خصوصیہندوستان

وہ الزا م ہم کو دیتے تھے، قصور ان کا نکل آیا

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

 ہندوستان گوسالہ پرستی کا سب سے بڑا  مرکز ہے۔ د نیا کے نقشہ پر جانور اور دیگر مخلوقات کی پرستش جتنی ہندوستان میں ہوتی ہے اور کہیں نہیں ہوتی۔ مسلمان گائے کی نہیں گائے کے پیدا کرنے والے کی پرستش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ’’ رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہماری گائے بنائی، مسلمان گائے کو مقدس تو نہیں سمجھتا ہے لیکن  برادران وطن  کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے گو کشی بھی نہیں کرتا ہے لیکن الزام اسی پر ہے کہ وہ گائے ذبح کرتا ہے کیونکہ اس کے عقیدہ میں وہ معبود نہیں ہے اور اس کے نزدیک اس کاگوشت کھانا جائز ہے۔ لیکن برادران وطن کا ایک طبقہ مسلم دشمنی میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ بے قصور اشخاص پر گو گشی کی تہت لگا کر ان پر حملے کرتا ہے  ہجومی تشدد کا مرتکب ہوتا ہے اور ان کی جان لیتا ہے ۔ اور اب تک  پچاس سے زیادہ اقعات  ہجومی تشدد کے پیش آچکے ہیں ایسے لوگوں کے نزدیک گائے مقدس ہے لیکن انسانی جان مقدس نہیں ہے۔ دنیا کی قوموں کے نزدیک ایسے گروہ  کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں قائم کی جاتی ہے۔ مختلف مذہب کے ماننے والے انہیں دہشت گرد اور مجرم سمجھتے ہیں، ایسے لوگ خود اپنے مذہب کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے آب رود گنگا کو وہ دن یاد ہے جب  اس کے کنارے ان کا کارواں اترا تھا  اور یہاں کی قوموں نے ان کا استقبال کیا تھا  اور ان کے مذہب توحیدمیں بھی اخل ہوئے تھے۔ باہر سے آنے والے اچھا اور سچا عقیدہ رکھتے تھے اور اخلاق فاضلہ سے مزین تھے۔ اس وقت مسلمانوں میں بت پرستی کیا قبر پرستی بھی نہیں تھی۔

مسلمانوں کے ایک طبقہ نے اپنی حکومت کے زمانہ میں بھی گو کشی سے پرہیز کیا بابر نے بھی ہمایوں کو یہی نصیحت اور وصیت کی تھی، لیکن چونکہ گائے کا گوشت حلال ہے اسلئے ایک طبقہ گائے ذبح کرتا رہا  اور ہندووں کا ایک سکشن بھی گائے کا گوشت کھاتا رہا۔ ہندووں میں گائے کے ذبیحہ کے خلاف رہ رہ کر تحریکیں اٹھتی رہیں اور خود ہندو اس کی مخالفت کرتے  رہے اور گائے کا کوشت کھاتیُ رہے  بنگال میں آج بھی ہندوکائے کا گوشت کھاتے ہیں  جنوبی ہند میں ہندوگائے کا گوشت کھاتے ہیں بودھ مذہب کیٍ لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں  عیسائی اور پارسی بھی بے دریغ کھاتے ہیں، خوش خوراک دلت بھی کھاتے ہیں، اور دلت طلبہ حیدراباد کی عثمانیہ یونیورسیٹی میں اور افلو یونیورسیٹی میں دو سال پہلے تک بیف فسٹیول مناتے رہے ہیں جس میں ڈنکے کی چوٹ پر گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے جس سے برہمن طلبہ کو چڑھتے ہیں   جنوبی ہند کے لوگ کور،و بھیل، بھنگی، چمار جنگلی قبالئل اور ناگا لوگ گائے کھاتے رہے ہیں، گائے کا گوشت خودہندو دنیا کے مارکٹ میں فروخت کرتے ہیں  مسلمان کے نزدیک گوشت حلال ضرور ہے لیکن مسلمان  اپنے برادران وطن کے جذبات کے احترام میں گوشت نہیں کھاتے ہیں گائے ذبح نہیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کے معتبر قائدین اور رہنماہمیشہ یہی نصیحت مسلمانوں کو کرتے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ایک فی صدی بھی گائے کا گوشت نہیں کھاتے ہیں  پھر بھی ان ہی کو ہجومی تشددکا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گاو کشی کے خلاف آخر میں ونوبا بھاوے نے تحریک چلائی تھی، یہ بات رکارڈ میں ہے کہ انہوں نے صاف کہا تھا کہ میں مسلمانوں کو گوکشی کا ذمہ دار نہیں ٹھراتا، میری لڑائی حکومت سے ہے ، حکومت  نے اس و قت تک پابندی نہیں لگائی تھی کیونکہ اس سے غذائی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے بنگال کے وزیر اعلی جیوتی باسو  اور جنوبی ہندوستان کے مشہور لیڈراور چیف منسٹر کرو￿ناندھی ونوباجی سے ملنے آئے یہ وہ مشہور لیڈ تھے جن کی سیاسی قبا سیکولرز م کے تانے بانے سے بنی تھی۔ ان  دونوں نے صاف کہہ دیا کہ ’’یہ عوام کے خوراک کا مسئلہ ہے اس لئے ہم گاوکشی پر پابندی نہیں لگا سکتے ہیں ‘‘ گوا کے  وزیر اعلی منوہر پاریکر نے حال میں بیان دیا ہے کہ گوا میں بیف کی کمی نہیں ہوگی  انہوں نے گوا اسمبلی میں بیان دیا کہ ہم نے بیلگام  سے بیف درآمد کرنے کا آپشن کھلا رکھا ہے۔ خود ونوبا بھاوے جی کی زندگی میں مہاراشٹرا میں گو کشی پر پابندی تھی لیکن اسی ریاست میں بیبکک ولکاک اینڈ کمپنی اور بروک بانڈ انڈیا لمیٹد کی طرف سے مشینی سلاٹر ہاوس بنے ہوئے تھے جس میں برائے نام بھینس کا ذبیحہ ہوتا تھا لیکن سیکڑوں گائیں ذبح کی جاتی تھی جو معمولی قیمت پر‘‘بثمن بخس دراہم معدودۃ‘‘  سڑکوں پر سے اور افتاد ہ زمینوں پر سے حاصل کی جاسکتی تھیں جب کہ بھینس کی قیمت اس وقت ۵۔ ۶ ہزار روپے سے زیادہ کی تھی۔یہاں سے گائے کا گوشت دنیا میں غیر ملکیوں کی لذت کام ودہن کے لئے اور اہل ملک کو سرمایہ دار بنانے کے لئے اکسپورٹ کیا جاتا تھا  اور فائسیو اسٹار ہوٹلوں میں سپلائی کیا جاتا تھا اور کمپنیوں کے مالک گائے کے چمڑے کی فیکٹریاں قائم کرتے تھے  اور اس کے  کے گوشت سے کروڑ پتی اور ارب پتی  بن جاتے تھے۔

گائے ذبح کرنے کے ’’ ثواب ‘‘ کا کام مسلمان نہیں انجام دیتے تھے  ہندو انجام دیتے  تھے  جن پر یہ مصرعہ صادق آتا تھا  ’’ وہی قتل بھی کرے ہے وہی لے ثواب  الٹا‘‘۔ اب گاوکشی پر پابندی لگ چکی ہے کیونکہ حکومت بی جے پی کی ہے  اور بی جے پی  ہندو مذہب  وثقافت کے احیاء کی علمبردار ہے  بی جے پی لیڈر انجہانی سابق وزیر اعظم  اٹل بہاری باجپائی  کے زمانہ میں ایک اخبار کے مطابق ۱۳ لاکھ  پانچ ہزار ٹن گائے کا گوشت باہر کے ملکوں میں بھیجا گیا تھا۔ لیکن بی جے پی کی حکومت میں ماحول یہ بنایا گیا ہے کہ مسلمان قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور گائے کا ذبیحہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں پر یہ الزام ایک فی صد بھی درست نہیں ہے۔ مسلمانوں نے کبھی گو کشی  پر پابندی عائد کرنے میں روڑا نہیں اٹکایا۔ مسلمانوں کے قائدین اور علماء جنہیں حالات کا پورا اندازہ ہے  ہمیشہ مسلمانوں کو گائے کی قربانی سے منع کرتے رہے ہیں۔ جب  ونوباجی  نے گائے کشی کے خلاف مرن برت کا اعلان کیا تھاتو پورے مہاراشٹرا میں بودھ مذہب کے عوام نے اور ہریجنوں نے مظاہرے کئے تھے اور اعلان کیا تھا کہ ان کے مذہب میں گائے کھانا منع نہیں ہے اور وہ برابر گائے کا گوشت استعمال کریں گے اور پھر مدراس میں ڈی ام کے لیڈروں  نے اور ہندووں کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا کہ گائے کا گوشت کھانا ہمارا حق ہے اور ہم اپنے حق  سے کسی حال میں دست بردار نہیں ہوں گے۔ یہ بات تاریخ  کے رکارڈ میں ہے کہ مسلمانوں نے کبھی گائے کے گوشت کے کھانے پر اصرار نہیں کیا، ہندووں کے سیاسی لیڈروں نے  اور معاشی مزدوروں کی تنظیموں نے بودھوں نے اور ہریجنوں اور دلتوں نے گاو کشی پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ مسلم قوم ایک دعوتی قوم ہے  وہ کسی ایسے ایشو پر جوش وخروش نہیں دکھاسکتی ہے جس سے نفرت اور بدگمانی کی دیوار کھڑی ہو اور دعوت کے راستے مسدود ہوجائیں ۔

     اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہندوستان کے ہندو دلال بہت سستی قیمت میں ہندستانی گائے پاکستانیوں اور عربوں کو فروخت کرتے ہیں  کیونکہ پاکستا ن اورعرب کے مقامی مارکٹ میں گائے کی قیمت بہت زیادہ ہے  ہندوستان میں گائے کھائی نہیں جاتی پوجی جاتی ہے  جب وہ دودھ دینے کے قابل نہیں رہتی تو بوجھ بن جاتی ہے گائے کا کاروبار کرنے والے بہت سستی قیمت پر خریدتے ہیں اوراس ’’مال مفت‘‘ کوملک سے باہرگراں قیمت پر فروخت کرتے ہیں  مسلم ملکوں مین گا ئے کھائی جاتی ہے لیکن چونکہ ان کے اپنے  ملکوں میں گائے کا نرخ بہت زیادہ ہے اس لئے وہ ہندوستان سے ہندووں  سے خریدتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ گائے دوسرے ملکوں میں بر آمد کرنے والے ہندو ہیں، گائے کے گوشت کی تجارت کرنے والے ہندوہیں،  بڑے بڑے سلاٹر ہاوس بنانے والے ہندو ہیں۔ گو رکشکوں کو چاہئے  کے ان سلاٹر ہاوسزکا گھراو کریں ، ان کا محاصرہ کریں، احتجاج کریں، نعرے لگائیں ۔ یہ بات  لوگوں کے لئے انکشاف کا درجہ رکھتی ہوگی کہ نیپال کے مالدار گورکھے نیپال کے پایہ تخت کاٹھ منڈو میں کالی ماتا کے مندر میں اپنی منت پوری ہونے پرگائے کی بھی قربانی کرتے ہیں  یہ گورکھے ہندو ہیں اور نیپال ہندو اسٹیٹ ہے۔ اور پھر قربانی کی گائے  کے مقدس خون کا چھڑکاو دیوی کے چرنوں میں مندر کے پجاری کرتے ہیں  اور خود پجاری گائے کو لے کر آتا ہے  اور تیز چھرے سے اس کا خون بہاتا ہے  چمڑا اتار کر گوشت تمام بھگت لوگ اپنے یہاں پرساد کے طور پر لے جاتے ہیں۔ مولانا عبد الکریم پاریکھ نے پوری رپورٹ ایک گجراتی ماہنامہ میں پڑھی تھی اور اپنے کتابچہ میں تحریر کی تھی۔

     ہمارے ملک کی سرکار غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کے لئے  بڑے بڑے سلاٹر ہاوس کی سرپرستی کرتی ہے  پنجاب  اترپردیش ہریانہ میں گاو کشی ممنوع ہے لیکن ان علاقوں سے بہترین گائیں کلکتہ لائی جاتی ہیں پھر ان گایوں کو قصاب گھر بھیج دیا جاتا ہے جس ملک میں گائے کے نام پر مسلمانوں پر حملے  ہوتے ہیں اس ملک سے لاکھوں ٹن گائے کا گوشت ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے صرف اتر پردیش میں گوشت کی سپلائی سے پندرہ ہزار کروڑ  روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ تلنگانہ میں الکبیر سلاٹر ہاوس ہے یہ غیر مسلم شخص کا ہے جس کا نام ستیش سبھر وال ہے  دہلی میں  النور اکسپورٹرس ہے اس کا مالک  اجے سود ہے، مہاراشٹر میں بیف اکسپورٹ کرنے والی کمپنی  فوڈ پروسسنگ اینڈ اسٹوریج ہے اس کے شیر بھی ہندووں کے پاس ہیں اسی طرح پنجاب میں تامل ناڈو میں بیف اکسپور ٹ کرنے والی کمپنیاں ہیں جو  ہندووں کے ہاتھ میں ہیں، یو پی میں شہر اناو میں دو سلاٹر ہاوس ہیں دونوں کے مالک ہندو ہیں، اوپی ارورا اور ڈکٹر کمل ورما ۔ ہندوگائے کے گوشت کی برآمدات کے لئے سلاٹر ہاونس بناتے ہیں مسلم ملکوں میں گوشت سپلائی کرتے ہیں  یہ گائے کی کیسی تقدیس ہے کہ اسے معبود بھی سمجھتے ہیں اور اس کے چمڑے کی جوتی  پیروں میں ڈالتے ہیں۔ سلاٹر ہاوس کے ہندو مالک گائے ذبح کرتے ہیں لیکن بی جے پی کے ہندوہم مسلمانوں کو مورد الزام ٹھراتے ہیں اور ہراساں کرتے ہیں اورقتل کرتے ہیں۔  بقول شاعر ’’ ہم کہ خود مقتول ہیں لیکن صف قاتل میں ہیں ‘‘ اور ’’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ‘‘مسلمان اپنی ضعیفی کو ختم کردیں  اور حملہ آوروں کا  مردانہ وار مقابلہ کریں تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close