے ۔ گذشتہ کھہ مہینوں سے سوشل میڈیا میں، الیکٹرونک میڈیا میں، اخبارات کے ذریعے فون کر کے ملک بھر کے تمام عوامی کارکنان کو ڈرائے دھمکائے جانے کا کام جاری ہے۔  مختلف ایجنسیاں، ادارے، تنظیمیں، افراد لوگوں کو لگاتار دھمکا رہے ہیں جس نے ملک میں عوامی تحریک کا جمہوری راہ مسدود کر دی ہے اور خطرہ پیدا کر دیا ہے کہ اگر کوئی عوامی ٹھریک بپا کرنے کی کوشش کی گئی تو تو ان کارکنان پر ذاتی نوعیت کے الزامات لگا کر گر فتار کر لیا جائے گا واضح ہے کہ ایمرجنسی کو دوران میسا کے تحت سیاسی اور سماجی کارکنان کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیاتھا مگر اس بار ملک سے غداری کالے دھن اور غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات میں انفرادی طور پر اسی پیمانے یہ گرفتاریاں حتیٰ کہ زد و کوب اور قتل تک کے واقعات پیش آسکتے ہیں ۔  ایمرجنسی کا اعلان ہو یا نہ ہو حالات اسی جانب رخ کرتے نظر آتے ہیں۔حیرت یہ ہے کہ حزب اختلاف  نے بھی ابھی تک اس  ظلم کے خلاف کوئی موثر تحریک شروع نہیں کی شاید عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جانے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close