خصوصی

نوٹ کرے گوٹ

 ڈاکٹر عابد الرحمن
نوٹ بندی کی افراتفری جاری ہے لوگ ابھی بھی مسلسل قطاروں میں کھڑے ہوے ہیں شہروں میں جہاں کئی بینک اور ان کی بھی کئی شاخیں ہیں وہاں کے مناظر جو سامنے آرہے ہیں وہی پریشان کن ہیں لوگ دن دن بھر لائنوں میں کھڑے ہیں جب تھک جاتے ہیں اور حوائج ضروریہ کی حاجت پیش آ تی ہے تو جوتے چپلوں کو اپنا نمائندہ بناکر لائن میں لگا دیتے ہیں اور خود ننگے پاؤں چلے جاتے ہیں۔اس لائن میں لگنے سے پرانے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ تو مل جاتے ہیں لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بینک میں کیش کم ہونے کی وجہ سے مجوزہ سے کم نوٹ ملتے ہیں کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنا نمبر آنے تک کیش ختم ۔اب کل آنا ۔ سوچنے والی بات ہے کہ اس شخص کی کیا حالت ہوتی ہوگی جو شام تک لائن میں کھڑا ہو اور اس کا نمبر آنے پر اسے حکم دیا جائے کہ کل آنا۔اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں لگا سکتے جنہوں نے نوٹ بندی کی ساری منصوبہ بندی کی ہے جنہوں نے اس کا فیصلہ کیا یا حکم دیا ہے یا جو لوگ اے سی آفسیس میں بیٹھے اس پر مذاکرے یا تبصرے کر رہے ہیںیا جو لوگ دور کھڑے اس فیصلہ کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں ۔ چلو اس ساری تکلیف سے پرانے نوٹوں کی جگہ نئے نوٹ تو مل رہے ہیں لیکن پریشانی پھر بھی کم نہیں ہورہی ہے کیونکہ بینک زیادہ تر دو ہزار روہئے کا نیا نوٹ دے رہی ہے جو بجائے خود ایک نئی پریشانی بن گئی ہے ،مارکیٹ میں دو ہزار روپئے کی نوٹ کے چھٹے نہیں ہو پارہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ انڈین کرنسی کا ۸۶فیصد حصہ ہزار پانچ سو کی نوٹوں کی شکل میں تھااور جب وہ بند ہوگئی تو حکومت نے اسے دو ہزار کی نوٹ سے بدلا ۔تو کم قیمت کی 14 فیصد کرنسی دو ہزار کے نوٹ کے چھٹے کیسے فراہم کر سکتی ہے؟ یہ پہلے ہی سوچنے کی بات تھی لیکن ہماری حکومت بہت’ دور اندیش ‘؟؟ہے۔ یعنی نوٹ بندی کا فیصلہ عوام کے فائدے کے لئے ہے تو بھی یہ عوام کے لئے پوری طرح پریشانی کا باعث ہے ۔ نوٹ بندی سے بھی پریشانی ،نوٹ بدلوانے میں بھی پریشانی اور بدلی ہوئی نوٹ سے بھی پریشانی۔ ایک اور خاص بات کہ اس ساری افراتفری میں صرف عام آدمی ،کسان اور چھوٹے کاروباری ہی نظر آرہے ہیں۔ بڑے بیوپاری،دھنا سیٹھ ، سیاسی لیڈران ، بیوریوکریٹس اور وی آئی پی اشخاص نہ بنکوں کی لائنوں میں کہیں دکھائی دے رہے ہیں اور نہ ہی ان کے چہروں پر اس سب کے اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ راہل گاندھی بنک کی لائن میں کھڑے نظر آئے ،لیکن وہ سیاست کے سوا کچھ نہیں تھا ۔اسی طرح وزیر اعظم مودی جی کی ۹۷ سالہ والدہ ماجدہ بھی نوٹ بندلوانے کے لئے بنک کی لائن میں لگیں لیکن اسے بھی غیر سیاسی اقدام نہیں کہا جا سکتا ۔ہو سکتا ہے مودی جی نے انہیں بنک کی لائن میں اس لئے لگوایا ہوگا کہ عوام کو دکھا سکیں کہ خود ان کے گھر والے بھی نوٹ بندی کی تکلیف اٹھا رہے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو یہ گری ہوئی سیاست ہے کہ اپنی ماں کو اس کے لئے استعمال کیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہے تو سوشل میڈیا میں چل رہا یہ لطیفہ صحیح ہے کہ ’ بیٹے اگر نا لائق ہوں تو بوڑھی ماں کو بھی بنک کی لائن میں لگنا پڑتا ہے‘۔ خیر نوٹ بدلوانے یا بنک میں جمع کروانے کے لئے ابھی 30 دسمبر تک کا وقت ہے ہو سکتا ہے کہ ملک کے سارے دھنا سیٹھ ، سیاسی لیڈران ، بیوریو کریٹس اور وی آئی پی حضرات ابھی چل رہی گردی ختم ہو جانے کے بعد نمبر لگائیں ۔ میڈیا نے ان لوگوں پر نظر رکھنی چاہئے یا انہوں نے خود ہو کر ملک کو بتانا چاہئے کہ انہوں نے کب اور کتنی رقم بدلوائی یا بنک میں جمع کروائی ہے ،خاص طور سے وزیر اعظم مودی جی ،وزیر مالیات جیٹلی جی اور بی جے کے دوسرے بڑے لیڈران کے لئے تو یہ اشد ضروری ہے ۔ خبر ہے کہ پچھلے مالیاتی سال 2015-16 کے لئے وزیر اعظم مودی جی نے اپنے پاس 90 ہزار، جیٹلی جی نے 72لاکھ اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے 13لاکھ کیش ہونے کا ڈکلیئر کیا تھا ۔ ہمیں انتظار ہے کہ یہ سب لیڈران اپنے اس کیش کو نئی کرنسی میں بدلوانے کے لئے یا بنک میں جمع کروانے کے لئے کب لائن میں کھڑے ہوتے ہیں۔اور اگر انہوں نے کرنسی نہیں بدلوائی یا جمع نہیں کروائی تو بھی جس اخلاق اور اخلاص کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں اس کے ثبوت کے لئے انہوں نے دیش کو بتانا چاہئے کہ یہ کیش رقم کیوں نہیں جمع یا بدلوائی گئی،اگر نوٹ منسوخی سے پہلے ہی خرچ ہوگئی تو کب اور کس مد میں؟ اور اگر نوٹ کی منسوخی کے بعد خرچ ہوئی تو کہاں اور کس طرح۔ اس سب کے باوجود حکومت کا یہ اقدام بہت اچھا ہے جو لوگ اسکے اچانک ہونے پر تنقید کررہے ہیں وہ دراصل اس کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں،کسی کی کرنسی کو کوئی نقصان نہیں ہے ،کرنسی بدلوانے یا بنک میں جمع کروانے کے لئے پچاس دن کا وقت بھی کافی ہے ۔ نوٹ بندی کے اس اقدام سے دراصل ان لوگوں کو فرق پڑے گا جو ٹیکس بچانے کے لئے یا ٹیکس چوری کر نے کی خاطر اپنی دولت چھپا چھپا کر رکھتے ہیں یا اصل سے کم دولت بتا تے ہیں۔ایسے لوگوں کی دولت بنکوں میں جمع ہو کر قومی خزانے میں ٹیکس کی آمد کو بڑھا ئے گی جس سے قومی خسارہ یا قرض کم ہو سکتا ہے جو ملک و قوم کا اور عوام کا فائدہ ہی ہے نقصان نہیں ہے اس لئے اس فیصلے کی حمایت کر نی چاہئے۔ اس فیصلہ کا پرابلم یہی ہے کہ یہ اچھا فیصلہ غلط وقت پر کیا گیا اور دوسرے یہ کہ پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ نہیں کیا گیایہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ کسانوں کا ہنگام شروع ہے یعنی زرعی پیداوار نکلنے کا وقت نوٹ بندی سے کچھ ہی دن پہلے شروع ہوا ۔جن لوگوں نے نوٹ بندی سے پہلے اپنا زرعی مال بیچ دیا تھا انہیں ہزار پانچ سو کے نوٹوں میں ہی اسکی قیمت ملی جو نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد وقتی طور پر ہی سہی بے قیمت ہو گئی کہ ایک تو وہ کسی پرائیویٹ لین دین کے کام کی نہیں رہی اور دوسرے اسے نئے نوٹوں سے بدلنے کی پریشانی مفت ۔اسی طرح جن لوگوں نے اپنا مال نہیں بیچا سمجھئے ان کا مال بے قیمت ہو گیا کہ کوئی اسکا خریدار نہیں ،کئی جگہ تو مارکیٹ ہی بند ہے اور کئی جگہ اگر خریدار ی ہوبھی رہی ہے تو ہزار پانچ سو کے پرانے نوٹ ملے گی کی شرط کے ساتھ ۔اب معلوم ہوا ہے کہ مال بکے گا لیکن قیمت کی ادائیگی چیک کے ذریعہ ہو گی، بات ایک ہی ہے کہ نوٹ بدلواؤ یا چیک بنک میں جمع کروا کر اسکے کلےئر ہونے کا انتظار کرواور اگر کلیئر ہو گیا تو پھر سرکاری لمٹ کے مطابق پیسے نکلواؤ۔یعنی ایک طرف تو سرکار کسا نوں کی حمایت اور مدد کا دم بھرتی ہے ،کسانوں کی بھلائی اور ترقی کے وعدے اور دعوے کرتی ہے اور دوسری طرف اپنی پالسی اور فیصلوں سے انہیں ہی مشکل میں ڈالتی ہے۔اس فیصلہ سے پتا چلتا ہے کہ حکومت کو کسانوں اورکاشتکاری کے ٹائم ٹیبل کا کوئی علم نہیں ہے،وگرنہ وہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کرتی جب کسان اپنا مال فروخت کر کے اپنے کام نمٹا لئے ہوتے اور بچے ہوئے روپئے بنکوں میں بھر چکے ہوتے ۔اسی طرح اس فیصلہ میں سب سے زیادہ پرابلم نئی کرنسی کی کمی کا اور نئی کرنسی میں سب سے بڑی قیمت کی کرنسی کا ہے کہ اتنی افراتفری نہ مچتی اگر پہلے ہی وافر مقدار میں کرنسی نوٹ بنکوں کو مہیا کردئے گئے ہوتے یا دو ہزار کی بجائے پانچ سو کی نئی نوٹ جاری کی گئی ہوتی۔اس میں حکومت کی نیت بھی صاف نہیں ہے بلکہ وہ عوام کو بے وقوف بنانی کی کوشش کر رہی ہے ۔حکومت نوٹ بندی کی اس کارروائی کو کالے دھن کے خلاف ’ سرجیکل اسٹرائیک‘ کہہ رہی ہے ،اسی سیاسی اوراخلاقی جرئت مندی کہا جارہا ہے ،دیش کی جنتا کے تئیں ہمدردی بھی قرار دیا جا رہا ہے نیز کالے دھن کے خلاف کارروائی کا اپنا وعدہ پورا کرنے کا دعویٰ کر کے حکومت اور بی جے پی کے چھوٹے بڑے لیڈران آپ اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں ۔لیکن ایسا نہیں ہے ،لوک سبھا انتخابات کے وقت جسے کالا دھن کہا گیا تھا یہ کارروائی اس کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی اس کارروائی سے اس کالے دھن پر کوئی فرق پڑ نے والا ہے کیونکہ وہ سارا کالا دھن یا توبیرون ممالک کی بنکوں میں جمع ہے یا ان جعلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی صورت مٰیں ہے جن کا ذکر ابھی کچھ مہینوں پہلے ’ پناما لیکس ‘ میں کیا گیا ایک بات اورکہ یہ سارا کالا دھن انڈین کرنسی کی شکل میں نہیں بلکہ ڈالر کی شکل میں ہے اور اگر سو بار بھی انڈین کرنسی بدلی گئی تو اس کالے دھن کو کوئی فرق نہیں پڑ نے والا ۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ اس اقدام پر مودی جی کو وہی لوگ مبارکباد دیتے نظر آرہے ہیں جن کے نام مبینہ طور پر یاتو سوز بنکوں کے اکاؤنٹس کی لسٹ میں ہیں یا پاناما لیکس میں۔ (جمعہ 18،نومبر 2014 )
یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close