خصوصی

نوٹ بندی کے بہانے ۔۔۔۔۔۔ کس کی توڑی جارہی ہے کمر

ڈاکٹراسلم جاوید
گزشتہ ماہ08نومبر2016کو وزیر اعظم ہند نریندرمودی نے 500اورایک ہزار روپے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے ملک کو کالا دھن سے پاک وصا ف کر نے کیلئے 50 دنوں کی مہلت مانگی تھی،جبکہ وزیر اعظم نے دیہی باشندوں،عام لوگوں ،کسانوں اور مزدوروں سے وقتی پریشانیوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگ فقط50دن کا موقع دیجئے،ہم ہر قسم کی بد عنوانی،لوٹ کھسوٹ اور بلیک منی سے پاک وصاف ہندوستان تعمیر کر کے ساری دنیا کی نظروں میں اپنے عوام اور ملک کا وقار قابل رشک بنادیں گے۔مودی جی نے اسی اعلان کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ 500اور ایک ہزار کے نوٹ سرکاری شعبوں سمیت صحت سے متعلق امور ،مدر ڈیر ی،بجلی بل اورپٹرول پمپوں پر استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ مذکورہ شعبہ جات میں صحت کے علاوہ کوئی بھی ایسا قابل ذکرشعبہ نہیں آیا،جس سے پتہ چلتا ہوکہ ملک کے کسانوں اور مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے بچا کھچا کر جونقد رقم گھروں میں رکھی ہوئی تھی اس سے استعمال کرنے کا مناسب راستہ وزیر اعظم نے بہمپہنچایا ہے۔اس سے یہ واضح ہوگیا کہ مرکزی حکومت کے کشکول میں دیہی باشندوں کے، بڑے،بوڑھوں ،کسانوں ،مزدوروں اور عام آ دمی کیلئے مسائل کھڑے کرنے کے علاوہ کوئی مثبت منصوبہ موجود نہیں تھا۔لاچار عوام کے پاس واحد راستہ یہی بچا تھا کہ وہ اپنی جمع پونجی کوبینک اکاؤنٹ میں جمع کرادیں ۔مگر دوسرے ہی دن خود بی جے پی ترجمان میناکشی لیکھی نے وزیر اعظم کے اس فیصلہ کیخلاف جرح کرتے ہوئے کہاتھا کہ حکومت ہند کے اس قدم سے ملک کے80فیصد باشندوں کو حوصلہ شکن مسائل سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مینا کشی لیکھی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس وقت ملک کے 60فیصد باشندگان کے پاس سرے سے بینک اکا ؤنٹ ہی نہیں ہیں۔ایسے میں ان کے پاس بس ایک ہی راستہ بچ جاتا تھا کہ کہ وہ اپنی رقم بنکو ں سے تبدیل کرالیں۔ مگر یہاں بھی حکومت ہند نے یہ اڑچن پیدا کردی تھی کہ بنکوں سے صرف4000 روپے بدلے جا سکتے تھے۔بہر حال لوگوں نے زہر کا گھونٹ پیتے ہوئے اسے بھی قبول کرلیاتھا۔مگر یہاں بھی صرف’’جملے‘‘ بازی ہی ہاتھ لگی۔بنکوں میں لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں اس میں یقیناًٹاٹا ،برلا یا کسی بھی سیاسی پارٹی کابڑالیڈر نظر نہیںآیا ۔اگرچہ ایک آدھ روز راہل گاندھی ان قطاروں میں ضرور نظر آئے ۔مگر ان کے ہی بقول وہ پیسے بدلوانے نہیں ،بلکہ قطاروں میں کھڑے کالے دولتیوں کو تلاش کرنے اور عام آدمی کی پریشانیوں کاراست طور پر جائزہ لینے کیلئے کھڑے ہوئے تھے۔نوٹ بدلوانے کے لئے بنکوں کے سامنے کھڑے لوگوں میں سے اب تک تقریباً سوا سو مزدوروں ،کسانوں ، بڑے بوڑھوں اور بزرگوں نے اپنی جانیں گنوادی ہیں۔معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا ،بلکہ دھیرے دھیرے حکومت نے 1000اور500کے نوٹ کے استعمال کوختم کردیا اور واحد راستہ یہ بچ گیا ہے کہ اب منسوخ کئے جاچکے سبھی نوٹ بنک اکاؤنٹ میں ہی جمع کئے جاسکتے ہیں۔قابل ذکر یہ ہے کہ جن کمزور اور طویل العمر بزرگوں نے بنک کی لمبی قطاریں کم ہونے انتظار میں نوٹ بدلنے کا ارادہ یہ سوچ کر ملتوی کردیا تھا کہ جب قطاریں کم ہوں گی تو وہ اپنے نوٹ بنکوں سے بدلوا آ ئیں گے ۔ایسی صورت میں اگر ان کے پاس اپنے اکاؤنٹ نہیں ہوں گے تو گھروں میں رکھی تھوڑی بہت پونجی کیسے لوٹ سکے گی۔یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا تعلق ملک کی80فیصد آبادی سے ہے ،مگراس کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہے،وزیر خزانہ تو اس قسم کے سوال سن کر ہی گونگے بن جاتے ہیں۔اب آ ئیے!ذرااس نوٹ بندی سے عوام الناس اور ملک خزانے کا کیا بھلا ہونے والا ہے اس کا جواب ماہرین اقتصادیات سے معلوم کرتے ہیں۔معاشیات کے عالمی شہرت یافتہ ماہر امرتیہ سین نے پہلے ہی حکومت کے فیصلے کو عوام اور ملک کیخلاف تباہی کی سازش قرار دے دیدیا ہے۔دیگر ماہرین کے آراء بتاتی ہیں کہ مطلوبہ مقدار میں کرنسی چھاپنے میں کم ازکم12ماہ لگ سکتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اگر آر بی آئی دن رات بھی نوٹ پرنٹنگ کروائے تو بھی اقتصادی نظام میں کرنسی کی کمی پوری ہونے میں چھ سے آٹھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ ایسے میں تعمیرات، زراعت سمیت ان سے متعلقہ کام دھندے اور کاروبار بری طرح متاثر ہوں گے اور خاص طور پر غیر منظم شعبوں میں کام کر رہے مزدور اپنی روزی روٹی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔جس کا سلسلہ دہلی جیسے بڑے شہروں میں شروع بھی ہوچکا ہے۔یہی لوگ کام کی تلاش میں گاؤں سے شہر آتے ہیں، لیکن نقدی رقم کی عدم فراہمی کے نتیجے میں نہ تو ان کے پاس گاؤں میں کام ہوگا نہ ہی شہروں میں انہیں پناہ ملے گی۔
سماجی اور اقتصادی امور پر تحقیق کرنے والے جوشی ادھیکاری انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز (دہلی) کے شعبہ تحقیقات کی سربراہ ڈاکٹر جیا مہتا نے یہ بات ترقی پسند مصنف تنظیم کی جانب سے حال ہی میں منعقد ایک بحث میں کہی تھی۔ ڈاکٹر جیا مہتا نے نوٹ بندی کی قانونی حیثیت، رازداری، حکومت کی طرف سے اس کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں کئے جا رہے دعووں پر بھی کئی سوال اٹھائے ہیں ۔ محترمہ بتاتی ہیں کہ ملک میں نوٹ چھاپنے کی پرنٹنگ پریسوں کی مجموعی کی صلاحیت 2200 کروڑ سالانہ سے زیادہ نوٹ چھاپنے کی نہیں ہے۔جبکہ نوٹ بندی کی وجہ سے 2300 کروڑ نوٹ ہی بینکوں میں واپس آئے ہیں۔ ایسے میں سال بھر پرنٹنگ ہوئی اور دگنی رفتار سے ہوئی تو بھی مطلوبہ ہدف کو حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اوراگر مان لیا جائے کہ اس درمیان چھوٹے نوٹ یعنی 100، 50، 20 اور 10 کے نوٹ نہیں چھپیں گے یا کم چھپیں گے تو بھی مارکیٹ میں پورے نوٹ واپس آنے میں 6 سے 8 ماہ لگیں گے۔یعنی چھ سے آٹھ ماہ تک مارکیٹ میں نقدی کا بحران بنا رہے گا اور اس کا سب سے برا اثر عمارت کی تعمیر کے شعبے پر پڑے گا،جس میں مزدوروں کیلئے روزگار کے سب سے زیادہ مواقع رہتے ہیں۔ کنسٹرکشن میں تقریبا ساڑھے چار کروڑ مزدوروں کو کام ملتا ہے۔ اس میں منظم سیکٹر میں 1.4 کروڑ مزدور اور غیر منظم سیکٹر میں 3 کروڑ مزدورشامل ہیں۔ کرنسی کی کمی سے یہ لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان سے متعلقہ دیگر صنعتاورکاروبار بھی متاثر ہونے لگیں ہیں۔اگرچہ چہرے پر نمائشی ہنسی ضرور نظر آ تی ہے ۔مگر مودی بھکتوں کو اس فیصلے سے جو زخم لگے ہیں وہ نہ تو دکھانے قابل ہیں اور نہ سہلانے کے لائق۔ سیمنٹ اور تعمیراتی کمپنی لارسن اینڈ ٹوبرو نے 14 ہزار لوگوں کو ہٹا دیا ہے۔بھلواڑہ سے لے کر دہلی تک کی صنعتی یونٹس میں پیداوار نصف رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کو کام سے ہٹا یا جا رہا ہے۔ہماری زراعت پر بھی نوٹ بندی کی مار پڑنی شروع ہو گئی ہے۔ ابھی خریف کی فروخت اور ربیع کی بوائی کا وقت ہے۔ کسانوں کو کرنسی چاہئے، لیکن پہلے تو نوٹ بندی کے نام پر کسانوں کی ساری کرنسی ان بینکوں میں رکھوا لی گئی اور اب یہ اصول نافذ کردیا گیا ہے کہ پرانے پانچ سواور ہزار کے نوٹ سے کو۔آپریٹومارکیٹ سے بیج خرید سکیں گے، لیکن اب کسانوں کے پاس کرنسی ہی نہیں ہے اس لئے کہ وہ اپنی رقم بنکوں میں جمع کرچکے ہیں تو وہ کہاں سے بیج خریدیں گے ، اگرنقد ملتا بھی ہے تووہ نہایت محدود مقدار میں یعنی صرف دوہزار روپے ،وہ بھی ہفتہ میں ایک بار۔گاؤں دیہاتوں میں اے ٹی ایم نہ پہلے کبھی فعال رہے ہیں اورنہ آج ان کے اندر نوٹ اگلنے کی صلاحیت باقی بچی ہے۔ایسے میں زراعت کا شعبہ بالکل اوندھے منہ گرتا ہوا صاف نظرآ رہا ہے۔یہ بات بھی یاد رہنی چاہئے کہ زرعی شعبے میں 10 کروڑ مزدور ہیں۔یعنی ملک کے14کروڑ لوگوں کو بے روزگار بنادیا گیا ہے ،اس صورت حال میں اگر وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے چوری ،ڈکیتی جیسی واردتیں انجام دیتے ہیں تواس جرم کو کس کے کھاتے میں ڈالاجائے گایہ فیصلہ ناگپور ہیڈ کوارٹر یا پی ایم او کو کرناچاہئے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ان مزدوروں کی آواز اور ان کے دکھ تکلیفوں کو نہ تو کوئی میڈیا، نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی کوئی اخبار کرسامنے لانے کی ہمت دکھارہا ہے۔یہ تھوڑی سی وضاحت یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ نوٹ بندی کے نام پر کس کی کمر توڑ نے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close