تاریخ و سیرتخصوصیسیرت صحابہ

نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر: ایک تحقیقی جائزہ

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

اسلامی تاریخ کی ورق گردانی اورسیروسوانح کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کاحضوراکرم اکے ساتھ جس وقت نکاح ہوا، آں حضرت ا کی عمراس وقت تقریباً پچاس سال اورحضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کی عمر(اکثرروایتوں کے مطابق)چھ سال تھی،جب کہ رخصتی کے وقت وہ نوبرس کی تھیں، وہ خود فرماتی ہیں :أن النبی ا تزوجہاوہی بنت ست سنین، وبنی بہا وہی بنت تسع سنین۔ (بخاری، باب تزویج الأب ابنتہ من الإمام، حدیث نمبر: ۵۱۳۴)’’رسول اللہ ا نے ان سے چھ سال کی عمرمیں نکاح اورنوسال کی عمرمیں زفاف فرمایا‘‘۔

مخالفینِ اسلام نے اس بدیہی واقعہ سے نہ صرف یہ کہ غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؛ بل کہ ذاتِ اقدس اپربھی کیچڑاچھالنے کی سعی کی، جس کے جواب میں حامیانِ اسلام (مسلم اسکالرس، جنھوں نے جواب دینے میں احساس کہتری کا شکارہوکردفاعی راستہ اختیارکیا) نے متفرق راستے اختیارکئے؛ چنانچہ بعض نے کم سنی کی شادی کاانکارکرکے اِن (مذکورہ) تاریخوں کوہی بدلنے کی کوشش کی، جب کہ بعض نے نویں سال کوزفاف کے بجائے صرف رخصتی کی عمرقراردیا۔

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کی عمرکے سلسلہ میں بحث کی چنداں ضرورت نہ تھی کہ اس کاتعلق ایمان وعقیدہ سے نہیں ؛ لیکن بعض نام نہادمحققین اپنے اشتہاری مضامین، بیانات اورویڈیوزکے ذریعہ سے ایک جائزاورمباح امرکونادرست اورنامناسب قراردینے کی نامناسب کوشش میں مصروف عمل ہیں ؛ اس لئے قضیۂ ہذاکے صحیح خدوخال کودرج ذیل مضمون میں نکھارنے کی سعی کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ راہِ سدادکی توفیق عطافرمائے، آمین!

تاریخی حقائق

تاریخی اعتبارسے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی عمرمعلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تنقیحات پرغورکرتے چلیں:

۱-  تاریخ وسیراوراحادیث کی ساری کتابیں اس بات پرمتفق ہیں کہ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) رخصتی کے وقت نوسال کی تھیں ؛ چنانچہ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) خودفرماتی ہیں : تزوجنی رسول اللہ الست سنینوبنی بی وأناتسع سنین۔ (صحیح مسلم، باب تزویج الأب البکرالصغیرۃ، حدیث نمبر: ۱۴۲۲، صحیح بخاری، حدیث نمبر:۳۸۹۴، ۳۸۹۶،۵۱۳۴، ۵۱۵۸، ابوداود، حدیث نمبر: ۴۹۳۷، ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۱۸۷۶، سنن دارمی، حدیث نمبر: ۲۳۰۷، سنن نسائی، حدیث نمبر: ۳۳۷۸، صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: ۷۰۹۷، مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۴۸۶۷، ۲۵۷۶۹، ۲۶۳۹۷،مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۳۴۶۲۸، نیزدیکھئے:تاریخ کی کتابیں : الاستیعاب لابن عبدالبر: ۴ ؍ ۲۸۸، اسد الغابۃ: ۵ ؍ ۳۴۱-۳۴۴، الأربعین فی مناقب امہات المؤمنین لابن عساکر: ۱ ؍ ۴۱، الطبقات الکبری لابن سعد، ذکرأزواج النبی ﷺ: ۸ ؍ ۵۸، دیکھئے شروحات حدیث: شرح السنۃ للبغوی، باب تزویج الصغیرۃ: ۹ ؍ ۳۵، عمدۃ القاری، باب تزویج النبی ﷺعائشۃ: ۱۱؍۶۱۳،فتح الباری، باب تزویج النبی ﷺعائشۃ: ۹؍۹۷)’’رسول اللہ انے مجھ سے نکاح چھ سال کی عمرمیں اورزفاف نوسال کی عمرمیں فرمایا‘‘۔

۲-  اسی طرح یہ بات بھی ان حضرات کے نزدیک متفق علیہ ہے کہ آں حضرت اکی وفات کے وقت آپ (رضی اللہ عنہا) اٹھارہ سال کی تھیں ؛ چنانچہ حضرت عروہ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) سے نقل کرتے ہیں : أن النبیﷺ تزوجہا وہی بنت سبع سنین وزفت إلیہ وہی بنت تسع سنین، ولعبہا معہا ومات عنہا وہی بنت ثمان عشرۃ۔ (صحیح مسلم، باب تزویج الأب البکرالصغیرۃ، حدیث نمبر: ۱۴۲۲، نیز دیکھئے: مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۱۴۵۲، مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۳۴۵۶۴، الآحاد والمثانی للشیبانی، حدیث نمبر: ۳۰۱۹، معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم: ۶ ؍ ۳۲۰۸، نسائی، حدیث نمبر: ۵۵۴۴، شروحات حدیث:عمدۃ القاری، باب تزویج النبی ﷺعائشۃ: ۱۱؍۶۱۳،فتح الباری، باب تزویج النبی ﷺعائشۃ: ۹؍۹۷، شرح صحیح البخاری لشمس الدین السفیر: ۷ ؍ ۱۷، رجال وتاریخ کی کتابیں : الاستیعاب لابن عبدالبر، عائشۃ بنت ابی بکرالصدیق: ۲؍ ۱۰۸، الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: ۸ ؍ ۱۷، الثقات لابن حبان: ۳؍ ۳۲۳، رجال مسلم لأحمدبن علی الأصبہانی، ذکرالنسوۃ من أزواج النبیﷺ: ۲ ؍ ۴۱۳، شذرات الذہب: ۱؍ ۵۵، تاریخ بغداد للخطیب: ۱۱؍ ۲۷۵، سمط النجوم العوالی للعصامی، امہات المؤمنین وسراریہ: ۱؍ ۱۹۰، طبقات ابن سعد: ۸؍ ۶۰)’’رسول اللہ انے ان سے سات سال کی عمرمیں نکاح فرمایا اور نوسال کی عمرمیں اُنھیں آں حضرت اکے پاس بھیجاگیا،(اس وقت)ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اورجب آپ اکاانتقال ہوا، اس وقت ان کی عمراٹھارہ سال تھی‘‘۔

ان دونوں متفق علیہ تاریخی حوالوں پرنظرڈالنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشۃ (رضی اللہ عنہا) حضورا کی صحبت میں نوسال رہیں : ومکثت عندہ تسعا۔ (بخاری، باب انکاح الرجل ولدہ الصغار، حدیث نمبر: ۵۱۳۳،مسند ابی عوانۃ، باب الاباحۃ للأب أن یزوج الصغیرۃ، حدیث نمبر: ۴۲۶۸)، اور نواورنو (9+9=18) کو جوڑ نے سے حاصل نتیجہ اٹھارہ نکل آتاہے، اس لحاظ سے حضرت عائشہؓ کی رخصتی نوسال کی عمرمیں اوراٹھارہ سال کی عمرمیں حضور اکی وفات بالکل درست حساب کے ساتھ ہوجاتی ہے۔

۳-  شادی کس عمرمیں ہوئی؟اس سلسلہ میں ہمیں تین قول ملتے ہیں:

(الف)  چھ سال کی عمرمیں  جمہورامت اسی کے قائل ہیں اوراکثرروایتیں اسی کی موافق ہیں۔

(ب)  سات سال کی عمرمیں  یہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتاہے؛ چنانچہ حضرت ہشام اپنے والدعروہ کے حوالہ سے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی روایت نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں : إن رسول اللہ اتزوجنی وأنابنت سبع سنین۔ (ابوداود، باب فی الأرجوحۃ، حدیث نمبر:۴۹۳۵) ’’رسول اللہ انے مجھ سے نکاح کیااس حال میں کہ میں سات سال کی تھی‘‘۔

(ج)  نوسال کی عمرمیں یہ بھی بعض روایتوں سے معلوم ہوتاہے؛ چنانچہ حضرت اسودفرماتے ہیں : تزوجہا وہی بنت تسع ومات عنہا وہی بنت ثمان عشرۃ۔ (الآحاد والمثانی، ومن ذکرأزواج النبیﷺ، حدیث نمبر: ۳۰۱۹، مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۳۳۸۶۳)’’رسول اللہ انے ان سے نکاح کیااس حال میں کہ وہ نو سال کی تھیں اورآپ اکاانتقال اس وقت ہو، جب کہ وہ اٹھارہ سال کی تھیں ‘‘۔

تینوں اقوال پرایک نظر

چھ سال والی روایت توجمہورکی رائے کے موافق ہے اوریہی صحیح بھی ہے، جہاں تک سات سال والی روایت کا تعلق ہے تواس کے بارے میں تین باتیں کہی جاسکتی ہیں :

۱-  روایت کرنے میں راوی سے شک ہوگیا ہے؛ چنانچہ ابوداود میں صراحت ہے: عن ہشام بن عروۃ عن أبیہ عن عائشۃ قالت: تزوجنی رسول اللہ ا وأنابنت سبع، قال سلیمان: أو ست، ودخل بی وأنابنت تسع۔ (باب فی تزویج الصغار، حدیث نمبر: ۲۱۲۱)، اس روایت میں سات سال کوجزم اورچھ سال کو شک کے ساتھ نقل کیاگیاہے، جب کہ بعض روایتوں میں اس کے برخلاف ہے؛ چنانچہ ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں اوروہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں :… فتزوجنی رسول اللہ ا متوفی خدیجۃ رضی اللہ عنہاقبل مخرجہ إلی المدینۃ بسنتین، وأنا ابنۃ ست سنین أوسبع سنین۔ (الآحاد والمثانی، حدیث نمبر: ۳۰۰۹، نیز دیکھئے: مسند الحمیدی، حدیث نمبر: ۲۳۱،)، اس روایت میں چھ سال کو جزم اورسات سال کوشک کے ساتھ نقل کیاگیاہے، عمومی روایتیں بھی اسی کی مؤیدہیں ؛ اس لئے چھ سال ہی کی روایت کوترجیح دی جائے گی۔

 ۲-  جس راوی (حضرت ہشام بحوالہ عروہ)سے سات سال کی روایت منقول ہے، انہی سے چھ سال کی روایت متعددطرق سے مروی ہے؛ چنانچہ حضرت وھیب(بخاری، باب تزویج الأب ابنتہ من الإمام، حدیث نمبر: ۵۱۳۴)،حضرت سفیان(بخاری، باب انکاح الرجل ولدہ الصغار، حدیث نمبر: ۵۱۳۳)، حضرت علی بن مسہر(بخاری، باب تزویج النبیﷺ عائشۃ، حدیث نمبر: ۳۸۹۴)،اورحضرت عبدۃ بن سلیمان(مسلم، باب تزویج الأب البکر الصغیرۃ، حدیث نمبر: ۱۴۲۲، ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۱۸۷۶)وغیرہم نے بھی حضرت ہشام بحوالہ عروہ چھ سال کی روایت کونقل کیاہے؛اس لئے چھ سال والی روایت ہی کوترجیح دی جائے گی؛ کیوں کہ کثرتِ رواۃ اسبابِ ترجیح میں سے ہے، حافظ عراقیؒ نے علامہ حازمیؒ کی کتاب’’الاعتبار‘‘سے نقل کرتے ہوئے اسبابِ ترجیح میں سب سے پہلاسبب ’کثرتِ رواۃ‘ کونقل کیاہے، لکھتے ہیں : وقد رأینا أن نسردہامختصرۃ: الأول: کثرۃ الرواۃ۔ (شرح التبصرۃ والتذکرۃ، مختلف الحدیث:۱؍۲۰۰)۔

۳-  اس بات کابھی امکان ہے کہ راوی کی مرادساتویں سال کی ابتداء ہو؛ کیوں کہ یہ راوی بھی رخصتی کی عمرنوسال ہی کوقراردے رہے ہیں ؛ چنانچہ وہ حضرت عائشہؓ کی زبانی فرماتے ہیں :فأتی بی رسول اللہ ﷺ فبنی بی وأناابنۃ تسع۔ (ابوداود، باب فی الأرجوحۃ، حدیث نمبر:۴۹۳۵)۔

جہاں تک نوسال والی بات کاتعلق ہے تواس سلسلہ میں صاف طورپریہ بات کہی جاسکتی ہے کہ راوی کی مراد شادی نہیں ؛ بل کہ رخصتی ہے؛ کیوں کہ آگے جملہ میں خودراوی کی وضاحت مذکورہے کہ آں حضرت اکی وفات کے وقت حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا)کی عمراٹھارہ سال تھی۔

مندرجہ بالاوضاحت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ شادی کی اصل عمرحضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی چھ سال، رخصتی نوسال اوربیوگی اٹھارہ سال ہے۔

۴-  وفات کے وقت حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی عمرکیاتھی؟ اس سلسلہ میں درج ذیل ا قوال ملتے ہیں :

(الف)  پینسٹھ(۶۵) سال۔(عمدۃ القاری، باب کیف کان بدء الوحی:۱؍۳۳،التوضیح لشرح الجامع الصحیح لابن الملقن، بدء الوحی: ۲؍ ۲۰۶)

(ب)  چھیاسٹھ (۶۶) سال۔ (شرح صحیح البخاری لشمس الدین السفیر: ۷؍ ۱۷)

(ج)  سرسٹھ(۶۷) سال۔ (البدایۃ والنہایۃ: ۸ ؍۱۱۶-۱۲۰)

(د)  ترسٹھ سال کچھ مہینے۔ (سیراعلام النبلاء، عائشۃ ام المؤمنین: ۳؍ ۴۳۴ ومابعدہا، ابوبکرالصدیق لعلی بن محمدالصلابی: ۳؍ ۷)

۵-  حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی وفات کس سن میں ہوئی؟ اس سلسلہ میں دوقول ملتے ہیں:

(الف)  ستاون (۵۷)ہجری میں، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کوصحیح قراردیاہے، وہ لکھتے ہیں : ماتت سنۃ سبع وخمسین علی الصحیح۔ (تقریب التہذیب، ص: ۷۵۰، طبقات ابن سعد: ۸؍ ۷۷، الاستیعاب لابن عبدالبر: ۴؍ ۲۸۸، اسد الغابۃ: ۵؍ ۳۴۱-۳۴۴)

(ب)  اٹھاون (۵۸) ہجری میں۔ (البدایۃ والنہایۃ: ۸؍ ۱۱۶-۱۲۰، طبقات ابن سعد: ۸؍ ۷۷، الاستیعاب لابن عبدالبر: ۴؍ ۲۸۸)

وفات کے وقت عمراورسن پرایک نظر

آں حضرت اکی وفات کے وقت حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی عمراٹھارہ سال تھی(یہ متفق علیہ ہے)، جب کہ ان کی وفات(صحیح قول کے مطابق) ستاون ہجری میں ہے، اس لحاظ سے ان کی کل عمرچونسٹھ (۶۴)سال ہوتی ہے، جوترسٹھ سال کچھ مہینے کے قول کے(تقریباً) مطابق ہے،تاہم پیدائش اور وفات کے سالوں کوبھی لیاجائے تو پینسٹھ سال کی تکمیل ہوجاتی ہے، ایسی صورت میں یہ کہاجائے گاکہ کسورکوچھوڑکرصرف عقود کوبیان کیاگیاہے؛کیوں کہ تاریخ بیان کرنے میں بسااوقات یہ صورت اختیارکرلی جاتی ہے؛ چنانچہ اس کی نظیرخودآں حضرت اکی عمرکی روایتوں میں ہمیں ملتی ہے، ایک روایت میں آپ اکی عمرساٹھ (۶۰) سال (بخاری، باب الجعد، حدیث نمبر: ۵۹۰۰، مسلم، باب فی صفۃ النبی، حدیث نمبر:۲۳۴۷)، دوسری روایت میں ترسٹھ (۶۳)سال (بخاری، باب خاتم النبیین، حدیث نمبر: ۳۵۳۶، مسلم، باب کم سن النبیﷺ، حدیث نمبر: ۲۳۴۸)، جب کہ تیسری روایت میں پینسٹھ (۶۵) سال مذکورہے(مسلم، حدیث نمبر: ۲۳۵۳)، ان تمام روایتوں کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے امام نویؒ  فرماتے ہیں : واتفق العلماء علی أن أصحہا ثلاث وستون، وتأولوا الباقی علیہ، فروایۃ ستین اقتصر فیہا علی العقود وترک الکسر، وروایۃ الخمس متأولۃ ایضاً۔(شرح النووی علی صحیح مسلم، باب قدر عمرہ ﷺ:۵؍۴۹۰،ط: المکتبۃ العصریۃ )’’علماء کااس بات پراتفاق ہے کہ ترسٹھ سال (کاقول) زیادہ صحیح ہے، باقی میں علماء نے تاویل کی ہے؛ چنانچہ ساٹھ سال والی روایت میں عقود(دہائی)پر اکتفاکیا گیاہے اورکسور(اکائی) کوچھوڑدیاگیاہے‘‘، ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں : وقیل خمس وستون، وجمع بأن من روی الأخیر(خمس وستون)عدسنتی المولدوالوفاۃ۔(جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب باب ماجاء فی خلق رسول اللہﷺ: ۱؍۱۵، نیز دیکھئے:شرح الشمائل لعبدالرؤوف المناوی علی ہامش جمع الوسائل) ’’اورکہاگیاہے: پینسٹھ سال، اس کی تطبیق یہ دی گئی ہے کہ جس نے پینسٹھ سال کہا، اس نے پیدائش اوروفات کے سالوں کوبھی شمارکیاہے‘‘، یہی تاویل حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی عمرکے سلسلہ میں بھی کی جائے گی —–  البتہ اگروفات اٹھاون ہجری میں تسلیم کریں (جیساکہ ایک قول بھی ہے) تو بغیر کسی تاویل کے پینسٹھ سال کی عمر مکمل ہوجاتی ہے، بہرحال!راقم کے نزدیک حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی وفات کاسن ستاون ہجری اورکل عمرترسٹھ اورچونسٹھ کے درمیان ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

یہ توحضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی ذاتی عمرکے سلسلہ میں تاریخی بحث تھی، اب ذراحضرت اسماء (رضی اللہ عنہا)بنت ابوبکرصدیقؓ کی عمرسے موازنہ کرتے ہوئے تاریخی حقیقت کوبھی جانتے چلیں کہ اِنھیں کی عمرسے موازنہ کرکے حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی متفق علیہ عمرکوتسلیم کرنے سے انکارکیا جاتا ہے۔

حضرت اسماءؓ کی عمرسے موازنہ

حضرت اسماء (رضی اللہ عنہا)حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی بڑی بہن تھیں، ان کی ماں کانام قیلہ(یاقُتَیْلہ)تھا، مخالفینِ اسلام کے اعتراض کے جواب میں بعض حضرات نے ان کی عمرسے موازانہ کرکے سیروسوانح اوراحادیث وشروحات کی کتابوں میں مذکورنکاح ورخصتی کے وقت حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) کی عمر کاانکارکیاہے، آیئے ! ہم بھی صحیح خدوخال معلوم کرتے چلیں، اس سلسلہ میں درج ذیل تنقیحات پرغورکرناچاہئے:

۱-  حضرت اسماء ؓ کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل باتوں پرجمہورکاتقریباًاتفاق ہے:

(الف)  حضرت اسماء ؓ ہجرت سے ستائیس(۲۷)سال پہلے پیداہوئیں۔

(ب)  ان کی پیدائش کے وقت حضرت ابوبکرؓ اکیس(۲۱)سال کے تھے۔

 (ج)  ان کی وفات تہتر(۷۳)ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے انتقال کے کچھ دنوں بعدہوئی۔

(د)  وفات کے وقت وہ(تقریباً) سوسال کی تھیں۔ (جامع المسانیدوالسنن لابن کثیر: ۱۵؍ ۲۰۱، تاریخ دمشق لابن عساکر: ۶۹؍۸، نمبرشمار: ۹۲۹۴،عمدۃ القاری، باب أجاب الفتیا؍باب مایقول بعد التکبیر: ۳؍ ۳۸۰،طبقات ابن سعد: ۸؍۲۵۵، اسدالغابۃ: ۵؍ ۲۰۹، البدایۃ والنہایۃ: ۸؍ ۴۲۰، سیراعلام النبلاء: ۳؍ ۲۸۰، المعلم بفوائدمسلم، اعلام النساء: ۲؍ ۴۹۸، سبل السلام، باب ازالۃ النجاسۃ: ۱؍ ۳۹)

۲-  درج ذیل امورمیں اختلاف ہے:

(الف)  حضرت اسماءؓ اپنی بہن حضرت عائشہؓ سے کتنی سال بڑی تھیں ؟ اس سلسلہ میں تین ا قوال ملتے ہیں :

۱-  عبدالرحمان بن ابی الزناد فرماتے ہیں کہ دس سال بڑی تھیں۔ ( تاریخ دمشق لابن عساکر: ۶۹؍۸، نمبرشمار: ۹۲۹۴)اسی کوحافظ بن عبدالبرؒ نے بھی نقل کیاہے؛ لیکن جزم کے ساتھ نہیں ؛ بل کہ شک کے ساتھ، فرماتے ہیں : وکانت أکبرمن عائشۃ بعشرسنین أو نحوہا۔(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب:۱؍۱۸۵)

۲-  مطلقاً بڑی تھیں، سال کی کوئی قیدنہیں، اکثرمؤرخین اسی کولکھتے ہیں۔ (اسدالغابۃ، اسماء بنت ابی بکر: ۱ ؍ ۱۳۰۹،تاریخ دمشق لابن عساکر: ۶۹؍۹، نمبرشمار: ۹۲۹۴، تہذیب الأسماء، حرف الألف: ۱؍ ۱۱۹، المعلم بفوائدمسلم، اعلام النساء: ۲؍ ۴۹۸)

۳-  دس سال سے بھی زیادہ بڑی تھیں۔ ( سیرأعلام النبلاء: ۳؍۵۲۶)

اب آیئے مذکورہ امورکوجوڑکردیکھتے ہیں :

۱-  حضرت ابوبکرؓ کی عمرکے لحاظ سے حضرت اسماء وحضرت عائشہ رضی اللہ عنہماکی عمریں :  حضرت اسماءؓ کی پیدائش کے وقت حضرت ابوبکرصدیق ؓ اکیس(۲۱)سال کے تھے، ان کی پیدائش ۳؍ عام الفیل میں ہے، اس لحاظ سے نبوت کے وقت وہ سینتیس(۳۷) سال کے ہوئے، جب کہ ہجرت کے وقت ان کی عمرپچاس (۵۰)سال ہوئی۔

حضرت اسماءؓ ہجرت سے ستائیس(۲۷)سال پہلے پیداہوئیں، حضرت ابوبکرؓکی عمرکے اعتبارسے نبوت کے وقت ان کی عمرسولہ(۱۶)سال ہوئی؛ کیوں کہ ان کی پیدائش کاسن ۲۴؍عام الفیل بنتاہے، جب کہ ہجرت کے وقت ان کی عمر تیس (۲۹) سال ہوئی،چوں کہ ان کی وفات تہتر(۷۳)ہجری میں ہے، اس اعتبارسے وفات کے وقت وہ ایک سودو(۱۰۲)سال کی ہوتی ہیں۔

حضرت اسماء ؓ کی اس عمر کے حساب سے (دس سال بڑی مان کر)حضرت عائشہؓ نبوت کے وقت چھ(۶)سال کی تھیں، جب کہ ہجرت کے وقت ان کی عمرانیس(۱۹) سال ہوئی، اس اعتبارسے نکاح سترہ(۱۷) سال کی عمرمیں (اگرہجرت سے دوسال قبل ماناجائے)اوررخصتی اکیس(۲۱)سال کی عمرمیں ہوگی، وفات چوں کہ صحیح قول کے مطابق ستاون (۵۷)ہجری میں ہوئی ہے؛ اس لئے وفات کے وقت ان کی عمرچھہتر(۷۶)سال ہوتی ہے۔

۲-  حضرت اسماءؓ کی عمرکے لحاظ سے حضرت عائشہؓ کی عمر:  یہ بات پہلے گزرچکی ہے کہ حضرت اسماءؓ ہجرت سے ستائیس سال پہلے پیداہوئیں، اس لحاظ سے نبوت کے وقت ان کی عمرچودہ(۲۷-۱۳=۱۴)سال تھی، جب کہ وفات پورے سوسال کی عمرہوتی ہے کہ وفات تہتر(۷۳)ہجری میں ہے۔

حضرت اسماءؓ کی اس عمرکے حساب سے(دس سال بڑی مان کر)نبوت کے وقت حضرت عائشہؓ چارسال(۴) کی ہوتی ہیں، جب کہ ہجرت کے وقت ان کی عمرسترہ(۱۷)سال ہوجاتی ہے، اس اعتبارسے نکاح پندرہ(۱۵)سال (اگرہجرت سے دوسال قبل ماناجائے)اوررخصتی انیس (۱۹)سال، جب کہ وفات چوہتر(۷۴)سال کی عمرمیں واقع ہوگی۔

حضرت فاطمہؓ کی عمرسے موازنہ

حضرت فاطمہؓ کی عمرکے لحاظ سے حضرت عائشہؓ کی عمر: بعض حضرات حضرت فاطمہ ؓ کی عمرکے حساب سے بھی حضرت عائشہؓ کی عمرکاحساب لگاتے ہیں، آیئے ہم بھی ایساکرکے دیکھتے ہیں:

حضرت فاطمہ ؓ کی پیدائش حضرت عائشہ کی پیدائش سے پانچ سال پہلے ہوئی، جب کہ آں حضرت ا پینتیس(۳۵)سال کے تھے، اس لحاظ سے ہجرت کے وقت ان کی عمر اٹھارہ (۱۸)سال تھی، ان کی وفات گیارہ ہجری میں ہے، لہٰذا وفات کے وقت ان کی عمراٹھائیس سال ہوئی(الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ۸؍۵۴، الکامل: ۲؍۲۳۱)۔

اس لحاظ سے حضرت عائشہؓ نبوت کے سال ہی پیداہوئیں، ہجرت کے وقت وہ تیرہ(۱۳)سال کی تھیں تونکاح گیارہ (۱۱)سال اور رخصتی پندرہ (۱۵)سال کی عمر میں لازم ہوگی،جب کہ وفات کے وقت وہ ستر(۷۰)سال کی ہوجاتی ہیں۔

عمروں سے موازنہ پرایک نظر

حضرت عائشہ کی عمرکا موازنہ کرنے کے بعددرج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :

۱-  حضرت ابوبکرؓ کی عمرسے موازنہ کی صورت میں حضرت عائشہؓکانکاح سترہ(۱۷)، رخصتی اکیس(۲۱)اوروفات چھہتر(۷۶)سال کی عمر میں لازم آتی ہے۔

۲-  حضرت اسماءؓ کی عمرسے موازنہ کی صورت میں حضرت عائشہؓکانکاح پندرہ(۱۵)، رخصتی انیس(۱۹) اوروفات چوہتر(۷۴)سال کی عمرمیں لازم آتی ہے۔

۳-  حضرت فاطمہؓ کی عمرسے موازنہ کی صورت میں حضرت عائشہؓ کانکاح گیارہ(۱۱)، رخصتی پندرہ(۱۵)اوروفات ستر(۷۰)سال کی عمرمیں لازم آتی ہے۔

لیکن ان باتوں کوتسلیم کرنامشکل ہے:

۱-  حضرت عائشہؓ کی کل عمرکے سلسلہ میں ترسٹھ سال سے لے کرسرسٹھ سال تک کے اقوال ملتے ہیں (جب کہ صحیح قول کے مطابق ان کی کل عمرچونسٹھ سال کے قریب رہی ہے)، موازنہ کی صورت میں ستر(۷۰) سے لے کرستتر(۷۷) تک جاپہنچتی ہے، جوان کی کل عمرکے خلاف ہے۔

۲-  حضرت اسماءؓ کی عمرسے موازنہ کے وقت پورے وثوق کے ساتھ دونوں بہنوں کے درمیان دس(۱۰)سال کاتفاوت بتایاجاتاہے؛ حالاں کہ اس کے اصل قائل عبدالرحمن بن ابی الزنادؒہیں، جواکثرحضرات کے نزدیک مجروح ہیں (دیکھئے:تہذیب الکمال للمزی، من اسمہ عبدالرحمن، نمبرشمار: ۳۸۱۶)، نیزدس سال سے زیادہ کی روایت بھی ہے ملتی ہے اورمطلق (تفاوت کی تعیین کے بغیر)بڑی ہونے کی روایت بھی،لہٰذا متفق علیہ روایتوں کوچھوڑکردس سال والی روایت کوچمٹائے رکھنادیانت کے خلاف بات ہے۔

 ۳-  حضرت عبدالرحمن بن ابی الزنادؒ دس سال تفاوت کے قائل ہیں ؛ لیکن خود ان سے بھی نوسال میں رخصتی کی روایت منقول ہے، امام طبرانی نقل کرتے ہیں : حدثنایحیی بن أیوب العلاف وأبوزید القراطیسی قالا:ثنا سعید بن أبی مریم، ثناعبدالرحمن بن أبی الزناد عن ھشام بن عروۃ عن أبیہ عن عائشۃقالت: تزوجنی رسول اللہ ا وأنا بنت سبع سنین، وأدخلت علیہ وأنا بنت تسبع سنین۔ (المعجم الکبیر،ذکرأزواج النبیﷺ حدیث نمبر:۴۶،نیز دیکھئے: المعجم الأوسط للطبرانی،حدیث نمبر:۶۹۵۷)’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ا نے مجھ سے سات سال کی عمرمیں نکاح کیا اورمیں رخصت ہوکران کے پاس نوسال کی عمرمیں گئی‘‘، اب ظاہرہے کہ دونوں باتیں (دس سال تفاوت اورنوسال کی عمرمیں رخصتی) ایک ساتھ درست نہیں ہوسکتیں، لہٰذاکسی ایک بات کو ترجیح دینی ہوگی اورمتفق علیہ نوسال کی رخصتی ہے؛ اس لئے اسی کوترجیح دی جائے گی۔

۴-  کسی ایسے شخص کی عمرکااندازہ دوسرے شخص کی عمرسے موازنہ کرکے کرنا، جس کی عمرکی صراحت خود موجودہو، عقل وقیاس کے خلاف بات ہے، دنیا کی تاریخ میں کسی بھی شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں کیاگیاہوگا، توپھرحضرت عائشہ کے ساتھ ایساکیوں کیاجائے؟

حضرت ابوبکرصدیقؓ کی ہجرت (حبشہ)سے استدلال

جوحضرات حضرت عائشہؓ کی نابالغی کے نکاح کوتسلیم نہیں کرتے،وہ حضرت ابوبکرؓکی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ کوبھی دلیل کے طورپرپیش کرتے ہیں، آیئے! اس دلیل پربھی ایک نظرڈالتے چلیں۔

حضرت امام بخاری ؒنے حضرت عائشہ کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں : لم أعقل أبوی قط إلاوہمایدینان الدین، ولم یمرعلینا یوم إلایأتینافیہ رسول اللہ ﷺ طرفی النہاربکرۃ وعشیۃ، فلماابتلی المسلمون خرج أبوبکرمہاجراقبل الحبشۃ…۔ (بخاری، باب جوارأبی بکرفی عہدالنبیﷺ وعقدہ، حدیث نمبر: ۲۲۹۷)’’

وجہ استدلال یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ کااپنے والدین کودین پرپانا،حضرت عائشہؓ کا آں حضرت اکی روزانہ آمد ورفت اور حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ کوسمجھناان کے صاحب ہوش ہونے کی دلیل ہے اورہوش کے لئے پانچ چھ سال کاہوناضروری ہے؛ کیوں کہ حضرت ابوبکرؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کاارادہ پانچ نبوی میں کیاتھا، اس لحاظ سے نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمرتیرہ چودہ سال ہوتی ہے، نہ کہ چھ سات سال۔

اس کاجواب تفصیل کے ساتھ تشفی بخش اندازمیں سیدالطائفہ علامہ سیدسلیمان ندویؒ نے دیاہے، جواب ان کی کتاب ’’سیرت عائشہؓ‘‘(ص:۳۴۴ تا۳۵۸)میں شامل ہے، یہاں خلاصہ(کچھ حذف واضافہ کے ساتھ) پیش کرنے پراکتفاکیاجاتاہے(البتہ جوتفصیل چاہتے ہوں، وہ سیرت عائشہؓ سے مراجعت کریں )، سیدصاحبؒ لکھتے ہیں :

 اصل یہ ہے کہ یہ(ایک طویل) حدیث (ہے، جو)چارٹکڑوں سے مرکب ہے، ایک یہ کہ ’’میں نے جب سے اپنے والدین کوجاناپہچانا، ان کودین پرپایا‘‘، دوسراٹکڑا ’’روزانہ صبح وشام کی آمدورفت‘‘ کاہے، تیسرا’’حضرت ابوبکرؓ کی ہجرت حبشہ کے ارادہ‘‘ کاہے اورچوتھاٹکڑا(جواس طویل حدیث کے آخرمیں ہے، وہ )’’مدینہ منورہ کی ہجرت‘‘ کاہے، یہ حدیث ابن شہاب زہری ؒ سے مروی ہے، ان کی عادت ہے کہ اخباروسیرکی روایات میں وہ ایک واقعہ کے مختلف واقعاتِ متعلقہ کوتسلسل کے لئے جوڑکربیان کرتے ہیں، تمام بڑے واقعات میں انھوں نے یہی کیاہے، مثلاً: حدیثِ آغازِوحی، حدیثِ سفیان وقیصرومصاحبینِ قیصر، حدیثِ واقعۂ افک اورآخری واقعہ میں جیسا کہ بخاری میں ہے اورکتبِ سیرمیں توہرجگہ انھوں نے اپنی اس روش کی تشریح کردی ہے۔

یہ حدیث کتبِ صحاح میں سے صرف بخاری میں ہے، امام بخاری نے اپنے دستورکے مطابق اس حدیث کوکہیں ایک ساتھ کہیں ٹکڑے کرکے مختلف ابواب میں درج کیاہے، مثلا: کتاب المساجد، کتاب الکفالہ، کتاب الأدب، باب غزوۃ الرجیع، کتاب الہجرۃ، …… ہروہ شخص، جس کوامام بخاری کی تبویب اوراحادیث کے ٹکڑوں کی ترتیب کے سلیقہ کاعلم ہے، وہ جان سکتاہے کہ خاص قرائن کے بغیرمحض ترتیبِ اجزاء سے کسی مختلف الأجزاء حدیث سے کسی نتیجہ پراستدلال نہیں کیاجاسکتا، فریق کاسارااستدلال اسی وقت صحیح ہوسکتا، جب والدین کی شناخت، حضوراکی روزانہ صبح وشام کی آمد کے بعدہی حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ کاہونامسلم ہو؛ مگرافسوس کہ ایسانہیں ہے؛ بل کہ ذراغورکرنے سے معلوم ہوجائے گاکہ روزانہ صبح وشام کے وقت آنے کاتعلق آپ اکی ہجرتِ مدینہ کے خلافِ معمول آنے سے ہے، جیساکہ صحیح بخاری کتاب الأدب کی روایت (أن عائشۃ زوج النبیﷺ قالت: لم أعقل أبوی إلاوہمایدینان الدین، ولم یمرعلیہما یوم إلایأتینا فیہ رسول اللہ ﷺ طرفی النہار بکرۃ وعشیۃ فبینما نحن جلوس فی بیت أبی بکرفی نحرالظہیرۃ قال قائل: ہذارسول اللہﷺ فی ساعۃ لم یکن یأتینا فیہا[باب ہل یزورصاحبہ کل یوم أوبکرۃ وعشیا،حدیث نمبر: ۶۰۷۹])اورنیزکتب سیرمیں ابن اسحاق کی سیرت میں ہے، الفاظ یہ ہیں :عن عائشۃ ام المؤمنین انہاقالت: کان لایخطی رسول اللہﷺ أن یأتی بیت ابی بکراحدطرفی النہار، إمابکرۃ وإماعشیا؛ حتی إذا کان الیوم الذی اذن فیہ لرسول اللہﷺ فی الہجرۃ والخروج من مکۃمن بین ظہری قومہ اتانارسول اللہ ﷺ بالہاجرۃ فی ساعۃ کان لایأتی فیہا۔ (سیرۃ ابن ہشام، حدیث ہجرتہ ﷺ إلی المدینۃ:۱؍۴۸۴)۔

مذکورہ اقتباسات سے یہ بات معلوم ہوگئی:

۱-  امام زہری ؒسے منقول امام بخاری ؒکی روایت کردہ حدیث(جس کوانھوں نے باب جوارأبی بکرفی عہدالنبیﷺ وعقدہمیں نقل کیاہے)سے یہ ثابت کرناکہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے وقت (پانچ نبوی میں )حضرت عائشہؓ سن تمییز(یعنی پانچ چھ سال)کی تھیں درست نہیں۔

۲-  یہ بات بھی درست نہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے وقت حضورا روزانہ صبح وشام ان کے گھرآیاکرتے تھے۔

۳-  بل کہ آں حضرت ا کے روزانہ صبح وشام حضرت ابوبکرؓکے گھرتشریف لانے کاتعلق ہجرتِ مدینہ سے قبل کے دنوں سے ہے۔

کیوں کہ خودامام زہری ؒ کی روایت(جس کوامام بخاری نے کتاب الأدب میں نقل کیاہے)ان باتوں کی تردیدکرتی ہے، نیزسیرکی کتابوں میں مذکور واقعات کے بھی خلاف ہے؛ لیکن اگریہ تسلیم کرلیاجائے کہ واقعات کی وہی ترتیب درست ہے، جس کوامام بخاری نے باب جوارأبی بکرفی عہدالنبیﷺ وعقدہاور کتاب الہجرۃمیں نقل کیاہے توسوال یہ پیداہوتاہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ کوکس بنیادپرپانچ نبوی ماناگیا، جب کہ حدیث میں اس کاذکربھی نہیں ہے؟دراصل حضرت ابوبکرؓکی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ سے استشہادکرنے والوں کویاتوشبہ ہوگیاہے یاپھردیدۂ ودانستہ ہجرتِ حبشہ کی تاریخ سے صرف نظرکررہے ہیں ؛ کیوں کہ یہ بات توانھیں بھی معلوم ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت دومرتبہ ہوئی ہے، پہلی مرتبہ سن پانچ نبوی میں، پھر جب دوڈھائی مہینے کے بعدقریش کے اسلام لانے کی خبرملی تویہ حضرات مکہ واپس آگئے،ابن اثیرؒلکھتے ہیں : وکان مسیرہم فی رجب سنۃ خمس من النبوۃ وہی السنۃ الثانیۃ من إظہارالدعوۃ، فأقاموا شعبان وشہررمضان، وقدموافی شوال سنۃ خمس من النبوۃ۔ (الکامل:۲؍۵۲)، جب مکہ کے قریب پہنچے تو یہ خبرچھوٹی نکلی، لہٰذا کچھ لوگ چھپ کر، جب کہ کچھ دوسروں کی پناہ میں مکہ آئے،پھرسن چھ نبوی میں کافی مشقتوں اور مشکلوں کے بعد دوبارہ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی؛ لیکن دونوں مرتبہ کی ہجرت میں حضرت ابوبکرؓ شامل نہیں تھے(دیکھئے: الروض الأنف:۲؍۹۱ ومابعدہا)؛ بل کہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کاارادہ ان دونوں ہجرتوں کے بعدہے۔

چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ حضرت ابوبکرؓ ہجرتِ حبشہ کے عزم کے واقعہ کولکھنے کے بعد لکھتے ہیں : کل ہذہ القصص ذکرہا ابن اسحق معترضا بہابین تعاقد قریش علی بنی ہاشم وبنی المطلب وکتاتبہم علیہم الصحیفۃ الظالمۃ وحصرہم إیاہم فی الشعب وبین نقض الصحیفۃ وماکان من أمرہا، وہی أمورمناسبۃ لہذاالوقت۔ (البدایۃ والنہایۃ: ۳؍۱۱۱) ’’ابن اسحقؒ نے ان تمام قصوں کو بنوہاشم اوربنومطلب کے خلاف قریش کے معاہدہ، صحیفۂ ظالمہ کی مکاتبت اورشعب ابی طالب میں محاصرہ اورنقض صحیفہ کے درمیان کے واقعات میں شمارکیاہے اوریہی ان امورکامناسب وقت ہے‘‘، جب کہ محاصرہ سات نبوی میں اورنقض صحیفہ دس نبوی میں پیش آیا، نیز حافظ ابن حجر ؒ حضرت عائشہؓ کی کم سنی کے نکاح کوتسلیم نہ کرنے والوں کے ایک جملۂ استشہاد ’’فلماابتلی المسلمون خرج أبوبکر مہاجرا قبل الحبشۃ‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں :أی بأذی المشرکین لماحصروا بنی ہاشم والمطلب فی شعب أبی طالب وأذن النبی ﷺ لأصحابہ فی الہجرۃ إلی الحبشۃ کماتقدم بیانہ(قولہ: خرج ابوبکر مہاجرا نحوأرض الحبشۃ) أی: لیلحق بمن سبقہ إلیہا من المسلمین۔ (فتح الباری، باب ہجرۃ النبی ﷺ وأصحابہ إلی المدینۃ، حدیث نمبر:۳۶۹۲)’’مشرکین کی ایذارسانی کی وجہ سے جب ان لوگوں نے بنوہاشم اوربنومطلب کوشعب ابی طالب میں محصور کردیاتو آں حضرت انے حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی توابوبکرؓبھی سبقت کرنے والے مسلمان بھائیوں سے مل جانے کاارادہ کیا‘‘۔

یہی بات مشہورسیرت نگارعلی بن برہان الدین الحلبی ؒلکھتے ہیں : (لماابتلی المسلمون بأذی المشرکین) أی: وحصروا بنی ہاشم والمطلب فی شعب أبی طالب وأذن ﷺ لأصحابہ فی الہجرۃ إلی الحبشۃ، وہی الہجرۃ الثانیۃ، خرج ابوبکرؓ مہاجراً نحوأرض الحبشۃ…۔ (السیرۃ الحلبیۃ:۱؍۴۸۴)۔

بل کہ علامہ حلبیؒ دوسری جگہ تاریخ کی تعیین کے ساتھ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کاارادہ تیرہ نبوت کاواقعہ ہے : وفی السنۃ الثالثۃ عشرۃ من النبوۃ کانت بیعۃ العقبۃ الثانیۃ التی ہی الکبری، وبعضہم یسمیہا العقبۃ الثالثۃ… وفی ہذہ السنۃ أراد ابوبکرؓ أن یہاجرللحبشۃ، فلمابلغ برک الغماد ردہ ربیعۃ بن الدغنۃ سید القارۃ۔ (السیرۃ الحلبیۃ، باب بیان ماوقع من الحوادث من عام:۳؍۴۹۹)’’تیرہ نبوت میں عقبہ ثانیہ کی بیعت ہوئی، جس کوعقبۂ ثالثہ بھی کہتے ہیں … اوراسی سال حضرت ابوبکرؓ حبشہ کی ہجرت کاارادہ کیا، جب ’برک الغماد‘تک پہنچے توقبیلۂ قارہ کے سردارربیعہ بن دغنہ نے واپس کیا‘‘۔

مذکورہ عبارتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی ہجرتِ حبشہ کے ارادہ کاتعلق پانچ نبوی سے نہیں ہے؛ بل کہ شعبِ ابی طالب کے مقاطعہ کے وقت سے ہے اورشعب ابی طالب کامقاطعہ سن سات اوردس نبوی کے درمیان کاواقعہ ہے(یا علامہ حلبیؒ کے بقول تیرہ نبوی کاواقعہ ہے) اوران سالوں میں حضرت عائشہؓ چارپانچ سال کی رہی ہوں گی( کہ ان کی پیدائش چاریاپانچ نبوی میں ماناجاتاہے) اوراس عمرکو بہت زیادہ تونہیں ؛لیکن یادداشت کی حدتک ہوش وحواس کی عمرکہاجاسکتاہے اوریہاں یہی مرادہے۔

لفظ’’بِکْر‘‘سے استدلال

بعض حضرات نے حدیث میں واردلفظ’’بکر‘‘سے استدلال کرتے ہوئے نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمرچھ اوررخصتی کے وقت نوسال کوماننے سے انکارکیاہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں : لماہلکت خد یجۃ جاء ت خولۃ بنت حکیم امرأۃ عثمان بن مظعون قالت: یارسول اللہ! ألاتتزوج ؟ قال: من؟ قالت: إن شئت بکرا، وإن شئت ثیباً، قال: فمن البکر؟ قالت: ابنۃ أحب خلق اللہ عزوجل إلیک عائشۃ بنت أبي بکر، قال: ومن الثیب؟ قالت: سودۃ ابنۃ زمعۃ…۔ (مسندأحمد، حدیث نمبر: ۲۵۷۶۹)۔

وجہِ استدلال یہ ہے کہ حضرت خولہ بنت حکیم ؓ نے حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعدآں حضرت ا کودوسری شادی کامشورہ دیا اورآپ ا کے دریافت کرنے پربتایاکہ ’’بکر‘‘ (ناکتخدا)اور’’ثیب‘‘(شوہردیدہ)دونوں طرح کی خواتین موجودہیں، حضرت خولہؓ نے ’ثیب‘ کے مقابلہ میں ‘بکر‘ کالفظ استعمال کیا، جواس بات پردلیل ہے کہ وہ ’بکر‘(حضرت عائشہؓ) چھ سات سال کی نہیں ؛ بل کہ اٹھارہ سال کی تھیں۔

یہ محض دعوی ہے، جس پرکوئی صریح دلیل موجودنہیں ؛ کیوں کہ نہ لغوی اعتبارسے یہ بات درست ہے اورناہی استعمال کے اعتبارسے؛ چنانچہ’’ بکر‘‘ کے لغوی معنی’’ایسی لڑکی، جس کی بکارت زائل نہ ہوئی ہو‘‘ کے ہیں، مرتضیٰ زبیدیؒ لکھتے ہیں : البکر(بالکسر): وہی التی لم تقتض۔ (تاج العروس، باب الراء: ۱۰؍۲۳۹، تہذیب اللغۃ للأزہری، بکر: ۳؍۳۷۲)اورظاہرہے کہ زوالِ بکارت کاتعلق اٹھارہ سال سے قطعاً نہیں ؛ بل کہ واقعہ اس کے خلاف ہے۔

جہاں تک استعمال کے لحاظ سے اس کے معنی کاتعلق ہے توجاننا چاہئے کہ یہ لفظ جس طرح ثیب کے مقابلہ میں بولاجاتاہے، اسی طرح صغیرہ کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتاہے، علامہ ابن دقیق العیدؒ ’’لاتنکح البکرحتی تستأذن‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں : إماأن یحمل علی التحریم، وإماعلی الکراہۃ، فإن حمل علی التحریم تعین أحدالأمرین: إماأن یکون المرادبالبکر: ماعداالصغیرۃ۔ (إحکام الأحکام شرح عمدۃ الأحکام، کتاب النکاح: ۱؍۳۹۵)’’یاتوتحریم پرمحمول کیاجائے یاکراہت پر، اگرتحریم پرمحمول کیاگیاتودومعنوں میں سے ایک متعین ہوجائے گا، یاتوصغیرہ کے علاوہ…‘‘، حافظ ابن عبدالبرؒ لکھتے ہیں :قالوا: فہٰذا علی عمومہ فی کل بکرإلاالصغیرات ذات الأب۔ (التمہید لابن عبدالبر، کتاب النکاح: ۱۹؍۱۰۰) ’’علماء کہتے ہیں کہ یہ ہرباکرہ کے سلسلہ میں عمومی حکم ہے؛ البتہ وہ صغیرہ مستثنیٰ ہے، جس کاباپ موجودہو‘‘—-  یہاں پردیکھئے صغیرہ کے مقابلہ میں ’بکر‘ کولایاگیاہے۔

لیکن اگر’ثیب‘کے مقابلہ میں ہی استعمال کریں تو کسی عورت کے’ثیب ‘ہونے کے لئے یہ کب ضروری ہے کہ اس کی عمراٹھارہ سال یااس سے زائد ہو؟ کیوں کہ ثیب کے معنی تو’’التی تزوجت وفارقت زوجہابأیّ وجہ کان بعدأن مسّہا‘‘(لسان العرب، مادۃ: ثیب: ۱؍۲۴۸) ’’جوشادی کرے اور جماع کے بعدکسی وجہ سے شوہرسے جداہوجائے‘‘کے ہوتے ہیں، نہ کہ تحدید کے ساتھ اٹھارہ سال، معلوم ہواصرف لفظ بکرسے عمرکی زیادتی پراستدلال کرناکسی طوردرست نہیں۔

معترضین کی طرف سے امام بخاریؒ کی روایت کردہ حدیثوں پراعتراض

حضرت عائشہؓ کی عمرکے سلسلہ میں جوروایتیں بخاری میں ہیں، وہ پانچ طرق (سندوں )سے آئی ہوئی ہیں :

۱-  حدثنی فروۃ بن أبی المَغراء، حدثنا علی بن مسہرعن ہشام عن أبیہ عن عائشۃ…۔۲-  حدثنی عبیدبن اسماعیل، حدثنا ابوأسامۃ عن ہشام عن أبیہ قال:…۔۳-  حدثنا معلی بن أسد، حدثنا وہیب عن ہشام بن عروۃ عن أبیہ عن عائشۃ…۔۴-  حدثنا قبیصۃ بن عقبۃ، حدثنا سفیان عن ہشام بن عروۃ عن عروۃ …۔۵-  حدثنامحمدبن یوسف، حدثنا سفیان عن ہشام عن أبیہ عن عائشۃ …۔ اعتراض یہ ہے کہ تمام سندوں میں ایک ہی راوی عروہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت نقل کررہے ہیں اورعروہ سے نقل کرنے والے بھی ایک ہی راوی ان کے بیٹے ہشام بن عروہ ہیں اوران سے روایت کرنے والے تمام کے تمام اہلِ عراق ہیں، جب کہ امام مالکؒ نے ہشام کی سندسے اہل عراق کی روایتوں کومجروح قراردیاہے؛ چنانچہ عبدالرحمن بن یوسف بن خراشؒ کہتے ہیں : کان مالک لایرضاہ، بلغنی أن مالکاً نقم علیہ حدیثہ لأہل العراق۔ (میزان الاعتدال،نمبرشمار: ۹۲۳۳:۴؍۳۰۱،تہذیب الکمال، من اسمہ ہشام:۳۰؍۲۳۹،تاریخ بغداد للخطیب، باب الہاء: ۱۴؍۴۰)’’امام مالک ان کوپسندنہیں کرتے تھے، مجھے خبرملی ہے کہ وہ(امام مالک) ہشام کی سندسے اہل عراق کی روایتوں کومجروح قراردیتے تھے‘‘، لہٰذاحضرت عائشہؓ کی عمرکے سلسلہ میں امام ا بخاریؒ کی روایتیں مجروح ہیں، ان سے استدلال کرکے نکاح کی عمرکوچھ اوررخصتی کی عمرکونوسال قراردینادرست نہیں۔

یہ اعتراض بظاہرقوی ہے اورامام مالک ؒ کے قول سے اس کی قوت میں اضافہ بھی ہوجاتاہے؛ لیکن غورکرنے اورحضرت ہشام کے بارے میں اساطین علم کے اقوال کے بعدیہ اعتراض بے وزن ہوکررہ جاتاہے، اس سلسلہ میں پہلے چنداقوال نقل کئے جاتے ہیں :

۱-  امام ابوحاتم ان کو’’حدیث کے امام اورثقہ‘‘ کہتے ہیں : ثقۃ إمام فی الحدیث۔

۲-  حضرت وہیب بن خالد فرماتے ہیں : قدم علینا ہشام بن عروۃ، فکان فینامثل الحسن وابن سیرین۔’’ہشام بن عروہ ہمارے پاس آئے توہمارے نزدیک حسن بصری اورابن سیرین کے مماثل تھے‘‘۔

۳-  حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ:ابن حبان نے ان کاشمارثقات میں کرنے کے بعدفرمایا: کان متقنا ورعاً فاضلاً حافظاً۔’’وہ متقی، پرہیزگار، فاضل اور حافظ تھے‘‘۔(تہذیب التہذیب، حرف الہاء: ۱۱؍۴۵-۴۶، تہذیب الکمال، من اسمہ ہشام: ۳۰؍۲۳۹)

۴-  امام ذہبیؒ(جوائمۂ حدیث ورجال میں سے ہیں ) فرماتے ہیں : أحدالأعلام، حجۃ إمام؛ لکن فی الکبرتناقص حفظہ، ولم یختلط أبداً۔ ’’وہ حجت وامام اوربڑے آدمی تھے؛ البتہ بڈھاپے میں حافظہ میں کمی آگئی تھی؛ لیکن ملاوٹ نہیں کی‘‘۔(میزان الاعتدال،نمبرشمار: ۹۲۳۳:۴؍۳۰۱)

۵-  امام دارقطنیؒ نے اپنی سنن میں ذکرکرنے کے بعدفرمایا: وہشام وإن کان ثقۃ فإن الزہری أحفظ منہ۔’’ہشام اگرچہ ثقہ ہیں ؛ لیکن امام زہری زیادہ یادرکھنے والے ہیں ‘‘۔(سنن الدارقطنی،باب فی المرأۃ تقتل إذاارتدت، حدیث نمبر: ۱۲۷)

۶-  حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں : ثقۃ فقیہ، ربمادلس۔ ’’وہ ثقہ فقیہ ہیں، تاہم بسااوقات تدلیس کیاکرتے تھے‘‘۔ (تقریب التہذیب، ص: ۵۷۳، نمبرشمار: ۷۳۰۲)

مذکورہ اقوال سے معلوم ہوگیاکہ حضرت ہشام ایسے راوی نہیں ہیں، جن کی روایت مطلقاً ناقابل قبول ہو، ان اقوال کے بعداب درج ذیل وضاحتوں پربھی غورکریں :

۱-  عراق میں حضرت ہشام کی آمدتین مرتبہ ہوئی ہے اورحافظ ابن حجرؒ کے بقول امام مالک ؒ کے قول کاتعلق تیسری مرتبہ کی آمدسے ہے؛ چنانچہ وہ اپنی کتاب’’ہدی الساری، ص: ۷۰۲‘‘ میں لکھتے ہیں : مجمع علی تثبیتہ؛ إلاأنہ فی کبرہ تغیر حفظہ، فتغیرحدیث من سمع منہ فی قدمتہ الثالثۃ إلی العراق’’ان کی ثقاہت متفق علیہ ہے؛ البتہ بڈھاپے میں حافظہ متغیرہوگیاتھا، جس کی وجہ سے ان کی تیسری مرتبہ عراق آمدمیں جنھوں نے حدیث سنی، اس کے اندربدلاؤ آگیا ‘‘، لہٰذا امام بخاریؒ کی روایتوں میں پہلے یہ ثابت کرناپڑے گا کہ تمام راویوں نے حضرت ہشام کی تیسری مرتبہ آمدکے بعد روایتیں لی ہیں، ورنہ بخاری کی روایتیں مجروح قرارنہیں دی جاسکتیں۔

۲-  جن راویوں نے حضرت ہشام سے حضرت عائشہؓ کی عمرکے سلسلہ میں روایت نقل کی ہے،ان کی روایتیں بخاری میں تقریباًنوے (۹۰) ہیں، امام مالکؒ کے قول کواگرمطلق ماناجائے توان تمام نوے روایتوں کومجروح قراردیناہوگا۔

۳-  حضرت عائشہؓ کی عمرکے سلسلہ میں روایتیں صرف حضرت ہشام ہی سے نہیں ہیں ؛ بل کہ ان کے علاوہ اوربھی حضرات سے منقول ہیں ؛ چنانچہ امام نسائی ؒ اپنی سندسے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : حدثنااحمدبن سعد بن الحکم بن أبی مریم قال: حدثناعمی،قال: حدثنایحییٰ بن ایوب قال: أخبرنی عمارۃ بن غزیۃ عن محمدبن ابراہیم عن أبی سلمۃ بن عبدالرحمن عن عائشۃؓ قالت: تزوجنی رسول اللہﷺ وہی بنت ست سنین، وبنی بہاوہی بنت تسع۔ (سنن نسائی، البناء بابنۃ تسع، حدیث نمبر: ۳۳۷۹،السنن الصغریٰ، حدیث نمبر: ۳۳۴۴، السنن الکبریٰ، حدیث نمبر: ۵۳۸۰)

امام طبرانیؒ اپنی سندسے بیان کرتے ہیں : حدثنا موسی بن ھارون، نااسحاق بن راہویہ، أنا یحییٰ بن آدم، ثناابوبکربن عیاش عن الأجلح عن عبداللہ بن أبی ملیکۃ عن عائشۃؓ أن النبی ﷺتزوجہاوہی بنت ست سنین، ودخل بہاوہی بنت تسع سنین۔(المعجم الأوسط، حدیث نمبر: ۸۱۱۶، السنن الکبریٰ للنسائی، حدیث نمبر: ۵۱۸۳)

ابوبکرشیبانیؒ اپنی سندسے روایت کرتے ہیں : حدثنا الحسن بن علی، حدثنامحمدبن الحسن، حدثناسفیان الثوری عن سعد بن ابراہیم عن القاسم عن عائشۃؓ قالت: تزوج بی رسول اللہﷺ وأناابنۃست سنین، وبنی علی وأناابنۃ تسع سنین، وبنی علی فی شوال۔ (الأحادوالمثانی، حدیث نمبر: ۳۰۰۷)

یہ روایتیں حضرت ہشام کے علاوہ سے ہیں، جوحسن درجہ سے کم کی نہیں اور یہ حدیثیں حضرت ہشام کی حدیثوں کی مؤیدبھی ہیں، لہٰذا حضرت ہشام کی روایتوں کوکلیۃً مجروح قرارنہیں دیاجاسکتاہے۔

۴-  امام بخاریؒ کی کتاب کوجمہورعلماء’’ أصح الکتاب بعدکتاب اللہ‘‘ قراردیتے ہیں اورأصحیت وأرجحیت میں دوسری روایتوں کے مقابلہ میں ان کی روایات کو ترجیح دی جاتی ہے؛ چنانچہ حافظ ابن حجرؒ رقم طراز ہیں : وقد صرح الجمہور بتقدیم ’صحیح البخاری‘فی الصحۃ، ولم یوجدعن أحدالتصریح بنقیضہ۔ (نزہۃ النظر، ص: ۹۶) ’’جمہورنے صحت کے سلسلہ میں صحیح بخاری کومقدم کرنے کی صراحت کی ہے اوراس کے خلاف کسی کی صراحت نہیں ملتی‘‘؛ اس لئے امام بخاری ؒ کی روایتیں ہی اس باب میں مستندمانی جائیں گی اور صرف امام مالکؒ کے قول کی بناپر ان کی تمام روایتوں کومجروح نہیں قرار دیا جاسکتا۔

چندمعروضات

مذکورہ تصریحات کے بعداب راقم الحروف کے چندمعروضات پربھی غورکرناچاہئے:

۱-   حامیانِ اسلام کومخالفینِ اسلام کے جواب دینے میں حضرت عائشہؓ کی عمرکونکاح کے وقت اٹھارہ سال ثابت کرنے کے سلسلہ میں اس قدر مشقت اٹھانے کی قطعی ضرورت نہ تھی؛ بل کہ ان کاجواب اس طرح ہوناچاہئے تھا، جس طرح حضرت سلمان فارسیؓ نے مشرکوں کے استہزاء کاجواب دیا تھا، حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں : قال لناالمشرکون: إنی أری صاحبکم یعلمکم؛ حتی یعلمکم الخراء ۃ، فقال: أجل، أنہ نہاناأن نستنجي أحدنابیمینہ، أویستقبل القبلۃ، ونہی عن الروث والعظام، وقال: لایستنجي أحدکم بدون ثلاثۃ أحجار۔(مسلم، باب الإستطابۃ، حدیث نمبر: ۲۶۲)’’مشرکین کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے ساتھی تم لوگوں کو(ہرچیز کی)تعلیم دیتے ہیں ؛یہاں تک کہ قضائے حاجت کی بھی، انھوں نے کہا: ہاں ! وہ ہمیں دائیں ہاتھ سے استنجالینے، قبلہ کی طرف رخ کرنے اورہڈی یاگوبرسے استنجاکرنے سے روکتے ہیں اوریہ بھی فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم سے استنجانہ کرے‘‘۔

ملاعلی قاریؒ اس کی تشریح میں امام طیبیؒ کاقول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :قال الطیبی: جواب سلمان من باب أسلوب الحکیم؛ لأن المشرک لمااستہزأ کان من حقہ أن یہدد أویسکت عن جوابہ؛ لکنہ رضی اللہ عنہ ماالتفت إلی ماقال ومافعل من الاستہزاء وأخرج الجواب مخرج المرشد الذی یلقن السائل المجد، یعنی لیس ہذامکان الإستہزاء؛ بل ہوجدوحق، فالواجب أن تترک العنادوتلزم الطریق المستقیم والمنہج القویم بتطہیرباطنک وظاہرک من الأرجاس والأجناس۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب آداب الخلاء، حدیث نمبر:۳۷۰: ۲؍۷۷) ’’حضرت سلمان ؓ کاجواب حکیمانہ اسلوب کے قبیل سے تعلق رکھتاہے؛ چنانچہ جب مشرک نے استہزاء کیاتو(جواب میں )وہ ڈانٹ سکتے تھے یاپھرخاموشی اختیارکرلیتے؛ لیکن انھوں نے مشرک کے قول اوراستہزاء کونظراندازکرکے ایک سنجیدہ سائل کو رہنمائی کرنے والاجواب دیتے ہوئے فرمایا: یہ استہزاء کامقام نہیں ؛ بل کہ حقیقت پسندی اورسنجیدگی کامقام ہے، تم پرضروری ہے کہ تم عنادوہٹ دھرمی کوچھوڑکرگندگیوں سے اپنے ظاہروباطن کوصاف کرکے سیدھے راستے کواختیارکرو ‘‘۔

ہمیں بھی احساسِ کہتری کا شکارہوکردفاعی راستہ اختیارکرنے کے بجائے حضرت سلمان فارسیؓ کاطریقۂ جواب اختیارکرناچاہئے تھا، اگرایساکیا جاتاتوشایدیہاں تک نوبت ہی نہیں آتی۔

۲-  حضرت عائشہؓکی کم سنی کی شادی پرمعترض ہونے کے بجائے ہمیں اس بات پرغورکرناچاہئے کہ کیااس زمانہ میں اس کومعیوب سمجھاجاتاتھایا اس کارواج تھا یانہیں ؟سیروتاریخ کی کتابوں کے مطالعہ سے اس کاجواب یہ ملتاہے کہ کم سنی کی شادی کو اس زمانہ میں معیوب نہیں سمجھاجاتاتھا، نیز یہ اس زمانہ کاایک مروج معاملہ تھا؛ بل کہ حیرت واستعجاب اس سے آگے ہمیں لے جاتاہے کہ ان کے یہاں حمل کابھی نکاح ہوجایاکرتاتھا، امام ابوداودؒ نے اپنی کتاب میں اس سلسلہ میں ایک باب قائم فرمایاہے: باب فی تزویج من لم یولد’’پیدائش سے پہلے شادی کرانے کاباب‘‘، جس کے اندرایک طویل حدیث بیان کی گئی ہے، جس میں یہ بھی ہے کہ کردم ؓحجۃ الوداع کے موقع سے مسلمان ہوئے اورآں حضرت اسے بتایا: إنی حضرت جیش عثران، فقال طارق بن المرقع: من یعطینی رمحاً بثوابہ، قلت: وماثوابہ؟ قال: أزوجہ أول بنت تکون لی۔(ابواداود، حدیث نمبر:۲۱۰۵، نیز دیکھئے:مسنداحمد، حدیث نمبر: ۲۷۰۶۴، السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر:۱۳۸۲۴) ’’میں جنگ عثران میں شریک تھا؛ چنانچہ طارق بن مرقع نے کہا: مجھے عوض کے ساتھ نیزہ کون دے گا؟ میں نے پوچھا: عوض کیاہے؟ اس نے جواب دیا: اپنی پہلی ہونے والی بیٹی سے اس کی شادی کراؤوں گا‘‘،یہ حدیث سارہ بنت مقسم کے مجہول الحال ہونے کی وجہ سے سنداً اگرچہ کمزورہے؛ لیکن اتنی بات ضرورمعلوم ہوتی ہے کہ اس زمانہ میں اس طرح کے امورکومعیوب نہیں سمجھاجاتاتھا، ورنہ عوض میں کسی اورچیزکا ذکرکرتے۔

نیزکم سنی کی شادیوں کی کئی مثالیں بھی ہمیں تاریخ وسیر کی کتابوں میں ملتی ہیں، آیئے انھیں بھی دیکھتے چلیں :

۱-  ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب کے لئے حضرت عمرؓ نے اس کی کمسنی ہی میں نکاح کاپیغام بھیجاتھا؛ چنانچہ ان کے حالات میں لکھاہے: خطبہاعمربن الخطاب وہی صغیرۃ۔ (سیراعلام النبلاء، ام کلثوم بنت علی:۵؍۲۲)’’حضرت عمرؓ نے نکاح کاپیغام ان کی کم عمری میں بھیجا‘ابن الترکمانی ؒ پیغام سے آگے بڑھ کرشادی کرنے کی بات لکھتے ہیں : وتزوج عمر ابنۃ علی صغیرۃ۔(الجوہرالنقی، باب انکاح الآباء الابکار: ۷ ؍ ۱۱۴) ’’(حضرت)عمرؓنے حضرت علیؓ ایک چھوٹی بیٹی سے شادی کی تھی‘‘۔

۲-  قدامہ بن مظعون ؓنے حضرت زبیرؓ کی بیٹی (جس کانام صفیہ بتایاجاتاہے)سے اس کی پیدائش کے دن ہی نکاح کیا، ملاعلی قاریؒ لکھتے ہیں : وتزوج قدامۃ بن مظعون بنت الزبیریوم ولدت مع علم الصحابۃنص فی فہم الصحابۃ عدم الخصوصیۃ فی نکاح عائشۃ رضی اللہ عنہا۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب الولی فی النکاح واستئذان المرأۃ: ۶؍۲۶۹، فتح القدیر: ۳؍۱۷۲)’’قدامہ بن مظعون نے زبیرکی بیٹی سے اسی دن نکاح کیا، جس دن وہ پیداہوئی، یہ بات صحابہ کے علم میں تھی، جواس بات پر واضح دلیل ہے کہ صحابہ کے فہم میں یہ(کم عمری کی شادی) حضرت عائشہؓکی خصوصیت نہیں ‘‘۔

۳-  خود آں حضرت انے حضرت ام سلمہؓ کے بیٹے سلمہ کانکاح حضرت حمزہؓ کی بیٹی سے بچپن ہی میں کردیاتھا، مفسرقرآن ابوبکرجصاص رازیؒ لکھتے ہیں : کان زوج رسول اللہﷺ – أم سلمۃ ابنہاسلمۃ، فزوجہ رسول اللہﷺ- بنت حمزۃ، وہماصبیان صغیران، فلم یجتمعا؛ حتی ماتا۔ (احکام القرآن للجصاص رازی، باب تزویج الصغار: ۲؍۷۵)’’رسول اللہانے (حضرت)ام سلمہ کے بیٹے کی شادی (حضرت)حمزہؓ کی بیٹی سے اس وقت کرایاتھا، جب کہ وہ دونوں چھوٹے تھے؛ چنانچہ وہ دونوں موت تک نہیں ملے ‘‘۔

۴-  حضرت زبیرؓ نے اپنی چھوٹی بچی کی شادی رچائی، امام شافعیؒ فرماتے ہیں : وزوّج الزبیر رضی اللہ عنہ ابنتہ صبیۃ۔ (الجوہرالنقی مع السنن الکبری للبیہقی، باب انکاح الآباء الابکار،حدیث نمبر: ۱۴۰۳۱)

یہ توکچھ مثالیں ہیں، ورنہ سیروتاریخ کی کتابوں میں تلاش کرنے سے اوربھی بہت ساری مثالیں مل جائیں گی، اسی لئے ابن الترکمانی ؒلکھتے ہیں : وزوج غیرواحد من أصحاب النبی ﷺ ابنتہ صغیرۃ۔(الجوہرالنقی، باب انکاح الآباء الابکار: ۷ ؍ ۱۱۴)’’بہت سارے صحابہ نے اپنی کم عمربیٹیوں کی شادی کرائی‘‘۔

مذکورہ باتوں سے یہ معلوم ہوگیاکہ اس زمانہ میں کمسنی کی شادی کوئی معیوب بات نہ تھی، لہٰذاہمیں کیاحق پہنچتاہے کہ ہم ایک ثابت شدہ بات کاانکار کریں ؟نیزاس سے مزیدوہ دواشکالات بھی خودبخوددورہوجاتے ہیں، جومعترضین کی طرف سے کئے جاتے ہیں :

(الف)   حضرت عائشہؓ کارشتہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے(جبیر) سے پہلے ہی طے کررکھی تھی، جب کہ مطعم بن عدی کابیٹا(جبیر)جنگ بدر میں شریک رہاہے،اس سے معلوم ہواکہ جبیرعمردرازتھے، پھراس قدرچھوٹی عمرکی لڑکی سے اس کارشتہ کیسے طے ہوسکتاتھا؟ اس لئے حضرت عائشہؓ کی پیدائش کو نبوت سے پہلے مانناہوگا۔

(ب)   حضرت عائشہؓ سے آں حضرت اکانکاح حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعدعمل میں آیااوریہ بات معلوم ہے کہ آپ ا کی جتنی اولاد ہیں، وہ سب حضرت خدیجہؓ سے ہے، ایسے وقت میں ایک چھ سات سال کی لڑکی سے نکاح کی ضرورت تھی یاایسی خاتون سے، جوگھرداری سنبھال سکے؟اس لئے یہی مانناہوگاکہ حضرت عائشہؓ چھ سات سال کی نہیں ؛ بل کہ اٹھارہ سال کی تھیں۔

مذکورہ پہلے اشکال کاجواب توآچکاہے کہ عمردرازکانکاح کم عمرسے بھی ہوجایاکرتاتھا، ورنہ حضرت عمرؓ ام کلثوم بنت علی ؓبن ابوطالب کے لئے پیغام نہ بھیجتے(بل کہ شادی نہ فرماتے)؛ اس لئے حضرت عائشہؓ کی پیدائش نبوت سے پہلے ماننالازم نہیں۔

جہاں تک دوسرے اشکال کاتعلق ہے تواس کاجواب یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ سے نکاح کامقصد صرف گھرداری نباہنانہیں تھا؛ بل کہ علمِ نبوت حاصل کرکے اس کی تبلیغ اوراس کی تقسیم تھی، جہاں تک گھرکے سنبھالنے کامسئلہ تھاتووہ حضرت سودہؓ سے پوراہوا، یہی وجہ ہے کہ نکاح کے بعدبھی حضرت عائشہؓ تقریباً چارسال تک کاشانۂ نبوت میں جانے کے بجائے اپنے میکہ میں رہیں۔

۳-  اس بات پربھی غورکرناچاہئے کہ کیانوسال کی عمربالغ ہونے کی عمرہے یانہیں ؟حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں :إذابلغت الجاریۃ تسع سنین فہی إمرأۃ۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی إکراہ الیتیمۃ علی التزویج، حدیث نمبر:۱۱۰۹)’’جب’جاریہ‘(بچی)نوسال کی عمرکوپہنچ جائے تووہ’إمرأۃ‘ (عورت) ہوجاتی ہے‘‘، یہی نہیں ؛ بل کہ حضرت لیث اپنے کاتب عبداللہ بن صالح کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں :أن إمرأۃ فی جوارہم حملت، وہی بنت تسع سنین۔(السنن الکبریٰ للبیہقی، باب السن الذی یجوزأن تحیض فیہ،حدیث نمبر: ۱۵۸۱۷)’’میرے پڑوس کی ایک عورت اس وقت حمل سے ہوگئی، جب وہ نوسال کی تھی‘‘، اسی لئے فقہائے احناف، فقہائے مالکیہ اورفقہائے شوافع اس بات کے قائل ہیں کہ’ ’لڑکی کے بالغ ہونے کی ادنیٰ عمرنوسال ہے‘‘۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ، لفظ: بلوغ: ۸؍۱۹۳)  —–   جب لڑکی نوسال کی عمرمیں بالغ ہوجاتی ہے توپھرحضرت عائشہؓ کی نوسال کی رخصتی پراس قدرواویلامچانے کی کیاضرورت ہے؟

۴-  حضرت عائشہؓ نے کئی جگہوں پراپنی کم سنی کوظاہرکیاہے(دیکھئے: بخاری، حدیث نمبر:۲۶۶۱،مسلم، حدیث نمبر: ۱۲۱۱)؛ حتیٰ کہ ایک جگہ اس کم عمری کا اظہاراس طرح فرمایا: فاقدروا قدرالجاریۃ الحدیثۃ السن۔ (مسلم، حدیث نمبر:۲۰۶۴)، امام نووی ؒ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : معناہ: أنہا تحب اللہو والتفرج والنظرإلی اللعب حبا بلیغا وتحرص علی إدامتہ ماأمکنہا ولاتمل ذلک إلابعذرمن تطویل۔(شرح النووی علی مسلم، باب رخصۃ فی اللعب التی لامعصیۃ فیہ: ۲؍۴۸۹)’’اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کھیل کودکواورکھیل دیکھنے کوبہت زیادہ پسند کرتیں اورامکان بھراس کی حریص رہتیں اورصرف زیادہ دیرٹھہرنے (کی وجہ سے تکان پیداہونے)کے عذر سے ہی اکتاتیں ‘‘، اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ نکاح کے وقت وہ کم عمرہی تھیں۔

 اس پریہ اشکال ہوسکتاہے کہ عورتیں اپنی عمرکوچھپاتی ہیں، یہاں بھی یہی معاملہ ہے، اس کا جواب ایک تویہ ہے کہ حضرت عائشہؓ  جیسی خاتون کے بارے میں اس طرح سوچنابعیدازقیاس ہے، ورنہ پھران سے مروی بہت ساری روایتوں کوبھی ترک کرناپڑے گا، دوسراجواب یہ ہے کہ تھوڑی دیرکے لئے یہ تسلیم کرلیاجائے کہ عورتیں اپنی عمرچھپاتی ہیں، تویہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک عورت دوسری عورت کی عمرنہیں چھپاتی (؛ بل کہ بڑھاکربولتی ہیں )؛ لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے، دوسری خاتون بھی حضرت عائشہؓ کی کم عمری کی گواہی دیتی نظرآرہی ہیں ؛ چنانچہ حضرت بریرہؓ سے جب حضورا نے واقعۂ افک کے موقع سے حضرت عائشہؓ کے بارے میں پوچھا توانھوں نے جواب دیتے ہوئے کہا:لا، والذی بعثک بالحق إن رأیت منہاأمرا اغمصہ علیہاقط أکثرمن أنہاجاریۃ حدیثۃ السن تنام عن العجین فتأتی الداجن فتأکلہ۔ (بخاری، باب تعدیل النساء بعضہن بعضا، حدیث نمبر: ۲۶۶)’’نہیں (کوئی شک والی بات نہیں )اس ذات کی قسم، جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجاہے،میں نے ان کی جانب سے چشم پوشی کی جانے والی کوئی بات کبھی نہیں دیکھی ہے، سوائے اس کے کہ وہ کم عمرہیں، آٹایوں ہی رکھ کرسوجاتی ہیں اوربکری آکرکھالیتی ہے‘‘  —–  حضرت بریرہؓ کی اس شہادت سے بھی معلوم ہورہاہے کہ وہ حقیقتاً کم عمرہی تھیں۔

۵-  موجودہ زمانہ میں کتنے ایسے واقعات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں (اورآج بھی انٹرنیٹ پرسرچ کیاجاسکتاہے؛ بل کہ وکی پیڈیامیں تو اس سلسلہ کی ایک طویل فہرست بھی دی ہوئی ہے، جوحضرات دیکھناچاہتے ہوں، وہ دیکھ لیں )، جن میں سات آٹھ سال کی بچی کااستقرار حمل ہواہے، ان باتوں کولوگ تسلیم بھی کرتے ہیں ؛ لیکن پتہ نہیں کیوں حضرت عائشہؓ کی چھ سال کی عمرمیں نکاح اورنوسال کی عمرمیں رخصتی کو تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں ؟ شاید مستشرقین کے اوچھے حملوں کے سامنے کم فہمی اوردینی معلومات کے لئے انھیں کی مرتب کردہ کتابوں سے استفادہ کے نتیجہ میں مجبورہیں۔

مزید دکھائیں
Close