ٹو جی اور شیریں فرہاد

ڈاکٹر سلیم خان

مثل مشہور ہے ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا ‘  لیکن ٹوجی کا پہاڑ کھودنے پر ایک ایسا شیر نکل آیا جو پہاڑ کھودنے والوں کو ایک لقمہ میں  چٹ کرگیا۔ عدالتوں سے  ملزمین کا بری ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور سیاسی اعتبار سے طاقتور لوگ تو وطن عزیز میں گرفتار تک نہیں ہوتے لیکن ٹوجی معاملے میں ایک وزیر کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ اس لیے کہ وہ  بیچارہ نام کا راجہ تھا  اور  اس کا سرپرست وزیراعظم ایک  دریش صفت فقیر تھا۔ ویسے کا تعلق اگر ڈی ایم کے پارٹی کے بجائے کانگریس سے ہوتا تو شاید  جیل جانے کی نوبت نہیں آتی لیکن اگر وہ بی جے پی کا وزیر ہوتا تو الٹا ہتک عزت کا دعویٰ کرکے الزام لگانے والوں پر چڑھ دوڑتا تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں اور ایسی جرأت کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں ۔ فی الحال امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ نے دی وائر کے خلاف اور ارون جیٹلی نے اروند کیجریوال کے خلاف   دعویٰ کررکھا ہے حالانکہ جس کی کو عزت ہی نہ ہو اس کی ہتک عزت کا کیا سوال؟

ڈاکٹر منموہن سنگھ  کے دورِ اقتدار میں عالمی سطح پر زبردست معاشی بحران  کی گرفت میں آگیا جس سے امریکہ اور یوروپ تک کی چولیں ہل گئیں ۔ یوروپ کے کئی ممالک   دیوالیہ ہوگئے۔ ایسے میں  ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اپنی پیداوار کی شرح کو برقرار رکھنا اور مندی کےمضر اثرات سے  بچانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔  منموہن سنگھ نے اپنی مہارت اور ایمانداری سے یہ کام کیا لیکن اچانک ان کی حکومت کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ک طوفان برپا ہوگیا۔ کوئلہ سے ٹوجی  تک یکے بعد دیگرے گھوٹالے سامنے آنے لگےجس نے یو پی اے کی  ہوا اکھاڑ دی۔ اسی کے ساتھ  ’بہت ہوچکا بھرشٹاچار ، اب کی بار مودی سرکار‘ کا نعرہ  گونجا اور ملک بھر پر چھا گیا۔ قومی انتخاب میں منموہن کی  زبردست کارکردگی کا یہ انعام ملا کہ کانگریس کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس عبرتناک سیاسی  انجام پر شیریں فرہاد کی کہانی یاد آتی ہے۔

یہ خسرو پرویز  کی شیرین اور اس کے عاشق فرہاد کی نہیں بلکہ بلوچستان کے لسبیلہ کی داستان عشق ہے جہاں آواران کے قریب آج بھی ہرسال شیریں فرہاد کی قبروں پر میلہ لگتا ہے۔مقامی لوگ دور دراز سے آکر اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں ۔ اس علاقہ کے لوگ ٹھنڈے پانی کو بھی دودھ کی مانند شیر کہتےتھے۔ بستی میں پہاڑ کے اوپر ایک چشمہ تھاجس کا  پانی دوسری طرف گرتا تھا اور عوام  بے فیض رہ جاتے تھے۔ پانی کو بستی تک لانے کےلیے چوٹی سے کاٹ کر بہاو کا رخ بدلنا ضروری  تھا۔ اس علاقہ کے سردار کی بیٹی کا نام شیرین تھا۔ گاوں کے ایک غریب سنگ تراش فرہاد  نےجب سردار سے شیریں کا ہاتھ مانگا  تو اس نے بڑی  چالاکی سے یہ  شرط رکھ دی کہ اگر فرہاد پہاڑ کی چوٹی کاٹ دے تو وہ اپنی بیٹی کی شادی اس  سے کر دے گا۔ سردار نے سوچا نہ’ نومن تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی‘  مگر فرہاد نےکڑی محنت سے پہاڑ کا ایک بہت بڑا حصہ کاٹنے میں کامیاب ہوگیا۔

گاوں کےسردار نے جب دیکھا کہ اس کا کام مکمل ہونے والا ہے یعنی حالیہ تاریخ کی مماثلت سے   انتخابات قریب آچکے ہیں ۔ اس بات کا امکان ہے کہ منموہن دوبارہ کامیاب ہوجائےتو حزب اختلاف نے شیرین کے باپ کی طرح ایک  سازش  رچی۔ سردار  نے اپنےایک خاص آدمی کے ذریعہ اس مقام پر کالا پتھررکھوا دیا جہاں اگلے روز فرہاد  آخری کدال چلانے والا تھا۔ یہ کالا پتھر  ٹوجی اور کوئلہ گھوٹالا کی مانند انتہائی سخت اور چکنا تھا۔ شیریں کو اگلی صبح اس سازش  کا پتہ چل گیا۔  وہ فرہاد کوآگاہ  کرنے کے لیے پہاڑ کی جانب دوڑی ۔ فرہاد نے جب شیریں کو آتا دیکھا تو نہایت جوش سے کدال ماری۔ کالے پتھر سے ٹکرانے والا فرہاد کا تیشہ اس کی سختی کے سبب  اچھل کر تیزی سے واپس آیا اور فرہاد کی پیشانی میں پیوست ہو گیا۔ شیریں نے یہ منظر دیکھا توغم کی شدت سے اس مقام پر گری اور کدال کا دوسرا سرا اس کے سر میں گھس گیا۔ اس طرح  دونوں کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی   اور   مودی سرکار دہلی کے اقتدار پر قابض ہوگئی۔

بے غیرت  اور بدعنوان لوگ  بڑے چالاک  اور جری ہوتےہیں ۔ اس لیے بھی کہ ان کے پاس گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ڈھٹائی  سے  اپنےجھوٹ پر اڑ جاتا ہے لیکن عزت غیرتمند لوگ اس طرح کی غیر متوقع  صورتحال میں گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور محتاط مدافعت میں لگ جاتے  ہیں ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دے دیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ سی بی آئی کی  خصوصی عدالت کے جج عزت مآب او پی  سینی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ٹوجی بدعنوانی  سے متعلق معاملوں میں پوری تندہی سے سات سال  تک صبح ۱۰ تا شام ۵ بجے تک میں  قانونی طور پر قابل قبول ثبوت کا منتظر رہا لیکن کوئی ایک سعید روح  سامنے نہیں آئی اور  میری  ساری کوشش اکارت  گئی ۔ اس  سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرکوئی افواہ، بہتان  اور قیاس آرائی کی بنیاد پر تیار کردہ  ایک عوامی رحجان کے پیچھے دوڑ رہا تھا جبکہ عدلیہ  میں  ایسے رحجانات کی گنجائش نہیں ہے۔

جج سینی نے اپنے تبصرے میں کہا  ابتداء میں استغاثہ نے بڑے جوش خروش کا مظاہرہ کیا لیکن جیسے جیسے  مقدمہ آگے بڑھا  وہ محتاط ہوتا چلا گیا  اور پھر یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ آخر وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے بالآخر پیروی کا معیار  پوری طرح بگڑ گیا اور وہ بے سمتی و تذبذب  کا شکار ہوگیا۔  یہی وجہ ہے کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ جانچ کئے جانے والے  تین معاملوں میں جناب سینی  نے حکومتِ وقت کے چشم ابرو کا لحاظ کیے بغیر  ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ، ڈی ایم کے کی رکن پارلیمان این کنی موئی اور ۱۷دیگرملزمان کو بری کردیا۔ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ بدعنوانی کے معاملہ میں  سارے ملزمان کو بری کرتے ہوئے والے سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے جانچ ایجنسی کے ذریعہ کوئی ثبوت پیش نہ کئے جانے پر افسوس ظاہرکیا۔

مذکورہ  فیصلہ اگر کانگریس دورِ اقتدار میں سامنے آتا تو حزب اختلاف یا نام نہاد سیول سوسائٹی کا یہ الزام درست ہوتا کہ  سی بی آئی حکومت کے در کی لونڈی ہے۔ اس نے حقائق کا پردہ فاش کرنے کے بجائے پردہ پوشی کی ہے۔ جان بوجھ کر شواہد کو چھپایا یا توڑ مروڈ کر پیش کیا ہے جیسا کہ امیت شاہ، کرنل پروہت یا سادھوی پرگیہ کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ حیرت اس  بات پر  ہے کہ یہ   فیصلہ ایک ایسی حکومت کے زیر اقتدار آیا ہے جو اپنے سیاسی مفاد کی خاطر  منموہن سنگھ  سمیت سابق نائب صدر اور فوجی کماندار کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے سے بھی  نہیں ہچکچاتی۔  یہ حسن اتفاق ہے کہ جس وقت حزب اختلاف  وززیراعظم کی جانب سے منموہن سنگھ پر لگائے گئے  الزامات پر معافی کے لیے ایوان پارلیمان کو سر پر اٹھائے ہوئے ہے یہ دوٹوک فیصلہ سامنے آگیا۔ یہ قدرت کا انتقام ہے کہ لسبیلہ میں شیریں فرہاد کی قبر پر میلہ لگتا ہے اور عوام   ان کے قاتل  گاوں کےسردار پر لعنت ملامت کرتے ہیں۔



⋆ سلیم خان

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ہمہ جہت ترقی کا اسلامی تصور

اس  دورپر فتن میں یہ ارشادِ قرآنی ہمارے لیے امید کی کرن ہے کہ ’’تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے گا۔ جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اوران کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اوران کی حالت خوف کو امن میں تبدیل کردے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے‘‘۔ معاشی اور روحانی پہلو کے علاوہ سیاسی ترقی یہ ہے کہ  حکمراں اپنے آپ کو اللہ کا  خلیفہ سمجھے  اور رضائے الٰہی کی خاطر عدل و قسط کا نظام  قائم کرے۔ امن وامان کی  یہی ضمانت حالتِ خوف کا خاتمہ کرکےدنیا و آخرت کی فلاح کا راستہ ہموار کردیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے