خصوصیسیاست

وزیر مواصلات نتن گڈکری کے من کی بات

نتن گڈکری جی  بی جے پی کے صدر رہے ہیں اور انہیں سنگھ کا آشیرواد حاصل ہے اس لیے وہ مودی جی اور شاہ جی کی جوڑی سے نہیں ڈرتے۔

ڈاکٹر سلیم خان

نتن گڈکری مجھے دیگر بی جے پی رہنماوں کے مقابلے  بہتر لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بدعنوان ہیں۔   بدعنوان تو سبھی سیاستداں ہیں الا ماشاء اللہ اور رافیل نے تو مودی جی کو بھی بے نقاب  کردیا ہے۔ نتن اس لیے بھی میرے من کو نہیں بھاتے کہ وہ سنگھ کےسنسکاری ہیں  کیونکہ موجودہ حکومت انہیں سے اٹی  پڑی ہے۔ دراصل  نتن کے اچھا لگنے کا سبب  ان  کی خوش مزاجی ہے۔ انہیں بات بے بات  غصہ نہیں  آتا۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک شرارت آمیز مسکراہٹ پھیلی رہتی ہے اور وہ اپنی چنچلتا (شوخیٔ طبع ) میں کئی بار من کی سچی بات کہہ جاتے ہیں۔   ہر ماہ  پردھان سیوک کی زبان سے من کی  اوٹ پٹانگ باتیں سن سن کر لوگ اس قدر اوب گئے ہیں کہ انہیں نتن گڈکری کا بےلاگ و بیباک تبصرہ  اچھا لگتا ہے۔نتن گڈکری نے  چند ماہ قبل ریزرویشن مانگنے والوں سے برملا پوچھ لیا  تھا کہ ریزرویشن تو ہم دے دیں گے لیکن  ملازمتیں ہیں کہاں؟ ایسے میں  ریزرویشن لے کر کیا کروگے؟ اس کے بعد مودی  سرکار کی چولیں ہل گئیں۔ وزیراعظم کو ایک انٹرویو کا ناٹک کرکے بتانا پڑا کہ کتنی لاکھ نوکریاں  لوگوں کو دی گئی ہیں اور مزید کتنی نکلنے والی ہیں۔ یعنی  پھر سےنئی ملازمتوں  کے سبز باغ دکھا ئے گئے۔

  وعدوں کی بات نکلی تو نتن گڈکری کی ایک نئی ویڈیو ذرائع ابلاغ میں گردش کررہی ہے۔ اس میں وہ کلر نامی مراٹھی چینل پر اصل پاہونے( مہمان ) میں  نانا پاٹیکر کے ساتھ  محوِ گفتگو نظر آتے ہیں۔ اس انٹرویو میں  وہ فرماتے ہیں ’  ہم سب کو  اتنا زبردست   یقین تھا، ایسی خود اعتمادی تھی ہم   کبھی زندگی میں اقتدار پر فائز نہیں ہوں گے۔ اس پر پورا اطمینان تھا    پھر لوگوں نے کہا  بولو نا، (لمبے چوڑے وعدے کرنا شروع کردو ) کیا بگڑتاہے؟  تم پر کون سی ذمہ داری آنے والی ہے۔ اب اقتدار آگیا۔ اقتدار آنے پر ۰۰۰۰۰ ایک زوردار قہقہہ۔ یہ حقیقت ہے۔ اب آپ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کس تاریخ کو گڈکری نے کیا کہا تھا اور کب فردنویس کیا بولے تھے (یہ یاد کرتے ہیں ) پوچھتے ہیں  تم نے کہا تھا نا اب آگے کیا ؟ ہم ہنستے ہیں اور آگے  نکل جاتے ہیں۔ یہ ہے نتن گڈکری کے من کی بات اور  حقیقت من و عن یہی ہے۔

۲۸ ستمبر کے اس تازہ انٹرویو میں نتن گڈکری جی نے بلا تکلف یہ اعتراف بھی کیا کہ ’’ ٹکٹ تقسیم کرتے وقت کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس فرد کا کردار کیسا ہے ؟ وہ بدعنوان ہے یا نہیں؟  ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس ذات کا ہے اور وہ کامیاب ہوسکتا یا نہیں یعنی اس کا elective merit  کیا ہے۔ اسی بنیاد  پر ہم ٹکٹ دیتے ہیں۔ وہ منتخب ہونے کے بعد کیا کام کرے گا؟  اس کے اندر کام کی صلاحیت ہے یا نہیں  ؟ اس پر کبھی غور نہیں کیا جاتا۔ ایک مرتبہ پرمودمہاجن نے کہا ان  لوگوں (منتخب امیدواروں) کا کیا کیا جائے؟ کتنی مرتبہ کہا جائے تب بھی نہیں سمجھتے۔  جو من میں آئے کرتے ہیں۔ میں (گڈکری جی ) نے جواب دیا اس پر آپ ناراض کیوں ہورہے ہیں۔ ہم نے ببول کے پیڑ لگائے اب اس پر آم نہیں لگے تو ر چیخ پکار کرنے سے کیا حاصل؟ گزشتہ قومی انتخاب سے قبل مودی جی کے سوا  کسی کو کامیابی کا  یقین نہیں تھا  پھر بھی ہر کوئی بے تکان وعدے کررہا تھا۔  اقتدار میں آنے کے بعد جب عوام نے وعدے یاد دلائے مثلاً ۱۵ لاکھ تو امیت شاہ نے اس  کوانتخابی جملہ کہہ کر مسترد کردیا۔

نتن گڈکری جی  بی جے پی کے صدر رہے ہیں اور انہیں سنگھ کا آشیرواد حاصل ہے اس لیے وہ مودی جی اور شاہ جی کی جوڑی سے نہیں ڈرتے۔  سچ تو یہ ہے کہ اگر سنگھ کے بس میں ہوتو وہ آج مودی کی جگہ گڈکری کو وزیراعظم بنادے  لیکن وہ جو کیفی نے کہا ہے ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ‘۔ کسی کو ووٹ  ملتے ہیں تو کامیابی نہیں ملتی، کسی کو کامیابی ملتی ہے تو اقتدار نہیں ملتا، کسی اقتدار ملتا ہے تو وزارت نہیں ملتی، وزارت بھی مل جائے تو اپنی پسند کا قلمدان نہیں ملتا  اور اگر وہ بھی مل جائے  تو سکون اطمینان  ہر گز نہیں ملتا۔ اگر یقین نہ آتا ہو تو مودی جی سے پوچھ لیجیے۔ جیسے جیسے انتخابات کی گھڑی قریب سے قریب تر آتی جارہی ان  کاسکونِ قلب  دور سے دور ہوتا جارہا ہے۔ خود مودی جی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا مفت میں کوئی چیز ہاتھ آجائے تو اسے چھوڑنا اچھا نہیں لگتا۔ انہوں نے مثال دی تھی کہ ہوائی جہاز میں اگر بازو کی نشست خالی ہو تو انسان اس پر اپنی عینک، کتاب  اور دیگر سازو سامان رکھ دیتا ہے۔ آخری وقت میں اگر وہ مسافر آجائے تو وہاں سے سامان اٹھا نا گراں گزرتاہے  حالانکہ وہ سیٹ اسی مسافر کی تھی جو بعد میں آیا ہے۔ مودی جی کیفیت اس پہلے والے مسافر کی سی ہوگئی ہے وہ اپنے بعد آنے والے مسافر کو دیکھ کر حواس باختہ ہیں کیونکہ  راحت اندوری کا یہ شعر  انہیں یاد نہیں ہے؎

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے  

کرایہ دار ہیں مالک مکان تھوڑی ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close