خصوصیہندوستان

نیرَو مودی نے کارواں کیسے لوٹا؟

رويش کمار

نیرَو مودی کا گھوٹالہ 17000 کروڑ کے پار  پہنچ سکتا ہے. رائٹرز نے اس بارے میں رپورٹ لکھی ہے، جسے اسکرول نے چھاپہ ہے. کہاں تو حکومت کو اس گھوٹالے سے متعلق سارے حقائق سامنے رکھنے چاہئے مگر اس کی طرف سے وزراء کا بیڑا اس لئے بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ لیپا پوتی کر سکیں یا پھر ادھر ادھر کی بات کر کے ‘کارواں کے لٹیرے’ سے دھیان ہٹا سکیں. وزیر قانون اور انسانی وسائل کے وزیر کے بعد اب وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے پریس کانفرنس کی. الزام لگایا کہ ممبئی میں جس پراپرٹی میں نیرَو مودی کی کمپنی سے شوروم کرایے پر چل رہا تھا، اس کی مالک کمپنی ادیت ہولڈنگ میں کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی کی بیوی اور بیٹے حصہ دار ہیں. کیا گھوٹالہ مکان مالکان نے کیا ہے؟ ادیت ہولڈنگ نے کرایے پر  پروپرٹي دے کر گناہ کر لیا اور کرایہ دار نے400 11، کروڑ کا چونا لگا کر کوئی گناہ نہیں کیا؟

ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ ادیت ہولڈنگ کی پراپرٹی کملا ملز میں کئی سال سے نیرَو مودی کا شوروم چل رہا تھا. جسے گزشتہ اگست میں خالی کرنے کا نوٹس بھیجا گیا تھا اور دسبر 2017 میں خالی بھی کر دیا تھا. سنگھوی نے کہا کہ ان کے خاندان کا کوئی رکن نیرَو مودی کی کسی کمپنی میں حصہ دار نہیں ہے. ادیت ہولڈنگ ایک الگ کمپنی ہے جس میں ان کی بیوی اور بیٹے ڈائریکٹر ہیں اور یہ کمپنی نیرَو مودی کی نہیں ہے.

نرملا سیتا رمن جب پریس کانفرنس کرنے آگئی تھیں تو انہیں بتانا چاہئے کہ اس معاملے کے پانچ لوگوں نے وزیر اعظم کے دفتر کو شکایت بھیجی. اس خط میں گيتانجلي جیمز لمیٹیڈ اور اس کے مالک مےهل چوکسی پر بہت مشکوک الزام لگائے گئے ہیں. وہاں سے دو دن کے اندر اندر یہ شکایت کمپنی آف رجسٹرار کو بھیج دی گئی. یہ محکمہ کارپوریٹ کیس کی وزارت کے تحت آتا ہے جس کی وزیر شاید نرملا سیتا رمن ہی تھیں. کیا نرملا جی بتا سکتی ہیں کہ ان کے محکمہ نے ان پانچوں لوگوں سے بات کئے بغیر کس طرح اس شکایت کو منسوخ کر دیا. ایک لائن کا ای میل بھیجا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں درج آپ کی شکایت کو منسوخ کر دیا گیا ہے. کیا یہ صحیح نہیں ہے؟

پانچوں لوگوں میں سے ایک سبھاش شریواستو نے پرائم ٹائم میں کہا تھا کہ گيتانجلي جیمز لمیٹیڈ کمپنی نے ان پر کئی طرح کے جھوٹے معاملے درج کر دیئے تھے۔  جس کی جانچ دہلی کی اقتصادی کرائم برانچ نے کی اور لکھ کر دیا کہ ان پانچوں پر جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ہیں. اس حکم میں یہ بھی لکھا تھا کہ گيتانجلي کمپنی کے اکاؤنٹ میں گڑبڑیاں ہیں. یہ گزشتہ سال کی بات ہے. کیا نرملا جی یا وزیر خزانہ جی بتا سکتے ہیں کہ اس نوٹ پر کیا ایکشن ہوا؟

31 جنوری سے آج تک تین ایف آئی آر ہوئی ہے. نیرَو مودی اور ان کے خاندان کو ابھی تک 293 لیٹر آف انڈرٹیكنگ جاری ہوئے ہیں. دوسری ایف آئی آر میں 143 انڈرٹیكنگ کی فہرست ہے جو گيتانجلي گروپ کو جاری ہوئی تھی.886 4، کروڑ کی. اس گروپ کے سربراہ مےهل چوکسی اور ان کی کمپنیاں ہیں. جن کا نام 5 نومبر 2015 کو ممبئی میں سونے کا سکا لانچ کرتے ہوئے وزیر اعظم بڑے پیار سے لے رہے تھے. ہمارے مےهل بھائی یہاں بیٹھے ہیں. ابھی تک وزیر اعظم کے یہ ہمارے مےهل بھائی گرفتار نہیں ہوئے ہیں. کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان لوگوں سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے. کیا وہ بھی بھارت سے بھاگ گیا ہے؟ نیرَو مودی کے بیرونی ٹھکانوں پر چھاپے کی تیاری ہی ہو رہی ہے. کیا اب تک سب جوں کی توں ہی ہوگا یا چھاپے کے نام پر ایجنسیوں کے حکام کے وزیشی سفر کا انتظام ہو رہا ہے؟

خبروں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اصلی ملزم بینک کے یہ کلرک كراني ہیں. جبکہ بینک منیجر اپنی سطح سے 10 کروڑ کا لون بھی نہیں منظور نہیں کر سکتا. یہ نہیں بتایا جا رہا ہے کہ لیٹر آف انڈرٹیكنگ کی اطلاع سب سے اوپر کے انتظام میں کس کس کو تھی. جب لیٹر آف انڈرٹیكنگ جاری ہوتی ہے تو اس کی معلومات ایک سوئفٹ نامی نظام میں دی جاتی ہے. جب آپ اس خط سے پیسہ کسی دوسرے بینک سے نکالتے ہیں تو وہ بینک اسی سوئفٹ سے تصدیق کرتی ہے کہ لیٹر اصلی ہے یا نہیں. اس سوئفٹ میں معلومات دینے کے لئے تین بڑے افسر اپن اپنے پاسورڈ سے جمع کرتے ہیں. یہ پاس ورڈ کلرک، كراني یا ڈپٹی بینک منیجر کے پاس نہیں ہوتا ہے. ہر شام کو یا اگلی صبح کو جاری والوں بینک کو سوئفٹ سے فہرست آجاتی ہے کہ آپ کے یہاں سے کتنے لیٹر آف انڈرٹیكنگ جاری ہوئے ہیں. یہ بات بینک والوں نے ہی مجھے بتائی ہے تو کیا پنجاب نیشنل بینک میں بڑے سطح کے حکام کو بچایا جا رہا ہے؟

بھارت کے بینک اندر سے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں. بینک منیجروں سے انشورنس پالیسی بكوائی جارہی ہے. اس سے بینک کو خسارہ ہو رہا ہے اور انشورنس کمپنیوں کو فائدہ. اس معاملے کو بھی قریب سے دیکھا جانا چاہئے، کہیں انشورنس کمپنیوں کے راستے بینکوں کا پسینہ تو نہیں نکل رہا ہے. کہیں نظر نہیں آتا ہے تو کسی بھی ریلی میں چلے جائیں، وہاں ساز سجاوٹ اور تام جھام دیکھئے. پھر انتخابات میں خرچ ہونے والے پیسے کا اندازہ لگايے. آپ کو ہر جیت کے پیچھے اپنے بھروسے کی ہار ملے گی. گزشتہ انتخابات اور آنے والے تمام انتخابات کی جیت مبارک.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close