خصوصیسیاست

نہ اُن کی جیت نئی ہے، نہ اپنی ہار نئی

بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی سیاسی مبصرین کو نئے سرے سے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

صفدر امام قادری

        عمومی انتخابات ہوئے اور سیاست دانوں سے لے کر عام آدمی تک اور دانش وروں سے لے کر سیاست کی نبض پر انگلی رکھنے والوں کی توقعات اور حساب کتاب کا نتیجہ کچھ ایسا نکلا کہ یہی سچ ثابت ہوا کہ نریندر مودی اور امت شاہ ہی درست ہیں،باقی تمام لوگ غلط ثابت ہوئے۔حزبِ اختلاف کے افراد کہتے رہ گئے ۔طرح طرح کے مبصرین اعداد و شمار اور زمینی حقائق پیش کرتے رہے مگر ای۔وی ۔ایم ۔مشین سے جو جن نکلا،وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرفرازی کی کہانی کہتا ملا۔انتخاب میں جو طبقہ ہارتا ہے،اس کی منطق واضح ہے کہ ای۔وی۔ایم۔ مشینوں کو ہیک کیا گیا۔پہلے سے ہی دو لاکھ گمشدہ ای۔وی۔ایم ۔کی خبریں شائع ہو تی رہی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کی ان ای۔وی۔ایم ۔کا اس مرحلے میں ناجائز استعمال ہو ا ہو گا۔ الیکشن کمیشن کی کار کردگی پر اس دوران کئی بار سوالا ت اٹھے اور ایسے الزامات بھی عائد ہوئے کہ ہندستان کے چیف الیکشن کمشنر کا دفتر بھارتیہ جنتا پارٹی کے دفتر سے مل جل کر کام کر رہا ہے۔ان سب کے باوجود اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ نریندمودی ہی نئے ہندستا ن کی حقیقت ہیں اور اگلے پانچ برس انھیں ہی اس ملک کو اگلی منزلوں کی طرف لے جانا ہے۔

        بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ نپی تلی جیت ہے ۔ امت شاہ دو برس پہلے سے ۳۵۰ کا نشا نہ مقرر کر چکے تھے اور پارٹی کارندوں کی میٹنگ میں انھیں بھی اس تعداد کو رٹاتے رہتے تھے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ ہر شخص اس کا مذ اق اڑاتا رہتا تھا ۔ پارلیامنٹ کی یہ سیٹیں کیا آسمان سے اتر کر آئیںگی مگر امت شاہ اور نریندر مودی نے جن سیٹوں کی پہچان کر لی تھی ،انھیں نتیجے میں بدل کر دکھا دیا ۔ اب وہ بھارتیہ جملہ پارٹی نہیں،اب عوام کے تعاون سے وہ اپنی مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہے ۔ جب کہ اس کے برخلاف پورا اپوزیشن جو سوچتا تھا یا جس کا اعلان کرتا تھا ، ویسا کچھ ہو ا نہیں اور ہندستان کے سارے سیاست دانوں کے منھ میں زبان نہیں ہے اور انھیں ہرگز ہرگز یہ بات نہیں سمجھ میں آرہی ہے کہ ایسا غیر متوقع کیسے ہو گیا؟

        ان کالموں میں پہلے کبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کے چست درست ہو نے پر اس کی تعریف کی گئی تھی۔۲۰۱۴ اور ۲۰۱۹ کے انتخاب میں یہ بنیادی فرق ہے کہ نریندر مودی نے اپنی پانچ سالہ حکومت میں اپنی پارٹی کے دائرۂ اثر کو اتنا بڑھایا ہے کہ اب اسے واقعتاقومی پارٹی کہا جا سکتا ہے ۔ملک کے ان علا قوں میں جہاں اس کی کوئی روایتی شناخت نہیں تھی، وہاں سے اتنی بڑی تعداد میںانھیں سیٹیں ملی ہیں جس کی کسی نے توقع نہیں کی تھی۔ اس کے بر خلاف حزبِ اختلا ف کی کسی پارٹی کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کا حلقۂ اثر بڑھ رہا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کر کے اپنی مقبولیت کو ووٹ میں بدلنے میںکامیابی حاصل کی۔

        بھارتیہ جنتا پارٹی کے افراد اور بعض تجزیہ نگار نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی کی اس کامیابی کے پیچھے پانچ سال کی حکومت کی کارکردگی کو بھی ایک بنیادی سبب مانتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کے عام آدمی کے لیے بعض لوک لبھاون پروگرام بھی کلیدی رول ادا کرتے رہے ۔مگر اس دلیل سے ایک بڑے حلقے کو شدید طور پر اختلاف رہے گاکیوں کہ مختلف مالیاتی امور پر مودی حکومت کے فیصلو ںسے عوام میں جو افرا تفری پھیلی،اس سے اب بھی چین کا ماحول نہیں پید ا ہو اہے۔

         آخر بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس بڑی جیت کا سبب کیا ہے؟صرف دو لوگوں نے قومی طور پر انتخابی تشہیر کی قیادت کی۔مگر ہر صوبے میں تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم اور جارح بنانے کی جو کوشش ہو ئی ، اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت بدل دی ۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ مغربی بنگال میں جس شدت کے ساتھ وزیرِ اعظم اور امت شاہ نے اور جس جارحیت کے ساتھ ممتابنرجی سے دو دو ہاتھ کیے،اسے محض اتفاق سمجھنا درست نہیں ہو گا بلکہ اپنی پارٹی کو نئے علاقوں میں پھیلانے کی زبردست مہم سمجھنا چاہیے تھا ۔ شمالی ہندستان کے بڑے حصے میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پچاس فی صد ووٹ لے کر اپنی مقبولیت کا پرچم لہرایا۔ ووٹ کا یہ تناسب کانگریس کو کسی دور میںشاید ہی میسر آیا ہو ۔سیاسی مبصّرین کی گھبراہٹ یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پچھلے پانچ برسوں میں اپنے انتظامی ڈھانچے کو مستحکم اور شدت پسند بنا نے میں جو کامیابی ملی ہے ،اسی سے گھر گھر کا اور گانو گانو کا ووٹر پولنگ بوتھ پر آیا اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کر گیا ۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ علاقائی مخالفین میں ممتا بنرجی اور کیپٹن امریندر سنگھ کو چھوڑ کر سب کے سب اپنی آبرو لٹانے میںہی کامیاب ہوئے۔مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے جس گہرائی سے سیندھ ماری کی ہے، وہ اسی اندا ز سے ہے جس طرح سی پی ایم کے گھروں میں ممتا بنرجی نے اپنے لیے جگہ بنائی تھی۔مطلب واضح ہے کہ صوبائی الیکشن میں اگلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے لیے کھلی شاہ راہ  تیارنہ کر لے۔

        اس انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی واقعتا طاقت ور ہو کر سامنے آئی ہے مگر ہا ر سے زیادہ جیت کا نبھانا مشکل ہو تا ہے ۔ پچھلے دو تین برسوںمیں ووٹ لینے کی غرض سے ہی گانو گانو کے کارکن جتنے جارح ہو گئے تھے،نئی سرکار کو ایسے لاکھوں لوگو ں کوسنبھالنا ہو گا جن کے من بڑھے ہو ئے ہیں۔جمہوریت میں قانو ن سے اوپر کو ئی نہیں ہو تا اور غنڈے بدمعاشوں کی زیادہ دنوں تک چلتی نہیں ہے۔ گاندھی اور گوڈسے کے ماننے والے ایک ہی کشتی میں سوار ہیں ۔ کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے سخت فیصلے لینے ہوں گے۔آر ایس ایس کی تربیت میں یہ کھوٹ ہے کہ جمہوری اداروں میں کا م کرنے کے طریقوں سے وہ لوگ ہمیں دور کر دیتے ہیں۔حکومت کی طاقت سے اس میں اور بھی خرابی آتی ہے۔اتنی بڑی کامیابی کے بعد اور پارٹی کے انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ڈسپلن کا ہے جس کی کمی سے پورا نظام تاش کے پتے کی طرح بکھر سکتا ہے اور ساری خوشی آنے والے وقت میں  غم  میںبدل سکتی ہے۔

        بھارتیہ جنتا پارٹی نئے ووٹ دینے والوں کے جذبات مشتعل کر کے دونوں انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔نوجوان اور بے روزگاروں کے بارے میںنریندر مودی حکومت کی پالیسی بہت نا کافی ہے۔ اس باب میں پانچ برس تک جملے بازیاں بہت رہیں اور جذبات کا استحصال اور اشتعال انگیزیا ں ہی ہوئیں ۔ زمینی سچائی کے نام پر بے روز گا ر اور نوجوان پورے طور پر ٹھگے گئے۔اگلے پانچ برس میں اگر اس سلسلے سے ایسی ہی کوتاہیاں ہوئیں تونوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریزہو جائے گا اور تب تیس فی صد ووٹ جیسے ہی ادھر سے ادھر ہونے لگیں گے ،سارا کھیل بکھرنا شروع ہو جائے گا۔

        بھارتیہ جنتا پارٹی سماجی اور مذہبی اعتبار سے ہمیشہ تضادات کا شکار رہی ہے۔ پچھلے دنوں اس حکومت پر ایسے الزامات عائد ہوئے کہ یہ خالص برہمن وادی حکومت بن گئی ہے اور سماجی انصاف سے اسے بیر ہے۔پورے ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک مسلمان پارلیمنٹ کا ممبر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ۔کیبینٹ اور پارلیامنٹ کے مقابلے مٹھی بھر لوگوں کے ذریعہ پوری حکومت چلانا انھیں زیادہ پسند ہے ۔ اس سے حکومت کی مقبولیت پر حرف آسکتا ہے۔ اس لیے اب سماج اور مذہب کے پہلوؤں سے  ایک ہموار اور سنجیدہ حکومت کا قیام ممکن ہو جائے تو نریندر مودی پارٹ ٹوزیادہ کارگر اور قابلِ قبول ہو ۔

        پانچ برس کی حکمرانی میں کئی واقعات ایسے ہوئے جو اگر نہ ہوتے تو نریندر مودی کی حکومت کا اعتبار ہو تا۔جیت کے بعد انھوں نے صاف صاف کہا کہ مجھ سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر بد نیتی سے میں کام نہیں کروں گا۔نریندر مودی کی بد قسمتی یہ ہے انھیںمستحکم حزبِ اختلاف نہیں ملا۔پارلیامنٹ اور سڑکوں پر انھیں گھیر کر ان کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والے کم ہیں ، اس لیے اگر انھیں ایک مثالی حکومت چلانی ہے تو اب ملک کے دانشوروں اور روشن خیال لوگوں کی باتیں بھی سننی چاہیے۔ایسے بھی پانچ برس انھیں کون ڈگا سکتا ہے۔ اس لیے تھوڑے دنوں اقتدار کے غرور اور طاقت کے باوجود صرف کان کھلے رہیں تو ان کی ہر غلطی کی اصلاح ممکن ہے اور ہر کجی کا علاج ہوسکتا ہے۔اگر ایسا ہو اتو ان کی اقتدار کا یہ دوسرا جام کون جانے، فرحت بخش بھی ہو سکتا ہے۔ جو لوگ ان کی دوسری جیت میں اپنی ہار دیکھ رہے ہیں،نریندر مودی چاہیں تو خود کو بدل کر ان کے تاثرات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔بہت کھیل تماشے انتخاب کے دوران ہوئے مگر اب پانچ برس نئے سرے سے ملک کو چلانے کی ذمہ داری ایک سنجیدہ کام ہے۔ نریندر مودی کو پورے طور پر خود کو بدل کر اس چیلینج کا استقبال کرنا چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close