خصوصیہندوستان

نیاسال، سترواں یوم جمہوریہ اور ’فلاحی مملکت‘ کی تباہی

سید منصورآغا

چندروزقبل سنہ عیسوی کا نیاسال 2019شروع ہوا۔ اسی ماہ کی 26تاریخ کو ملک 70واں یوم جمہوریہ منائے گا۔ گویا ملک میں ہمارے اپنے آئین کے نفاذ کے 69سال پورے ہوں گے۔ اس آئین نے ہمیں سیکولر، جمہوری نظام اور فلاحی مملکت کا درجہ دیاتھا۔ آج ہمارے سامنے بڑاچیلنج یہ ہے کہ اسی آئین کی حلف لے کراقتدارمیں آنے والے سیکولرنظام حکمرانی کے خلاف جارہے ہیں اورفلاحی مملکت کی صورت بگاڑ ر ہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں ’سیکولر‘کا لفظ گالی بن گیا ہے۔ اس کی جگہ ایک نئی اصطلاح ’’سب کا ساتھ، سب کاوکاس ‘‘ کا ڈھنڈورہ پیٹا جارہا ہے۔

’فلاحی سیکولر ریاست ‘ (Welfare Secular State) کا مطلب کیا ہے؟

سیکولرکا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ مذہب اورعقیدہ کی بنیاد پرنہ ریاست (عدالیہ، انتظامیہ اورپارلیمنٹ) کسی کے ساتھ بھید بھاؤ کریگی اورنہ حقیقی مذہبی معاملات میں مداخلت ہوگی۔ سیاسیات کے مفکرین کے مطابق فلاحی ریاست کی تعریف یہ ہے:’’ فلاحی ریاست اپنے تمام باشندوں کومساوی اور منصفانہ موقعوں کی بنیاد پران کی مالی اورسماجی بہبودکی حفاظت کرتی ہے۔ قومی وسائل اور دولت کی تمام باشندوں میں ان کے واجب حق کے مطابق تقسیم کی فکرکرتی ہے۔ پچھڑے طبقوں، کمزورو معذور باشندوں کی کم ازکم ضرورتوں کو پوراکرتی ہے۔ ‘‘ ماہرسماجیات ٹی ایچ مارشل نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ’’ فلاحی ریاست جمہوریت، عوامی بہبود اورسرمایہ دارانہ نظام کا مجموعہ ہے جو عوام کی تعلیم، صحت اورشہری سہولتوں کا بندوبست کرتی ہے اور ضرورتمندوں کی مدد کرتی ہے۔ ‘‘

سامراجی راج کے خاتمہ اورجمہوری نظام کے سترویں سال میں داخل ہوتے وقت ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارا نظام حکومت ’فلاحی ریاست ‘ کے اصولوں پر چل رہا ہے یا پھر:

ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں بازیگر یہ دھوکا کھلا

اسلامی تصور:

فلاحی مملکت کایہ مغربی تصورزیادہ پرانا نہیں۔ اس کاذکرجرمنی میں 1840میں ہوا اوراس کی بنیاد پر 1880 میں پہلا قانون بنا۔ اشوکا (دوصدی قبل مسیح) کی تعلیمات میں بھی اس کے عناصر ملتے ہیں۔ جدید تاریخ میں پہلی باضابطہ فلاحی ریاست مغربی تصورسے1200 سال قبل سنہ 622عیسوی میں مدینہ میں قائم ہوئی۔ اس کی فلاحیت کا تصور مغربی تصور سے کہیں زیادہ وسیع، جامع اورمتوازن ہے جس کو عملاًبرتا بھی گیا اور ان کا فیض بھی عام ہوا۔ یہ نظریہ صرف انسانوں کی فلاح و خیرخواہی تک محدود نہیں، کائنات کی ہرچیز کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں تمام حیوان، چرند وپرند،یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے، پیڑپودھے، زمین وپہاڑ اور پانی کے ذخائر، سب شامل ہیں۔ درجہ بدرجہ کائنات کی ہرچیز کی حفاظت اوران کے ساتھ بھلائی کی ہدایتیں موجود ہیں۔ انسان کو حسب ضرورت ان سے فائدہ اٹھانے کا حق توہے مگر بربادکرنے اور نقصان پہنچانے کی چھوٹ نہیں ہے۔ مثلاہرے بھرے پیڑوں اورپھل داردرختوں کوبلاضرورت کاٹنے یا کیڑے مکوڑوں کو بلاوجہ ہلاک کرنے کی چھوٹ نہیں۔ پانی کوکم کم استعمال کرنے اورگندگی کو دوررکھنے کی ہدایت ہے۔ مویشیوں سے ان کی طاقت بھرکام لینا اورضرورت بھر غذاکیلئے استعمال کرنا توجائز ہے مگران کو اذیت دینایا ضرورت سے زیادہ ذبح کر کے گوشت برباد کرنا سخت منع ہے۔ چیونٹی تک کے ساتھ رحمدلی کی ترغیب دی گئی ہے۔ گویا ہرقسم کی زیادتی اور ضائع کرنا منع ہے۔

اپنا جائزہ:

ہم اپنے ملک کا جائزہ لیتے ہیں توفکر ہوتی ہے کہ سیکولر، ویلفیر، جمہوری جیسے الفاظ کتابوں میں لکھے توملتے ہیں مملکت ہندکی سرگرمیوں میں ان کارنگ مٹتا جاتا ہے۔ فلاحی ریاست کی بڑی ذمہ داری تمام باشندگان کیلئے روزی کمانے کے ذرائع کی فراہمی اوران کی حفاظت ہے۔ ہمارے ملک میں اگرچہ روزگار کی طلب میں ہرسال کوئی سواسوکروڑ کا اضافہ ہورہا ہے مگر وعدوں کے باوجودسرکار روزگار فراہم کرانے میں بری طرح ناکام ہے۔ گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں پہلی مرتبہ ووٹ کرنے والے نوجوانوں کی تعداد 15کروڑ تھی۔ ان کاووٹ حاصل کرنے کیلئے مسٹرمودی نے انتخابی تقریروں میں دس سال میں 25 کروڑ، یعنی ہرسال ڈھائی کروڑ نئے روزگار پیدا کرنے کا بھروسہ دلایا تھا، مگرہوااس کا الٹا۔ سی ایم آئی ای (CMIE) کی رپورٹ (4جنوری) کے مطابق 2017 کے مقابلے سنہ 2018میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں ایک کروڑدس لاکھ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا غلط اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے ہورہا ہے۔ سی ایم آئی ای کے مہیش ویاس کے تجزیہ کے مطابق نوٹ بندی سے کم از کم تین کروڑ پچاس لاکھ روزگار ختم ہوگئے۔ سرکارکی دلچسپی ٹیکس وصولی بڑھانے میں رہی، روزگار کے راستے کھلے رکھنے کی فکرنہیں کی گئی۔ آپ کو یاد ہوگاکہ 1991 میں جب مرکزی سرکار نے نئی اقتصادی پالیسی نافذ کی توروزگار میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ مگراب حال یہ ہے کہ ریلوے میں ایک لاکھ جگہوں کیلئے کوئی دوکروڑ درخواستیں آئیں۔ گویا فی اسامی دوسوامیدوار۔ گنگ مین اورچپراسی جیسی پوسٹوں کیلئے، جس میں آٹھویں پاس کافی ہے، پی جی، پی ایچ ڈی، ایم بی اے اورانجنیربھی امیدواروں میں شامل ہیں۔

کسانوں کی تباہی:

اس دوران کسانوں کا حال خراب ہوا ہے۔ لاگت بہت زیادہ، آمدنی کم اورگنا کاشتکاروں کی واجبات کا بروقت ادا نہ ہونا جگ ظاہر ہے۔ کسانوں کو اضافی آمدنی کا ایک ذریعہ مویشی پالن اوردودھ کی فروخت بھی ہے۔ کسان حسب گنجائش مویشی پالتا رہاہے۔ چارہ کھیت سے یا جنگل سے مل گیا۔ محنت خود کرلی اوردودھ فروخت کردیا۔ مویشی پرانا ہوگیا، دودھ کم ہوگیا تو فروخت کردیا۔ کچھ پیسہ ڈال کرنیا خریدلیا۔ گائے یا بھینس کی طبعی عمر چودہ، پندرہ سال ہے۔ لیکن دودھ آٹھ، نوسال کی عمرتک ہی دیتی ہے۔ اس کے بعد دودھ کی مقداراتنی کم ہوجاتی ہے کہ چارے کی قیمت بھی وصول نہیں ہوتی۔ ایسے مویشی سے فائدہ حاصل کرنے کی صورت یہ رہ جاتی ہے کہ اس کا گوشت، کھال اور ہڈیوں وغیرہ کو کام میں لایا جائے۔ اب ان کاکوئی حصہ ضائع نہیں جاتا۔ خون اور کھربھی کام آتے ہیں۔ پیٹ کی فضلہ سے بہترین کھاد بنتی ہے۔ مردار جانوروں کے گوشت سے پرندوں اورگوشت خورجانوروں کا پیٹ بھرتا ہے۔ یہ قدرتی نظام ہے جو صدیوں سے چلاآرہا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کی کوتاہ اندیشی نے اس نظام کو تباہ کردیا۔ مردار مویشیوں کا زمین میں دبادینے حکم ہے۔ مویشیوں کی خریدوفروخت، لانے لیجانے اورذبیحہ کی راہیں روک دی گئی ہیں۔ جس سے بیشما رلوگ روزگارسے محروم ہوگئے۔ اس کا سیدھا نقصان کسان کو پہنچ رہا ہے۔ ان کو مجبورکیا جارہا ہے کہ ناکارہ مویشی کو گھرباندھے رکھو۔ دودھ نہ دینے والے مویشی کی فروخت سے جو اچھی خاصی رقم ملتی تھی اس سے ان کو محروم کیا جارہا ہے۔ گھرمیں رکھنا اور سوروپیہ روز کا چارہ کھلانا اس کیلئے ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ ان کوآوارہ چھوڑدیا جاتا ہے۔ شمالی ہند کی کئی ریاستوں خصوصا یوپی کے کسان آوارہ مویشیوں، جنگلی سوروں، بندروں اور نیل گایوں کے آتنک سے پریشان ہیں۔ ان کے جھنڈ کے جھنڈ کھیت میں گھستے ہیں اور فصل کوتباہ کردیتے ہیں۔ اب عوام کے ٹیکس کے پیسے سے گؤ سنرکشن کیندربنانے کا منصوبہ ہے۔ یوپی میں ایک نیا ٹیکس بھی اس کیلئے لگایا جارہا ہے۔ مگریہ تدبیر کارگرہونے والی نہیں۔ ہرسال کوئی سواکروڑگائیں غیرنفع بخش ہوجاتی ہیں۔ ایک زمانے میں گائے کے نربچے (بچھڑے) جو بڑے ہوکر بیل بنتے تھے،کھیتی میں کام آتے تھے، لیکن ٹریکٹر، ٹرالی، واٹرپمپ وغیرہ کے دورمیں وہ بھی فاضل ہوگئے۔ کسان ان کو اس وقت تک گھر رکھتاہے جب تک گائے کا دودھ نکالنے کیلئے ضرورت ہو۔ اس کے بعد وہ بھی آوارہ چھوڑدئے جاتے ہیں۔

تباہی کی راہ:

اس مختصرتجزیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہماری رفاہی مملکت غلط پالیسیوں کی وجہ سے ’تباہی مملکت‘ میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ حکمراں پارٹی اوراس کی بغلی تنظیموں نے عوا م کو دھرم کے نام پر جو نشہ پلایاتھا، وہ کسانوں کی تکلیف اورتباہی کو نہیں روک سکتا۔ ان کا غصہ صاف نظرآرہا ہے۔

ان پالیسیوں میں ایک پہلو آئین کی سیکولرقدروں کی پامالی کا بھی ہے۔ مٹھی بھرلوگوں کی عقیدت مندی کو پورے ملک پر مسلط کیاجارہاہے۔ کسی کوکیا اعتراض ہوسکتا ہے اگرکوئی فرد یا انجمن اپنے وسائل سے آوارہ جانوروں کوگھرفراہم کرے۔ لیکن ٹیکس لگاکران کا خرچ عام شہریوں پرڈالنا سراسر دھاندلی ہے۔ یہ دھاندلی ختم ہونی چاہئے اوریہ تبھی ہوگا جب آئندہ الیکشن میں آپ اورہم جذباتی نعرے لگانے سے باز رہیں، ایسی اپیلوں سے گریزکریں جن سے غیرفائدہ اٹھائیں۔ ورنہ ملک تباہ ہوگا اورزندگی اجیرن ہوجائیگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close